Tuesday, 31 January 2023

اپنے بچے کی بہترین طریقے سے حفاظت کرنا: اچھالمس بمقابلہ بُرالمس

 

بسلسلہ تعلیم وتربیت


اپنے بچے کی بہترین طریقے سے حفاظت کرنا: اچھالمس بمقابلہ بُرالمس

تحریر:مجاہدعلی

0333 457 6072,mujahidali125@yahoo.com


یہ ۲۲ جولائی ۲۰۲۲ کی بات ہے کہ ڈان نیوزویب سائیٹ ایف  آئی کے ڈائریکٹرجنرل محمد طاہررائے نے جنسی استحصال کے حوالے سے خبرشئیرکرتے ہوئے کہ پاکستان مین ۲۰۲۱ جنسی استحصال کے حوالے سے ۲۰ لاکھ کیسزہوئے جبکہ صرف ۳۴۳ رپورٹ ہوئے ۔یہ اعدادوشماربہت خوفناک اوردل دہلادینے والے تھے!جس  سے ہمارے معاشرے کی اخلاقی حالت کاایک اندازہ ہوتاہے۔یعنی صرف ۳۴۳ کیسزہی درج ہوئے ۔اس کامطلب یہ ہے کہ ہمارامعاشرہ اس استحصال پربدنامی ،خوف اورشرم کی وجہ سے چُپ سادھ لیتاہے جوکہ ایک  المیہ اورقومی سانحہ ہے۔

ایک ایسے مشرقی معاشرے میں جہاں ہمارے  چھوٹے بچوں کے لئے عورت ومردکے اعضائے مخصوصہ کے سائینسی نام لیناشجرممنوعہ ہیں، بلکہ اس موضوع پر بات کرنا ہی معیوب سمجھاجاتاہے ۔تو پھربطورقوم ہم بچوں  کوجنسی استحصال  کے خوف سے  کیسےبچاسکتے ہیں۔

ایک اسلامی اورمشرقی معاشرے میں بچوں کو محتاط اندازا  میں  بھی ابتدائی جنسی تعلیم دینا اورسمجھانا انتہائی مشکل بات ہے کہ ان کوجنسی تعلیم کے بارے میں آگاہی دی جائے!بچوں کواس کچی عمرمیں اس حوالے سے کوئی شعورنہیں ہوتاہے،کیونکہ اس طرح کاتصورتعلیم  تومغربی معاشرے میں ہی سکھایاجاتاہے۔

اگرچہ جنسی استحصال کے موضوع پربحث کرناجتنامشکل ہے اتناآسان اس سے بچناہے۔لیکن سچی بات ہے  کہ عہدحاضرمیں جنسی استحصال پربات کرناوقت کی ضرورت بن گیاہے۔کیونکہ معاشرے میں ہمارے اردگرداتنے واقعات ہورہے ہیں کہ اس حوالے سے بچوں سے بھی بات چیت کرنابہت ضروری ہوگیاہے۔اگرچہ خاص طور پر جنسی استحصال پر بحث کرنا ایک مشکل موضوع ہے اور اس سے بچنا بہت آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے کے لیے یہ اس وقت ایک اہم ضرورت بن گیا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں، خواتین کے سماجی عروج کی وجہ سے مختلف ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے والی، بہت سی نامور خواتین نوجوانی کے جنسی استحصال کی اپنی گہری ذاتی کہانیوں کے ساتھ آگے آئی ہیں جنہوں نے ان کے بڑھتے ہوئے سالوں میں انہیں پریشان کیا، ان کے لیے مواقع کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، انہیں دوسرے لوگوں میں شکوک و شبہات اور بداعتمادی میں جکڑا، اور ان کی شخصیت کو بہت اچھا بنایا۔

پاکستان شوبزانڈسٹری کی ایک ایسی ہی جرات مندخاتون نادیہ جمیل نےبڑی بہادری دکھائی اورآگے آئیں اوربچپن میں اپنے ساتھ ہوئے جنسی استحصال سے پردہ اٹھایا۔چندسالوں پہلے وہ چھاتی کے کینسرجیسے موذی مرض سے نبردآزمارہیں۔انھوں نے بیان کیاکہ کس طرح میرے ساتھ ۴سال،پھر۱۱سال کی عمرمیں حتی کہ کالج کے ایام میں جنسی استحصا ل کے واقعات ہوئے۔ماضی کی داستا ن بتاتے ہوئے کہا کہ کس طرح ایک اُستاد،اس کے ڈرائیوراورخاندان کے ایک قریبی شخص نے جنسی استحصال کانشانہ بنایا۔اورپھربرسوں افسُردگی،اُداسی،شرم اورخوف میرے رفیق بن گئے ۔

اس کہانی کے ساتھ اس کے سامنے آنے کی وجہ نہ صرف یہ کہ کئی دوسرے لوگوں کو بااختیار بنانا اور انہیں یہ بتانا تھا کہ ان کے پاس شرمندہ ہونے کے لیے کچھ نہیں تھا بلکہ معاشرے میں بچوں کے جنسی استحصال  کے خطرات سے بھی خبردارکرناتھا۔

پوری دنیامیں ایک مہم چلی جس کانام تھا  می  ٹو(یعنی مجھے بھی جنسی استحصا ل کا نشانہ بنایاگیا)۔ اس دوران کئی بین الاقوامی  اورقومی  نامورخواتین  نے اپنے ساتھ ہوئے جنسی استحصال کے حوالے سے کھلے اوردبے الفاظ میں بتایا۔

 داناافرادنےہمیشہ یہی کہاہے کہ افسوس کرنے سے بہترہے اس سے بچ کرمحفوظ رہاجائے۔اوریہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ظُلمت چھائی ہوئ ہے۔ہمیں اپنے بچے اوربچیوں کوجنسی استحصال کے ظلم سے بچاناچاہئے۔لیکن ایک بات اوربھی ہے جب بچہ ،جنسی ،بدسلوکی (استحصال) جیسے الفاظ اگرایک جُملے میں سمٹ آئیں،توہم نہیں جانتے ہیں کہ اپنے  نوجوانوں کوبچانے  میں کس طرح مدد کی جائے۔!

لیکن اب بہت سارے ایسے طریقے ہیں جوبچے کوجنسی ذیادتی اوربُرے لمس کے احساس کے بارے میں مددکرسکتے ہیں۔اس ضمن میں انھیں مخصوص جسمانی حصوں سے رُوشناس کروایاجائے اوران کے حیاتیاتی نام بھی بتائے جائیں ۔اس طرح وہ اپنے والدین یا قابل اعتماد سرپرستوں کے ساتھ اپنے ساتھ ہوئے تجربات  کوبہتراندازمیں شئیرکرسکیں گے۔۔ ہمیں اب انہیں یہ  بات سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے جسموں کے مالک ہیں اور کسی کو انہیں چھونے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔

ایسا کرنے سے انہیں اپنے جسمانی اعضاء کی رازداری کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس سے ان کویہ سیکھنے میں مددملے گی کہ کوئ فردبھی  ان کے جسم کے کچھ  مخصوصوں کوحصوں کو نہ توچُھوسکتاہے،نہ دیکھنے کی ہمت کرسکتاہے اورنہ ہی اس کی تصویرلے سکتاہے۔

ایسا کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ سوئمنگ سوٹ کے اصول کی مدد لی جائے یعنی جسم کے وہ حصے جو سوئمنگ سوٹ سے ڈھکے ہوئے ہیں وہ ان کے انتہائ نجی  یامخصوص  جسمانی  اعضاء ہیں۔لیکن بعض صورتوں میں ماں  باپ  بچے کی جسمانی حالت  کامشاہد ہ کرسکتے ہیں جبکہ ڈاکٹرطبی وجسمانی معائنہ کرسکتاہے کیونکہ ان سب کومخصوص حالات میں استثناحاصل ہے۔ اس حوالے سے بھی کچھ شرائط اورقواعدوضوابط لاگوہوں گے۔

لہذا جب آپ بچوں کوکم عمرسے ہی نجی اورغیرنجی جسمانی حصوں کے بارے میں آگاہی دیں گے اور ان کے ناموں کوسیکھنےمیں عملی مددکرتے ہیں تووہ کسی بھی چیزیاکسی کے بارے میں کھل کراورصاف صاف بات چیت کرناآسان محسوس کرتے ہیں۔اگرکوئی ان کی جسمانی حدودکی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرے گا تو بچہ یابچی مزاحمت کرے گی بلکہ وہ اپنے والدین یاسرپرست کوآگاہ بھی کریں گے۔

بچوں کوآگاہی دینے کاایک اچھاطریقہ یہ بھی کہ جب وہ نہارہے ہوں توانھیں جسم کی اناٹومی یامراحل کابتائیں ۔اس طرح کی مشق سے بچے جلدسیکھ جائیں گے۔

بطوروالدین  ہمیں اس بات کویقینی بناناچاہئے کہ کیاہمارابچہ ہم سے کوئی چیزچھپاتونہیں رہا۔کیاوہ اکثراداس چپ چپ رہتاہے ۔بطوروالدین آپ ان کے بہترین دوست بھی بنیں ۔آپ ان کویہ باورکروائیں کہ آپ ان کی ہرقیمت پرحفاظت کریں گے۔اوران کویقین دلائیں کہ آپ اپنے ماں یاباپ پربھرپوریقین کرسکتےہیں۔اکثرواقعات میں یہ دیکھاگیاہے کہ بچوں کواس بات کاڈرہوتاہے کہ کہ ان کے ساتھ ہوئے جنسی استحصال واقعات پریقین نہیں کیاجائے گا،اسی لئے وہ اپنے مسائل کوبیان کرنے سے قاصرہوتے ہیں اوریوں وہ کئی سال جنسی استحصال کاشکاررہتے ہیں۔

ہمارے ہاں تقریبا ہرروز کتنے ہی ایسے واقعات ہوتے ہیں جورپورٹ ہونے سے رہ جاتےہیں کہ اس کی وجہ سے معاشرے اورخاندان میں بدنامی کاخدشہ ہونے کاخدشہ وخوف ہوتاہے۔اوریوں معاملہ کودبایاجاتاہے۔

ایک بچے کو یہ بات بڑی تکلیف دہ اورپریشان کن حدتک سمجھانا انتہائی ضروری ہے کہ انہیں محفوظ رکھنے کے لیے کوئی خاص اقدامات کئے جانا کیوں ضروری ہیں ۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر سے علاج کروانا، یا والدین کی طرف سے ان کی صحت کے حوالہ سے طبی معائنہ کرنا۔ بچے کو یہ بات باورکروائیں کہ کہ جب کوئی اجنبی یا یہاں تک کہ کوئی قریبی رشتہ داربھی ان کے ساتھ جنسی یا بدسلوکی کا مشورہ دے یا آفرپیش کرے تو اس صورت میں انھیں کیسے رد عمل ظاہر کرنا ہے اور کیا کہنا ہے۔ انہیں سکھایا جانا چاہئے کہ وہ 'نہیں' کہیں اور چیخیں  چلائیں یا ایسے  حالات اورمعاملات میں فوری طور پر کسی قابل  اعتمادشخص یامقام تک  بھاگ  کرپہنچیں جوکہ  واحد ابتدائی حل ہے ۔ بچوں کو اس ضمن میں مدد مانگنے کے قابل بناناچاہئے اور ایسے معاملات میں ان کی بات  بڑی ہمدردی اورسنجیدگی سے سنی جانی چاہیے۔کیوں اگرایسانہ کیاجائے توبچے شخصیت میں خلاسارہ جاتاہے اوروہ  بڑے ہوکرکئی نفسیاتی مسائل کا شکا رہوسکتاہے۔اس طرح کے معاملات  ان کے مستقبل اورشخصیت کوبُری طرح مسخ کرسکتی ہے۔

آخر میں، اپنے بچے کو اور اپنے آپ کو بچوں کے جنسی استحصال کے درد اور پریشانیوں سے بچانے کے لیے، براہ کرم پنے بچوں کا دوسرے افراد یا بڑوں کے ارد گرد مشاہدہ کریں۔آپ کے بچے کوصرف اجنبیوں سے ہی خطرہ نہیں ہوتاجن سے آپ کوچوکناہوناپڑے  گابلکہ بعض اوقات بدترین شکاری وہ ہو سکتے ہیں جن پر آپ سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ جن کاآپ اورآپ کے بچے سے قریبی تعلق ہوسکتاہے۔

لہذااگر کوئی بچہ کسی خاص شخص سے ملنا یا گلے لگانا نہیں چاہتا تو اسے زبردستی مجبور نہ کریں۔ انہیں اپنی جگہ پر قابو پانے دیں اوراپنے اندازسے ڈیل کرنے دیں اور انہیں اپنے مشکل وقت میں خُودپر بھروسہ کرنے دیں۔

یہ کچھ طریقے جو آپ کو اور آپ کے بچے کو جنسی استحصال اور جسمانی تحفظ کے حوالے سے صحیح راستے پر لانےمیں مدددیں گے  اور آپ کے بچے  کوپروان چڑھانے میں ایک صحت مندماحول بھی فراہم کریں گے۔

بہرحال یہ ایک بہت حساس اورنازک موضوع ہے جس پربچوں کے ساتھ  شرم وحیا کے دائرہ میں اورنپے تلے الفاظ اورمحفوظ ماحول میں بات چیت کی جاناچاہئے!


صاحب تحریر:راقم ماضی میں تحقیقاتی اداروں سے وابستہ رہے ہیں ۔ماضی میں کئی جامعات کے ساتھ کئ تحقیقات پرتعلیمی حوالے سے کام کیاہے۔تعلیم وتربیت پرلکھناشوق ٹھہرا ہے۔بلاگ اورسوشل میڈیا پراکثرلکتھے ہیں۔جبکہ جرائد میں بھی لکھتے ہیں۔

بچوں کوجنسی استحصال سے کیسے بچایاجائے اس پرانتہائی گہری تحقیق کرکے  ۱۵۰صفحات پرمبنی ہدایت نامہ تحریرکیاہے۔جو اپنی نوعیت کامختلف کام ہے۔یہ ڈیجیٹل ایڈیشن کی شکل میں دستیاب ہوگا۔اس کی بُنیاد قصورپاکستان میں ہوئے زینب کیس ہے ۔

 

 

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...