بریکنگ نیوز
بمب بلاسٹ!بریکنگ نیوز شہربھرمیں سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئ
(ہمیشہ کچھ کہے سنے پڑھے جانے مانوس الفاظ)
تحقیق ،تجزیہ و تحریر: مجاھد علی
0333 4576 072
ہم کئی سالوں سے ٹی وی سکرین پرہربم دھماکے بعدکچھ مانوس لفظ بہت تواترسے دیکھتے سنتے آرہے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے
بریکنگ نیوزاورساتھ ہی فلاں شہرعلاقے میں بم دھماکہ ہوگیا اوراس کے ساتھ ہی یہ کچھ اکثردہرائے جانے والے الفاظ ضرور سنتے پڑھتے دیکھتے سنتے ہیں ۔جن کی تفصیل ذی میں دی جارہی ہے
بم خود کش دھماکہ ؟ افراد جاں بحق ؟ افراد ذخمی
آج شھر کے گنجان آباد علاقے میں بم دھماکہ دھماکہ علی الصبح سرشام ھوا۔ دھماکے کی آواز دور دور سنی گئی لیکن ھمارے حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں کو کم ھی سنائی گئی۔اعلی حکام جائے واردات پر پھنچ گئے ۔اھل علاقہ کا شدید احتجاج پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ۔بم دھماکے کے بعد شھر میں حالات سخت کشیدہ،ملک میں تمام حساس مقامات پر اضافی سیکیورٹی تعینات کردی گئی۔حکومت نے زخمیوں کو بھتر طبی امداد دینے کی ھدایت کردی ،شھربھر میں ملزموں کی گرفتاری کے لئےجگہ جگہ چھاپے مارے جارھے ھیں۔ائیرپورٹ اورریلوے سٹیشن پرسیکیورٹی انتاہئی سخت کردی گئ ۔
موقع واردات پر مشکوک افراد کو پکڑلیے گئے ۔حکومت نے زخمیوں اور جاں بحق افراد کے لئے مالی امداد کا اعلان کردیا حکومت کی شھریوں سے پرامن رھنے کی اپیل ۔وزیراعلی اور وزیراعظم نے واقعے کا فوری نوٹس لے لیا۔جائے واردات سے اھم شواھد اکٹھے کر لئے گئے ۔اور یہ ھم پچھلے دس پندرہ سالوں سے ایسا سنتے آرھے ھیں۔زخمیوں اور ھلاک ھونے والوں کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی ۔جائے حادثہ پر قیامت کے مناظر شھریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو اسپتال پھنچایا۔شھریوں سے خون دینے کی اپیل۔دھشت گردوں کو کیفر کردار پھنچایا جائے گا۔ شھر میں امن و امان کی صورتحال انتھائی کشیدہ ۔
پورے ملک میں سوگ منایا گیا شھرمیں سوگوار سی کیفیت۔شھرمیں سیکوریٹی ھائی الرٹ کردی گئی واقعات کے مطابق حساس اداروں نے پھلے ھی دہشت گردوں کی کاروائی الرٹ سےمطلع کردیا تھا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے پھلے ھی انتظامیہ کو الرٹ کردیا تھا۔
دلخراش سانحہ پر تھانے کے عملے کو معطل کردیا گیا ۔تفتیشی حکام نے جائے واردات سے اھم شواھد اکھٹے کرکے فورینزک لیب بھجوادئے۔رپورٹرکے مطابق ؟ میتیں اور زخمی اسپتال لائے گئے۔زخمیوں میں سے کچھ افراد کی حالت انتھائی تشویشناک ہے۔
اس بہیمانہ واقعہ پرسیاسی رھنماوں کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت اور اسمبلی کے آئندہ کے اجلاس میں قراداد مذمت پیش کرنے کا اعلان۔حکومت نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا اور ۵ رکنی کمیشن تشکیل دے دیا گیا جو ایک ھفتے کے اندر رپورٹ تیار کرے گا ۔
پولیس نے دھشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا پولیس نے مذید بتایا کہ سانحہ میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔دھشت گرد کا سر مبارک کئی فٹ کے فاصلے سے برآمد کرلیا گیا ۔
تفشیشی حکام نے دھشت گرد کے جسم کے مختلف حصوں کے نمونے حاصل کرلئے گئے جن کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے فورینزک لیب بھجوا دیا گیا ۔
۔بڑی تعداد میں شھری خون دینے کے لئے اسپتال پھنچ گئے۔
پولیس نے عوام کو جائے حاثہ پر جانے سے روک دیا گیا ۔امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر روانہ
پھنچ گئے ۔شھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں ۔
دھماکوں کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را اور امریکہ کی سی آئی کے ملوث ھونے کے ثبوت حاصل کر لئے گئے۔پولیس اورحساس اداروں نے علاقے کوگھیرےمیں لیکرجائے حادثہ کامعائنہ شروع کردیا۔
مقامی پولیس نے جائے حادثی کی فوٹیج حاصل کرلی اھم انکشافات ھونے کا امکان ۔
عینی شاھدین کے مطابق کئی مشکوک افراد کی نقل و حرکت کو نوٹ کیا گیا تھا۔جائے وقوع سے کچھ مشکوک حضرات کوحراست میں لے لیاگیا۔واقعے کی جیوفینسگ کرلی گئ۔
مظاھرین کا پولیس پر پتھراو ، پولیس نے مظاھرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا۔ اعلی حکام سے کامیاب مذاکرات کے بعد مطالبات منظور ھونے پر مظاھرین پرامن طور پر منتشر ھوگئے۔
دھماکے کے بعد شھریوں میں شدید غم وغصہ ۔دھماکے کے بعد لوگوں کی چیخ وپکار لوگ اپنی جانیں بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگتے رھے قیامت صغری و کبری کے مناظر
ھجوم کا پولیس پر پتھراور مشتعل مظاھرین نے سڑکیں بلاک کردیں۔
وزیراعظم ،وزیر اعلی ،وزیر بے داخلہ کے بیان کے مطابق دھشت گردی اور انتھا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔فوج اورپولیس نے متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔ امدادی ٹیمیں اور فوجی جوان امدادی کاروائیوں میں مصروف۔
جائے وقوع سے بال بیرنگ،ھیرے جواھرات،دھشت گرد کا سر ملا ھے تاکہ اسکے بھیجے پر تحقیق کی جاسکے کی اس دماغ نے کیسے پولیس انٹیلیجنس اور لوگوں کو دھوکہ دیا اور کیسے سب کو بے وقوف بنایا ۔
شھر اور علاقے کا سیکیورٹ پلان تبدیل کردیا گیا ۔ علاقے میں شدید خوف وحراس پایا جاتا ھے۔دھماکے کی ابتدائی تحقیقات وزیراعلی اور وزیراعظم کو پیش کردی گئی ۔
پولیس کا دعوی ھم مجرموں کے انتھائی قریب پھنچ چکے ھیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آوروں کی عمریں ۱۸تا۲۰ سالے کے لگ بھگ ھیں۔ملزمان شکل سے چیچئن ، ازبک یا افغانی لگتے ھیں ۔ دھماکے کے وقت فارسی اور انگلش بول رھے تھے ۔ حکومت نے عوام سے پرامن رھنے کی اپیل کردی۔ذمہ داروں کوفوری گرفتارکرلیاجائے گا۔
پولیس اورحساس اداروں نے ملزمان کے گردگھیراتنگ کردیا۔جلدہی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔
پولیس نے شھر میں فلیگ مارچ شروع کردیا۔ سانحہ کے سوگ میں سکول اور کاروباری مراکز بند رھیں گے ۔انسانی حکومت کی تنظیموں ،دینی اور کاروباری حلقوں نے نماز جمعہ کے بعد احتجاج کا اعلان کردیا گیا ۔ حکومت کا تین روز سوگ کا اعلان قومی پرچم سرنگوں رھے گا۔
کل شھر کے تمام تعلیمی اور کاروباری ادارے سوگ میں بند رھیں گے۔
مشتعل شھریوں نے دکانوں کو آگ لگادی اور کاروں کی بھی توڑپھوڑ کی
آئی جی نے مساجد ،امام بارگاہوں اور چرچز میں سخت سیکیورٹی تعینات کرنے کی بھی ہدایات جار ی کر دی ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔جائے وقوع پرقیامت کے مناظر۔
تفصیلات کے مطابق دھماکوں کے بعد لوگوں میں بھگڈر مچ گئی۔
نامعلوم اور طالبان کمانڈر کے خلاف دھشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا اور تحقیقات شروع کردی گئیں۔نامعلوم مقام سے فلاں تنظیم نے دھماکےکی ذمہ داری قبول کرلی۔
ھلاک شدگان کی نماز جنازہ اداکردی گئی جاں بحق افراد کی میتیں متعلقہ علاقوں میں روانہ کردی گئیں۔
جبکہ دوسری طرف انتظامیہ کےایک اہلکار کے مطابق اس وقت ہسپتال میں ؟ زخمی زیرِ علاج ہیں جن میں سے؟ کی حالت تشویشناک ناک ھے۔تاھم کچھ افسران جنھوں نے نام نہ ظاھر کرنے کی شرط پر بتایا ھے کی اصل ھلاکتیں اس سے کھیں ذیادہ ھیں۔سرکاری ذرائع نے اسکی تردید کی ھے تاھم آذاد زرائع نے ان خبروں کی تصدیق کی ھے۔حکومت نے زخمیوں کاعلاج فری کرنے کااعلان اورہلاک شُدگان کے لئے معاوضہ کااعلان کردیا۔
واقعات کے مطابقایک حملہ آور نے خود کو مسجد کے برآمدے میں دھماکے سے اڑایا جبکہ ایک حملہ آور کی باقیات مسجد کے ہال سے ملی ہیں۔حملہ اس وقت ہواجب نمازی نمازپڑھ رہے تھے۔
بم ڈسپوزل یونٹ کے سربراہ نے بی بی سی اردو کو ایک پیغام میں بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد ؟ تھی جن میں سے ؟ کے جسموں کے باقیات اور ایک کی لاش۔ ملی جائے وقوع سے ملنے والے تین دستی بم بھی ناکارہ بنائے ھیں ۔
کالعدم تنظیم القاعدہ جیش محمد ٹی ٹی پی ملا فضل اللہ داعش نے واقعے کے فورا بعد اسکی ذمہ داری قبول کرلی ھے اور سانحے کی ویڈیو بھی ریلیز کردی ھے۔ متعلقہ تنظیم کے ترجمان نے نامعلوم مقام سے بی بی سی سے فون کرکے بتایا کہ مستقبل میں بھی اسطرح کے حملے جاری رکھے جائیں گےپاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ؟ کا بدلہ ہے۔یہ رواں برس ؟ نشانہ بنائے جانے کا دوسرا اھم اور برا سنگین واقعہ ہے
دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان نے میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک تحریری بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
حکام کی پریس ریلیز کے مطابق: ریجنل پولیس افسر نےمیڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ (دن) کو شھرسے ؟ کلومیٹر ؟ کے قریب پیش آیا۔ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔ دھماکے سے پھلے دھشت گردوں کی فائرنگ۔
پولیس کے مطابق دھماکے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم آخری اطلاعات آنے تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔ پولیس کا حملے کے ماسٹر مائینڈ کو گرفتار کرنے کا دعوٰی بھی کیا گیا۔
اس سے قبل ایم ایس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ؟ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ؟ افراد شدید زخمی ہیں۔انھوں نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں میں ؟ خاتون، بچہ اور؟ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ڈپٹی میڈیکل سپرٹنڈنٹ ؟ کا کہنا ہے کہ؟ سے زیادہ زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں۔زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز نے تصدیق کی ہے کہ دونوں دھماکے خودکش تھے ۔پریس کانفرنس میں ؟ نے نجی ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے مرکزی گیٹ سے داخل ہونے کی کوشش کی۔ سکیورٹی پر مامور گارڈز نے جب ان کو روکا ہے تو انھوں نے فائرنگ شروع کر دی ۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے علاقے میں ناکہ لگایا ہوا تھا
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ؟ میں طالبان کے حملے کے ردعمل میں حکومتی کارروائیوں کے بعد سے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں عوام کو محتاط رہنے اور اپنے گردوپیش پر نظر رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور کھا ھے کی خود ھی جاگتے رھنا لیکن ھمارے پہ نہ رھنا
ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور تماشائیوں میں بیٹھا تھا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا
بظاہر لگتا ہے کہ اس دھماکے میں ہدف ؟ تھاتھی
حکام کے مطابق زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا
دھماکہ اتنا شدید تھا کی اسکی گونج کئی کلومیٹر تک سنائی دی گئی دھماکے کی شدت اسقدر ذیادہ تھی کی قریبی دکانوں اور گھروں کے شیشے تک ٹوٹ گئے
پولیس حکام کے مطابق اس حملے میں بظاہر ؟ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے
یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکری تنظیموں کے خلاف آپریشن کا سلسلہ جاری ہ
دھماکے سے علاقہ لرز اٹھا اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ زخمیوں میں چار بچے بھی شامل ہیں، دھماکے میں جاں بحق افراد کی شناخت ؟ اور ؟ کے نام سے ہوئی ہے۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، اطلاع ملتے ہی رینجرز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آریشن شروع کر دیا اور وھاں سے ملا کچھ بھی نھیں سوائے دھشت گردوں کے جانگئے
شھر کی فضا پھر سوگوار
مشتعل افراد نے فیروزپورروڈ پرچلنے والی میڑوبس کےسٹینشنوں پربھی توڑ پھوڑکی اورپولیس کےخلاف شدید نعرے بازی کی۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی ذمہ دار پولیس اورپنجاب حکومت ہے۔
پنجاب حکومت کا دھماکےمیں جاں بحق افراد کےورثاءکیلئے پانچ لاکھ، زخمیوں کےلیے پچھتر پچھہتر ہزارروپے امداد کا اعلان
علاقہ لرز اٹھا۔
دھشت گردوں کا کوئی مذھب نھیں ہوتا۔
جا ئے وقوع سے پولیس کو خود کش حملہ آوروں کے اعضاء ملے ہیں جن میں ایک انگوٹھاایک حملہ آور کا ہاتھ سر کے بال دو ٹانگیں اوربوٹ بھی شامل ہیں۔پولیس حکام نے یہ اعضاء ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے فرانزک سائنس لیبارٹریز بھجوا دیے ہیں ۔سی سی پی او نے جائے حادثہ پر اخبار نو یسوں سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کے ؟ کے باہر پولیس اور سکیورٹی کے دوسرے انتظامات بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کے شہرکی پولیس نے اہم مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف فلاں شہرکی پولیس فرنٹ لا ئن پر ہے
پولیس رینجر ایمبولینس ریسکیو کی گاڑیاں حیرت انگیز طور پر موقعہ پر پھنچ گئیں
لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال پھنچادیاگیا۔
مظاہرین حکومت سے دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف سیخت ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔سیاسی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کردیا
۔علاقے کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا۔سماج دشمن عناصرکے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا ۔بم دھماکے کا مقدمہ درج کرلیا گیا بم ڈسپوزل سکواڈ اورکرائم سین یونٹ نےجائےوقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیےہیں۔
وزیراعلی وزیر اعظم نے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا
یہ وہ الفاظ ھیں جو ہمیں ہر واقعے کے بعد سننے دیکھنے پڑھنے کو ملتے ھیں ھر دفعہ ھی سیکیورٹی سخت کردی جاتی ھے نہ جانے پھر کیوں ھر دفعہ ھر روز کیوں ایسے واقعات ھو جاتے ھیں بم دھماکے کے ساتھ ثبوت بھی ساتھ ھی دفن ھو جاتا ھے۔ جی ھاں یہ وہ الفاظ ھیں جو ھمیں ھر واقعے ھر سانحے کے بعد سننے کو ملتے ھیں لیکن افسوس کے ساتھ کھنا پڑتاھے کہ ایسے واقعات کا تدارک نھیں ھو پاتا۔ ایک اورواقعہ پھر سانحہ پھر تسلسل اور حکمرانوں کی طویل بے حسی
اس کے بعد پھر ایک نئے بم دھما کے کا تحفہ اور پھر تحفوں کی نہ ختم ھونے والی برسات
عوام پھر اپنے روزمرہ کے دھندوں میں رو پیٹ کر مصروف ھوجائیں گے اور روزانہ خاندانوں پر قیامت ٹوٹتی رھے گی اور اور حکمران یونھی مذمتیں کرتے رھیں گے۔اور یھی الفاظ ھماری سماعتوں سے ٹکراتے رھیں گے ؟
یہ وطن عزیز ھے یا بمبستان دھماکستان یا پھر معصوم لوگوں کا قبرستان
اور پھر نئے نتائج کے مطابق پھر نیا دھماکہ اور دھشت گردوں کے اعلان کے مطابق ابھی تو
ھماری کئی پارٹیاں باقی ھیں کیونکہ ھمیں تو دھماکوں کی لت ٹانگیں پیر لگ گئے ھیں جسکی وجہ سے پولیس کے پاوں تلے سے رھی سھی ذمین بھی نکل جاتی ھے
امریکہ میں نائین الیون اور بھارت میں ممبئی دھماکے اور برطانیہ میں بم دھماکوں کے بعدان ممالک میں کوئی بڑا واقعہ نھیں ھوا لیکن ھمارے وطن عزیز میں ھر روز کوئی نہ بڑا چھوٹا سانحہ رونما ھورھا ھوتا ھے لیکن ھمارے سیکیورٹی اداروں اور حکومت پر جوں تک نھیں رینگتی عوام کا کوئی پرسان حال نھیں۔آخر کب تک عوام یہ دکھ جھیلتے رھیں گے۔جب تک انصاف کو ذندہ نھیں کیا جاتا اور قصوروار کو سخت سزا نھی دی جائے گی تب تک یہ واقعات رونما ھوتے رھیں گے اور ھم لکیر پیٹتے رھیں گے اور سانحے پہ سانحے رونما ھوتے رھیں گے لیکن ھمارے حکمرانوں کو کرپشن سے فرصت ھوگی تو عوام کی طرف توجہ کریں گے ۔اللہ ھمیں اور ھمارے حکمرانوں کو بے حسی سے بچا ئے
ھم عوام کے ساتھ پچھلے دس پندرہ سالوں سے کیا یھی مذاق ھر روز نھیں ھورھا ۔ سوال یہ ھے ھم آخر کب تک یہ مانوس الفاظ سنتے رھیں گے
جانے کیسے ھوں گے کم اس دنیا کے غم
کتنی مشکل زندگی ہے کس قدرآساں ہے موت
گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت
No comments:
Post a Comment