|
بسلسلہ کیرئیرکونسلنگ وتعلیم وتربیت |
تحقیق وتحریر:مجاہدعلی
mujahidali125@yahoo.com،0333 457 072
ابتدائ عمراور انٹرپرینیورشپ تعلیم
بچپن اوربلوغت کسی بھی بچے کی عمرکاوہ سنہرادورہوتاہے جس میں دماغ کےسیکھنے کاعمل بہت تیزہوتاہے ۔یہ عمرکاوہ حصہ ہےجس میں اُن کی شخصیت تشکیل پارہی ہوتی ہے۔اسی کے ساتھ وہ کسی منزل یا مقصدکےتعین کرنےکے راستے پرگامزان ہوتاہے، جس کے واضح نشان بڑے ہوکرنظرآتے ہیں۔ بچپن انسانی زندگی کا ابتدائی دور ہے جو پیدائش کے وقت شروع ہوتا ہے اور بلوغت کے کے آغازپر ختم ہوتا ہے۔ یہ انسانی زندگی کا ایک بہت فیصلہ کن دور ہے۔اس عمرمیں تشکیل ہونی والی کچھ خصوصیات اور صلاحیتیں بچے کے مستقبل اور ترقی کی بنیاد بن جاتی ہیں ۔
اس عمرمیں ان کومناسب رھنمائی اور تعلیم وتربیت کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔لہذااس مرحلہ پروالدین اوراساتذہ کورھنمائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بچوں کے لئے جہاں تعلیم کی کئی جہتیں ہیں، وہیں پر انٹرپرینیورشپ تعلیم بھی بہت ضروری ہے تاکہ وہ کل کی کاروباری شخصیت بن سکیں۔ عصرحاضرمیں ملک کے جومعاشی اوراقتصادی حالات چل رہے ہیں۔ یہ بات اب ضروری ہوگئ ہے کہ ان کواس تعلیم کی طرف بھی راغب کیاجائے ۔دنیاکے کئی ممالک پہلے ہی اس طرح کی تعلیم پربھرپورتوجہ دی جارہی ہے۔ہمارے ہاں یہ تصورکچھ نیاساہے۔
ابتدائی بچپن میں 0 - 8 سال کی عمروں کےبچوں کوشامل کیاجاتاہے . اس عمر میں، بچے کا دماغ تیزی سے 80 فیصد فروغ پاتاہے ،تاکہ وہ مختلف قسم کی معلومات حاصل کرنےکے ساتھ ان کوجذب بھی کرسکے۔اس سنہری دور میں بچے کی تمام جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما انتہائی عروج پر ہوتی ہے۔بچپن میں دی گئی ابتدائی تعلیم مستقبل میں کامیابی کے حصول میں مدددیتی ہے۔یہ تعلیم ان کے کردار اورشخصیت کوتشکیل کرنے میں مدددیتی ہے۔اس کی وجہ سےان کے اندرخودانحصاری،تخلیقی سوچ اوراعتمادجیسے وصف بھی پیداہوتےہیں۔بچوں کو ابتدائی عمر میں کس قسم کی تعلیم اور تربیت دی جائے کہ ان کے اندرکاروباری وصف اورخصوصیات پیداہوسکیں
یہ آرٹیکل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ابتدائی عمر: انٹرپرینیورشپ تعلیم کی ضرورت اوراہمیت
بچوں کے سیکھنے کی ابتدائی عمر صفرتاچھ سال پرمحیط ہوتی ہے ۔اس دوران ۔بچے نہ صرف جسمانی طورپربڑھتے ہیں بلکہ ان کے اندرعلمی، لسانی، فنکارانہ، سماجی، جذباتی، روحانی، ذاتی نظم و ضبط، خود اعتمادی، اور خود انحصاری جیسے مثبت اوصاف بھی جنم لیتے ہیں۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس عمرمیں کاروباری بننے کی تعلیم کس قدرکارگرثابت ہوتی ہے۔ماضی میں، انٹرپرینیورشپ کوبراہ راست تجربے کے ذریعے سیکھاجاتاتھا۔لیکن بچوں میں یہ صلاحیت فطری طورپرپہلے ہی سے موجودہوتی ہے بس ان کوتھوڑی سی تربیت سے بڑھاوادینے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن اب ان چیزوں کے متعلق رائے اورسمجھ بوجھ یکسرتبدیل ہوچکی ہے،اب انٹرپرینیورشپ ایک نیاڈسپلن بن چُکاہے۔ اس میں مکمل اورحقیقی علم شامل ہے،جس میں مقصدیت، نئے تصورات اورمتنوع طریقے موجود ہیں۔ انٹرپرینیورشپ کاڈسپلن بڑی تیزی سے فروغ پارہاہے۔ انٹرپرینیورشپ کا اطلاق پہلے تجارت کے شعبے میں کیا گیا تھا، بعد میں انڈسٹری،گورنمنٹ ،صحت اورتعلیم میں کیاگیا۔ جس کے بہت مفیداورکارنتائج سامنے آئے۔
ابتدائی عمرمیں انٹرپرینیورشپ کے اثرات
بچے اپنے ماحول سے سیکھتے ہیں۔لیکن تعلیم ان کی چھپی صلاحیتوں کی نموکرتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ماحول سے مطابقت اختیارکرلیتے ہیں۔بعض اوقات ایساہوتاہے کہ بچے کے اندربزنس مین یاکارورباری شخص بننے کی کوئی واضح علامات یاخصوصیات نظرنہیں آتی ہیں۔لیکن اس کے لئے ان کوایک مسلسل تربیت یامشق کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس ضمن میں ان کوسادہ سی تربیت اورمثالوں سے سکھایاجاسکتاہے۔اوریہ صرف تربیت سے ممکن ہے۔مثلا جیساکہ جیسے کھیلنے کے بعد کھلونوں کو سائیڈپررکھ دینا رکھنا اور کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا. یہ عادت نظم و ضبط اور ذمہ داری سمیت اقدارکو کو پروان چڑھائے گی۔ لیکن کچھ عادات وخصوصیات اقدارکی تعمیرکےلئے مربوط کوششوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کوچاہئے کہ وہ بچوں کی حوصلہ افزائی میں اپناکردارادارکریں۔
ابتدائی عُمرمیں انٹرپرینیورشپ تعلیم کی ضرورت
خاص طور پر ابتدائی بچپن میں انٹرپرینیورشپ کی تعلیم کامقصد بچوں کو کاروبار کرنے یا انہیں کاروباری افراد بنانے کے بارے میں سکھانا نہیں ہے ، بلکہ انہیں ذہنی طورمضبوط کرنے اور کردار کی تشکیل کی تربیت بھی فراہم کرناہے۔کئی تحقیقات اس بات کوظاہرکرتی ہیں کہ بچوں کے اندرکاروباری فردبننے خواہش کوراسخ کیاجائے تاکہ وہ اس حوالے سے کاروباری خصوصیات کوپروان چڑھاسکیں۔لہذابچوں کی اس حوالے سےبچوں کے ذہنوں کی آبیاری کرنابہت ضروری ہے۔
والدین / سرپرست کاکردار
اگرآپ محسوس کریں یاگہرامشاہدہ کریں کہ آپ کےبچے میں کچھ کاروباری شخصیت بننےکے اوصاف پائے جاتے ہیں،آپ فوری طورپر توماہرین ،ماہرنفسیات اوراستادسے ملیں اور ان کے بارے میں بات چیت کریں اورمشورہ لیں ۔دوسری طرف بطوروالدین آپ خود بھی ان کے شوق کی آبیاری کرسکتے ہیں۔ اوراگربچوں میں کاروباری اوصاف نہ بھی پائے جائیں توان کے اندر انٹرپرینیورشپ کوجذبہ اورشوق پیداکیا جاسکتا ہے۔کچھ ضروری مہارتوں اورصلاحیتوں کوپروان چڑھایاجاسکتاہے۔اس کے لئے محض کوشش اورتربیت کی ضرورت پڑتی ہے۔والدین
انٹرپرینیورشپ تعلیم کے لئے سکول اوراساتذہ سے رھنمائی لیں ۔بچوں کوایسے سکولوں میں داخل کروایاجائے جہاں انھیں رسمی تعلیم کےساتھ انٹرپرینیورشپ کی تعلیم بھی دی جاتی ہو ۔
ہمارے معاشرے میں حقیقتا، بچوں کوکردارسازی کے حوالہ سےمکمل خُودمختاری اور اختیارات نہیں دئے جاتے ہیں۔بعض اوقات والدین اپنے بچوں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں، حکم دیتے ہیں، تنقید کرتے ہیں اورانھیں محدود کرتے ہیں۔ نتیجتا، بچے اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔
اساتذہ،سکول کاکرداراور انٹرپرینیورشپ تعلیم کی ضرورت
سکول کی سطح پراساتذہ کی اکثریت بچوں کی کردارسازی کرتے نہیں نظرآتے ہیں ۔حالات، قرائن وشواہد سے پتہ چلتاہے کہ اساتذہ اپنے بچوں کے اندرکاروباری بننے کی اقدارکوسمونے کی کوشش نہیں کرتےہیں ۔عمومی طورپراساتذہ محض نصابی اور رسمی تعلیم کودینے پراکتفاکرتے ہی دکھائی دیتے ہیں ۔بہت کم ان کی شخصیت کوسنواراجاتاہے۔
دوسری طرف سکول کی سطح پربچوں کواس بات کی تربیت دی جانی کہ وہ اپنی حقیقی صلاحیتوں ،مُہارتوں اور ہُنرکوپہچان سکیں۔ اس کےعلاوہ انھیں وقت کادُرست استعمال،دوطرفہ بات چیت کاہُنر،جذبات کوقابوپانے کے صلاحیت ،اپنے فیصلوں کے انتخاب اورلچک پیداکرنے جیسی تربیت بھی فراہم کی جانی چاہئے۔والدین اوراساتذہ کوچاہئے کہ بچوں کی کم عمری ہی سے کاروباری بننے کےحوالے سے ذہن سازی کی جائے۔ انٹرپرینیورشپ تعلیم اس ضمن میں بہترآپشن ہے لیکن یہ سب کچھ مربوط کوششوں سے ممکن ہے۔
بچوں کوسکول میں انٹرپرینیورشپ کی تعلیم دینے سے ان کے کاروباری فردبننے کے متعلق رائے ،خیالات اوررحجانات بدل سکتے ہیں ۔بچپن کی عمر انٹرپرینیورشپ کی تعلیم دینے کے لئے بہترعمر ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ان کے اندر انٹرپرینیورشپ کے متعلق مثبت رویہ پیداہوتاہے۔اس حوالے سے یہ ضروری ہےکہ سکول کے نصاب میں کاروباری فردبننےکے تصورکوبھی شامل کیاجائے۔اس حوالے سے اساتذہ اہم کرداراداکرسکتے ہیں ۔ وہ بچوں کوبلاواسطہ طریقہ سے ذہنی طورپراس تعلیم کی طرف تیارکرسکتے ہیں اوراس حوالہ سے مخصوص کاروباری خصوصیات کوبھی فروغ دے سکتے ہیں۔اس ضمن میں یہ کیاجاسکتاہےکہ پری سکول کی سطح پرانٹرپرینیورشپ کی تعلیم کوسکول کےنصاب میں دیگرموضوعات کے ساتھ ضم کردیاجائے ۔اس کوباقی تعلیم کے ساتھ مربوط کرناہی اصل کام ہے۔
انڈونیشیاء کے کئی سکولوں میں بالخصوص کنڈرگاڑٹن کی سطح پر انٹرپرینیورشپ کی تعلیم کونصاب کاحصہ بنایاگیاہے۔اس حوالہ سے بچوں کے اندرکاروباری فرد بننے کےجذبے کوبھی پروان چڑھایاجاتاہے جاتی ہے۔اس تصورکوفروغ دینےکے لئے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں، تاکہ بچے کم عمری سے اس تعلیم کوسیکھ سکیں۔بچوں کوسکھانے اوران کی تربیت کے لئے انھیں سکول سے باہرحقیقی دنیاکےکاروباری ماحول سے روشناس کروایاجاتاہے۔ بچوں کو مختلف بازاروں ومارکیٹ کادورہ کروایاجاتاہے۔علاوہ ازیں کھاناپکانےکی خصوصی کلاسزبھی بھی تریبت کااہم جزومتصورہوتی ہیں۔اس طرح کی سرگرمیوں سے بچےکاروبارکے متعلق آگاہی حاصل کرتے ہیں۔سیکھنے کےحوالہ سے بچوں کودوستانہ ماحول فراہم کیاجاتاہے تاکہ وہ ذیادہ سے ذیادہ سیکھ سکیں۔کیونکہ یہی بچوں کے سیکھنے کاسنہری دورہوتاہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بچوں کے حوالے سے انٹرپرینیورشپ کے نفاذکے متعلق سوچاجاسکتاہے۔ کیااس کوسکول کے سلیبس کاحصہ بنایاجاسکتاہے۔یہ امورواقعی غورطلب ہیں ۔
بچےکیسے سیکھتے ہیں
بچے اپنےحواس کے ذریعے سیکھتے ہیں ۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، وہ بچے اپنا علم خود حاصل کرتے ہیں۔ بچے اپنے علم کی تعمیر خُود کرتے ہیں۔وہ دیکھ سن کرکوئی فیصلہ کرتے ہیں۔ اس ضمن میں بچوں کو اپنے تجربات وعلم کے ذریعہ سیکھنے کی اجازت دی جانی چاہئے ہے، جو انہوں نے اپنی پیدائش سےلیکرذندگی تک جتنا حاصل کیا ہے۔ ان کواس کے استعمال اورنفاذکی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ وہ اپنی طریقے سے حاصل کردہ علم کا عملی طورپرتجربہ بھی کرسکیں ۔
اس ضمن میں سکول انتظامیہ ، اساتذہ، تعلیمی ماہرین،سائیکارٹسٹ ،کاروباری حضرات،والدین اوردیگرفریقین سے مل کربہترین اورقابل عمل سیلیبس کی تشکیل کرسکتے ہیں
انٹرپرینیورشپ تعلیم بچے اورکاروباری اوصاف
انٹرپرینیورشپ کی تعلیم تبدیلی اورترقی کےحوالے سے ایک بُنیادی محرک بن چکی ہے۔ بچوں کےاندرابتدائی عمرسے ہی کاروباری اقدارکوفروغ دینابہت ضروری ہے۔تعلیم کے شعبہ میں انٹرپرینیورشپ کامقصدہے کہ طلباءکے اندر انٹرپرینیورشپ کےجذبہ کوپیداکیاجائے تاکہ مستقبل میں بہترین کاروباری افرادپیداہوسکیں۔کم عمری سے ہی بچوں کے اندرکاروباری اقدارکومتعارف کروانا نسلوں کے کردارکی تشکیل میں اہم کردارکرتاہے۔
انٹرپرینیورشپ کے لئے جن اوصاف کی ضروت ہوتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بذریعہ تربیت اپنی صلاحیتوں کےمتلعق آگاہی حاصل کرسکیں۔ انٹرپرینیورشپ لرننگ یاتعلیم بچوں کے ذہن کوتبدیل کرتی ہے ۔اس کے نتیجہ میں طلباءکے اندرکچھ منفردکاروباری اقدارجنم لیتی ہیں۔اس کےعلاوہ بچوں کےاندرتخلیقی صلاحیت ، نظم و ضبط ، تنقیدی صلاحیتیں ، مسائل کو حل کرنے کے قابل ، بات چیت کرنے کے قابل ، وقت کی قدر کرنے ، خود کو کنٹرول کرنے جیسی خصوصیات اورجوہرپیداہوتے ہیں۔
ماہرین کاکہناہے کہ کسی بھی بچے کے اندر انٹرپرینیورشپ سپرٹ پیداکرنےکےضروری ہے کہ بچوں کےاندر درج ذیل کچھ ضروری اورلازمی کاروباری اقدارکو کوفروغ دیاجائے تاکہ وہ بڑے ہوکر بہترین کاروباری ذہن کے مالک بن سکیں۔مثلا
خودانحصاری
تخلیقی سوچ
رسک لینے کی اہلیت
پہل کرنے والا
لیڈرشپ
محنت کی عادت
ایمانداری
ذمہ دارانہ رویہ
باہمی تعاون پرمبنی رویہ
لچکداررویہ
بات چیت کی صلاحیت
بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کی ابتدائی سطح پرکاروباری تعلیم حاصل کرنے کےرحجان کی طرف خاص رھنمائ نہیں کی گئی اورنہ ہی کی جاتی ہے ۔پاکستان میں اس ضمن کوئی کوئی مربوط کوششیں نہیں ہوئ ہیں۔انگلیوں پرگنےجانےوالے اداروں نے محض تجرباتی طورمحض آغازتوکیالیکن مستقل اورعملی طورپراس کوسلیبس کاحصہ نہ بناسکے۔بہرحال پاکستان میں اس حوالے سے مثالیں خال خال ہی نظرآئیں گی۔
بچوں کو انٹرپرینیورشپ سکھانے کے لئے عملی سرگرمیاں ومشقیں
دُنیا کے مختلف مُمالک میں سکول و ادارے بچوں کے اندرکاروباری سپرٹ ،اوصاف اوراقداربیدارکرنے کے لئے مختلف تربیتی مشقتیں ،پروگرام تشکیل دیتے ہیں تاکہ ان کی ذہن سازی ہوسکے ۔بچوں کے اندرکاروباری فردبننے اورکاروباری صلاحیتوں خصوصیات پیداکرنے کے لئے انھیں مختلف اقسام کی سرگرمیاں سکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے لئے مختلف پروگرام اورسرگرمیوں کی تشکیل کی جاسکتی ہے ۔
ذیل میں چندسرگرمیوں کے بارے میں بتایاجائے گا۔ جن سے ان کےاندرکاروباری شخصیت خصوصیات پیداکرنے میں مدد ملے گی اوربچوں کو بہت کچھ سیکھنے کوملے گا۔
بینکوں کادورہ
تربیت کے لئے بچوں کومُختلف بینکوں کادورہ کروانا چاہئے ۔اس سےبچوں کوپیسوں کے معنی واہمیت کوجاننے کاموقع ملے گا ۔اس سرگرمی میں رقم کےحوالے سےہرٹرانسیکشن کوجاننے کاموقع ملے گا۔مثلا وہ کسٹمرسروس کامشاہدہ کرے گا ۔ بچے رقوم کی متنتقلی اوروصولی کے متعلق جانیں گے گا۔ اس کے علاوہ کیش ہنڈلنگ کے متعلق جاننےکاموقع ملے گا۔علاوہ ازیں ان کواے ٹی ایم سروس سے متعارف کروایاجائے کہ اس کوکیسے استعمال کیاجاتاہے اسکے کیافوائد ہیں۔بینک کے اندرکیسے لین دین ہوتی ہے۔پیسوں کی بچت کیسے کی جاتی ہے اوراسکا استعمال کیسے کیاجاسکتاہے۔بینک کیسے کام کرتے ہیں ۔ریاضی کی سیکھنے کی اہلیت بڑھ سکتی ہے۔ان کووسیع تجربہ حاصل ہوگا ۔ ۔یہ چیزیں ان کے اندرکاروباری شخصیت بننے کی راہ ہموارہوگی
فارم وزٹ
جانوروں کے فارم کی وزٹ سے وہ حیران کن تجربہ حاصل کریں گے۔انھیں پتہ چلے گاکہ خوراک کہاں سے آتی ہے اوریہ کیسے پیداہوتی ہے۔وہ فصلوں کوکاشت ہوتے ہوئے بڑھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں اوراس کی کاشت اورہارویسٹ کوجان سکتےہیں۔بچے جانوروں کی دیکھ بھال کے متعلق جان سکتے ہیں مثلا گائے ،بکرے ،بچھڑے اورمرغی وغیرہ ۔انھیں لائیوسٹاک اورڈیری کے متعلق جاننےکاموقع ملے گا۔وہ مختلف اقدارکوسیکھ سکتے ہیں مثلا جیساکہ بہادری ،کاروباری مواقع ،تخلیقیت وغیرہ بچہ ڈیری اورلائیوسٹاک بزنس مین ہونے کے متعلق سوچ سکتاہے۔
مختلف مارکیٹوں کادورہ
کوئی ایساخاص دن طے کریں جس میں وہ مارکیٹوں کودورہ کرسکیں۔بچے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ مارکیٹ میں کیسے چیزیں خریدی بیچی جاتی ہیں۔وہاں پرچھوٹے چھوٹے بزنس مین دکانداروں کاکاروباری رویہ کیاہوتاہے۔وہ بیچنےکے لئے کس طرح کی حکمت عملیاں اختیارکرتے ہیں۔خریداری کے لئے مختلف کلچرکےلوگ آتے ہیں ۔بچوں کی میتھ اوررقم کے متعلق سکلزبڑھتی ہیں۔ بچوں کومعاشی اصولوں کے متعلق جاننے کاموقع ملے گا۔بچے کاروباری ماحول سے روشناس ہوں گے۔اس میں بچے چیزوں کوبیچنے اورخریدنے والوں دونوں کےکردارکامشاہدہ کرنے کاموقع ملےگا۔
کھانا پکانے کی کلاسز
یہ سرگرمی بھی انٹرپرینیورشپ ایک سیکھنے کاایک ذریعہ ہے ۔اس سرگرمی میں بچوں کوکھاناپکاناسکھایاجاتاہے۔انھیں بتایاجاتاہے کہ کھانے کے لئے خام مال کیسے خریداجائے۔
متوازن غذاکیسے تیارکی جاسکتی ہے۔بچےموٹرسکلزجیساکہ ہاتھ اورآنکھ کاموثراستعمال،غذائیت،غذائی صحت،اعتماد اورخُودمختاری سیکھ سکتےہیں۔کھانےپکانے کی کلاس کے ضمن میں بچے مختلف اقدارسیکھ سکتے ہیں ،مثلا ذہانت،اورسوچنے کی صلاحیت،مسائل کوحل کرنےکی مہارتیں ،اپنی تخلقیقی صلاحیتوں کوتیزکرنااوربڑھانا اوراسی طرح اپنی تخیلاتی سوچ کوبڑھانا وغیرہ وغیرہ ۔اسکے علاوہ میتھ اورسائینس کوجانتے ہیں۔فوڈبزنس کیسے شروع کیاجاسکتاہے۔اساتذہ یہ بتاسکتےہیں کہ اس فوڈکوکیسے بیچاجاسکتاہے اورکس طرح پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ان تمام سرگرمیوں کے دوران بچوں کوسوال وجواب کاضرور موقع ضرورملناچاہئے تاکہ ان کے دل ودماغ کے اندرجوسوالات ہیں ان کوان کے کے جوابات مل سکیں۔
بچے سرگرمیوں سے کیاسیکھتے ہیں
ان سرگرمیوں سے بچے کچھ سیکھ سکتے ہیں اورانھیں کئی چیزوں کومشاہد ہ کرنے کا عملی موقع ملتاہے۔ان سرگرمیوں ،تربیت اورپروگراموں کامقصدیہی ہے کہ بچوں کوکاروباری سرگرمیوں کے متعلق شعورفراہم کیاجائے۔بچوں کی کاروباری طرزپر ذہن سازی ہواوروہ خودآگے چل کرکوئی خود کوئی کاروبارکرنے کے متعلق واضح فیصلہ کرسکیں ۔کیونکہ وہ حقیقی ماحول سے بہت کچھ سیکھ س سکتے ہیں۔کیونکہ حواس کے ذریعے سیکھی ہوئی چیزوں کے نقش بڑے دیرپاہوتے ہیں۔نیزوہ ان سرگرمیوں سے واقعی کوئی سبق اخذکرسکیں گے۔
ماحاصل وقابل عمل تجاویزوسفارشات
تمام پروگرام ماہرین کی ذیرنگرانی تیارکئے جاسکتے ہیں جس میں اساتذہ ،ماہرین نفسیات اورکاروباری شخصیات شامل ہوسکتے ہیں۔سکول مالکان کو کوچاہئے کہ وہ اپنے نظام تعلیم اورسلیبس میں انٹرپرینیورشپ کی تعلیم بھی شامل کریں ۔تاکہ بچےذیادہ سے ذیادہ انٹرپرینیورشپ کے متعلق جان سکیں ۔اس حوالے سے سیمیناراورورکشاپ ہونی چاہئیں تاکہ وہ اس خاص سبجیکٹ انٹرپرینیورشپ کے متعلق مہارت حاصل کر سکیں۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ بچوں کوسیکھنےکےحوالہ سے صحیح ماحول فراہم کیاجائے ۔ ابتدائی بچپن کی تعلیم مستقبل میں بچوں کی کامیابی کو دیکھنے کے لئے آئینہ دار کے طور پر کام کر سکتی ہے ۔ کم عمری سے ہی اچھی تعلیمی خدمات حاصل کرنے والے بچوں کو مستقبل میں کامیابی حاصل کرنے کی زیادہ امید ہوتی ہے۔
انٹرپینورشپ کلچر کے فروغ کے لئے بچوں کی انفرادی صلاحیتوں کو نکھارنے اور حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے ۔بلاشبہ پاکستان میں بہت سے مواقع موجود ہیں ۔کم سن طلباء کوان پروگرامزکے ذریعے کم عمری میں سوسائیٹی کاکارآمدفردبناناہے۔بچوں کو انٹرپینورشپ سکھائی جا نی چاہئے تاکہ وہ بڑے ہوکر کاروبار کے متعلق سوچ سکیں۔اس کی وجہ سے غربت کا خاتمہ اور معیارزندگی بہترہوسکتاہے۔حکومتی سطح پر انٹرپینورشپ کا نظریہ نصاب تعلیم میں متعارف کرا نے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اکیسویں صدی میں عالمی مقابلے کی ترقی کی دوڑمیں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کو انٹرپرینوئیرشپ کی تعلیم دی جائے ۔اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ اس تعلیم کے آئیڈیاکونصاب کالازمی حصہ بنایاجائے
|
کچھ صاحب قلم کے بارے میں
راقم کامحبوب موضوع تعلیم وتربیت ہے۔راقم سوشل میڈیا اوربلاگ کے لئے بھی لکھتے ہیں۔تعلیم وتربیت کے متعلق راقم کامانناہےکہ اس سے ایک شخص کی ناصرف ذاتی طورپربہترہوتاہے۔ایک خاندان کی بھلائی بہتری ہوتی ہے ۔اس سے ملک کوقوم کی بھی بہتری ہوتی ہے |
No comments:
Post a Comment