ویکسینیشن :تجربات ومشاہدات
ہم حکومت پنجاب کی طرف سے معززبزرگ شہریوں کو پاکستان کے سب سے بڑے کووڈ ویکسینیشن سینٹر میں خوش آمدید کہتے ہیں
اتنی تکلیف سرنج سے نہ ہوئ جتنا ان الفاظ سے واقعی زبان کا گھاو تلوارسے گہرا ہوتاہے۔مزید افسوس اس وقت ہوا جب نازک اندام حسینائیں دل تھام کرنکلنے کی بجائے بازو تھام کرسہلاتی ہوئ نکلیں لڑکوں کا بس نہیں چلا ورنہ وہ ان کے حصے کی سب سرنجیں لگوالیتے بہرحال افسوس کا مقام تھا بہرحال ایک ہی صف میں بیٹھ گئے محمود وایاز
کچھ عقلمند لوگ فجرکے بعد ہی پہنچنا شروع ہوگئے تھے بصیرت افروز وقت کی بچت اور محتاط پسندافراد ٹی شرٹ پہن کرآئے تھے ۔ہم پاکستانیوں کا زندگی کچھ حصہ لائنوں میں لگ کر ہی گزرجاتاہے۔ایسا لگ رہاتھا کہ کسی بارات یا ولیمہ پربغیر دعوت کے آئے ہوں بس کھانے کو ویکسین
اک آہ بھری آہ اور اوئ کی آواز وٹامن سی کے ساتھ دل سے نکلی موت کاخوف کتنا بھیانک ہوتا ہے اور یہ خو بہت برا ہوتا ہے انجانے خوف میں سوئ چبھنے اور وقت کے ضیاع کا بھی خوف وخدشہ تھا۔بہرحال ویکسینیشن لگوانے کے ساتھ ساتھ آخری وصیت پر بھی غوروخوض ہونے لگاکہ آخر ایک اشرف المخلوقات فرشتوں کاسجدہ کردہ انسان اللہکے ہاتھوں کا بناہوا ایکشخس دنیاسے چلاجائے گا تو قوم وملک کے لئے کیا پیغام چھوڑکر جائے گا لوگ خوش گپیوں میں مصروف
No comments:
Post a Comment