پنجاب اور کے پی کے ۲۰۲۳الیکشن :انتخابات نہ کروانے کی الیکنش کمشن کی عجیب منطق
Mujahid Ali
۱۹ مارچ ۲۰۲۳ میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔جس کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جارہے ہیں۔جبکہ دوسری طرف پنجاب میں ہی میں الیکشن کمشن انتخاب کروانے سے پہلوتہی اختیارکئے ہوئے ہیں۔گورنرایک طرف تواقتصادی حالات کارونارورہے ہیں جبکہ دوسری طرف ضمنی انتخابات ہونے جارہےہیں ۔
کیونکہ ایک طرف توپورے صوبے کی حکومت اوراس کی حکمرانی کامسلہ ہے۔شاید
ایک خیال یہ ہے بھی ہے کہ چونکہ الیکشن کمشنرموجودہ حکومت کے لئے منشی کاکرداراداکررہاہے ۔شاید یہ ضمنی الیکشن چونکہ مختلف حلقوں میں اس کاانعقادکیاجارہاہے وہ یہ ٹیسٹ کرناچاہ رہے کہ عوامی غیض وغضب کابھی کچھ اندازہ لگایاجاسکے۔کیونکہ پی ڈی ایم جماعتوں کویقینی خدشات لاحق ہیں کہ اگردوصوبوں میں جنرل الیکشن ہوئے توان کاان صوبوں میں صفایاہوسکتاہے اسی لئے حکومت اورالیکنش کمشنردونوں ٹال مٹول اورلیت ولعل سے کام لے رہے ہیں۔
جبکہ گورنرنے اپنا فرائض سے جان چھڑاتے ہوئے الیکشن کمشنرکے کاندھوں پربندوق رکھ دی ہے کہ وہ اس ضمن میں الیکشن کے انعقادکااعلان کرے۔دوسری طرف یہ رونارویاجارہاہے کہ ضمنی الیکشن پرپیسے خرچ ہوں گے اورچارپانچ ماہ بعد پھرالیکشن ہوں گے۔
کے پی کے میں پشاور سول لائنز خوکش دھماکہ کوبُنیادبناکرانتخابات ملتوی کردئےگئے
لہذاان تمام قرائین اورشواہدکومدنظررکھاجائے تواس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہےکہ الیکشن کمشنرکاکرداراس حوالے سے توبدنیتی پرمبنی ہے۔.
اوروہ اپنی آئینی اخلاقی ذمہ داریوں سے راہ فراراختیارکرناچاہ رہی ہے
No comments:
Post a Comment