ماں کی گوددرسگاہ اول
تحقیق وتحریر:مجاہدعلی
+92333 457 072
|
تلخیص: یہ آرٹیکل پاکستان میں بچیوں پر تعلیم وتربیت کے اثرات کااحاطہ کرتا ہے کہ کس طرح ماں کی مشفقانہ تربیت سے ۵ بہنیں سی ایس ایسی آفیسربنیں۔ ان کی کامیابی اورتربیت کے کےپیچھے کیاعوامل رہے ہیں ،اس کابھی احاطہ کیاگیاہے ۔ہرذی شعوروالدین اساتذہ اوراہل فکرودانش کے لئے اس میں اسباق پوشیدہ ہیں۔ کامیاب تعلیم وتربیت کی ایک منفردجیتی جاگتی سچی کہانی اورایک فکرانگیزتحریر
|
بچے گھرکی رونق ہوتے ہیں اوروالدین کے لئے خوشی شادمانی کاباعث ہوتے ہیں۔وہ گھرکےگلشن کاپھول اورکلیوں کی طرح ہوتےہیں ۔ان کی نگہداشت ،نگہبانی کرناہروالدین کافرض اولین ہے۔وہی پرورش کے ذمہ دارہیں۔
بچے کسی بھی قوم ومُلک کاقیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جنھوں نے آگے چل کرملک وملت کی باگ دوڑسنبھالناہوتی ہے۔اس لئے ان کی عُمدہ تربیت ،بہترین واعلیٰ تعلیم والدین کی اولین زمہ داری بھی ٹھہری ہے۔
کہاجاتاہےکہ ماں کی گودکسی بھی بچے کی اولین درسگاہ ہوتی ہے،قوموں کی نسلیں انھیں گودوں میں پلتی ہیں ۔لہذابچوں کی بہترین تربیت عورت کی خُوبی اوروصف ٹھہراہے۔ لہذابچوں کی تربیت ایک بہت صبرآزماکام ہوتاہےجس کے برداشت صبرپیارمحبت شفقت کی ہمہ وقت ضرورت ہوتی ہے اورساتھ ہی نگرانی بھی !اللہ نےماں کے دل میں محبت کاٹھٹیں مارتاسمندرپنہاں کررکھاہوتاہے اسی وجہ سے بچوں کی تریبت کامرحلہ آسان ہوکرخوشگوارہوجاتاہے۔بچے اوائل عمری میں اپنی ماں سے جوسبق حاصل کرتے ہیں وہ اس کوکبھی بھولتے نہیں ہیں ۔یہ ایسا علم ہوتاہے جوذندگی بھرکام دیتاہے ۔
ذیل میں اسی بات کوآگے بڑھایاجارہاہے۔
یہ سولہ جون ۲۰۲۰ کی بات ہےکہ بی بی سی کی ویب گاہ پرایک ایک آرٹیکل شائع ہوا۔جس میں پانچ سی ایس ایس کرنے والی بہنوں کاتذکرہ تھا۔راقم کواس میں تعلیم وتربیت کاگہرارازنظرمحسوس ہوااوریوں اس پرتعلیم وتربیت کےزاوئے سے لکھنے کاخیال ذہن میں آیا۔جس کوقارئین کے لئے شئیرکیاجارہاہے۔یہ پاکستانی معاشرے کے ایک کامیاب تعلیم گھرانے کی ایک روشن مثال جس میں ماں باپ کی تربیت کی وجہ سے پانچ بہنیں سی ایسی کے مقام پرپہنچیں ہے۔ جوشایدپاکستان میں ریکارڈ بھی ہوکہ ایک ہی گھرسے پانچ بہنوں نے اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحان ( سی ایس ایس) پاس کیا۔
ہمارے ہاں ایک عمومی روش ہے کہ جب تعلیم کی بات ہوتو ہم اکثر مغرب اوردیگرترقی یافتہ ممالک کی معیاری اوربہترین تعلیم کاتذکرہ کرتےہیں۔لیکن اپنے اردگربکھرے واقعات اورمثالوں سے سبق حاصل نہیں کرتے ہیں۔ مشرقی معاشرے میں تعلیم وتربیت کی ذندہ اورجیتی جاگتی مثال ان پانچ بہنوں کاسی ایس ایس کرنا ہے ۔ماں باپ کی تربیت سے نہ صرف بچوں کی ذندگی پر مثبت اورگہرے اثرات مرتب ہوئے بلکہ یہ گھرانہ دوسروں کے لئے بھی تقلیدکاباعث بھی بنا۔یہ پاکستان کی مثال ہے ہمارے معاشرے کی مثال ہے۔
آخرایسی کون سی باتیں وجوہات تھیں کہ پانچوں بہنیں کامیابی کی سیڑھی پرپہنچیں۔ اس کامیابی کے پیچھے ایک داستان ہے۔اس داستان کوہرگھرانے،ہروالدین اوراساتذہ کوضرورپڑھنی چاہئے۔کیونکہ اس مثال میں ہروالدین کے لئے کافی کچھ سیکھنے کے لئے ہے۔
مختصرتعارف:والدین
بچیوں کے باپ کانام ملک رفیق اعوان جبکہ ماں کانام خورشیدبیگم ہے۔ان کی آبائی رہائش توصوبہ خیبرپختون خواہ کےضلع ہری پورکی ہے لیکن وہ راولپنڈی میں رہتے ہیں۔والد واپڈاسے ریٹائرڈ ایس ڈی او ہیں ۔بچیوں کےداداکانام شیرمحمدحیات تھا ۔لہذاانھوں نےہربچی کے ساتھ اپنے داداکانام شیرلگادیاجس کی وجہ سے وہ شیربہنوں کے نام سے بھی جانی پہچانی جاتی ہیں۔شیرنام لگانے کی وجہ بچیاں معاشرے میں بطورلڑکیاں ہوتے ہوئے کوئی شرمندگی اورکمتری محسوس نہ کریں۔اسی لئے ان کے نام بھی افسانوی کرداروں پررکھے گئے۔
بچیوں کے والدکو تبادلوں کی صورت میں شہروں شہروں گھومناپڑتاتھا ۔لہذامیاں بی وی نے طے کیاکہ رہائش راولپنڈی میں رکھی جائے تاکہ بچوں کی تعلیم کاکوئی حرج نہ ہو،جبکہ تربیت کے ضمن میں والدہ نےاپنی ذمہ داری احسن اوربھرپورطریقہ سے نبھائی۔
دُنیاکے ہرماں باپ کی طرح بچیوں کے والدین کی بھی خواہش تھی کہ وہ دنیااورذندگی میں کوئی مقام حاصل کریں ۔ان کانصب العین بُلندتھا ۔لہذاان کی بھی خواہش تھی کہ ان کی بچیاں سی ایس کریں اورملک وقوم کی خدمت کریں۔باپ نے بچیوں کی کامیابی کواپنی اہلیہ کی انتھک محنت اورلگن کانتیجہ قراردیا اورکہاکہ ہم دونوں کامقصدبچیوں کابہترمستقبل تھا جوکہ یقینا ہماری ذمہ داری بھی تھی۔
پانچ شیربہنیں نام اورعہدے:
پانچ بہنیں جنھوں نے سی ایس ایس کیا۔ ان کے نام یہ ہیں:
لیلی ملک شیر،سسی ملک شیر،ماروی ملک شیر،شیریں ملک شیر ،ضحٰی ملک شیر
لیلیٰ ملک شیر :کراچی انکم ٹیکس :ڈپٹی کمشنر
شیریں ملک شیر : نیشنل ہائی وے اتھارٹی اسلام آباد میں ڈائریکٹر
سسی ملک شیر:ڈپٹی ایگزیکٹو سی ای اوچکلالہ کینٹ راولپنڈی
ماروی ملک شیر: ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد
ضحیٰ ملک شیرنے کم عمری ۲۱سال کی عمرمیں سی ایس ایس کیاا ورآفیسرمینجمنٹ گروپ کوجوائن کیا
بچیوں نے اپنی کامیابی کاکریڈٹ اپنی ماں باپ کی محنت اورماں کی تربیت کوقراردیتی ہیں۔ دوسری طرف بچیاں خودبھی محنتی تھیں۔اوروہ دنیا بھر کےموضوعات پربات چیت اورگفتگو کرتیں تھیں ۔یوں وہ ایک دوسرے کے تجربات اورمعلومات سے سیکھتی تھیں۔
بچیوں کی کامیابی وعملی تربیت کے لئے گئے اپنائے گئے راھنُما اصول
ماں باپ نے اپنی اولادکی تربیت کے لئے جن اصولوں اورامور کومدنظررکھ کرتربیت کی ،آئیں ان کاکچھ احاطہ کرتےہیں۔اس سے اندازہ ہوگاکہ بچیوں کی کامیابی اورتربیت میں ماں باپ کی حکمت عملی کاکتنااہم کرداررہاہے۔ ان کے بچوں کی کامیابی کے پیچھے ان تھک محنت اور منصوبہ بندی شامل رہی ہے۔ لہذا اگربچوں کوماں باپ کی بھرپورتوجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔آئیں ان والدین کے طے کردہ چیدہ چیدہ اصولوں کاجائزہ لیتے ہیں۔
ماں باپ نے اپنےبچوں کے ذہن میں یہ سوچ راسخ کردی تھی کہ ماں باپ ان کےمستقبل کےلئے کتنافکرمندہیں
بچوں کے ذہن ودل ودماغ میں یہ بات نقش بٹھادی گئی تھی کہ انھوں نے خودکوخومختاربناناہے اوراس کےساتھ مُلک وقوم کی بھی خدمت کرناہے ۔اس طرح بچیوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی کہ واقعی ہم نے دنیا میں کچھ کرنا ہے۔ کچھ ایسا کرنا ہے ،جو یاد رہ جائے۔
بچیوں کے والدین کاکہناہےکہ بچپن میں ہی بچوں کوکوئی لائن مل جانی چاہئے تاکہ وہ تیاری کرسکیں یعنی وہ اپنے مقصدکوطے کرلیں مقصدواضح ہوکہ مستقبل میں انھوں نےکیابنناہے۔
بچیوں کےماں باپ نے پڑھائی پرکوئی سمجھوتہ نہ کیا جبکہ دوسری طرف ماں نے ان کےہوم ورک پرہرگزسمجھوتہ نہ کیا۔ ماں بچیو ں کا روزانہ کلاس ورک چیک کرتی اور ان کےہوم ورک میں مددکرتی۔انھیں سبق یادکرواتی اور ان کاسبق بھی سنتی تھی ۔
ماں نے بڑی ترغیب طریقے سلیقے سے بچیوں کوتعلیم اورمحنت کی طرف راغب کیا۔
جلدسبق یادکرنے وپڑھائی پر چھوٹی موٹی چیزوں جیسے چاکلیٹ ،سائیکل کی سیرکی ترغیب دی جاتی تھی۔
ماں سالانہ چُھٹیوں میں بچیوں کواگلی کلاس کاکورس پڑھاتی جس سے اگلی کلاس کاڈرخوف بھی ختم ہوجاتاتھا۔
ماں اپنے فرائض سےکبھی تھکی نہیں اکتائی نہیں اورنہ کبھی پہلوتہی اختیارکی
ماں صرف پڑھائی پرہی بچیوں کوڈانٹ ڈپٹ کرتی تھی
ماں ہمیشہ ہررات بچیوں کے ذاتی مسائل سمعیت دنیابھر کے مسائل پربھی بات کرتی تھی ۔اس کے علاوہ وہ سونے سے پہلے بچیوں کومختلف بڑے اورکامیاب لوگوں کے واقعات اورکہانیاں سُناتی تھیں ،جن میں تاریخی اورعصرحاضر کے واقعات بھی شامل ہوتے تھے۔
ماں بچیوں کےمسائل کوحل کرنے کی بھرپورکوشش بھی کرتی تھی
بچیوں نے خودتسلیم کیاکہ ہمارے ماں باپ نےہماری تعلیم وتربیت پربہت محنت کی ہے۔اس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ بچوں کوقدم قدم پرماں باپ کی شفقت اورتوجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
بچیوں کی کامیابی اوراہل فکرودانش کےلئےپنہاں اسباق
اہل فکرودانش کےلئے کسی بھی بات اورواقعہ میں سیکھنے اورغوروفکرکاساماں موجودہوتاہے۔آئیں ان کامختصراجائزہ لیتے ہیں۔ بچیوں کی کامیابی سے کئی اسباق ونتائج اخذکئے جاسکتے ہیں ۔اس مختصرسی کہانی سےجوسبق حاصل ہوئے ہیں ۔وہ کسی بھی گھرانے اورماں باپ کےلئے راھنما اصول بن سکتےہیں۔مثلاجیساکہ:
بچوں کے ذہنوں میں شروع دن سے یہ بات ڈال دینی چاہئےکہ انھوں نے بڑے ہوکرکیابنناہے کیونکہ ایساکرنےسے انھیں اپنی منزل اورمقصدطے کرلینے میں آسانی رہتی ہے۔
ایک دفعہ کلاس کے اندر لیلی شیرسے اس کی ٹیچرنے اس سے پوچھاکہ تم بڑے ہوکرکیابنناچاہتی ہواس نے جواب دیاکہ اے سی!جس پرٹیچرنےکہاکہ کمرے میں لگایاجانےوالااے سی تولیلی نے انتہائی پُراعتمادطریقے سے جواب دیاکہ نہیں اسٹنٹ کمشنر،لہذابچوں کوخواب پالنابھی سکھائیں اورانھیں مقصدبھی بتائیں کہ انھوں نے بڑے ہوکرکیابنناہے۔،ایک بچی توڈپٹی کمشنرکےعُہدے تک جاپہنچی
بچوں کو ہمیشہ یہ بات باورکرائیں کہ ان کے والدین تعلیم وتربیت اورمستقبل کے لئے فکرمنداور کوشاں ہیں
اصل چیزیہ بھی ہے کہ ان کی کامیابی کے لئے ماحول بھی تخلیق کیاجائے
والدین اپنے بچوں کواعتماددیں ،جس سے وہ کچھ کردکھائیں گی ۔اس کیس میں دیکھیں توان کاپوراگھرانہ ہی تعلیمیافتہ تھا۔
بڑی بہن نے سی ایس ایس کرکےچھوٹی بہنوں کوراہ دکھائی اوریوں گھرمیں ایک کامیاب شخص کسی دوسرےکےلئے رول ماڈل بن گیا
بچیوں نے اچھے سکول اورعلمی مراکز سے علم حاصل کیا
بچوں کوبچپن سے ہی تربیت دیناشروع کردیں
بچوں کوغیرنصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کالازمی اوربھرپورموقع دیں
ماں نے فلاح انسانیت کےجذبہ بھی مدنظررکھااوران کوباورکرایاکہ جاب کے ساتھ قوم وملک کی خدمت بھی کرناہے
بیٹیوں کوبوجھ نہ سمجھاجائے
بچیوں کے ماں باپ صحیح معنوں میں باشعوراورتعلیمیافتہ ثابت ہوئے ،اپنی بچیوں کی صحیح طرح سے پرورش اورتربیت کی جس کی وجہ سے سب کی سب اعلیٰ عہدوں پرفائزہوئیں۔
بچوں کی تربیت میں ماں کابہت اہم اورکُلیدی کردارہوتاہے اورماں نے بچیوں کی تربیت میں دلچسپی لی اوران کے معاملات کودیکھا۔
جب باپ اپنی بچیوں کوکبھی کہتاکہ چھوڑوپڑھائ کو توبچیوں کی والدہ اپنے شوہرسےسخت ناراض ہوتی تھی
ماں نے اپنی بچیوں کوبڑے طریقے سلیقے سے تعلیم کی طرف راغب کیا
باپ کی نسبت ماں نے تعلیم وتربیت کےفرض اورذمہ داری کوبڑی تندہی سے پوراکیا
بچوں کے معاملات میں گہری دلچسپی لی جائے اورذندگی کے کسی مرحلے پران کواکیلانہ چھوڑاجائے
بچوں کو ماں باپ کی طرف سے جوسب سے بڑاپیغام اورتربیت فراہم کی گئ ،وہ یہ کہ انھیں خودانحصاری کاسبق دیا گیا!یہ بہت گہراوربڑا اہم پیغام دیاگیا۔
اگراستادنہ بھی توجہ دیں توماں باپ تھوڑی سی توجہ سے بچوں کومستقبل سنوارسکتے ہیں
ماں نے ۲۰،۲۲سال مسلسل انتھک بچیوں پرمحنت کی
لہذاسوچ کابیج ضرور بوئیں ،آپ سوچ کابیج بوتےہیں تووہ تناوردرخت بنتاہے
بچوں کواعتماددیناضروری ہے
بچوں کوگھرکے اندرتعلیمی ماحول دینابھی اشدضروری ہے۔
۴بچیوں کے نام افسانوی کرداروں جیساکہ لیلی، شیریں ،سسی، ماروی جبکہ قرآن سے اخذکردہ ضحی رکھاگیا۔بچوں کے نام کاان کی شخصیت پربہت گہرااثرہوتاہے ۔حدیث کامفہوم بھی یہ ہے کہ بچوں کانام اچھا رکھاجائے جوکہ ان کاحق ہے۔
بچوں کوخواب پالنا سکھائیں اوراس کے حصول کی طرف بھی راھنمائی کی جائے
ماں صحیح معنوں میں تربیت کرتی ہے اورشعورفراہم کرتی ہے۔اس لئے ہرماں اورباپ اس حوالے سے اپنا کرداراداکریں۔
اپنے بچوں پرنگرانی ضروررکھیں کہ کہیں وہ غلط راہوں پرتونہیں بھٹک رہے، لہذاکہاوت کے مصداق بچوں کو کھلائیں توسونے کانوالہ لیکن ان پر نظرشیروالی رکھیں۔
چھوٹی بہن نے بڑی بہن سے سیکھا کہ مجھے بھی اس جیسابنناہے۔
بیٹیاں گھراورمعاشرے پر ہرگزبوجھ نہیں ہیں۔
یہ کیس سٹڈی ہروالدین کے لئے مشعل راہ ہے۔لہذااس میں ہرذی شعوراورصحیح طورپرتعلیم یافتہ میاں بی وی ،والدین کے لئے واضح پیغام ہے ۔
تجزیہ وتبصرہ
ایک ماں کاتعلیم وتربیت اوربچوں کی کامیابی میں بہت اہم کردارہوتاہے اورہم اس کاعملی نمونہ اورمثال دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی کہانی ہے۔بچوں کولازمی ضرورباورکروائیں کہ وہ ان کے مستقبل کے لئے کوشاں ہیں۔بچوں کوپتہ تھا کہ ان کے ماں باپ تعلیم وتربیت اوربہترین مستقبل کے کوشاں ہیں۔ ماحاصل
بطورماں باپ اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی کسرنہ اٹھارکھیں۔اپنی طرف سے پوری اوربھرپورکوشش کریں ۔آپ ذندگی میں کتناہی مصروف کیوں نہ ہوں بچوں کے سکول ،کام ہوم ورک میں ضرورتوجہ دیں۔لہذابہت نہیں توکچھ کوالٹی ٹائم دیں ۔
اگرآپ بطورماں باپ تربیت میں ناکام ہوجاتےہیں توکوئ بات نہیں آپ کاضمیرتومطمن ہوگااورآپ اللہ کی بارگاہ میں توکم ازکم سرخروہوں گے کہ یااللہ میں نے بطور والدین تواپنی ذمہ دارویوں حقوق فرائض میں توکوئی کوتاہی نہیں برتی ہے۔اے اللہ جوکوتاہی خامی ہے اسےمیری دعاکےصدقے پوری کردے اوراس کودنیاوی اوراخروری ذندگی میں کوئ مقام عطافرما!باقی آپ کےبچے کی قسمت اورلوح محفوظ میں لکھاجاچکاہےکہ وہ توضرورہوکررہناہے امیداچھی رکھیں۔اگربچہ کامیاب ہوتاہے شکراداکریں نہیں بھی ہوتاتوصبراوردعانمازسے کام لیں۔کیونکہ انسان کے بس میں صرف اتناہے ہے۔ لہذابچوں کی تربیت سوچ سمجھ کراورراہ نمااسلامی اصولوں اورعصرحاضرکےتقاضوں کومدنظررکھ کرکی جائے۔
ماں ایک مدرسہ ہے اگراس کوتیارکیاجائے توایک پوری بااخلاق قوم پیداہوگی۔
نوٹ :یہ معلومات BBC کی اردوویب سائیٹ پرشائع ہوئے سولہ جون۲۰۲۰ کوشائع ہوئے آرٹیکل سے اخذکی گئی ہے
|
کچھ صاحب قلم کے بارے میں :صاحب قلم تعلیم وتربیت کے موضوع پرلکھنا پسند کتے ہیں اوریہ موضوع میرے دل کے قریب بھی ہے ۔کیونکہ میراماننا ہے کہ ایک شخص کی تربیت سے نہ صرف ایک انسان خودسنورتاہے۔اس کاگھرانہ بھی ترقی پاتاہے اوراوریوں ملک وقوم کی بھی ترقی ہوتی ہے۔لہذاتعلیم وتربیت بہت ضروری چیزہے۔کوئی بھی ماں باپ بچوں کواس تربیت کے حق سے محروم نہ کرے۔جزاک اللہ
|
No comments:
Post a Comment