Thursday, 12 January 2023

پاکستان میں بے سکونی ،بے چینی کی اصل وجوہات :مگرسکون کیسے

 

بسلسلہ:نفسیات


پاکستان میں بے سکونی ،بے چینی کی اصل وجوہات :مگرسکون کیسے

شعبہ سائیکاٹری کے سربراہ کی زبانی

مجاہدعلی

لاہور

 


ڈاکٹرکی زبانی

ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن ہو کی ایک حالیہ اورتازہ  جائزہ رپورٹ کے مطابق پوری دنیامیں سرفہرست دل کی بیماری اورجبکہ دوسرے نمبرذہنی اورنفسیاتی بیماریاں ۔چندسالوں پہلے تواسے امیروں کی بیماری کہاجاتاتھا۔لیکن اب عام افرادبھی اس کاشکارہورہے ہیں۔یہ بات بڑی حیرانگی کی تھی کہ پاکستان میں ۲۰تاپچیس فیصدان ذہنی اورنفسیاتی امراض کاشکارہیں جبکہ دیگرممالک میں یہ شرح تقریبا۱۰فیصدہے۔

میوہسپتال میں شعبہ بیرونی میں کسی وقت ہروز۱۰تاپندرہ افرادعلاج کی غرض سے آتے تھے لیکن اب یہ شرح ۷۰تا۱۰۰تک جاپہنچی ہے جویہ ایک خطرناک شرح کی نشاندہی کرتی ہے۔

پاکستان میں ذہنی اورنفسیاتی بیماریوں کی وجوہات

بے چینی

ڈیپریشن

بے روزگاری

امتحانات کاخوف،پڑھائ کوخوف اورپریشر

رات گئے دیرتک جاگنا

صحت مندکھیلوں میں حصہ نہ لینا

یہ کچھ بڑی وجوہات ہیں

اس کے علاوہ

رات گئے انٹرنیٹ کے استعمال کی لت میں مُبتلاہونا،پھرموبائل فون پرسوشل میڈیاکااندھادھنداستعمال

ہمارے بڑے بوڑھوں کاکہناہے کہ ماضی کی ذندگی پُرسکون تھی، جب ایک کماتاتھاتوباقی سب کھاتے تھے اب سب کماتے ہیں پھربھی روٹی اوراخراجات پورے نہیں ہوپاتے ہیں۔اب سب کماتے ہیں پھربھی تمام مردوزن بےچین نظرآتے ہیں ۔آج کل ذندگی میں ذیادہ سے ذیادہ آسانیاں ہوگئی ہیں لیکن نہ جانے کیوں لوگ کیوں خوشیوں سے دور۔اب مکان پہلے سے ذیادہ بہتراورخوبصورت تعمیرکے حامل ہیں۔،انسان کوجدیدسہولیات بھی حاصل لیں ۔لیکن  پھربھی انساںوں کے اندرکوئی خلا ساہے جوپُرنہیں ہوپارہاہے۔،شایدپیسے کی دوڑاورمادیت پسندی بھی بڑھتی جارہی ہ۔جس کی وجہ سے لوگ بے چینی فرسٹریشن کاشکار ہورہے ہیں ۔جبکہ ورلڈہیپی انڈیکس کے مطابق یعنی لوگوں کے خوش رہنے کی شرح چاراعشاریہ فیصدہے جوکہ ہمسایہ ملک ہندوستان سے قدررے بہترہے۔

ذندگی میں ٹینشن()ذیادہ جبکہ سکون کم ہوتاجارہاہے

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان

اس شہرمیں ہرشخص پریشان ساکیوں ہے

ان سب کی وجوہات کی بناپرلوگ ڈیپریشن،چڑچڑے پن،غصہ کی کیفییات کاشکارہورہے ہیں جن کی وجہ سے خرابیاں جنم لے رہی ہیں ۔

اس کی وجوہات کوبیان کرتے ہوئے ڈاکٹرصاحب نے کہاکہ کوئی کسی کے دکھوں کامداوانہیں کرتا،اورکوئی کسی کے کام نہیں آتا۔ کافی سالوں میں ایک دوسرے کو ذہنی ومالی نفسیاتی اورجذباتی فیملی سپورٹ ہوتی تھی ۔لیکن اب ایسابہت کم ہوگیاہے۔اب یہ بوجھ سمجھ لیاگیاہے اوران سب کوحالات کے رحم وکرم پرچھوڑدیاگیاہے

 

آوارپن بن جارہ پن ایک کمی سی جینے میں

لوگ علاج کی غرض سے بالخصوص خواتین جعلی پیر،عامل ،ڈبہ فقیروں کے پاس تعویذگنڈوں کے لئے جاتی ہیں ۔

اپرکلاس میں نفسیاتی کی وجہ

میل جول کم رکھنا

گھرکے تمام افرادایک تورہتے ہیں لیکن پھربھی اجنبی

اکثریت گھنٹوں لیپ ٹاپ چیٹ میں مصروف،لیکن آپس میں بات چیت کےلئے وقت نہ نکالنا،ہرکوئ اپنی سوچ میں گُم!بڑے بڑے گھراورمحض چندافراد  لیکن عجیب سی بےرونقی،ڈھیرساری دولت اورآسائیش کی ہرچیزدستیاب

پروٖفیسرڈاکٹرآفتاب آصف ماہرنفسیات ، کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی ومیوہسپتال کے شعبہ سائیکاٹری کے سربراہ

ص ۱۷،چھ تا۱۲اکتوبر۲۰۲،ہفتہ وارندائے ملت


No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...