۱۹۸۰ کی ایک مثالی اوربابرکت شادی کی ایک جھلک!
تحریروتحقیق :مجاہدعلی
ماں باپ کی جانب سے دلہن کوجوجہیزدیاگیا
دلہن کا جہیز:والدین کی جانب سے دُلہن کودرج ذیل جہیزدیاگیا،جس کی فہرست درج ذیل ہے
مٹی کے دوپیالے
قرآن مجید کی تفسیر
تسبیح
جائے نماز
مٹی کا لوٹا
بارات
بارات کے ہمراہ صرف چارافراد تھے ۔جو ماں باپ،تایا اوردولھا پرمشتمل تھے۔
ولیمہ
ولیمے میں کھانے کی خاص مقدارغریبوں میں تقسیم کی گئی ،دونوں فریق تجارت پیشہ تھے ۔دولھا شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم تھا۔دونوں کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔دونوں فریق اگرچاہتے تواپنی طرف سے سینکڑوں افرادکومدعُوکرسکتےتھے لیکن انھوں نے ایساکرنے سے احترازکیا!لیکن دونوں فریقین نے سختی سے اسلامی احکامات پرعمل کیا۔نہ منگی ہوئی اورنہ ہی شادی کی دیگربےشماررسوم ورواج کواپنایاگیا۔آج کس امیرمیں ہمت ہے۔ کیا دونوں فریق ۲۰۱۸ میں ایسا کرسکتے ہیں ۔ کیا تاریخ اپنے آپ کودہراسکتی ہے!
مجھے چند دن پہلے اخبار میں ایک ہوئی شائع ہوئی خبریادآگئ کہ مُریدکےمیں ایک جوڑے نے اپنی شادی پرصرف ۳۰۰۰ روپے خرچ کیا،ہے ناعجیب سی بات۔
مجھے ۱۰۰ فیصد یقین ہے کہ ان کی نسلوں میں بہت برکت ہوئی ہوگئ ۔کیونکہ یہ بہت بابرکت نکاح ہوا ہوگا!کوئی تحقیق کرے کہ کیا یہ جوڑاابھی ذندہ ہے بھی یا نہیں!
اس ضمن میں مجھے ایک ایسے بزرگ اورولی اللہ کی بات یادآگئی جواب بھی ماشاءاللہ حیات ہیں ، ان کاکہنا تھا کہ کہ میں نے اپنے ولیمے میں غریبوں کے لئے علیحدہ سےٹیبلزلگوائے اوران کواسی عزت واحترام سے ٹریٹ کیاگیا،جس طرح اپنے رشتہ داروں ،دوست احباب عام وخاص کےساتھ سلوک رکھاگیابلکہ جاتے ہوئے کچھ افرادکوشاپرمیں چاول،گوشت اورنان پیک کرکے بھی دیاگیا۔یہ غریب افراد غبارے بیچنےوالے،مانگنے والے،بھنگی،راہ چلتے افراد،مراثی وغیرہ پرمشتمل تھے۔بزرگ نےکہاکہ مجھےاس نیکی کی برکات کےاثرات اولادنرینہ اوررزق میں اضافے کی صورت میں ملے۔ کہاجاتا ہےکہ ولیمےمیں غریبوں کاشرکت ہونابرکت کاباعث ہوتاہے۔
آج مہنگائ ،پیسہ نہ ہونے اوربڑھتی خواہشات ،پسندناپسندکی بناپرملک پاکستان میں لاکھوں کروڑوں لڑکیاں اورلڑکے شادی کے انتظارمیں ہے۔ ہاتھ پیلے ہونے کے انتظار میں لڑکیوں کے بالوں میں چاندی چمکنے لگتی ہے
بحوالہ: حورمیگزین،اکتوبر ۱۹۸۰،ش ۱۰،جلد ۴۱، ص ۴
۲۳ فروری ۲۰۱۸
###
No comments:
Post a Comment