|
بسلسلہ :اسلامیات روحانیات اورسائنسدان |
سکون کے متلاشی افرادکے لئے ایک فکرانگیزتحریر
تلخیص وتحریر:مجاہدعلی
|
ڈاکٹرانعام الرحمٰن،سابق ڈی جی (پیاس۔اٹامک انرجی کمشن) کےجامعہ الرشید اسلام آباد کے طُلباء سے تاریخی خطاب کی تلخیص
|
|
مختصرتعارف:ڈاکٹرانعام الرحمٰن!سابق ڈائریکٹرجنرل پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف اپلائڈسائنس(پیاس) رہے ہیں۔ آپ اٹامک انرجی سے عرصہ ۵۵ سال سے منسلک رہے ہیں!پاکستان اٹامک انرجی نے انھیں تاحیات سائنسدان کےمنصب سے سرفرازکیا ۔ انھیں پاکستان کے ایٹمی سائنسدان کے استادالکُل بھی کہاجاتاہے۔حکومت پاکستان نے ان کوان کی تعلیمی خدمات کے سسلسلے میں ستارہ امتیازواعزازکمال سے بھی نوازہے۔یہ خطاب۲۰۱۱کودیاگیاتھا۔ |
ڈاکٹرانعام الرحمٰن نے اپنےاس خطاب میں امریکہ میں سکون قلب اوراللہ کویادکرنے پر ہوئی تحقیق کاحوالہ بھی دیا ،خطاب کی تلخیص قارئین کے لئے حاضرخدمت ہے۔
ڈاکٹرانعام الرحمن نےنے اپنے خطاب میں ایک مشہورروسی سائنسدان الیگزینڈر سولیٹوس(Alexander Solitonous) کا حوالہ دیا جنھیں ان کی غیرمعمولی خدمات پرنوبل پرائزسے نوازاگیا تھا، انھیں روس کا سب سے اعلیٰ ایوارڈ بھی دیا گیاتھا ۔ انھوں نے سینکڑون کتب بھی تحریرکیں۔اپنے پورےکیرئیرکےدوران انھیں ہزاروں لوگوں سے ملاقاتیں کرنے کاموقع بھی ملا۔
وہ خود توکمیونسٹ اوردہریہ تھے!لیکن انھوں نے بچپن میں اپنے ماں باپ کو سٹالن کے دورمیں چھپ چھپاکرعبادت کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ الیگزینڈرکایہ کہناتھا کہ میں یہ اکثریہ بات سوچتاتھا کہ کہ یہ کیسے پُرانے زمانے کے لوگ ہیں! جوعبادت کرتے ہیں ۔جبکہ
الیگزینڈربذات خود سوچتے تھے اور کہاکرتے تھے کہ اللہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟کہاں ہے ؟ وہ کہتے تھے کہ میراباپ ایک جُملہ باربارکہا
کرتے تھے کہ دُنیا میں انتشارپیداہوگیا ہے ،کیونکہ لوگ اللہ کو بھُول چُکے ہیں۔
میں نے اپنی ذندگی میں ۲بڑے ایوارڈ حاصل کرنے کے ساتھ سینکڑوں کتب بھی لکھیں ،تولامحالہ طورپر لوگ مجھ سے بھی سوال کرتے تھے کہ دنیا میں آخر اتنا انتشارکیوں ہے؟ تومیراجواب بھی وہی ہوتاتھا جومیرے باپ کا تھا!یعنی ہم اللہ کوبُھول چُکے ہیں!
آگےچل کرہم اس سوال کاجواب جاننے کی کوشش کریں گے۔
امریکہ ایک ایساملک ہے جس کے متعلق کہا جاتاہے کہ یہاں ہرچیزپرتحقیق ہوتی ہے۔امریکہ میں ملٹی پل سروے ہوتےرہتے ہیں مثلاایک تحقیق یہ ہوئی کہ وہ کون سے لوگ ہیں جن کو سکون قلب حاصل ہے ؟مطالعہ کے بعد ان کے پاس تحقیقات کے جو نتائج آئے وہ اس پربہت حیران ہوئے ۔ نتائج کے مطابق ترقی پزیرممالک کے لوگوں کو ترقی یا فتہ ممالک کی نسبت ذیادہ سکون قلب حاصل ہےبہ نسبت جاپان اورامریکہ اوریورپ کے!
تحقیق کے مطابق امریکہ کے صرف ۴فیصدافرادنے کہا کہ ہمیں سکون قلب حاصل ہے، جبکہ۸۰ فیصدافرادنے کہا کہ انھیں سکُون قلب حاصل نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس روپیہ پیسہ تو ہے لیکن ہمیں سکون میسرنہیں ہم ڈیپریشن کاشکاررہتے ہیں۔ ہمیں رات کونیندنہیں آتی ،ہم نیند کی گولیاں لیکرسوتے ہیں ۔ ہم شراب پیتے ہیں ہم ،غلط کام کرتے ہیں۔ہمارےاندرتھوڑی دیر کے لئے طمانیت قلب (خُوشی )کی ایک لہرآتی ہے جومایوسی میں بدل جاتی ہے۔جبکہ اسی کے مقابلے میں ترقی پذیرممالک کے ۱۵ تا۲۰ لوگوں کوسکون قلب کی دولت حاصل ہے۔
امریکہ کے تحقیق کرنے والے ادارہ نے ان ۴فیصدلوگوں کومدعوکرنے کافیصلہ کیا جنھیں سکون قلب حاصل تھا۔انھوں نےان سےوہ وجوہات اورامور کوجاننے کی کوشش کی جن کی وجہ سے ان کو سکون کی دولت نصیب ہوئ!
انھوں نے پوچھا کہ اچھا آپ یہ بتائیں کہ آپ اپنی ذندگی کو کیسے بسرکرتے ہیں!تحقیقاتی ادارہ نے جووجوہات دریافت کیں، وہ کچھ یوں تھیں ۔ سامنے آنے والےنتائج کے مطابق یہ ۴فیصد افراد امیرترین اشخاص نہ تھے۔بلکہ ان کاتعلق متوسط طبقے سے تھا جبکہ ان میں سےکچھ غریب بھی تھے۔ یعنی ان کے پاس پیسہ دولت نہیں تھی!لیکن انھیں سکون قلب کی دولت حاصل تھی!اسکے علاوہ ان میں دوسری چیزیہ دیکھی گئی کہ ان میں آپس میں پیارومحبت بہت ذیادہ ہے۔ وہ لوگ ماں باپ کے ساتھ رہتے تھے۔وہ اپنےرشتہ داروں کی مددکرتے تھے اسکے علاوہ انھیں خلق خداکے ساتھ بھی پیارومحبت تھی وہ اپنے اپنے ہمسایوں سے رابطہ رکھتے اوران کی مددکرتے تھے!
تحقیق کرنے والوں کوایک بات بڑی عجیب لگی کہ وہ تقریبا سب کے سب دوسروں پراپناپیسہ خرچ کرتے تھے۔ وہ افرادکبھی اولڈپیپل ہوم میں جارہے ہیں توکبھی وہ اپاہج ،غریب اورمحتاجوں کے مراکزمیں
جارہے ہیں ۔روپیہ پیسہ ،بینک بیلنس نہ ہونے کے باوجود وہ خوش ہیں! ان سب کواپنے خُدااورخلق خلق سے پیارتھا۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ اگروہ عیسائی یہودی یاہندوسکھ وغیرہ ہیں تو ایک اچھے مذہبی انسان بھی ہیں ۔اس کے علاوہ انھیں اپنےخداپربھی ایمان تھا!
امریکی تحقیقاتی اداروں نےان سے درخواست کی ،کہ ہم آپکا تفصیلی طبی معائنہ کرناچاہتے ہیں!صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ آپ نارمل ہیں یا ابنارمل ۔آپ اپنا پیسہ دوسروں پرلگارہے ہیں آخرکیوں؟آپ اپناقیمتی وقت بھی دوسروں پرصرف کرتے ہیں!پھربھی آپ خوش ہیں؟
محققین نے یہ جانا کہ جولوگ دوسروں کی خدمت کررہے ہیں ،اللہ کو اللہ سمجھ رہے ہیں۔ان کے دماغ کے اندر اینڈروفن نامی ہارمون خارج ہوتے ہیں جوانسان میں امن اورخوشی پیداکرنے کا باعث ہوتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کوکچھ اس طرح بنایا ہے کہ جب ہم اس کے احکامات کومانیں گے ، اللہ کو اللہ جانیں گے اوراس کے بندوں کی خدمت کریں گے توہمیں خودبخود سکون کی دولت اورنعمت ملنا شروع ہوجاتی ہے۔مفہو م حدیث ہے کہ جسے یہاں سکون نہ ملا اس کو وہاں(آخرت) میں بھی سکون نہیں ملے گا!
یادرکھیں اللہ نے ہمیں خدمت خلق کے لئے پیداکیاہے ،خدمت کروانےکے لئےنہیں!
###
۱۲جنوری ۲۰۱۹
|
کچھ صاحب قلم کے بارے میں!راقم کاایک شوق مغربی اورامریکی تحقیقات کوبذریعہ تراجم تحریری شکل میں عوام الناس کے سامنے لانے کابھی ہے۔اسی طرح مفیدلیکچرزکوبھی تلخیص کرکےا فادہ عامہ کے لئے پیش کرتے ہیں یہ آرٹیکل اسی سسلسلے کی ایک کڑی ہےتاکہ معاشرے میں اچھے اورمثبت رویوں کافروغ پروان چڑھ سکے۔آرٹییکل کوپڑھنے کاشکریہ! |
No comments:
Post a Comment