عصرحاضراوربچوں میں تحریری صلاحیتوں کافقدان
صاحب قلم !مجاہدعلی
92 333 4576072
پوری دنیا جب کرونا کاشکارتھی توپاکستان میں بھی کرونا اپنے عروج پرتھا
!کاروباربند ہوگئے اورکئی صنعتیں توایسی تھیں جوکہ بالکل بندہوکررگئی تھیں تواسی طرح تمام تعلیمی اداروں کوبھی تالے لگ گئے !ہرطرف ایک ہُوکاعالم تھا ! لیکن ایسے بدترین حالات میں دماغ اورعقل نے اپناہی ایک نیارستہ نکال لیا!
اوروہ راستہ تھا آن لائن!کچھ کاروبار انٹرنیٹ پرمنتقل ہوگئے تواس کے ساتھ ٹیلی سکول بھی کھل گئے!اوریوں تعلیم کے نئے سلسلوں کے تجربات ہونے لگے
میری بہن بھی گھرپربیٹھ کراس آن لائن سلسلے تعلیم کے ساتھ منسلک ہوئی !ایک دن وہ اردوکاآن لائن لیکچردے رہی تھی جسکاٹاپک تھا اپنی والدہ کوخط لکھو!سچ پوچھیں تومجھے توبہت ہنسی آئی کہ ۲۱ویں صدی جوکہ موبائل وٹس ایپ سوشل میڈیا اورویڈیوکال اورایس ایم ایس کی دنیاہے توہم آج بھی بچوں کواس قسم کی تعلیم دے رہے تھے!
راقم چونکہ ایک بزنس کال سینٹرسے بھی منسلک ہے جس میں سکول کالج کے لڑکے لڑکیوں اورعام افرادسے تحریری طورپرکمیونی کیشن ہوتی رہتی ہے!اپنے اس تجربہ سے یہ جانااورمعلوم ہوا کہ ہماری نئی نسل کے اندرتحریری صلاحیتوں کی انہتائی کمی ہے!
ایک واقعے سے توہمارے ملک اور صوبائ اورقومی پالیسی سازاداروں کی حالت زارکاپتہ چلاکہ وہ اپنی قوم کے لئے کس نہج پرسوچتے ہیں!وہ ۲۱ویں صدی میں ترقی یافتہ اورصحیح معنوں میں ایک تعلیم یافتہ قوم بنانا نہیں چاہتے ہیں !ہمارے پرائیویٹ اورعوامی سکول اورکالجزکی تعلیمی حالت بھی بہت پتلی ہے!
تعلیمی ادارے آخربچوں کوکیاسکھارہے ہیں !تحریری صلاحتیں کسی بھی تعلیم کاایک بنیادی ستون اورریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے !لیکن جب بچوں اورنوجوانوں کی تحریری صلاحیتوں کودیکھاپرکھاتومعلوم ہواکہ وہ تواپنامافی الضمیرتک بیان نہیں کرپاتے ہیں !
جب پرائیویٹ سکول کے اساتذہ جن کومحض ۵یاچھ چلیں دس ہزارتک تنخواہ دی جائے اورجن کی اپنی تعلیم بھی انتہائی واجبی سی ہوتی ہے یعنی مڈل پاس سے لیکر۱۲جماعت تک!
دوسری طرف سرکاری سکول کے اساتذہ بھی شایدپوری طرح اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرپاتے !اس طرح ہرصورت نقصان محض طالب علموں کاہی ہوتاہے !ایک طرف تجارتی بنیادوں پر قائم کئے گئے پرائیویٹ سکولوں کی بھاری بھرکم فیس تودوسری طرف سرکاری سکولوں میں سفارش کی بنیادوں پربھرتی کئے گئے اساتذہ !
سوچنےکامقام ہے بچوں کوکس قسم کی تعلیم دی جاتی ہے وہ آٹھ دس پڑھ لکھ کربھی لکھنے کے قابل نہیں ہوتا توایسے میں کہاں جوہرقابل پیداہوں گے!
اس سلسلے میں ذیل میں کچھ عملی اورقابل عمل ٹھوس تجاویزدی جارہی ہیں جن پرعمل پیراہونے سے بچوں میں کسی حدتک لکھنے کی صلاحیت اجاگرہوسکتی ہے
اول سطح پرتو پالیسی سازادارے تعلیم نصاب کوجدیدتقاضوں سے ہم آہنگ کریں!
بچوں کو پرانے نصاب سے نجات دلائی جائے!
ایسے اساتذہ کی بھی بھرتی کی جائے جوبچوں کوخصوصی طورپرہرقسم کی تحریرلکھنے بچوں کوہرقسم کی تحریرلکھنے پرتربیت دیں تاکہ وہ ساری زندگی کام بھی آئے پرائمری تا میٹرک اورکالج کی سطح پرخصوصی طورپرکلاسزلی جائیں
بچوں کوتحریری ٹاسک دئے جائیں
طلباء کی لکھنےپڑھنے کی صلاحیتوں کونکھاراجائے کیونکہ امتحانات اورعملی ذندگی کے ہرقدم پربچوں نےضرورکچھ نہ کچھ ضرورلکھنا توہوتاہے!
سکول کے اندرماہرتحریرکاخصوصی لیکچررکھاجائے اوربچوں کی سطح پران کوخصوصی کورسزیاورکشاپ منعقدکی جائیں
نجی اورسرکاری اداروں کے اساتذہ کی بچوں کوتحریری صلاحیتوں سکھانے پرخصوصی تربیت اورورکشاپ ہونی چاہئیں
ہرسکول اورکالج خصوصی شعبہ کاقیام عمل میں لائیں جوطلباء کے اندرلکھنے کی صلاحیتوں کوپروان چڑھاسکیں !
آج اگربچوں بچیوں کویہ سکھائیں گے تووہ کل کے اچھے ریسرچربھی بن سکتے ہیں!
نوٹ !اس سلسلہ میں مختلف سکول بچوں کے لئے پروگرام شروع کرسکتےہیں اورراقم بھی کچھ سکولوں کے ساتھ منسلک رہ کرمختلف آئیڈیازاورمنصوبہ جات میں کام کرنے کے حاضرہے
6 Sep 2020
No comments:
Post a Comment