Wednesday, 18 January 2023

پاکستانی معاشرے میں تیزی سے پھیلتے ٹک ٹاک کلچر کے مضراثرات اوراس سے بچاو!

 

 

پاکستانی معاشرے میں تیزی سے پھیلتے ٹک ٹاک کلچر

کے مضراثرات اوراس سے بچاو!

 

صاحب تحریر:مجاہدعلی

Meritehreer786@gmail.com

 

 

ایک خبرکے مطابق پاکستان اْن ٹاپ 5 مارکیٹوں میں شامل ہے جہاں ٹرمز آف سروس یا کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کے باعث ٹک ٹاک پر موجود ویڈیوز کو بڑی تعداد میں ہٹایا گیا ہے!

اس خبرکے نتائج بہت حدتک پریشان کن ہیں جس سے قوم کے مجموعی رویوں کی عکاسی ظاہرہوتی ہے کہ آخرہمارامعاشرہ اورنئ نسل کس راہ پرگامزن ہے۔ ایک ذی شعورانسان یہ سوچتاہے کہ ہمارے معاشرے میں کتنی گراوٹ آچکی ہے

 

 

آج کے جدید اوربرق رفتار دور میں ٹیکنالوجی نے انسان کے لیے بہت آسانیاں پیدا کر دی ہیں ہردن کچھ نا کچھ نئی ایجادسامنے آتی رہتی ہیں ۔۔جہاں پرٹیکنالوجی اورایجاد انسانیت کے لئے آسانی فراہم کرتی ہے تواسکے ساتھ  ہی دیگرکئی قباحتیں بھی جنم لیتی ہیں ۔یعنی ان کے منفی اورمثبت اثرات  بھی سامنے آتےرہتے ہیں ۔آج کے دورمیں جوچیزنوجوانوں میں بہت ذیادہ سرایت کررہی ہے وہ ہے سوشل میڈیا!یعنی فیس بک،وٹس ایپ،لنکڈان ،ٹویٹر،سمعیت دیگر ذرائع بھی ہاسی طرح ایک ٹک ٹاک بھی ہے !جس کے سحرمیں پوری دنیامبتلاہے!پاکستانی نوجوان بھی اسکاشکارہیں !اس نے ہماری ذندگیوں پربہت گہرے اثرات مرتب کئے ہیں !طلباء طلبات سمعیت  لوگوں  کااکثروقت  سوشل میڈیا پربھی گزرہاہے جوکہ سراسروقت کازیاں ہے

 

ٹک ٹاک کا مختصرپس منظر!

۲۰۱۶ ستمبرمیں چین سے شروع ہوئی اس ایپلی کیشن کئ سو ملین استعمال کنندگان ہیں ۔۱۵۰ سے ذائدممالک میں اسکااستعمال ہے جبکہ یہ سالانہ اربوں ڈاکرکمارہی ہے۔کئی ملکوں میں تواس پراسکے نامناسب موادکی وجہ سے پابندیاں لگ چکی ہیں اس کے ساتھ ساتھ مقبولیت کے ریکارڈتوڑنے فیس بک جیسے میڈیم کے پیچھے ہے! دنیاعالمی گاوں کی شکل اختیارکرچکی ہے آج وائرل ہوئی ویڈیودنیاکے کونےکونےمیں پہنچ جاتی ہے

آئیے اسکاکچھ تجزیہ کرتے ہیں !

 

آج کے اس جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت کو نظر انداز تو نہیں کیا جاسکتا مگر معاشرے پر اس کے مرتب ہونے والے منفی اثرات کا ذکر بھی ضروری ہے۔

دوسری طرف ہم ، ہمارے بچے ،ہمارے نوجوان اورطلبہ و طالبات کیا کر رہے ہیں آئیے کچھ اسکی جھلکیاں دیکھتے ہیں !

جب سے یہ ایپلی کیشن آئی ہے نوجوانوں کی ایک کثیرتعداداس راہ پرچل نکلی اوروہ ریٹنگ وپیسے کے چکروں میں پڑچکی ہے۔اس دوڑمیں نوجوان لڑکیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں اتنی واہیات اوربے شرمی کی حرکات کرتی ہیں کہ انسانیت کاسرشرم سے جھک جاتاہے !راتوں رات مشہورہونے کے لئے  وہ کئی طرح کے پاپڑبیلتے ہیں ! یوں لگتاہے کہ ویڈیوبنانے کی ایک دوڑلگی ہوئ ہے اوردن رات سب اسکے جنون اوربخار میں مبتلاہیں

ایسی ایسی بے حیائ اورعریانیت کی مثالیں قائم ہورہیں کہ اللہ کی پناہ!بلکہ اس نے توفلمی صنعت کوبھی پیچھے چھوڑدیاہے اسکے پیچھے سب کچھ میڈیاکی کارستانیاں کارفرما ہی ہیں !

بچوں ربچہ بچی نوجوان جواں مردوزن سب ایک رنگ میں رنگے نظرآتے ہیں گویاایک حمام میں سبھی ننگے ہیں  !ایسا لگتاہے کہ ہرکوئ ہی ڈائریکٹرپروڈیوسرمصنف گلوکار ایڈیٹرایکٹروغیرہ بن بیٹھاہے اوران کی ایسی ایسی تخلیقی صلاحیتیں سامنے آتی ہیں کہ انسان حیران ہوجاتاہے اوریہ کہنے پرمجبورہوجاتاہے کہ

 

ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی

 

 کچھ لڑکیوں نے شرافت کالبادہ اتارکربے شرمی اوربے حیائ کے لباس کوزیب تن کرلیاہے نیم برہنہ جسم  ،انتہائ چست لباس اورفحش حرکات کے ساتھ جلوہ  افروزہورہی  ہیں ۔ شایدیہی وجہ ہے کہ موٹروے زیادتی اورقصورکی زینب ذیادتی جیسے کیس سامنے آتے رہتے ہیں !

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئ بھی ٹیکنالوجی بری نہیں ہوتی لیکن اسکاغلط استعمال اسے برابنادیتاہے۔اب یہ انسان کی فطرت پرمنحصرہے کہ وہ کتناسلیم الفطرت ہے اسکاماحول کیاہے وہ کیاسوچتاسمجھتاہے کیادیکھتاہے سنتاہے اسکی سوچ سے بُرے افعال سرزدہوتے ہیں

 

 

ٹک  ٹاک کے  مذیدمنفی اثرات

اسکے عمومی اثرات میں

 قیمتی وقت کا ضیاع

موسیقی اورتصویر اورمتحرک ویڈیوکی اشاعت

اعلانیہ وکھلے عام بے حیائ کی تبلیغ

گناہ کی اشاعت

 

ٹک ٹاک کلچر:تصویرکادوسرارخ

 

آج ہم اس دورمیں ذندہ ہیں جہاں انسان اپنی گھٹن اورجذبات احساسات کوسوشل میڈیاپرالفاظ اورویڈیو تصاویرکی شکل میں شئیرکرتاہے یوں یہ اسکے لئے کتھارسس کاباعث بھی بنتاہے لیکن اظہارکی آذادی بسااوقات بے راہ روی کی شکل اختیارکرلیتی ہے جس سے معاشرہ پرمضراثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب اظہارکے اتنے زرائع ہیں کہ ہرشخص کہنے سننے میں آزادہے

بول کے لب آذادہیں

اس ملک میں جہاں نوجوانوں کو اپنی فطری اورچھپی ہوئ صلاحیتوں کے اظہارکے مواقع دستیاب نہیں  ٹک ٹاک ان کویہ موقع فراہم کرتاہے۔سوچنے کی بات ہے  ایسی کیاخاص بات ہے کہ نوجوان کی اکثریت اسکی طرف کھنچی چلی جارہی ہے۔غریب اورمتوسط خاندانوں سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت اسکااستعمال کرتی دکھائ دیتی ہے

اگربغورجائزہ لیاجائے توایک بات سامنے آتی ہے کہ ہماری قوم بچے بوڑھے مردوزن کس  اپنے اندرکس قدرتخلیقی صلاحیتیں لئے ہوئے ہیں لیکن اپنی توانائی اورقیمتی وقت  بے تکے بے کارمشغلوں اورحرکات وسکنات میں صرف کررہے ہیں

 

ٹک ٹاپ پرایک ڈھابے والاڑیڑھی والے سے لیکرہرکوئی ہنراورٹیلنٹ سے اپنے آپ کومنواسکتاہے بس بات ساری وائرل ہونے کی ہے

انسان حیران ہوجاتاہے کہ کچھ  لوگ جو بالکل بھی پڑھے لکھے لیکن ان کے اندربے پناہ ٹیلنٹ ہے جوشاید کہیں غلط جگہ پراستعمال ہورہاہے

پالیسی سازاورمتعلقہ راداروں کے لئے یہ بات بڑی قابل غور ہے کہ ہماری قوم کے بچے سے لیکربوڑھے سبھی انتہائ  باصلاحیت قوم ہیں بس ان سے کام لینے اوران کوڈرائیو کرنے کاھنرآنا چاہئے!

ٹک ٹاک ایپ نوجوان نسل کے اخلاق اورہماری ثقافت کے لئے تباہ کن ثابت ہورہی ہے اہل فکرودانش وروں کوچاہئے کہ وہ نئ نسل کواسکے مضراثرات کے بارے میں آگاہ کریں

 

 کیونکہ   چھوٹی عمر کا طبقہ  سوشل میڈیا کے چُنگل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے   جس نے  ان کی سماجی  مصروفیات  کو کسی حدتک  محدود کر دیا ہے۔  اوران کاتعلیمی حرج بھی ہوتاہے ۔ڈرہے کہیں ہماری ہماری نسل سوشل میڈیا کی  تاریک راہوں میں نہ کھوجائے؟

 

اسلام کی خوبی یہ ہے کہ انسان لا یعنی کام کو ترک کردے۔گھڑی کی ٹک ٹک ہمیں بتاتی ہے وقت کتناقیمتی ہے اورہم ٹک ٹاک کے بخارمیں مبتلاہیں ۔

کیاہم قرآن   میں اللہ کے اس حکم کوبھول چکے ہیں کہ ہم نے انسانوں اورجنوں کواپنی عبادت کے لئے پیداکیاہے!؟

کیا ہم حدیث کے اس مفہوم کوبھول چکے کہ روزقیامت انسان کاپاوں اللہ کے سامنے اس وقت تک نہ ہٹے گاجب تک اس سے ۵ سوالوں کے جواب نہ پوچھ لئے جائیں !عمرکیسے گزاری !جوانی کوکن امورمیں کھپایا !مال کہاں سے کن ذرائع سے کمایاخرچ کیا اورجوعلم حاصل کیااس پرکس حدتک عمل کیا!

خدارااپنی نسلوں اوراولادوں کو اس بڑھتے ہوئے فتنے کے مضراثرات سے آگاہ کریں

اللہ ہم سب کواپناقیمتی فضول کاموں میں خرچ کرنے سے بچائے!اوراس کومثبت کاموں میں صرف کرنے کی توفیق عطافرمائے!

 

###

 

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...