Sunday, 22 January 2023

پلاسٹک مرد کی جنسی صحت کوتباہ وبربادکرسکتاہے؟

 

بسلسلہ :جنسی صحت

پلاسٹک مرد کی جنسی صحت کوتباہ وبربادکرسکتاہے؟

پلاسٹک کے جنسی صحت پربھیانک اورمضراثرات

ماہرانہ مشاورت ،وریویو: ڈاکٹرایچ کے بی،ماہرسیکسالوجسٹ ونفسیات

تلخیص وتحریر:ایم علی

 


اگر ہم اپنے گھروں میں اوراپنے اردگردچیزوں کی طرف نظردوڑائیں تومعلوم ہوگاکہ  ہمارے ہرطرف  رنگ برنگاپلاسٹک ہی پلاسٹک ہے۔ہمیں پلاسٹک سے بنی ہوئی کئی چیزیں نظرآئیں گی،مثلا جیساکہ  موبائل ،چشمہ ،،پلاسٹ بیگ ،پین۔پانی کی بوتلیں ،لوٹا،پلاسٹک کی کراکری وغیرہ وغیرہ !

اسی طرح ہم جب بازارسے کوئی چیزیں کھاتے ہیں  یاگھرلیکرآتے ہیں تووہ بھی  اکثرپلاسٹک    ہی میں پیک ہوتی ہیں ۔ہم  اپنےگھروں میں پانی پینے کے لئے فلٹرسےجوپانی بھرکرلاتے ہیں وہ بھی پلاسٹک کے کین اورسافٹ ڈرنک والی بوتلوں پرمُشتمل ہوتاہے!ہم اکثرپلاسٹک  کی بوتلوں کومنہ سے لگاکربڑے شوق اورفخرسے پانی شربت پی رہے  ہوتے ہیں۔اسی طرح گھروں میں روزمرہ کی بُنیادپردیکھاجائے توپتہ چلے گا غریب اورعا م گھروں  میں خواتین ذیادہ ترپلاسٹک کے برتنوں میں ہی کھانے کوگرم کرکے پیش کرتی ہیں۔

تحقیقات کیاکہتی ہیں

ورلڈوائلڈلائف اورآسٹریلیاء کی یونیورسٹی آف نیوکیسل کے مطابق ہرہفتہ ایک اوسط شخص پانچ گرام تک پلاسٹک نگل رہاہے۔جبکہ ایک ماہ میں ۲۱گرام تک پلاسٹک نگل رہاہے۔محققین کے مطابق عوام الناس سالانہ ایک لاکھ سے ذائدپلاسٹک کے ذرے نگل رہاہے۔

لیکن ہم کبھی پلٹ کربیٹھ کرکچھ لمحوں کے لئے بھی نہیں سوچتے کہ اس پلاسٹ کے ایک مردکی جنسی صحت پرکیامضراثرات مرتب ہوتےہیں۔ لیکن ان کی طرف توجہ کرنااورسمجھنابہت ضروری ہے۔یہ  بات نہیں کہ  پلاسٹک سے صرف مردوں کوہی اس سے نقصان پہنچتاہے بلکہ عورتیں بھی کئی امراض کاشکارہوتی ہیں لیکن  اس آرٹیکل کامقصدپلاسٹک کے مردوں کی جنسی صحت پراثرات کا ایک مختصر جائزہ لیناہے۔کیونکہ دورحاضر میں پلاسٹک کے استعمال کے بہت ذیادہ  نقصانات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ جیسے کہ دل کی بیماریاں، بریسٹ کینسر ، معدے اور آنتوں کا کینسر ، ذیابطیس ،قوت مدافعت میں کمی سمعیت دیگربیماریاں!کئی  بین  الاقوامی طبی تحقیقات   اب اس  کی بھرپور تائید کرتی نظرآتی ہیں ۔یوں  آئے روزپلاسٹک  کے نقصانات کی ایک طویل فہرست بھی مرتب ہوتی چلی جارہی ہے۔

مثال کے طورپرپلاسٹک میں بسفینال اے یعنی بی پی اے اے (Bisphenol A) نامی کیمیائ مرکب(مادہ) پایاجاتاہے۔جوایک مردکی جنسی صحت پرانتہائ بھیانک اثرات مُرتب کرتاہے۔

مثلاجیساکہ سائنسی طورپردرج ذیل علامات ظہورپذیر یانمُودارہوتی ہیں !جن میں سرفہرست  یہ ہے کہ دل سیکس کرنے کانہیں کرتا ،سیکس ایک میکینیکل  کام محسوس ہوتاہے۔ لڑکی کھمباسی محسوس ہوتی ہے  ۔مخالف جنس  میں  جنسی دلچسپی کم ہوجاتی ہے یعنی مردکی عورت میں دلچسپی کم ہوجاتی ہے ۔ بعض اوقات ایسامحسوس ہوتاہے کہ جنسی جذبات سوئے ہوئے ہوں۔اورجنسی عمل میں بوریت محسوس ہوتی ہے یعنی طبیعیت اُچاٹ سی ہوجاتی ہے۔

مردکی جنسی خواہش(شہوت) کم ہوجاتی ہے

مردصحیح طرح سے انزال نہیں کرپاتا ہے

جب یہ کیمیکل انسانی جسم میں سرایت کرجاتاہے ،تومردکے مادہ تولیدمیں کئی قسم کی سائینٹفک  تبدیلیاں(بیماریاں) روُنماہوتی ہیں۔سیمن (مادہ منویہ )کے سارے پیرامیٹرزڈسٹرب ہوجاتے ہیں ۔ان میں تغیرات رُونماہوناشروع ہوجاتے ہیں جیساکہ سپرم کی تعداد، ،سپرم کی شکل ٹیڑھی میڑھی  ہونے کے ساتھ  ان کی حرکت بھی سُست ہوجاتی ہے۔جس کی وجہ سےمردبچہ پیداکرنے کے قابل نہیں ہوتا۔

مردنامردگی کاشکار بھی ہوسکتاہے کیونکہ اس کےعضو مخصوص میں ایستادگی کامسلہ جنم لیناشروع ہوجاتاہے۔جوکہ انتہائی خطرناک بات ہے۔

بعض اوقات  معاشرے میں درج بالاعوامل کے بڑے  نفسیاتی ،جذباتی،سماجی اورمعاشرتی بھیانک اثرات سامنے آتے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ کثرت سے پلاسٹک کی اشیاء   کا استعمال انتہائی بھیانک اورمضراثرات مرتب کرتاہے۔اس سےبہرحا ل بچنابہت ضروری ہے۔

یہ  سائنسی   وطبی میکانزم (نظام) کیسے کام کرتاہے

ہمارے دماغ کے اندرہی کچھ کیمیکلزکی جنگ چلتی رہتی ہے۔ایسٹروجن ٹیسٹوسٹرون کی پروڈکشن کوبھی متاثرکرتاہے جوجنسی خواہش کے ذمہ دارہوتے ہیں۔بعض اوقات  خصیوں کے اندرکچھ مخصوص ہارمون کی بھی پروڈکشن نہیں ہوتی ہے ۔یوں جنسی خواہش کم ،سپرم کی حرکت سُست،مردنامردگی کاشکارہوسکتاہے۔

پلاسٹک میں پائے جانے والے  ہارمون عورتوں کی طرح کے  ہارمون ہوتے ہیں ان کااثرایسٹروجن قسم کاہوتاہے۔جب خون کے اندر

ایسٹروجن ہارمون( زنانہ  ہارمون ) بڑھ  جائیں تو یہ ہمارے دماغ کے اندرسیکس ہارمون نظام کوآن آف کرتے ہیں۔ لہذاجب ایسٹروجن خون میں ذیادہ ہوجائے تووہ ٹیسٹروسٹیرون  کےمین سوئچ کوآف کردیتاہے جوسیکس ہارمون کی پروڈکشن میں ملوث ہوتاہے۔جس کی وجہ سے انسان کے اندر کئی تبدیلیاں آناشروع ہوجاتاہے۔

جب خون میں ایک عام ایسٹروجن کی مقداربڑھ جائے توڈاکٹرحضرات ایسی ادویات دیتے ہیں جس سے  خُون کے اندرایسٹروجن کی شرح کم ہوجاتی ہے۔لیکن جوخطرناک بات ہے کہ پلاسٹک استعمال کرنے کی صورت میں جوایسٹروجن پیداہوتاہے ان کی لیبارٹی ٹیسٹ میں اتنی آسانی سے تشخیص نہیں ہوپاتی ہے۔اس ایسٹروجن پرادویات بھی کام نہیں کرتی ہیں ۔اس کامطلب ہے کہ جب خون میں اس طرح کاایسٹروجن خون میں شامل ہوجائےتوپھروہ قائم ہی رہتاہے۔جس سے ایک مردکی جنسی طاقت اورصحت دن بدن تنزلی کاشکارہوتی چلی جاتی ہے۔

کیونکہ لیبارٹری ٹیسٹ توحقیقی ایسٹروجن کی نشاندہی کرتی ہیں۔لہذامریض کوسمجھ نہیں آتی کہ وہ کیاکرے کیونکہ پلاسٹک استعمال کرنے کے ضمن میں ان کے اندرانفلے میشن بھی پیداہوتی ہے ۔ جس کے نتیجہ میں سپرم خراب ہوجاتے ہیں۔ معالج اس کاعلاج انٹی آکسی ڈینٹ سے کرتے ہیں۔

علاج اورٹریٹمنٹ

اب یہ دیکھنا ہے اس مسلے کاآخرکیاحل ہے ؟اورکیسے علاج کیاجائے۔اس کے لئے  جسم کوڈی ٹوکس دیاجاتاہے اورمختلف فارمولے  بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔جیساکہ آپ کچھ دیرنہیں کھاتے ہیں اورپانی مشروبات وغیرہ پیتے رہتے ہیں تواس کاکسی حدتک اخراج ہوتاچلاجاتاہے۔پھر ہوسکتاہےکہ آہستہ آہستہ ایسٹروجن کالیول کم ہوجائے گا لیکن یہ بھی مسلےکا کوئی حتمی و اخیرحل نہیں  ہے۔

احتیاط اوربچاو

پاکستانی معاشرے میں ابھی اس سلسلے میں کوئی مناسب شعور موجود نہیں ہے۔ اورنہ ہی کوئ ٹھوس قانون سازی ہے۔  پاکستان میں ڈبلیو ڈبلیو ایف حکام کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان  کے دس  بڑے شہروں بشمول کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اس پلاسٹک کے استعمال کے حوالےسےآگاہی مہم شروع کررہی ہے ۔لیکن، بحثیت ایک باشعورانسان !

کوشش کریں کہ روزمرہ ذندگی میں پلاسٹک کی چیزوں سے بھاگیں

مٹی ،تانبے اورپیتل کےگلاس سٹیل یاشیشے کے گلاس میں پانی استعمال کریں

کبھی بھی پلاسٹک کے برتن میں  گرم سالن کو محفوظ  نہ کریں

پلاسٹک کی پلیٹوں وبرتن کااستعمال متروک کردیں ،بلکہ ان  کوخداحافظ کہ دیں

پلاسٹک کی بوتلوں کااستعمال ختم کردیں۔

کھانے پینے کی اشیاء یاسالن کو کبھی  بھی شاپربیگ میں پیک نہ کروائیں  خاص کرگرم سالن یاچائے ودیگرمشروبات

ہرممکن کوشش کریں کہ خودکوپلاسٹک کی لعنت سے بچائیں

بازارمیں میں بی پی اے فری پراڈکٹ یابرتن کراکری بھی فروخت کے لئے دستیاب ہیں ۔خریدتے وقت احتیاط کریں

دیگرنقصانات

جب لیبارٹری ٹیسٹ کروائے جائیں تویہ اس میں بھی  یہ پلاسٹک  مادے تشخیص نہیں پاتے ہیں

قوت مدادفت کمی

لہذااپنی جنسی طاقت محفوظ بنائیں کیونکہ اگرآپ کی جنسی صحت محفوظ ہے تواس کامطلب یہ ہے کہ بنی نوع انسان بھی محفوظ ہے۔اگریہ محفوظ نہیں تواگلی نئی  نسل کہاں سے آئے گی

 

خوش رہیں ۔خوشیاں بانٹیں!

 

کچھ مصنف کے بارے میں :صاحب تحریرصحت سے متعلقہ  تحقیقی تحاریرمیں انتہائ گہری دلچسپی رکھتے ہیں اوروقتافوقتااس پرکچھ نہ کچھ افادہ عامہ کے لئے تحریرکرتے رہتے ہیں۔جنسی صحت کسی بھی مردکی ذندگی کاایک اہم اورلازمی جزوہ اورایک نازک بھی  مسلہ ہے۔راقم کے اس موضوع پرپچاس ساٹھ آرٹیکل ہیں ۔جو سیکس کے مختلف  موضوعات کااحاطہ کرتے ہیں ۔ضرورت اس امرہے کہ مردحضرات کوان مضراثرات سے آگاہی دی جاسکے جوان کی جنسی صحت کوبہترکرنےمیں مدددیں۔یہ آرٹیکل اسی سلسلےکی ایک کڑی ہے!

نوٹ:تمام موادانتہائی مستندویب اورتربیت یافتہ ،پروفیشنل کی ویڈیوسے لیاجاتاہے۔ذہن نشین رہے کہ یہ  محض معلومات ہیں نہ کہ کسی مسلے کاحتمی حل ۔اگرآپ کسی جنسی مسلےسے دوچارہیں توبراہ راست اپنے فیملی ڈاکٹریااپنی پسند کے اسی شعبہ کے کسی مستند،پروفینشل ماہرڈاکٹرکی خدمات حاصل کریں۔شکریہ

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...