Thursday, 12 January 2023

چین میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کے وسیع مواقع

 

چین میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کے وسیع مواقع


ترجمہ وتلخیص:مجاہد علی

mujahid.riceplus@gmail.com

0321 3692874

 

حکومت پاکستان کوچاہئے کہ وہ بیجنگ میں کمرشل اتاشی کے قیام کو فوراعمل میں لائے۔

 

چائنہ اورپاکستان کے درمیان تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں چین پاکستانی پراڈکٹ کی درآمدکے حوالے سے دوسرابڑامُلک ہے جسکا مارکیٹ شئیر ۷ فیصدہے۔جبکہ امریکہ کاکل ایکسپورٹ کا سولہ اشاریہ سات فیصد حصہ ہے۔چائنہ امپورٹ کے حوالے سے بھی دوسرابڑاذریعہ ہے۔.آزدانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے)  کی وجہ سے چین کی طرف ایکسپورٹ کے حوال سے اضافہ ہواہے۔اس آزادنہ تجارت کی وجہ سے ۱۹ فیصدسےبڑھ کر۲۶ فیصد تک جاپہنچی ہے

چائنہ کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ تجارت کوبڑھانے میں گہری دلچسپی کااظہارکیا ہے۔  یہ توقع کی جاتی ہے کہ پاکستان سے مذیداشیاء کی درآمد کی جائے گی ۔چائنہ پاکستان سے سبزیاں اورپھل درآمد کرسکتاہے ۔پاکستان مشینری کودرآمدکرتاہے لیکن

پھربھی صنعتی ڈھانچہ  کوبہتربنانے کی ضرورت ہے تاکہ کم قیمت پرپروڈکشن ہوسکے۔چائنہ میں پاکستانی آم ،آلو گندم چاول اورترش پھلوں وبیری کی ایک وسیع طلب ہےدونوں ممالک جینیاتی چاول کی بڑھوتری کے لئے بھی کام کررہے ہیں۔  

چائنہ میں پاکستانیوں کے لئے زرعی شعبہ میں خاص مواقع موجود ہیں  ہیں جیساک چائنہ کو زمین کی سیرابی جیسے مسائل کاسامنابھی درپیش ہے۔ پانی کی کمی بڑھ رہی ہے۔کچھ فصلوں کے حوالے سے حالات بہت گھمبیربھی ہیں ۔چائنہ اپنی زرعی ضروریات کوپوراکرنے کے لئے ایشائی ممالک جیسا کہ  پاکستان ،انڈیا،تھائی لینڈ اورویت نام کوترجیح دیتاہے۔تھائی لینڈاورچائنہ کے مابین ٹیرٖف کی وجہ سے تجارت مشکل دکھائی دیتی ہے۔ یہ پاکستان کی کامیابی تھی کہ اس نے مواقع سےبھرپورفائدہ اٹھایا اورمارکیٹ کے خلاکوکامیابی سے پُرکرلیا۔

مشیرکامرس اینڈ ٹریڈ عبدل رزاق داود چین کے ساتھ   تجارت کے وسیع  امکانات ومواقع  کو دیکھ رہے ہیں۔وہ اس بات کومحسوس کرتے ہیں کہ مستقبل میں کن مصنوعات کی تجارت میں اضافہ ہوسکتاہے ۔جس سے چائنہ اورپاکستان کے جغرافیائی  تعلقات مذیدبہترہوں گے ۔چینی جیسی جنس کی تجارت رزاق داوکے لئے پہلی ترجیح ہے

پاکستان اورچین کے مابین تجارت کے مواقع کادوسراعنصر معدنیات اورقیمتی پتھربھی ہے ۔پاکستان چائنہ کے مابین اقتصادی راہداری معاہدہ کے تحت ٹیرف کی شرح ۳۵ فیصدسے ہوکرصفرتک آگئی ہے۔اب چائنہ کی انجینئرز کی توجہ ریکوڈیک سے دریافت ہوئے سونے اورچاندی کے ذخائرپرمرکوزہوچکی ہے۔

چائنہ نے اقتصادی راہداری کے تحت زرعی اورہارٹی کلچرکی شعبہ میں تیارکردہ اشیاء کے ی درآمد کرنے میں دلچسپی کا اظہارکیا ہے

تجارتی رکاوٹیں اورفوائد

رزاق داودنے اس اس خیال کااظہارکیاہے کہ پاکستان چین کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھےگا۔لیکن ان رکاوٹوں کوعبورکرنے میں کچھ رکاوٹیں بھی حائل درپیش ہیں ۔.پاکستان ذیادہ ترایکسپورٹ یورپ اورامریکہ کوایکسپورٹ کرتاہے ہیں لیکن چائنہ پاکستان کا سب سے بڑابرآمدی اشیاء کامرکزہے ۔پاکستان چائنہ کوذیادہ ترخام مال برآمدکرتاہے۔پاکستان چائنہ کو تقریبا ۶۶ فیصد خام کاٹن اورکرومیم کی شکل میں  برآمد کرتاہے۔یہ تناسب اورشرح کافی عرصے سے تبدیل بھی نہیں ہوئی ہے۔

پاکستان کودوسری اقوام کی بنسبت چائنہ کے ساتھ تجارت کرنے میں نمایاں فوائد ٓحاصل ہیں ۔یہ پاکستانی پراڈکٹ کی ترقی کے لئے مواقع فراہم کرتاہے۔

 چائنہ کے ساتھ ایف ٹی اے معاہدہ کے تحت پاکستان کو دوسرے ممالک پر فوقیت حاصل ہے کہ وہ ذیادہ منافع والی مصنوعات جیسا کہ ٹیکسٹائل اورکھیلوں کے سامان  کو ایکسپورٹ کرسکتاہے۔ لیکن نان ٹیرف مشکلات کی وجہ سے وسیع مارکیٹ سے بھرپورفائدہ اٹھانے سے محروم ہے۔

 چین میں پاکستانی مصنوعات کوبرآمدکرنے کے حوالے سے وسیع مواقع  موجودہیں لیکن پاکستانی برآمد کنندگان نان ٹیرف مشکلات کی وجہ سےپیش قدمی نہ کرسکے۔ ورلڈٹریڈ آرگنائزیشن(ڈبلیو ٹی او) نے اس حوالے سے حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے جن میں بہت ذیادہ وقت کاضیاع اورصرف ہونا ، اعلی لاگت اعلی لاگت نوکرشاہی کے کاطریقہ کار،تجارتی عدلیہ ،شفافیت کی کمی، غیرمعیاری ٹینڈرکاہونا

مذیدبرآں دونوں ملکوں کے مابین رابطے کافقدان ہے جیسا  مزید برآں پاکستان کے دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلق  کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے کافقدان ہے موجود ہے ۔ یہ معاملات دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان ہچکچاہٹ کاباعث بنتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی توقعات کوسمجھ نہیں پاتے جس سے اعتمادکی کمی واقع ہوجاتی ہے ۔

جب ایک معاہدہ ختم ہوجاتاہے یا پھرکوئی ناخوشگوارتجربہ رُونما واقع ہوجاتاہے توپارٹی  کے لئے دوبارہ سے اعتماد کرنا مشکل ہوجا تاہے ۔

چائنہ تجارتی مواقع کے حوالے سے بہت بڑی مارکیٹ ہے بعض اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ناکافی رسد کی فراہمی ایک مسلہ ہے۔

چائنہ کے ہاں درآمدی اشیاء کی بہت ذیادہ  طلب ہے اسکی وجہ وہاں  لیبرمارکیٹ کی کمی ہے۔ پیداواری لاگت کی وجہ سے بیرونی کاروباری حلیفوں  سے مقابلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے۔دوسری طرف مارکیٹنگ کابھی مسلہ ہے۔پاکستان کوچاہئے کہ اقتصادی راہداری پراجیکٹ میں تجارتی مواقعوں کی نشاندہی کی جائےاوراس میں تجارتی مواقع کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ممالک کے بہت سارے تاجر اس کے بارے میں کافی حد تک نہیں جانتے ہیں

متعدد اطلاعات  ہیں کہ پاکستانی تاجروں کو ان کی مصنوعات کے حوالے  گہری چھان بین سے تکلیف کا سامنا ہے ۔ جس کی وجہ سے بعض اوقات ان کی پراڈکٹ خراب ہوجاتی ہیں۔ یہ محض اس وجہ سے ہے کہ پاکستانی چائنہ میں پاکستانی پراڈکٹ کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

 کچھ مثبت تجاویز

پاکستان کواس بات کی اشدضرورت ہے کہ وہ اب خام مال ایکسپورٹ کرنے کی عادت ترک کردے  اور عام سادہ پراڈکٹ کی  بجائے ویلیوایڈڈ پراڈکٹ کی تیاری کرے ، اس سے لیبرمارکیٹ کوبھی فائدہ ہوگا ۔ جس سے ملکی ترقی ہوگی اورمارکیٹ کا حجم بھی بڑھ سکتاہے ۔

پاکستان کومشورہ دیاجاتاہے کہ چائنہ میں سفارت سے ہٹ کرایک کمرشل قونصلیٹ کی تشکیل کرے ۔ یہ چائننر کی مانگ اورپسند ناپسند  کوسمجھنے میں مددگار  ثابت ہوگا ۔یہ سب کچھ اداروں کی جانب سے تحقیق پرمشتمل ہوگا۔اورپاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ چینی تاجروں کو مربوط کریں گے۔یہ بھی تجویزکیاجاتاہے کہ ٹریڈاتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈیپ)  پاکستانی  مصنوعات  کی برانڈنگ کوبہترکرنے اورپراڈکٹ کی مارکیٹنگ کوبہتربنانے کے لئے کچھ رقم مختص کرے ۔

امید کی جاتی ہے کہ حکومت پاکستان تاجروں کو موثر خریداری اور تقسیم کار کے نیٹ ورک بنانے میں مدد کرے گی۔تاکہ پاکستانی مصنوعات کے معیارکوچائنہ کے صارف کی پسندناپسند کی بناپربہترکیاجاسکے۔

 اصل آرٹیکل چائنہ اکانومسٹ نیٹ پرشائع ہوا بعدمیں ایکسپریس ٹرائی بیون میں  ۲۰ جولائی ۲۰۲۰ میں شائع ہوا۔مذید سیاق وسباق کے لئے درج ذیل لنک کوکلک کریں !

https://tribune.com.pk/story/2255670/potential-of-boosting-pakistans-exports

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پاکستانی زرعی شعبہ کی ترقی وفروغ

 

 

ترجمہ وتلخیص :مجاہدعلی

mujahid.riceplus@gmail.com

0321 3692874

 

پانی کے ذخائرہائیڈروالیکٹریسٹی بنانے میں مددگارثابت ہوں گے۔یہ ایک نسبتا سستے ذرائع سے بجلی بنانے کاایک ذریعہ ہے

 

پاکستان میں  حکومتیں 1960 کی دہائی کے اوائل سے ہی کسانوں کو غذائی پیداوار میں اضافے کے لئے زرعی آلات کی خریداری پر سبسڈی دے رہی ہے۔تاکہ فوڈکی پیداوارکوبڑھاسکیں ۔وفاقی حکومت نے  کرونا وائرس کے اکانومی پر اثرات کومدنظررکھتے ہوئے جاری مالی سال  کے دوران کاشتکار حضرات کے لئے کھاداوردیگرزرعی آلات پر ۳۷ بلین روپے کی سبسڈی کااعلان کیاہے

 زرعی  ضروریات اوردیگرمقاصد کوپوراکرنے لئے ٹیوب ویل لگانے کے لئے بھی مالی امداد دی گئی ہے ۔اسکے علاوہ آبپاشی کے لئے بجلی کی فراہمی پررعایت دی جائے گی۔

  سبسڈی پیکج دینے کاایک مقصد تویہ ہے کہ بڑی اجناس جیساکہ گندم اورکاٹن کی فی ایکڑپیداوار بڑھایا جائے۔اس مقصدکے لئے کاشتکارحضرات کورعایتی نرخوں پرذیادہ پیداوار کی اقسام والے بیج کی فراہمی کی کوشش  بھی جاری ہے۔حکومت نے نہری نظام کوبہتربنانے کے لئے بھی منصوبہ بندی کی ہے۔

پانی کی تحفظ وزخائر کے لئے مذید کوششیں کی جائیں گی ۔بارش کاساراپانی سمندرمیں چلاجاتاہے اور ضائع جاتاہے ۔ اس امرکی سخت ضرورت ہے اس حوالے سے کہ بڑے اورچھوٹے ڈیم کی تعمیرکی منصوبہ کی جانی چاہئے۔دیامربھاشا ڈیم پانی کی کمی پر قابو پانے کی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہے۔

حکام چین  میں  تعمیرہوئے  بڑے اورچھوٹے ڈیموں جیسے ملک میں  تعمیر ہوئے بڑے اور چھوٹے ڈیموں  ضرورت پر زور دے رہے ہیں

حُکام اس بات پرزرو دے رہے ہیں کہ جیسے چین میں چھوٹے اوربڑے ڈیموں کی تعمیرہوئ ہے ویسے ہی یہاں بھی ہونے  ڈیم بننے چاہئیں اوراس حوالے سے چین کی بہترین مثالیں موجودہیں ۔

پانی کے  یہ ذخائرنہ صرف پانی کی فراہمی کوبہترکریں گے بلکہ اس سے  پانی سے بجلی بنانے میں بھی مددملے گی  جوکہ بجلی بنانے کاایک سستا موثر ذریعہ بھی ہے۔ حکومت کینال سسٹم کی بہتری کے لئے تمام ترکوشش کررہی ہے اوردوسری طرف کاشتکاروں کوبھی اس طرف راغب کررہی ہے کہ وہ پانی کے استعمال  کابہترطریقے سے انتظام بھی کرے

اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بہت کم ہے پاکستان میں کپاس کی فی ہیکٹر پیداوارمحض 2.5 ٹن ہے ،جبکہ چین میں یہ تناسب ۵۲ فیصد ہے ۔پاکستان میں  گندم کی فی ہیکٹر 3.1 ٹن پیداوار ہے جبکہ فرانس کوفی ہیکٹر 8.1 ٹن کی پیداوار ملتی ہے۔اسی طرح مصرکی گنے کی فی ہیکٹرپیداوارپاکستان کے مقابلے میں ۶۳ فیصدسے ذیادہ ہے۔

اعدادوشمارکے یہ حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان میں فصلوں کی فی ایکڑ پیداوارکوبڑھانے کی اشدضروت ہے جس کے لئے تحقیق اورٹیکنالوجی کواپنانےپرزوردیا جانا چاہئے اورکسانوں کے رویوں کوبھی بدلنے کی ضرورت ہے۔

یہ آرٹیکل ایکسپریس ٹرائ بیون میں ۲۰ جولائ ۲۰۲۰ کوشائع ہوا

مذیدسیاق وسیاق اوربہترطورپرسمجھنے کے لئے درج ذیل لنک کوکلک کریں

https://tribune.com.pk/story/2255661/boosting-agriculture

 

 

 

 

 

 

EditorialJuly 19, 2020

 

 

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...