Tuesday, 31 January 2023

بچوں کی تعلیم وتربیت !مقصداورضرورت

 

بسلسلہ تعلیم وتربیت


 بچوں کی تعلیم وتربیت !مقصداورضرورت

تحریر:مجاہدعلی

0333- 457 6072

 

اولاد ایک  نعمت ہے وہیں یہ ماں باپ کے لئے آزمائش  بھی ہے! اوراس کے ساتھ ساتھ کس بھی قوم و ملک کے  لئے سرمایہ بھی ہے  کیونکہ آگے چل کراپنے گھراورملک وقوم  کی  باگ دوڑسنبھالنا ہوتی ہے۔اس دنیامیں کسی بچے کاآنا کسی مقصدکے تحت ہوتاہے ۔بچے نے بڑے ہوکر ااپنی ذندگی کی ذمہ داریا ں سنبھالنا ہوتی ہیں ۔ ابتدائی  درجہ میں بچوں کی اولین  ضرورت   دیکھ بھال  ہوتی ہے لیکن جوں جوں  بچہ بڑاہوتاجاتاہے اس کو ساتھ ساتھ اسکومختلف مراحل اورسطحوں پرتعلیم اورتربیت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

اللہ تعالٰی نے  حضورﷺ کی صورت میں اس امت کے لئے  وحی اول کی صورت   میں جو پیغام دیاوہ ہے اقراء ! ۔یعنی پہلاپیغام ہی  کتاب تعلیم کی صورت میں دیاہے۔تعلیم  کوسیکھ کرتربیت کی  ضرورت محسوس ہوتی ہے۔  بچوں کی تربیت   کے حوالے سے ماں باپ والدین سکول کی صورت میں  یہ تینوں عوامل راہنما کی صورت میں  موجودہوتے ہیں ۔ بچے کی تعلیم و تربیت کے حوالے سےعمومی طورپریہی کہاجاتاہےکہ اس کی تربیت میں درجہ بالاعناصرکاایک اولین کردارہوتاہے۔لیکن ایک چوتھا عنصرطالب علم کی اپنی ذات ہوتی ہے وہ ہے اسکارویہ اورسوچ !اس کےعلاوہ اسکا اپنی ذندگی ،تعلیم کے متعلق رویہ سوچ اورخیالات اوراسکاارددگردکاماحول ،اسکے حلقہ ارباب میں کس طرح کے دوست ہیں کیاوہ کتب پڑھنے  اورعلم سیکھنے میں کس حدتک دلچسپی رکھتاہے۔یہ وہ کچھ مجموعی عوامل ہیں جواسکی شخصیت کی تعمیرمیں اہم کرداراداکرتے ہیں ۔

ماں اورباپ جب بچہ اس دنیامیں آجاتاہے تواسی وقت سے بچے کی تربیت کاعمل شروع ہوجاتاہے۔بچہ جب اپنے پاوں کھڑاہونے کی کوشش کرتاہے توماں باپ غیرشعوری طوراسکی تربیت میں جُت جاتے ہیں اورمزے کی بات یہ ہے کہ وہ یہ سب کام  بڑی خوشی خوشی سے کرتے ہیں مثلااسکوبولنا اورچلنا سکھانا وغیرہ وغیرہ !پھرکچھ سالوں کے بعداسکوسکول میں داخل کرواتے ہیں ۔یہیں سے استاداورسکول  کاکردارتعلیم وتربیت کی صورت میں متعین ہوجاتاہے۔ تعلیم کاایک مقصدشعورذندگی بھی فراہم کرناہےجبکہ سکول کالجز جامعات  تربیت  کی صورت میں ذندگی کےمسائل اورزمانے سے نبردآزماہونے کابھی درس فراہم کرتی ہے۔

والدین تعلیم دلاکروہ سمجھتے ہیں کہ ہماراکردارختم لیکن اصل کام تویہاں سےشروع ہوتاہے ۔ لیکن پتہ  نہیں   کیوں والدین کی اکثریت بچوں کی ذندگی کی اس ایک اہم سٹیج پر اس فرض سے پہلوتہی  اختیارکرناشروع کردیتے  ہیں ۔ اس عمل سے یقینا بچوں کے مستقبل  اورذندگی پرپرلازمی  کسی نہ کسی طور پرمنفی اثرات مرتب ہوتے  ہیں ۔ اس لئے کہاجاتاہے کہ بچوں کوقدم قدم پراپنے ماں باپ اوراستادکی تربیت کی شکل میں عملی  راھنمائی کی ضرورت درپیش رہتی ہے۔ وذندگی اورزمانے کے معاملات اوراونچ کوسسمجھنے کےلئے یہی فریقین کام آتےہیں۔

 بچے کو گھریلواورسکول کی سطح پراخلاقی ،ذہنی جذباتی  تعلیمی حوالے سے  سینکڑوں مسائل کاسامناہوتاہے اورکونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہاں پرتنیوںفریقین یعنی ماں باپ ،اساتذہ ،سکول کواپناکردارادارکرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم میں ترقی حاصل کرسکے۔یہ سب عوامل مقصدیت کوظاہرکرتےہیں جس سے نہ صرف  بچے کی ذندگی کامقصدبھی متعین ہوتاہے۔

تربیت کیوں ضروری ہے؟

ہم سب کا سیرت اللنبیﷺ کاجتنابھی مطالعہ ہے اس سے ایک بات توظاہرہوتی ہے کہ راہبر ومعلم انسانیت نے قدم قدم پرصحابہؓ کی عملی راھنمائی فرماکرتعلیم وتربیت فرمائ اوراآپ  نے ذندگی کاکوئی گوشہ ایسانہیں چھوڑا جس پران کی کوئی تعلیمات  موجودنہ ہوں۔ اسلام کے اہم رُکن نمازکے لئے نمازکے لئے امام(راہ نما) کی ضرورت درپیش رہتی ہے۔تعلیمی میدان میں ہمیشہ سے استاد کی ضرورت ہوتی ہے

انسان چاہے جتنابھی پڑھ لکھ جائے اس کومسلسل علم اورمعلومات ،تربیت  کی  ہرلحظہ ضرورت درپیش رہتی ہے۔

۔بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں اوراسکے سی ای وبھی مختلف تربیتی کورس  میں شرکت کرتے ہیں اوراپنے ہاں اسکاانعقادبھی کرواتے ہیں۔کاروباربہترکرنے کے لئے علم اورمعلومات اورکسی کنسلٹنٹ (مشیر) کی راہنمائی درکارہوتی ہے۔

تعلیم وتربیت کے مختصرفوائد

ہم سب ساری ذندگی ہرلمحہ پڑھ لکھ کراورلوگوں زمانےسے سیکھ رہے ہوتے ہیں اوراپنی ذات کی شعوری اورغیرشعوری طورپرتربیت کررہے ہوتے ہیں تاکہ ہم ایک کامیاب انسان بن سکیں!اوریوں یہ سب چیزیں عقل کی صورت بن کرہم سب کی راہنمائی کررہی ہوتی ہیں ۔

بیرونی دنیا میں سکول کالجزیونیورسٹی اوراساتذہ تربیت کے مرکزی ستون ہیں وہیں پرگھریلوسطح  پروالدین بچوں کی تعلیم وتربیت کے بھی ذمہ دارہیں  ۔انھیں فریقین سے کامیاب طالب علم اورانسان کی تشکیل پرورش پاتی ہے۔

تعلیم وتربیت سے نہ صرف ایک بچے اوربحثیت طالب عالم اسکی شخصیت نکھرتی ہے جس سے وہ کامیاب طالب علم ثابت ہوسکتے ہیں ۔ جہاں اس سے  ایک گھرانہ کی بہترطورتشکیل ہوتی ہے وہیں پرمعاشرہ میں بھی اس کے اثرات ظاہرہوتے ہیں اورمُلک ترقی کی شاہراہ پرگامزن ہوتاہے۔ اورترقی کی راہ کئی قدم آگے رہتاہے۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم اپنے بچوں کوزیورتعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت زریں اصولوں پربھی کریں!

والدین سکول اساتذہ اورخودطالب اپنی اپنی سطح پراپنی اس ذمہ داری اورمقصد  کوجانیں سمجھیں اورپہچانیں!

###

 

 

مختصرتعارف:

صاحب قلم!فری لانس رائٹرہیں  اورادارہ فروغ  تحقیق کے لئے بھی کام کرچکے  ہیں اورمختلف  تعلیمی اداروں کے لئے تحقیق کاکام بھی کرچکے ہیں ۔اوراپنے بلاگ پر تعلیم وتربیت  اوردیگرموضوعات پرپروقتافوقتاکچھ نہ تحریرکرتے رہتےہیں۔ مصنف اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ  تعلیم وتربیت سے نہ صرف  ایک فرد(بحثیت طالب)  کی زندگی بہترہوتے ہیں جبکہ ایک خاندان بھی بہترہوتاہے ترقی کرتاہے اوریوں معاشرہ بھی سنورتاہے جس سے معاشرہ  اورملک وقوم کی ترقی ہوتی ہے۔اگراس تحریرایک لفظ پیرے ،سوچ سے کسی کی ذندگی سنورجائے توراقم سمجھے گاکہ  اس تحریر،قلم اورکی بورڈ کاحق اداہوگیا۔

نوٹ:کوئی بھی شخص،ادارہ اس تحریر کواگرمفید سمجھے تواپنی ویب سائیٹ،بلاگ اورمیگزین اخبارمیں شائع کرسکتاہے ۔اوریہ اجازت عام ہے۔مصنف کی طرف سے کُھلی اجازت ہے۔کسی قسم کی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں!شکریہ

۳ جنوری ۲۰۲۱

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...