|
بسلسلہ سماجی اورمعاشرتی مسائل |
امریکہ میں ہوئی فکرانگیز تحقیقات اورپاکستان میں مہنگی شادیوں کےفروغ پاتےرحجانات
Mujahid Aliتحریروتحقیق:
mujahidali125@yahoo.com , 0333 457 6072
تلٰخیص:یہ تحقیقی مقالہ امریکہ میں منگنی شادی پربھاری اخراجات کے حوالہ سے امریکی تحقیق کےطلاق پراثرات کااحاطہ کرتاہے۔ اس میں ہنگی شادی کے عوامل، وجوہات کوبیان کیاگیاہے۔مہنگی شادیوں اورتقریبات کے پیچھے ایک تاریخی پس منظر اورنتائج پربحث پرکی گئی ہے ۔ضمنا اسلام میں سادگی سے نکاح سمعیت پاکستان میں مہنگی شادیوں کےرحجان اورممکنہ اثرات کامطالعہ بھی شامل ہے اورکچھ تجاویزوسفارشات شامل ہیں
نکاح اسلام کاایک رکن ،ایک خوبصورت بندھن اور اللہ تعالیٰ کی طرف سےعورت اورمردکا ایک دوسرے کے لئے بہترین تحفہ ۔ نکاح معاشرتی نظام کا ایک اہم حصہ ہے جو کہ نبی کریمﷺ اور انبیاءکی سُنت ہے۔ دُوسری طرف نکاح فطری انسانی خواہشات کی تکمیل کانام ہے،جوایک مردو اورعورت کوحلا ل طریقے سے ازدواجی بندھن سے منسلک کرتاہے۔ لہذااسلام اس فطری ضرورت کوحلال اورمہذبانہ طورپرپوراکرنے کی اجازت دیتاہے ۔نکاح ہی دراصل نسل انسانی کی بقا کا باعث ہے۔قرآن وحدیث میں نکاح کی بہت ذیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے ۔اس سے فکراعتدال اورتوازن کا بے مثال نظریہ تشکیل پاتاہے۔بلاشبہ اسلام میں نکاح کی اہمیت مسلمہ ہے
جب زوجین نکاح کے مضبوط بندھ میں بندھ جاتے ہیں تواس سے ایک مضبوط پائیداررشتے کی بُنیاد پڑتی ہے۔ لیکن اگراحتیاط نہ برتی جائے تویہی مضبوط بندھن کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ سکتاہے۔
اسلام میں یہ رشتہ کچھ حدوقیودکے ساتھ بڑی آسانی سے طے پاجاتاہے ۔عصرحاضر میں معاشرے میں مذہبی روایات کوپس پشت ڈال کرنکاح وشادی کے آسان عمل کورسم ورواج کی بناپر کئی طرح سےمشکل سے مشکل بنایاجارہاہے ۔ ایک فطری بشری تقاضے کورسم ورواج اورنمودکی بناپرکٹھن کیاجارہاہے۔ عصرحاضرمیں مہنگی شادیاں اور اس سے مُنسلک فضول خرچیاں،اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس سے کئی خرافات جنم لے رہی ہیں۔اس طرح اس کے مضراثرات معاشرے کے ہرطبقہ پرمرتب ہورہے ہیں ۔آئیں دیکھتے ہیں وہ کیاوجوہات ہیں۔
دنیا کے ہرمعاشرے میں مہنگی شادیوں کارواج فروغ پارہاہے۔پاکستان بھی اس سے مبرانہیں ۔مغربی اقوام اوردیگرترقی یافتہ ممالک خوشحال ہونے کے باعث مزید خرافات کاشکارہورہے ہیں۔ وہاں بھی خاندانی نظام میں شکست وریخت کاعمل تیزی سے رُونماہورہاہے جس سے کئی شادیاں ٹوٹ پھوٹ کاشکارہورہی ہیں ۔ دنیاکے مہذب سمجھے جانے والے ترقی یافتہ ممالک ان مسائل پر پرغوروخوض اورتحقیقات کرتے رہتے ہیں۔اس ضمن میں امریکہ میں ہوئی کُچھ تحقیقات کے نتائج پربحث کرتے ہیں کہ کیسے مہنگی شادیوں سے طلاق کی شرح میں اضافہ ہوسکتاہے۔
تحقیق کابُنیادی مقصداورچیدہ نتائج
اس تحقیق کابنیادی مقصد منگنی اور شادی پرہوئے بھاری اخراجات اوراس کے نتیجے میں طلاق کی شرح کے مابین تعلق کوجانناتھا۔اس سلسلے میں تحقیقات کے مختلف نتائج کوزیربحث لایاگیاتھا۔
معاشی ماہرین ،پروفیسرز اورماہرسماجیات کے لئے یہ موضوع انتہائی دلچسپی کاحامل تھا۔ان کوشادی کی معیشت کے بارے میں جاننے کاموقع ملا۔
امریکہ کی ایموری یونیورسٹی کے پروفیسرزاینڈریوایم فرانسزاورہوگوایم میالون کی ایک تحقیق کے مطابق ُپرتعیشں شادی کی تقریبات’ خوشگوارازدواجی ذندگی کی ضمانت نہیں اورنہ یہ اس ضمن میں کوئی کرداراداکرتی ہیں۔بلکہ ایسے لوگ عام طورپر خوشگوارازدواجی ذندگی سے محروم رہ جاتے ہیں۔
میلان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ میرے کچھ نظریات ہیں کہ زیادہ مہنگی شادیوں اور منگنی کی مہنگی انگوٹھی والےافراد کی شادیاں کم عرصے میں ختم ہوجاتی ہیں۔
اس تحقیق کوجاننے کے لئے جولائ ،اگست ۲۰۱۴ میں۳۳۷۰ شادی شدہ افرادکی ازدواجی ذندگیوں کے حالات کوجاننے کے لئے مطالعہ کیاگیا۔ تحقیق کے ضمن میں ان سےمختلف سوالات کئے گئے۔ نتائج کاڈیموگرافی اوردوسرے پہلووں سے اعدادوشمارکی صورت میں جائزہ لیاگیا۔
اس کے لئے انھوں نے خاص طورپر ان جوڑوں کی شادی کی پروپوزل ،شادی کے موجودہ حالات ،شادی کادورانیہ مدت،بچے،شادی کی تاریخ،جذبات، احساسات ،اورشادی کے وقت روریہ اوربرتاو،ماہ عسل ،منگنی اورشادی کی انگوٹھی پراخراجات،شادی میں مہمانوں کی شرکت،شادی کے کُل اخراجات،عمر،شادی کے وقت عمر،جنس،نسل،تعلیم ،نوکری،گھرکی ماہانہ آمدن،رہائش کی جگہ ، مذہبی عبادت کےلئے چرچ کادورہ ،
اورزوجین کے مابین شادی کے وقت عُمروں میں تفاوت، اوردیگراہم عوامل کابھی تفصیل اورباریک بینی سے جائزہ لیاگیا۔
فوکس میگزین میں شائع ہوئے ایک آرٹیکل سے پتہ چلا کہ جن جوڑوں نے اپنی شادی پر ۲۰ہزارڈالر (یا اس سے زیادہ) خرچ کیا ان میں 5،000 ڈالر اور 10،000ڈالر کے درمیان خرچ کرنے والے جوڑوں کے مقابلے میں طلاق کا امکان 3.5 گنا زیادہ تھا۔
مہنگی شادی کے حوالے سے امریکہ میں ایک ویب سائیٹ دی ناٹ پر ۲۰۱۳میں ایک آن لائن سروے کااہتمام کیاگیا تھا ۔جس میں ۱۳،۰۰۰ ہزاردُولھوں سےسروے کیا گیا ۔ نتائج کے مطابق ان شادی شُدہ افرادنےاپنی ذندگی کے اس بڑے دن پرفی اوسط ۳۰ہزارڈالر کے قریب پیسہ خرچ کیا جوایک ریکارڈتھا۔یہ دونوں تحقیقات مہنگی شادیوں اورطلاق کے امکانات کے متعلق بحث کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
تحقیقات کے نتائج
اس طرح تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جولوگ سادہ طریقے سے نکاح (شادی) کے بندھن میں بندھتے ہیں ان میں شادی جیسا ازداوجی رشتہ ذیادہ مضبوط ہوتا ۔حیران کُن طورپران جوڑوں میں طلاق کاتناسب کم ہوتاہے۔
پروفیسر ہوگو کاکہناتھاکہ شادی پرکم خرچ نوجوان جوڑے کومعاشی طور سکون فراہم کرتاہے ،جس کے باعث شادی سے پہلے اوربعدمیں معاشی اخراجات کابوجھ دماغ پرنہیں ہوتاہے اورذندگی چڑچڑے پن کی بجائے خوشگوارگُزرتی ہے۔
ان کا مذیدکہناہے کہ یہ ممکن ہے کہ "وہ جوڑے جو شاہانہ شادیاں کرتے ہیں وہ صرف جوڑے ہیں جوشایدایک دوسرے کے لئے بنے ہی نہیں ہیں ۔ان کے جوڑآپس میں مطابقت نہیں رکھتے یعنی یہ بے جوڑشادی ہوتی ہے
ایموری کی سٹڈی کے نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ جتنےذیادہ افرادشادی میں شرکت کرتے ہیں اُتناہی ان جوڑوں میں طلاقوں کی شرح کم ہوجاتی ہیں۔شاید ذیادہ افرادکوشادی پرمدعوکرنے کا ایک سماجی فائدہ یہ ہوتاہےکہ ان کوشادی سے متعلق مسائل کوحل کرنےکے لئے دوستوں اورخاندان کی عملی اور اخلاقی مددمل جاتی ہے
ایک اور قابل ذکر دریافت یہ تھی کہ شوہروں اور بیویوں کے درمیان عمر اور تعلیم میں بڑے فرق کا تعلق طلاق کے زیادہ خطرے سے تھا ۔معاشی تجزیہ کاروں نے ان پہلووں کوبھی مدنظررکھاکہ وہ مذہبی عبادات میں شرکت کرتے ہیں یانہیں اورشادی کے وقت جسمانی کشش کے متعلق کیاخیالات تھے اورآمدن کے شواہدکاطلاق کے ممکنہ امکانات سے بھی لگایا۔
لہذااس اس تحقیق کے نتائج سے کم ازکم کسی حدتک یہ شواہدتوملتے ہیں کہ ایک کامیاب شادی کے لئے منگنی اورشادی پرفضول خرچی سے اجتناب کرناچاہئے۔کیونکہ ذیادہ مہنگی شادی اورشاہانہ شادیوں سے ازدواجی تعلقات پرمنفی فرق پڑسکتاہے۔ بھاری اخراجات ان کے تعلقات پرپرلٹکتی تلوارکی طرح ہیں ۔جن کی وجہ سے شادیاں خطرے میں پڑسکتی ہیں جوبالآخرطلاق پرمنتج ہوسکتی ہیں۔
دونوں محققین اس بات پرخوش تھے کہ عوام الناس میں اس تحقیق اوران کےنتائج کی پذیرائی ہوئ۔
امریکہ کے ادارہ نیشنل میرج ویک میں ہوئی ایک تحقیق کے مُطابق وہاں کے نوجوان طبقہ نے جو(۱۹۸۱تا۱۹۹۶)کے دوران پیداہوئے تھے، انھوں نے اپنی شادیوں پرکافی خرچ کیا۔اس بات کاجائزہ لیاگیا کہ پچھلی ایک دہائی کے دوران شادی کے اخراجات دُگناہوئے ہیں۔اب وہاں پر شادی کی تقریبات میں مہمانوں کوکم تعداد میں مدعوکرنے کا رواج فروغ پارہاہے
تاریخی پس منظرفروغ میں کردار،ایک تحقیقاتی اورتنقیدی جائزہ
درج بالا صفحات میں ہم نے مہنگی شادیوں کی وجہ سے شادی شدہ افرادکی اذدواجی ذندگیوں پراثرات کامطالعہ توکرلیا لیکن اب دیکھتے ہیں کہ ان مہنگی شادیوں کے تصورکے پیچھے کون سے کاروباری عوامل کارفرمارہے ہیں۔آئیں ان کاتاریخی پس منظرجانتے ہیں۔
تحقیق کارمیالون اورفرانسیس دلائل دیتے ہیں کہ منگنی اورمہنگی شادیوں پرشاہانہ خرچ کی سوچ کےپیچھےشادی سےمتعلقہ صںعت ملوث ہے جواپنے صارفین کے ذہنوں میں اس سوچ اورتاثر کوپختہ کرتے ہیں ہیں کہ شاہانہ طرزکی شادیاں ہی دراصل کامیاب اوردیرپاشادیوں کی ضمانت ہیں۔
اب ذرادیکھتے ہیں کہ شادی سے متعلقہ کچھ صنعتیں لوگوں کی نفسیات اورجذبات سے کیسے کھلیتی ہیں ۔
مثلامیڈیاپراشتہارات کچھ ایسے چلتےتھےکہ لوگ ان اشتہارات کے موادااورپیغام سےمتاثرہوجاتے تھے ۔اسکامطلب یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصورراسخ کردیاکہ مہنگی شادیاں ہی اصل میں دیرپاتعلق کاباعث ہوتی ہیں۔اس کی مثال ہیروں کی فروخت سے منسلک کمپنی ڈی بیئر!
مغرب میں مہنگی شادیوں کی وجوہات : تاریخی پس منظر اورکاروباری سوچ
وہاں کے معاشرہ کاتجزیہ کریں توپتہ چلے گاکہ مغربی ممالک میں جنگ عظیم دوم کے بعد۱۰ فیصد منگنیوں میں ہیرے کی انگوٹھی پہنائی جاتی تھی۔لیکن اس صدی کے اختتام تک منگنیوں میں ۸۰ فیصدمنگنیوں میں ہیرے کی انگوٹھی پہنائی جاتی ہے۔ہیرے کی انگوٹھی کومحبت اورشادی علامت سمجھاجاتاہے اورمغرب میں منگنی اورشادی،ہیرے کی انگوٹھی سے سجی ہوتی ہیں۔ جبکہ ۲۰۱۲ کی رپورٹ کے مطابق محض منگنی اورشادی کی ہیروں کی انگوٹھٰیوں کی خریداری پر۷ بلئین ڈالرخرچ کیاگیا ۔یعنی شادی سے متعلقہ صنعت نے بھاری منافع کمایا،جوایک ریکارڈضافہ ہے۔باقی اخراجات کااندازہ آپ خودلگاسکتے ہیں۔
تحقیق کاروں کے مُطابق اب رُومانس کوایک کموڈٹی(جنس) کے طورپرپیش کیاجارہاہے۔
شادی سے متعلق صنعت نے کوشش کہ پیاراوررُومانس کوایک جنس(کموڈٹی) بنادیاجائے اس کے لئے انھوں نے منگنی کے حوالے سے ہیروں کی انگوٹھی کی مارکیٹنگ کیمپین(تشہیری مُہم) کاآغازکیاتاکہ جونوجوان بھی منگنی کرے تووہ اپنی منگتیرکےلئے مہنگی انگوٹھی بطورتحفہ انتخاب کرے۔
پھراسی طرح ایک اوراندازسے ۱۹۸۰ میں ڈی بیرنامی کمپنی نے ایک اورنہایت بہترین اشتہاری کیمپین تیارکی ۔جس کامرکزی خیال کُچھ یوں تھا کہ اپنی منگنی کی انگوٹھی پرکتناخرچ کرناچاہئے ۔اس اشتہاری مُہم میں صرف ایک سلوگن تیارکیاگیا اورکہا کہ آپکی دوماہ کی یہ تنخواہ عمربھرکی مستحکم شادی کے لئے ایک چھوٹی سی قیمت ہے۔
اسی طرح ۱۹۹۹ ایڈورٹائزنگ ایج نامی اشتہاری ایجنسی نے اس تصورکوفروغ دیاکہ دراصل منگنی کے لئے ہیرے کی انگوٹھی ہی دیرپاشادی کی بُنیادہے اوراسی طرح مضبوط شادی کے لئے بھی اس تصورکوآگے بڑھایا۔اورصارفین کوباورکرانے کی کوشش کی کہ مہنگی انگوٹھٰیاں ہی دراصل مضبوط اورپائیدارشادی کی ضمانت ہیں۔ یوں اشتہاری کمپنیوں نے اپنے پُراثرٹی وی کمرشل کےذریعے پیغام دیاکہ کہ شادی پربھاری اخراجات کامیاب شادیوں کی ضمانت ہیں ۔۲۰۱۴ میں شادی سے متعلق صعنت کے منافع میں ۵۰بلئن ڈالرکی پیشن گوئی کی گئی تھی۔شادی سے متعلق صعنت نے۲۰ویں صدی میں عُروج حاصل کیا ۔جزوی طور پرصارفیت اور صنعت کی کوششوں کو تبدیل کرنے کے لئے محبت اور رومانس کوایک کموڈٹی (جنس) کی شکل دے دی تھی۔ ان کی ان کاروبار حکمت عملیوں ،سوچ اورکاروباری تشہیری مہمات سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ وہ اپنے صارفین کی نفسیات اورجذبات سے کس طرح کھیلتے ہیں۔
دوسری طرف امریکہ کاایک بہت مشہورومعروف برائیڈنامی میگزین جو اپنے قارئین میں بہت مقبول میگزین ہے ۔اوریہ ایک کثیرالاشاعت جریدہ ہے۔اس میگزین نے اپنے صارفین (کسٹمر) تک رسائی کے لئے شادی کی خدمات دینے والوں کوپلیٹ فارم مہیا کرنے کے لئے ایک اہم کرداراداکیا۔اس جریدہ نے۱۹۵۹میں پریوں کی شادی کی طرزپرشاندارشادی کے تصورکوفروغ دینے کے لئے ۲۲ نُکاتی چیک لسٹ شائع کی اورلکھاکہ آپ کس طرح شادی کے خواب کوپوراکرنے کے اپنے ۲ماہ سائیڈپررکھ دیں تاکہ ایک پُرتعیش شادی کاخواب ممکن ہوسکے۔ جبکہ ۱۹۹۰تک چیک لسٹ کی تعدار۴۴تک پہنچ گئی اورتجویزکیا کہ اپنی شادی کے خواب کوپوراکرنا کے لئے ۱۲ماہ (۱سال)سائیڈپررکھ دیں یعنی ان تمام کومحض شادی کے اخراجات ،لوازمات اورانگوٹھیوں کے لئے مختص کردیاجائے ۔ مقبول ترین میگزین نےہیروں سے متعلق موثراشتہاری مُہم کے ذریعے شادی کے تصورکوبدل رکھ دیاتھا ۔اورنوجوانوں کے ذہنوں میں انقلاب برپاکرکے رکھ دیا۔
برائیڈ مییگزین نے شادی سے متعلقہ صنعت کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا
کیا تھا ۔شادی سے متعلق خدمات فراہم کنندگان کے لئے اپنے صارفین تک ایک موثر پلیٹ فراہم کیا اوراس میں تمام فریقین یقینا کامیاب رہے۔اوروہ پریوں کی شادی کی طرزپرشادیاں کرنے کی طرف مائل ہوگئے۔
اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا اورکارورباری حلقے کیسے ایک دوسرے سے مل کرکاروباری حکمت بناتے ہیں۔ کاروباری سوچ سے صارفین کے جذبات سے کھیل کران کی جیبوں سے پیسہ نکالاجاتاہے۔۔اس سے پتہ چلتاہے کہ مشترکہ کاوشوں سے مہنگی شادیوں میں کاروباری لوگوں کاکردارہوتاہے۔اوریہ سب کام ایک مربوط طریقوں اورسوچے سمجھے منصوبے کے تحت جاری ہے ۔
معاشرے میں مادیت پسندی میں اسی طرح کے عوامل کارفرماہوتے ہیں۔اپنے کاروباری مقاصدکوسامنے رکھ کرصارفین کی جیبوں پر کروڑوں اربوں ڈالرکاڈاکہ ماراجاتاہے اورپھربھاری منافع سمیٹ لیاجاتاہے۔بہرحال یہ اشتہاری اورمارکیٹنگ یالوٹنے ،پھانسنے کے کچھ کاروباری طریقے ہیں۔
درج بالاصفحات میں توکچھ مغربی معاشرے کی شادیوں اورکاروباری لوگوں کی سوچ عکاسی کی گئی۔اب ذرااپنے پاکستانی معاشرے پربھی ایک طائرانہ نظرڈال لیتے ہیں۔
پاکستان میں مہنگی شادیوں کی کچھ ممکنہ وجوہات
ویسےتواس کی بے شماروجوہات ہیں لیکن سرفہرست عوامل میں پیسے کادکھاوا،اوردوسرازمانے کےرسوم ورواج کی پیروی کرنا ہے۔جوڑے بھی
شادی کے لمحات کومنفرنوعیت کی تقریب اورایک یادگارلمحہ بناناچاہتے ہیں۔اسی مغربی تہذیب اورہندوانہ سوچ کے اثرات کسی حدتک ہمارے ہاں شادیوں میں جھلکتے ہیں
اس ضمن میں اگلے صفحات میں کچھ ذکرکیاجارہا ہے۔
پاکستانی معاشرہ ،میڈیااورڈرامہ انڈسٹری
اگرہم پاکستانی چینلزپرنشرکئے جانے والے ڈراموں کا گہرائی سےجائزہ لیں تو پتہ چلے گا ان ڈراموں میں شادی کی تقریب کوبڑی دھوم دھام اورشان وشوکت سے منائی جاتا ہے۔ان سب ڈراموں میں ایک مشترکہ اورخاص بات یہ ہوتی ہےکہ سب ڈراموں میں امیرافراد کے خاندانوں کی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں ۔یہ مناظرلاشعورمیں گھرکرلیتے ہیں۔
اصل میں میڈیا خواب بیچتاہے اورایک فینٹسی تخلیق کرتاہے۔عوام کی اکثریت ڈراموں کودیکھتی ہے ،جسکانوجوانوں اورفیملی پر پرلا محالہ اثرہوتاہےاوراثرقبول کرتے ہیں۔ ان چیزوں دیکھ کراوراپنے اردگردمعاشرتی رویوں کودیکھ کرغریبوں بھی شعوری طورپرغریب بھی کوشش کرتے ہیں کہ وہ بھی دھوم دھام سے شادی منائیں ۔لہذابھاری اٹھنے والے بھاری اخراجات کے لئے وہ ادھارکی دلدل میں پھنس کرفضول خرچی کرنے کی کوشش کرتےہیں ۔اگروہ ایسانہ کریں توممکن ہے کہ وہ نفسیاتی عوارض کابھی شکارہوجائیں ۔
شان وشوکت اورگلیمرسے بھرپورشادیوں کے تصورات ومناظرخصوصی طورپر انڈین ڈراموں خاص کرسٹارپلس کے چینل پرتوتواترسے دکھائے جاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں بھی ٹی وی چینلزاورکاروباری حلقوں نے بھی ان ڈراموں کی سوچ اوراثرات کوکافی حدتک قبول کیاہے ۔اوریوں ایک بھیڑچال سی چلتی رہتی ہے۔
ہمارے شادی ہالوں اورکیٹرنگ سروسز کے اشتہارات تواترسے دکھائے جاتے ہیں۔شہرمیں مہنگے سے پُرتعیش شادی ہال،ہوٹل کی بُکنگ پہلے سے ذیادہ بڑھ گئی ہے بلکہ اب تومضافات میں بہترین فارم ہاوسزمیں بھی شاندارشادیوں کے کرنے کا کارُحجان پروان چڑھ رہاہے لے ۔ ہمارے ہاں بھی شادی ہال اورہوٹل بزنس باقاعدہ طورپرایک صنعت کادرجہ اختیارکرچکے ہیں اوراس سے منسلک ایونٹ مینجمنٹ خدمات بھی ایک متوازی صنعت کارُخ اختیارکرچکی ہے۔بہرحال پاکستان میں شادی سے متعلقہ انڈسٹری بھی خوب فروغ پارہی ہے اوراس کے نتیجہ میں ایک نئی مکمل انڈسٹری کاجنم ہورہاہے
پھرآئے روزنودولتیوں کے پیسے لٹانے اورخرچ کرنے کے عجیب وغریب واقعات بھی دیکھنے سننے میں آجاتے ہیں۔بہرحال منگنی اورشادیوں کی تقریبات کو بہت ذیادہ گلیمرائزڈکردیاگیاہے۔
کسی بھی مہنگی شادی کے بُنیادی عناصرغیرضروری رسومات اورفضول خرچی ہیں۔۔آئیں ذراان کی تفصیل کومُلاحظہ کرتے ہیں اوراس کاایک تنقیدی جائزہ لیتےہیں۔ساتھ میں یہ بھی دیکھیں کہ پاکستان میں شادی میں بڑھتے اخراجات میں آخر کون سے عوامل کارفرماہوتےہیں ۔دستیاب معلومات اورمشاہدہ سے پتہ چلتاہےکہ ان میں ایک توسرفہرست سماجی معاشرتی رسوم اوررواج ہیں۔دوسرامنگنی بیاہ کےغیرضروری اخراجات ۔۔ان پہلووں سےمہنگی اورشاہانہ شادیوں کے متعلق جاننے کاموقع ملے گا۔
منگنی بیاہ اوررسُوم ورواج
منگنی بیاہ کی تقریبات کویادگار اورعالی شان بنانے کےلئے بہت سارے جتن کئے جاتے ہیں۔ایسا لگتاہے کہ معاشرے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ، ریس سی لگی ہو۔معاشرے میں برانڈکلچر،کلاس اورسٹیٹس کوبرقراررکھنے کےلئے بہت سے پاپڑبیلناپڑتے ہیں اس کے علاوہ معاشرے میں شان وشوکت ،نمودونمائش برقراررکھنے کے لئے بہت کچھ کرناپڑتاہے۔بہرحال کچھ بھی ہو معاشرے میں دکھاوااورنمودونمائش خطرناک حدتک بڑھتی جارہی ہے۔
منگنی، بیاہ کی بے جا رسوم ورواج
ہماری ذندگی میں شادی کی تقریب بہت خاص اہمیت رکھتی ہے خاص کران افرادکی جوشادی کے جوڑے میں بندھنے جارہے ہیں۔ہمارے ہاں شادی ایک بہت بڑی معاشرتی تقریب کادرجہ رکھتی ہے۔کہاجاتاہے کہ جتنی اقسام کی برادریاں ہیں اتنی ہی اقسام کے رسوم ورواج بھی ہیں ۔ ہربرادری خاندان میں انواع واقسام کے رسم ورواج پائے جاتےہیں ۔ ذراان میں سے کچھ کا طائرانہ جائزہ لیتےہیں ۔ شادی کاسلسلہ منگنی کی بات،منگنی، شادی کارڈسے ہوتا ہوا مقلاوہ تک جاپہنچتا ہے۔اس دوران کافی ساری رسمیں بھی اداکی جاتی ہیں۔
ہررسم رواج اورتقریب کی اپنی ایک نوعیت ہے۔ تقریبا ہرکسی کی خواہش ہوتی ہے کہ شادی کی تقریب عالی شان ہو،اس کی سج دھج سب سے نرالی ہو۔براتیوں اورمہمانوں کاایک قافلہ روانہ ہوتاہے۔شادی بیاہ میں کہیں رسم مہندی ہے توکہیں رتجگا،مانجھا ،مایوں اوربری وغیرہ کاذوق پال لیاجاتاہے ۔مختلف رسمیں کئی دنوں پرمحیط ہوتی ہیں۔تقریبات کو دیکھ کرتو ایسا محسوس ہوتاہے کہ جیسے کسی فیشن پریڈکاانعقادہورہاہو۔
منگنی، بارات اور ولیمے کی تقاریب دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں ۔اصل میں تویہ سب کچھ فلموں ڈراموں سے حاصل کردہ مستعارکلچرہے ۔اگرہم انڈیاکے سٹارپلس ڈراموں کاہی تجزیہ کرلیں توعیاں ہوگاکہ وہ شادی کی تقریبات کوکتناپرتعیش دکھاتے ہیں۔اوران کی دیکھادیکھی پاکستان بھی کسی طورپرپیچھے نہیں ہے۔
مختلف اقسام کی رسومات جیب پربہت بھاری پڑتی ہیں۔ان تقریبات میں شرکت کے لئے مہمانوں کی طویل لسٹ تیارکی جاتی ہے جودونوں فریقین پرتقریبامالی بوجھ ہی ہوتی ہے۔بعض اوقات ان پرڈبل خرچ بھی ہوجاتاہے۔ان رسومات سے کئ طرح کی قباحتیں جنم لیتی ہیں ۔مثلا کچھ رسوم رواج ایسے ہیں جویہاں بہت رواج پاگئے ہیں اورعوام کے ذہنوں میں تقریباراسخ ہوگئے ہیں ۔ یہ سب منگنی بیاہ کی رسومات کاایک لازمی وملزوم حصہ بن چکے ہیں۔دُولھادلہن دونوں کے خاندانوں میں رسوم ورواج کےحوالے سے یکساں مسائل ہیں۔
کچھ رسوم ورواج کی جھلکیاں!
منگنی کی انگوٹھی پہنانا
تیل مہندی
مایوں
سلامی
موسیقی کی محافل رقص سرود
رقص سرود وڈئ جے پارٹی
میل (مِلنی)
منہ دکھائ
گوڈہ پکڑائ
جوتاچُھپائی
دودھ پلائ
مقلاوہ
ان مناظرکوبڑی سکرینوں پرمہمانوں کے سامنے براہ راست دکھایاجانا
اس حوالےسے دونوں خاندانوں میں صرف ایک چیزتومشترک ہوتی ہے اوروہ ہے خُوشی جو ایک جسی ہوتی ہیں۔
ایک شادی پردوخاندانوں کے اپنے اپنےانفرادی اخراجات ہوتے ہیں اوراس میں مہمانوں کے اپنے اپنے اخراجات ہوتے ہیں ہمارے ہاں پورے پاکستان میں ہرروز،ہرہفتہ اورہرماہ اورپورا سال ہی کہیں نہ کہیں شادی توہورہی ہوتے ہیے۔اگران شادیوں پرغورکیاجائے توتحقیق کی جائے کہ ان منگنیوں اورشادیوں پراندازہ کتناخرچ ہوتاہے اورپورے ملک میں اس حوالے سے معیشت کوکتنافائدہ ہوتاہے ۔بہرحال اس حوالے سے اس معیشت کودستاویزی بنایاجاسکتاہے ۔لیکن اگران شادیوں پرہی خرچ کااندازہ لگایاجائےتوان شادیوں پرپاکستانیوں کاکروڑوں اربوں خرچ ہوجاتاہے۔جوکہ بہرحال علیحدہ سےایک معاشی سرگرمی ہے جس سےملک وقوم کوفائدہ ہوتاہے اورکئی لوگوں کااس سے کاروباربھی وابستہ ہے۔
اب ذرامہنگی شادی کے کچھ لوازمات اوراخراجات پرایک نظرڈالتے ہیں جس کی ایک طویل لسٹ ہے۔جن میں سے کچھ نمایاں خرچوں کاتذکرہ کیاجارہاہے۔ان میں جانبین کے کےخرچے شامل ہیں۔
مثلا
منگنی بیاہ اوردیگرتقریبات کی مدمیں ہونےوالے اخراجات
منگنی کی انگوٹھی یازیورات
لباس وجوتی
منگنی ،بیاہ تحائف
منگنی شادی شادی ہال اورہوٹل کی بکنگ
شادی کے زیورات
برائیڈل شاور
ڈرون شوٹ
فوٹوگرافر اور’سگنیچر شوٹ‘اورمہنگی فوٹوگرافی
مختلف دنوں پربیوٹی پارلراورمیک اپ اخراجات
گھریلو اور دیگر سامان کا
بہترین کھانے
کارڈچھپوائ
بینڈباجہ
ڈی جے سسٹم اورموسیقی
کمرہ گھرسجاوٹ
ایونٹ منجمنٹ
لائٹنگ وبرقی قُمقُمے
گھروکمرہ سجاوٹ
دولھادلہن کی منگنی،مایوں،تیل مہندی ولیمہ مقلاوہ کے جوڑے اورجوتے
بارات اور ولیمے کی تقاریب پرخرچ
ٹرانسپورٹ
جہیز، بری
فرنیچر
نمود و نمائش سے بھرپور شادی
مہنگے کھانے
ڈھول، بینڈ باجا
سٹیج اور ہال کی تزئین و آرائش
یادرہے کہ فضول خرچ کرنے والے کوشیطان کابھائی کہا گیاہے۔ اسلام ہمیشہ توازن اوراعتدال کی راہ اپنانے پرزرودیتاہے ۔کیونکہ اس طرح کی شادیوں پرمعاشرے پرسماجی ،معاشرتی سطح پرمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ذیل کے صفحات میں کچھ کا برسبیل تذکرہ کیاجارہاہے۔
یہ رسومات اورخرچ معاشرتی اورسماجی روایات کاایک حصہ ہیں ۔کم ازکم اسلام میں تو ان بے جا رسومات کی ہرگزکوئی گنجائش اور جگہ نہیں ہے۔
معاشرے پر مہنگی شادی کےنفسیاتی ،سماجی اورمعاشرتی مضر،اثرات ونقصانات
پاکستان میں غریب اورمتوسط خاندانوں میں بچوں کی بروقت شادیاں کرنا اورمتعلقہ اخراجات پورے کرنا بھی ایک مسلہ ہے۔پاکستان میں لاکھوں کروڑوں مردوزن جہاں موزوں رشتوں کی امیدمیں ،ذاتی پسندناپسند کی وجہ سے بہت حدتک فرق آچکاہے ہے اوریوں وہ شادی کے انتظارمیں بیٹھے ہیں ۔ اس کے علاوہ رلیٹ میرج کیسز بھی ہورہے ہیں جبکہ ایک طرف مرداپنی گھرکی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے ۔شادی کی عمرتک تک عمررسیدہ بھی ہوجاتاہے اوریوں آدھی عمرتوانھیں چیزوں میں گُزرجاتی ہے۔ اوراوپرسے اپنی شادی کے طویل اخراجات اسکی کی دیگروجوہات بھی ہیں۔
عصرحاضرمیں شادیوں میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کارحجان تقویت پاتاجارہاہے۔لوگ اس کے لئے سُودی قرض لینے تک تیارہوجاتے ہیں۔اس قرض سے شادی توہوجاتی ہے لیکن لڑکااورلڑکے کےخاندان سالوں سالہاسال قرض ہی اُتارتے رہتے ہیں۔
میڈیااوراشہتارات :
پاکستان میں کم بیش ہرچینلزپربالائ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے مسائل ہی ڈرامے کا اصل موضوع ہوتےہیں ۔اگرہم میڈیاپرشادی اشتہارات کااورڈراموں کے مناظرکاتجزیہ کریں توان ڈراموں میں تقریبا شادیاں شادی ہال میں ہوتی دکھائ دیتی ہیں اوربالائی طبقہ میں شادیوں اوررسومات کوبڑے دھوم سے دکھایاجاتاہے۔ ٹی وی ڈراموں میں اکثرمیں بڑی شادی دھوم سے دکھائی جاتی ہے۔ معاشرے میں دکھاوے کے نام پرکئی رسومات میڈیاکاحصہ ہیں۔
بڑھتی مادیت پسندی میں الیٹران میڈیاکابہت اہم کردارہے ۔دوسری طرف اگرالیکٹرانک اشتہارات کاتجزیہ کیاجائے تووہ بھی شادی کے حوالہ سے بھاری اخراجات کومذیدبڑھاتے ہیں ۔ لوگ ان اشتہارات میں پیش کئے گئے مواد سے بہت جلدمتاثرہوجاتے ہیں ۔لہذااس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میڈیاخواب بیچتاہے ۔مذیدیہ کہ شہروں میں بڑھتی ہوئے شادی ہالوں کی تعدادبھی اس کی ایک مثال ہے۔
لہذالاشعوری طورپر متوسط طبقہ اورغریب گھرانوں میں بھی امیروں کی طرزپرخواہش جنم لیتی ہے جس سے وہ احساس کمتری کاشکارہوسکتے ہیں۔لہذاغریب اورمتوسط طقبہ معاشرے میں اپنا اپنابھرم رکھنے کے لئے اپنی چادرسے باہر پاوں نکال کربھاری اخراجات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کے طعنوں سے بچ سکیں کہ آخرلوگ کیاکہیں گے ۔
جب نکاح شادی جیسے سادہ مذہبی معاملات کومشکل سے مشکل بنایا جا ئے گاتویقینامعاشرے میں اسکالازمی اثربے راہ ر وی کی صُورت میں نمودارہوتاہے۔بے لگام خواہشات کی وجہ سے ہاتھ پیلے ہونے کے انتظارمیں لڑکیوں کےسروں میں چاندی اُترآتی ہے۔معاشرے میں انھیں کچھ وجوہات کی وجہ سے کئی بگاڑجنم لے رہے ہیں ۔
غریب اورمتوسط طبقہ کو شادی کے بے جااخراجات کے لئے قرض جیسی لعنت سے دوچارہوناپڑتاہے۔جس سے وہ مذیدمالی حالات کاشکارہوجاتے ہیں۔نوجوان اورخاندان تو پہلے ہی سےادھارمیں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔مذیدقرض لیکروہ قرض ،سود کی دلدل اورعذاب میں مذید پھنس جاتےہیں ۔کئی سال ان قرض کواداکرنے میں لگ جاتے ہیں۔
ڈھیر سارےایسے واقعات ہیں جن میں بالائ طبقےکے افراداپنے بیٹے بیٹیوں کی شادیوں میں بڑھ چڑھ کراخراجات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف غریب اورمتوسط طبقہ بھی اس دوڑسے پیچھے نہیں رہناچاہتا ہے۔
اسلام میں سادہ نکاح کاتصور
حدیث : بڑی برکت والا وہ نکاح ہے جس میں بوجھ کم ہو(مسنداحمد)
نبی کریم ﷺ نے اُمت کے لئے کامیاب شادی کانسخہ آج سے ۱۴سوسال پہلے ہی تجویزفرمادیاتھا۔۔اسلام چونکہ ایک فطری دین ہے لہذاوہ فضول خرچ اورخرافات سے بچنے کی بھرپورتلقین کرتاہے۔اسلام ہی سادگی کونکاح وشادی کابُنیادی جزوقراردیتاہے۔اس ضمن میں اسلام سادگی پرزرو دیتاہے اور خرافات سے بچنے کی تلقین کرتاہے۔ اسلام میں نکاح کاتمام تر کتناآسان سادہ جبکہ زمانےکےتمام رسم ورواج کتنے مُشکل اورپیچیدہ! کیابطورہم سب مسلمان یہ بھول گئے ہیں کہ حضرت حواعلیہ السلام کامہرہی درودشریف تھا۔مسلمان حضرت فاطمہؓ اورحضرت علیؓ کے سادہ اورپُروقارنکاح ہی کی مثال لے لیں۔حضرت فاطمہؓ کے جہیزکاہی مُطالعہ کرلیں ۔ صحابہ کرام اوربزرگان دین کے سادگی سے نکاح اورشادی کے ڈھیرساروں واقعات کتابوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔
اسلام نے نکاح کےمرحلہ کوجتناآسان وضع کیاہے،موجودہ معاشرتی ڈھا نچے نے اسے اتنا ہی مشکل بنا دیا ہے اوراس کے ساتھ کئی بے جا فضول لوازمات منگنی بیاہ کاحصہ بنادئے ہیں۔ خواہشات کابوجھ اپنی ذات اورسوچوں پرمسلط کرلیاہے۔ اب اکثرشادیوں میں نکاح جیسی سادہ رسم کا تعلق واسطہ محض بطوردینی فریضہ اور فارم بھرنے کی حدتک رہ گیا ہے۔
قرآن و حدیث میں واضح طور پر اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ لڑکا اور لڑکی کے بالغ ہوتے ہی انہیں نکاح کے بندھن میں باندھ دیا جائے تاکہ وہ ایک حلال رشتے میں بندھ کر مطمن اور صحت مند زندگی گزار سکیں اور گناہوں سے بچے رہیں۔لیکن معاملات اس کے برعکس ہورہے ہیں۔
شرعی اورسُنت کے مطابق سادگی سے شادی کرنے پرکوئی بھاری اخراجات صرف نہیں ہوتے ہیں ۔حالانکہ، اسلام میں شادی صرف حجاب و قبول کا نام ہے۔ نکاح کاخطبہ ہوتا ہے۔لڑکی کے ولی اور۲ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کی رسم احسن طریقے سے اداہوجاتی ہے۔مہرشوہرکے ذُمہ اور اسی طرح وہ منکُوحہ کی رہائش ،کھانے پہننے کاذمہ دار ہوتاہے۔جبکہ دعوت ولیمہ کے متعلق کہاجاتاہے کہ یہ کوئی فرض یاواجب نہیں ہاں البتہ مسنون ضرورہے ہے۔ گھر والوں اور دوچار افراد کو جو کچھ بھی میسر ہو کھلانے سے اس سنت پر عمل ہوجائے گا، اس کے لیے بڑی دعوت، پنڈال، بڑے انتظامات کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
ایک سوال ہمیشہ اٹھتاہے کہ آخر کیوں نکاح وشادی کے موقع پر اسلام کی روشن تعلیمات کو پس پشت ڈال دیاجاتا ہے۔ ڈینوریونیورسٹی کے ریسرچ پروفیسر سکاٹ ایم سٹینلے ،خاندان پرتحقیق کرتے ہیں ، ان کاکہناہے۔اگرآپ کے ذہن میں شادی کولیکربہت بڑاتصوراورخواب ہے اورآپ شادی کے مصارف برداشت کرسکتے ہیں اوراس سے آپ پرمذید کسی قسم کااضافی دباونہ آئے گاتوٹھیک ہے،توپھرآپ ایساکرگزرئے۔لیکن یہ ضروریادرکھیں کہ شادی اصل میں زوجین کے مابین گہرے تعلق کانام ہے ۔ بہت بڑی شادی توضرور کریں، لیکن یہ یقینی بنائیں کہ یہ سستی ہو۔
پاکستان میں بھی اس حوالہ سے سرکاری سطح اوریونیورسٹیوں میں اس طرح کی تحقیقات ہونی چاہئیں ۔قوم کی اکثریت قرآن و حدیث،روایات اوراسلامی اقدارسے بہت دورہوچکی ہے۔دعا ہےکہ اللہ ہم سب کونمودونمائش،ریاکاری،جہیز فضول خرچی سے بچائے۔ نیزتمام مسلمانوں کو سادگی سے نکاح کر نے کی تو فیق عطا فرمائے اوراس کی روح کوسمجھنے کی سمجھ عطافرمائے۔ یادرہے تمام مسائل ومصائب کا علاج صرف اورصرف اسلام میں موجود ہے۔ اس لیے کہ اسلام دینِ فطرت اور دینِ اعتدال ہے اورکئی صدیاں گزرجائیں ،زمانہ چاہے کتناترقی یافتہ ہوجائے اسلام کے اصول ہمیشہ تروتازہ اورقابل عمل رہیں گے۔
جب ہم تک اس سوچ سے نہیں نکلیں گے کہ لوگ معاشرہ کیاکہے گا،توپھریہ معاملات ایسے ہی چلتے رہیں گےچلتا،جبکہ اصل میں تویہ ہوناچاہئے کہ اللہ اوراس کے رسولﷺکیاسوچیں گے۔
بحثیت قوم سوچناچاہئے کہ آخرنکاح اتنامُشکل کیوں بنتاجارہاہے۔اللہ سب کو نکاح وشادی میں سادگی اورمیانہ روی کی توفیق عطافرمائےآمین
لہذااس تحقیق کاجوپیغام ہے وہ یہ کہ
اگرآپ چاہتے ہیں کہ شادی آخرتک چلے تو سستی شادی کورواج دیں!
###
صاحب تحریر:کئی سال ادارہ گیلپ،اوراوایسیس اورادارہ فروغ تحقیق کے ساتھ منسلک رہے ہیں اوربلاگ،جرائدسمعیت سوشل میڈیاپرسماجی،معاشرتی اورتحقیقی مضامین تحریرکرتے رہتےہیں
حوالہ جات استفادہ
https://emorywheel.com/professors-study-marriage-economics/
https://ifstudies.org/blog/planning-a-wedding-say-yes-to-the-guests-and-spend-less-on-the-dress
https://www.washingtontimes.com/news/2014/oct/14/a-big-cheap-wedding-might-increase-chance-of-a-sta/
https://www.deseret.com/2014/10/15/20550475/for-a-marriage-that-lasts-try-a-big-cheap-wedding
https://edition.cnn.com/2014/10/13/living/wedding-expenses-study/index.html
https://www.bbc.com/urdu/pakistan-50979084
https://www.express.pk/story/2133059/1/
https://darulifta-deoband.com/home/ur/nikah-marriage/57315
https://darululoom-deoband.com/urduarticles/archives/624
https://www.geo.tv/latest/226958-the-big-business-of-weddings-in-pakistan
https://www.tsfilmers.com/blogs/wedding/how-to-have-a-budget-friendly-wedding-in-pakistan
No comments:
Post a Comment