|
بسلسلہ تعلیم وتربیت |
والدین،سکول اساتذہ کی ذمہ داریاں
ازقلم :مجاہدعلی
0333 457 072,mujahidali125@yahoo.com
گھاس سبزکیوں ہوتی ہے۔پرندے کیسے اڑتے ہیں۔مچھلیاں آخرپانی ہی میں کیوں رہتی ہیں۔اونٹ اورہاتھی پاوں میں جوتے کیوں نہیں پہنتے ہیں۔سوالوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہوتاہے جواکثربچے بڑوں سے پوچھتے رہتے ہیں۔بطوروالدین آپ کوہزارو دفعہ بچوں کے عجیب وغریب سوالوں سے واسطہ پڑاہوگا۔بچے ہمیشہ متجسس ذہن کے ساتھ اس دنیامیں پیداہوتےہیں۔ان کے متنوع سوالات کی فہرست بھی ان کے متجسس ذہن ہونے کی غمازی کرتے دکھائی دیتےہیں۔
بچےہر اس چیز پر حیران ہوتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ کوئی مخصوص چیز اس طرح کیوں ہے۔یہ وہ فطری تجسس ہے جو ایک بچے کو نئی چیزیں سکھانا چاہتی ہے۔ہر دن، ہر گھنٹہ اور ہر ایک منٹ، بچوں میں سیکھنے اور دریافت کرنے کی شدید خواہش ہوتی ہے کیونکہ تجسس تخلیقی صلاحیتوں، نئی دریافتوں ،تخیل اور ترقی کی جڑ ہے۔
بحثیت اساتذہ اور والدین ،ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ بچوں میں سیکھنے کی اس پیدائشی جبلت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ بچہ جتنا زیادہ متجسس ہوگا، وہ اتنا ہی بہتر سیکھنے والا ہوگا۔بچوں کے والدین،سرپرست اس سلسلےمیں اپنے بچوں کی مختلف طریقوں سے مددکرسکتے ہیں۔یہ ان کی ذہنی اورعقلی نشوونماکےلئے بہت کارآمدعوامل ہیں ۔جن کااختیارکیاجانابہت ضروری ہے۔
اس مضمون میں ہم ان مختلف طریقوں کو دیکھیں گے جن سے ہم بچوں میں تجسس کو پروان چڑھانے اور ان کی نشوونما میں مدد کر سکتے ہیں۔مثلاجیساکہ:
بچوں کے سوالات کواہمیت دیں
بچے کے تجسس کی پرورش ان کے سوالات کو تسلیم کرنے سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کےہر سوال کا فوری جواب دیا جائے۔کیونکہ وہ بسااوقات بے تکے سوالات بھی کربیٹھتے ہیں۔ بعض ٹین ایجرایسے سوالات بھی کربیٹھتے ہیں جوان کی عمرسے مناسبت نہیں رکھتے۔مثلا وہ ایساغیراخلاقی سوال کربیٹھتے ہیں جن کاان کوخودبھی کوئی اندازہ نہیں ہوتا اوروالدین ان کا جان بوجھ کرفوری جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں ۔کیونکہ بعض اوقات ایساکرنامصلحت پسندی بھی ہوسکتاہے ۔لہذا آپ بچے کو سمجھائیں کہ آپ کو جواب مل جائے گا اورآپ انہیں بتائیں گے۔
سوال پوچھنے کے لئے کبھی بھی کسی بچے کی سرزنش نہ کریں چاہے سوال کتنا ہی مبہم کیوں نہ ہو، اس سے بچے کو یہ احساس ہوگا کہ اتنے سارے سوالات پوچھنا غلط ہے اور اس طرح وہ اپنے آس پاس کی چیزوں کے بارے میں تجسس کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ اس سے ان کی سیکھنے کی مجموعی خواہش بھی متاثر ہوگی۔بچوں کے تجسس کوبڑھوتری دینے اوران کوتسلیم کرنے کاایک طریقہ یہ بھی کہ ان کے کئے گئے سوالوں کواہمیت دیں۔جبکہ دوسری طرف شعوری طورپر کوشش کریں کہ بچے سوال کاجواب خُود اپنے طورپر بھی تلاش کرپائیں۔
بچوں کی دلچسپیوں کی حوصلہ افزائی کریں
قدرت نے بچوں کوایک خاص قسم کی صلاحیت ودیعت کی ہوئی ہوتی ہے وہ یہ کہ بچے کھیل اور دیگرسرگرمیوں کے دوران بہت کچھ سیکھتے ہیں جو ان کے تخیل پرقبضہ کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔لہذاان کے شوق اوردلچسپیوں کی حوصلہ افزائی کریں ۔انھیں سیکھنے کے عمل میں شامل کریں۔ بچوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ کھیل کے ساتھ ساتھ کتابوں کے ذریعے بھی سیکھ سکتے ہیں۔
بچوں کومشاہدہ کرناسکھائیں
بچوں کو اپنے آس پاس کی چیزوں کا مشاہدہ کرنا سیکھنے دیں۔ انہیں گہراتجزیہ کرنےدیں اورخودمبصربننے دیں۔ ان کےاندراپنےارد گرد ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں مزید جاننے کی دلچسپی پیدا کریں۔ یہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب وہ دلچسپی رکھتے ہیں کہ وہ مشاہدہ کرنا سیکھیں گے۔ انہیں چیزوں کے لئے اپنے فطری تجسس کے ساتھ دنیا کو دریافت کرنے دیں۔
مطالعہ کی حوصلہ افزائی کریں
بچے کومطالعہ کی ترغیب دیں۔ مطالعہ سے ان کے اندردریافت کی ایک نئی دنیاکھل کرسامنے آجاتی ہے۔یہ مزید جاننے کے لئے ان کے فطری تجسس کو فروغ دے گا. کہانیاں ایک بچے کے لئے باہر کی دنیا کے لئے کھڑکیوں کی طرح ہیں۔ ان کا تجسس اس وقت بڑھ جائے گا جب وہ دور دراز جگہوں یا کسی سرزمین کے بارے میں سوچنا شروع کریں گے اور وہ مزید کتنا سیکھ سکتے ہیں۔
یکسانیت سے دوررہیں
بچے فوری طور پر دلچسپی کھو دیتے ہیں اگر انہیں عمل کرنے کے لئے ایک یکساں معمول دیا جاتا ہےلہذاایک جیسی روٹین سے بچاجائے۔ انہیں اپنے مفادات کو زندہ رکھنے کے لئے تھوڑی سی تنوع کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بوریت پیدا ہوتی ہے، تو یہ ان کے تجسس کو روک دے گا. انہیں نئے کاموں کو تلاش کرنے دیں ۔بچوں کوخودہی تلاش اوردریافت کرنےکی اجازت دی جائے ۔بچوں کووفتا فوقتا اپنی صلاحیتوں کوچیلنج کرنےکی ضرورت ہے۔
بچوں کو فطرت کی دریافت کرنے دیں
بچوں کوقدرتی ماحول سے سیکھنے میں مدد کریں۔ انہیں پھولوں کو سونگھنے دیں، وہ خُود گھاس کو چھوئیں، اور گرتی ہوئی بارش کو سنیں۔ یہ ان کے حواس کی صلاحیتوں کو متحرک کرے گا اور ان کے تجسس کو فروغ دے گا۔فطرت کامشاہدہ ان کی کئی طرح سے مددکرےگا۔
بچوں کی تجربات کرنےکی حوصلہ افزائی کریں
بچوں کو دیئے گئے کام کے حل کے ساتھ تجربات کرنے کی اجازت بھی دیں۔ انہیں طے شدہ طریقوں پر عمل کرنے پر مجبور نہ کریں ۔ایسا کرنے سے ان کے اندرفطری تجسس کامادہ کم ہوسکتاہے ،جس سے تجسس کاساراعمل ہی کُچلاجاسکتاہے۔اس لئے کبھی کبھاراس کوروٹین سے ہٹ کربھی کام کرنےدیں ۔ مت بھولیں کہ ہمارے پاس جوموبائل فونز،ہوائی جہاز،جیٹ،بجلی اوربہت سی جو دوسری چیزیں ہیں،یہ بھی تو کسی کی حوصلہ افزائی اورتجسس کانتیجہ ہیں۔ لہذا بچے کے تخلیقی جذبے کی کبھی حوصلہ شکنی نہ کریں۔ متنوع سوچ ہی زندگی بھر سیکھنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔اس لئےبچوں کے تجسس اورتجربات کرنےکومعمولی نہ سمجھاجائے۔
بچوں کوان کی غلطیوں سے سیکھنے میں ان کی مدد کریں
اپنے بچے کو غلطیاں کرنے کی اجازت دیں کیونکہ اس سے ان میں مسئلہ کو حل کرنے کی مہارت پیدا ہوگی۔ انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت بھی دیں ۔ساتھ میں ان کی حوصلہ افزائ بھی کریں تاکہ وہ مسائل کو حل کرنے کے نئے طریقے تلاش کرسکیں ،چاہے وہ کتنی ہی غلطیاں کیوں نہ کریں۔ ان کاموں کی مسلسل نگرانی کرنا ضروری نہیں ہے جو آپ نے انہیں تفویض کیے ہیں۔ لہذابچوں کوتفویض کئے گئے کام کے مختلف پہلووں اورحل کا مکمل اختیاردیں۔
جہاں انفرادی طورپروالدین یاسرپرست پر ذمہ داری پر عائد ہوتی ہے کہ بچوں کی تجسس کی صلاحیتوں کوفروغ دیاجائے ، وہیں پرسکول اوراُستادپربھی یکساں طورپربھاری ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ بچے کے فطری تجسس کوابھاریں تاکہ ان کے اندرسوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ومہارتیں پنپ سکیں!
اُستاداورسکول بچوں کے اندرتجسس اورتخلیقی صلاحیتوں کو کیسےپروان چڑھاسکتےہیں؟
بچوں کے اندرتجسس کوفروغ دینے کے لئے سکول کےاندرکس طرح کاماحول تشکیل یاجاسکتاہے اوراس ضمن میں اُستادکیاکرسکتاہے ۔آئیں ذیل میں اسکامختصراجائزہ لیتےہیں۔
بچوں میں تجسس پیدا کرنا نہ صرف والدین بلکہ اساتذہ کا بھی استحقاق ہے۔ لہذاسکول خصوصی طورپربچوں میں سیکھنے کی فطری صلاحیت کو فروغ دینے کی بھی کوشش کرے۔بجائے اس کے کہ انہیں ماضی کے سخت سیکھنے کے پروٹو ٹائپ پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے۔
اُستادطالب علموں کوعلم کےحصول میں مددکریں اورعلم کی تلاش اورتجسس میں اُ ن کی مددکریں تاکہ ان کوسیکھنے کی ترغیب ہو۔
سکول کی سطح پرکچھ آسان اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو طالب علموں میں قدرتی تجسس کو فروغ دے سکتے ہیں، جو انہیں زندگی بھر سیکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔مثلاجیساکہ
اسباق ،گیمز ، پروجیکٹس ، کوئز ، رول پلے ، مباحثے ، بصری مدد وغیرہ اس کے علاوہ ان میں تفریحی عُنصربھی شامل کیاجانا ضروری ہے۔
سکول کی سطح پرطالب علموں میں تنقیدی سوچ کی صلاحیتوں، ٹیم ورک، مسائل کو حل کرنے کی مہارت اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیاجائے۔
بچوں کو کلاس کے اندرسوالات پوچھنے اوررائے دینے پرمکمل آزادی دی جانی چاہئے۔
بچوں کوسوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے حوالےسے تربیت فراہم کی جائے۔
بچوں کو وقت دیاجائے تاکہ انھیں اپنے مسلےکاحل خُود تلاش کرنے میں مددمل سکے۔
بچوں کی حوصلہ افزائی اورتعریف کےساتھ نقد انعامات بھی دئے جائیں تاکہ ان کی کامیابیوں کوتسلیم کیاجائے۔اس ضمن میں ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کی تعریف کی جائے تاکہ وہ اگلی بار کچھ بہتر کرنے کے لئے حوصلہ افزائی محسوس کریں۔
سکول کے اندرٹیکنالوجی کے استعمال کوفروغ دے کرسیکھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مستقبل میں ہرقسم کی نئی ٹیکنالوجی میں خودبخودڈھل جائیں۔
اساتذہ کوچاہئے کہ وہ بچوں کے قدرتی تجسس کوپروان چڑھانے کے لئے تمام کوششوں کوبُروئے کارلائیں ،جوان کے مُستقبل کے ایک پراعتماد اورقابل رھنما بنانے کے لئے انتہائ ضروری ہیں۔
لہذاضرورت اس امرکی ہے کہ کم عمری میں بچوں کی حقیقی طورپرجسمانی ،نفسیاتی ،ذہنی روحانی نشوونما کی جائے۔اگر اس عمر میں ان کی صلاحتیوں کوصحیح طریقے سے ڈھالا جائے تو ، وہ حیرت انگیز طور پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔لہذابچوں کی تربیت اس نہج پرکی جائے کہ وہ اتنے مضبوط ہوجائیں کہ وہ کل کی ایک کامیاب شخصیت اورراھنما بن سکیں۔
###
No comments:
Post a Comment