خدمت خلق اورصحت
ایک سچ : عملی پاکستانی مثال
تحریر:مجاہدعلی
میرے ایک قریبی دوست نے ایک مشہورکاروباری شخص کی سوانح حیات کے لئے انٹرویوکرنے کے لئے ان سےرابطہ کرنے کاکہاکسی وجہ سے نہ ہی بلمشافہ ملاقات ہوسکی نہ اس پراجیکٹ پرمذیدکام نہ ہوسکا۔ لیکن میرے رابطے میں وہ نمبرمحفوظ ہوگیا۔جن سے وقتافوقتا ان کے تجربات ذندگی اورسرگرمیوں کی رپورٹ ملتی رہتی ہے۔
موصوف کروڑپتی ہیں اوران کا لاجسٹک کاکاروبار ہےجوکہ بیرونی دنیاتک پھیلاہواہے۔ انکاتعلق دیہات سے ہے اس لئے لاشعوری طورپرگاوں دیہات اوراس سے جڑے مسائل ہمیشہ دماغ میں رہتے ہیں ۔

خدمت خلق انکاپیشہ اورشوق ٹھہرا۔ان کاایک شوق شہروں کی بجائے دوردرازدیہات گاوں میں ڈسپنسریاں اورہسپتال قائم کرناہے۔کیونکہ شہروں میں توہرکسی کوصحت کی کچھ نہ کچھ سہولتیں میسر رہتی ہیں دوردروازعلاقوں میں صحت کی سہولتیں ہمیشہ ناپیداورناکافی رہتی ہیں۔اس لئے اس سیگمنٹ پرہی فوکس کرتے ہیں ۔ان کاکہناہے کہ دیہات ہی حیات ہے۔
چھ ماہ پہلے اپنی ذندگی کے تجربات شئیرکرتے ہوئے ایک عجیب وٹس پیغام بھیجا۔کہا
میری عمر۷۵تا۸۰ سال ہے اورمیں خودکو ابھی تک نوجوان محسوس کرتاہوں۔انھوں نے ایک مرتبہ دل کی بات شئیرکرتے ہوئے لکھاکہ بوڑھاہونا الگ چیزہے،بوڑھادکھائی دیناالگ بات ہے۔کہا بڑھاپے میں مکمل صحت مندرہنے کاراز دوسرے بیمارانسانوں کی خدمت میں ہےکرکےدیکھ لیں گے مان جائیں گے انشاءاللہ!
جب اس بات پر سوچا تومحسوس ہوا کہ جب آپ دکھی ضرورتمند کسی کے لئے بھاگتےدوڑتے ہیں،کچھ کرتے ہیں دماغ استعمال کرتے ہیں توشعوری طورپران کے مسلے پرسوچتے ہیں تو آپ ایکٹورہتے ہیں تونفسیاتی طورپرتھکاوٹ بھی کم ہوتی ہے۔اس سے انسان کوایک عجیب ساروحانی سکون اورازلی سچی خوشی نصیب ہوتی ہے۔دوسرایہ کہ حرکت میں برکت ہوتی ہے اس سے نہ صحت نصیب ہوتی ہے بلکہ دن بدن نئے تعلقات بھی بڑھتے ہیں بہت سارے قابل لوگوں سے ملاقات بھی ہوجاتی ہے۔
انسانوں کواپنے ہاتھ سے چُپکے چُپکے دیں کیونکہ اس وقت انسان کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ انسان خداکانائب (چھوٹاخدا) بن کرزمین پرانسانوں میں وہ نعمتیں پیسوں کپڑوں یا دیگر کسی شکل میں عطاکر رہاہوتاہے ۔ دینے والاہاتھ ہمیشہ سدااونچاہوتاہے ۔اورانسان بھی تواللہ کے دئے میں سے دیتاہےانسان کاکیاجاتاہے اللہ انسان کواورعطاکئے جاتاہے کرتاہی چلاجاتاہے۔
جب آپ اپنے رشتہ داروں اوراجنبی سے صلہ رحمی کرتے ہیں توروزی کاروباربھی وسیع ہوتاہے۔کوشش کریں کہ ہمیشہ اپنے ہاتھ سے بانٹیں ۔صدقہ خیرات کواچھی طرح مستحق شخص کی جانچ پڑتال چھان پھٹک کرکے دیں تاکہ آپکی خیرات صحیح معنوں میں ضرورت مند افراد کے پاس ہی جائے۔
قرآن کے پورے خُلاصے کاتیسرامفہوم خدمت خلق ہے۔اس لئے خدمت خلق کاکوئی بھی کام ہوچاہے وہ ضرورکریں۔یہ بات بھی بالکل سچ ہےاکثرخدمت خلق کاکام کرنے والوں کوبہت خوش مطمن پرسکون دیکھا ہے
اللہ تعالیٰ ہرذی شعور اورصاحب حیثیت کوکسی نہ کسی حوالے سے خدمت خلق کی توفیق عطافرمائے آمین
No comments:
Post a Comment