Saturday, 8 April 2023

احساس !ایک خوبصورت جذبہ

 

احساس !ایک خوبصورت جذبہ

ازقلم !مجاہدعلی

0321 39 2874,mujahidali125@yahoo.com

 

احساس ایک بڑاخُوبصورت جذبہ ہے۔یہ وہ جذبہ  ہے جس کی انسانیت کےحوالے سے بہت قدرکی جاتی ہے۔یہ خوبصورت احساس اورجذبہ انسانوں کے مابین ہوتوعجیب سی محبت پروان چڑھتی ہے۔اس جذبے سے رحمدلی پروان چڑھتی ہے۔ جس سے ایک دوسرے کاخیال کرنے میں بہت  آسانی رہتی ہے اوریوں محبت جنم لیتی ہے۔معاشرےمیں ایک خوشگوارماحول جنم لیتاہے۔

مشرقی واسلامی معاشرے میں ہم سب  اقدار کے ساتھ جڑے ہیں ۔احساس کے عظیم  جذبے سے جڑے ہیں ،جو اسلامی معاشرے کی ایک  خوبصورتی ہے۔اس جذبے اوراحساس کی قدراس وقت ہوتی ہے جب انسانی رشتوں میں اس کی بدولت محبت اورخیال کاجذبہ جنم لیتاہے۔

 یہ اسلام کی کتنی بڑی خُوبصورتی ہے کہ ہم سب ایک احساس سے جڑے ہیں۔مسلمان ایک دوسرے کی تکلیف دکھ سے ضرورمتاثرہوتےہیں ۔مثلایہ کہ تمام دنیامیں  ہرروز صبح وشام مسلمان  ایک دوسرے کے لئے غائبانہ طورپر دعائے خیرکررہے ہوتے ہیں۔اپنے اسلاف اورگزرجانے والےاور تمام موجود اہل ایمان کی خیرخواہی کےلئے دعاکرتےہیں۔واقعہ کسی  دوسرے دوردراز ملک میں ہوتاہے چاہے ایک مسلمان کے ساتھ ہوا لیکن پوری دنیاکے مسلمان اس خطےاورایک مسلمان کے لئے اپنے لبو ں سے دعائیں کرتے ہیں ۔ کیاکسی مذہب میں ایساہوتا ہ۔یہ منفرد اعزاز صرف مذہب اسلام کوہی حاصل ہے اورکسی مذہب کونہیں ۔

دوسری طرف   ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں قریبی رشتوں میں احساس کی دولت بہت عام ہے۔مثلا ماں  میں اولادکے لئے محبت کابہت جذبہ پنہاں ہوتاہے ۔وہ صبح سے لیکرشام اپنی اولادکے لئ  ہلکان ہوئے جاتی ہے یعنی حددرجہ پریشاں رہتی ہے ۔جبکہ دوسری طرف یہی حال باپ کابھی ہوتاہے۔

بھائی بہن کے لئے توبہن بھائی کے غم میں گھلتی ہیں ۔ہرکسی کوکسی کی فکر،کسی کی شادی کی توکسی کی غربت کے حوالے توکوئی کسی کی بیماری کے لئے پریشان ہے اوردن رات غائبانہ طورپردعاکرتے رہتے ہیں۔سب کوکسی کی کوئی نہ کوئی فکرہوتی ہے۔

پھریہی محبت اوراحساس میاں بی وی کے درمیان ہوتاہے وہ بھی ایک دوسرے کے لئے پریشان اورمحبت کابے پایاں احساس۔

نانا نانی دادادادی اپنے نواسانواسی اورپوتے پوتی کے لئے پریشان ان کے لئے دن رات دعائیں کرناصحت رشتہ ،بیماری،روزگاراورپتہ نہیں ان کی کن کن پریشانیوں میں گھلتے رہتے ہیں۔یہی حال ہم ماموں ممانی پھوپھا پھوپھی تائی تایاچچی چچا دیوردیورانی جیٹھ جٹھانی بھانجابھانجی،بھتیجابھتیجی کے مابین دیکھتے ہیں۔کسی کی پھوپھی توکہیں تائی توکہیں چچی بہت پریشان ہوتی ہے حتی کہ نانی دادی دادا اوریاپھراسکاکوئی رشتہ دار۔ بہت سارے غائبانہ طورپرایک دوسرے کی  فکرمیں بھی مبتلارہتے ہیں ۔کوئی کسی کے لئے دعاکررہاہے کسی کوکسی شادی نہ ہونے کی فکرتوکوئ کسے کے روزگارکے لئے دعاکررہاہے،کوئ کسی کی بیماری میں گھل رہاہے۔کسی کوپریشانی مشکلات ہیں توسب ایک دوسرے کے لئے دعائیں کررہے ہیں ۔ فکرپریشانی ان رشتوں کوہوتی ہے جوجذباتی طورپرایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ بعض توایک دوسرے کےغم میں گھل گھل کراس سے دنیاسے چلے جاتے ہیں۔بلکہ کچھ توساری ذندگی ایک دوسرے کے غم میں گھلے رہتے ہیں۔سب کوایک دوسرے کی وجہ سے پریشانی مشکلات ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات توبلاوجہ پریشان رہتےہیں۔ رشتوں کی اکثریت ایک دوسرے کے لئے پریشان رہتی ہے

ایک دوسرے کی آپس میں محبت اورپیاراوران کی فکرپریشانی ایک دوسرے کاخیال کرنابہت اعلی جذبہ ہے۔یہ انسانی جذباتی نفسیاتی معاشرتی سماجی روحانی باطنی رشتےہی انسان کوانسان بناتے ہیں۔ ۔محبت ،احساس اوررحمدلی کاجذبہ نہ ہوتوانسان درندہ بن جائے!

اللہ تعالیٰ نے محبت اوراحساس کاعجیب سا جذبہ ونظام رکھ دیاہے بلکہ بعض اوقات دُورپرے کے رشتہ داروں میں بھی ایک دوسرے کے لئے ہمددری اور احساس جذبہ  رکھاہواہے بعض اوقات  وہ بھی ایک دوسرے کے لئے پریشان رہتے ہیں اوردعاکرتے ہیں۔

انگریزبیچارے ان جھنجھنٹوں سے   پاک ،مبرااورعاری ہیں۔ان کوبہت کم اپنے ماں باپ بہن بھائیوں پھوپھی تائی  چچی  وغیرہ کے  لئےپریشان دیکھاہے کیونکہ وہ ہماری طرح ان کی فکریں خودپرطاری  نہیں کرتے ہیں۔ ان کو نہ اپنی بہنوں کی شادی کی فکرہے نہ ماں باپ کی خدمت کااحساس ۔وہ اس طرح کے کئ احساسات سے ہی مبراہیں ۔انھیں ہماری طرح چوبیس گھنٹہ کسی رشتہ دارکافکراوراحساس نہیں ہوتا نہ وہ کوئی ایک دوسرےکے لئے اتنی دعاکرتےہیں۔

اسلام نے تواجنبیوں کے ساتھ بھی اخلاق محبت سے برتنے کاسلیقہ بتایاہے حتی کہ جانداروں سے شفقت اورمحبت کادرس دیاہے۔

 یہ اسلام کی ایک خوبصورتی ہے۔اوررشتوں کی خوبصورتی بھی اسی سے جھلکتی ہے۔

 

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...