|
بسلسلہ صحت وتندرستی |
صاحب قلم:مجاہدعلی
کسی بھی بچے کی پیدائش کامطلب ہوتاہے کہ وہ اس دنیامیں کسی خاص مقصدکےتحت آیاہے۔اس دنیامیں بہت کم باشعورافراداتواپنی ذندگی کے مقصدکاتعین کرلیتےہیں لیکن ایک کثیرتعداداپنی ذندگی کے مقصدکوجان ہی نہیں پاتی۔ دنیامیں اکثر لوگوں کی ناکامی کی بنیادی اوراولین وجہ اکثراوقات بے مقصدیت ہوتی ہے۔اسی لئے انسان ناخوش، بے چین اورناکام رہتاہے۔۔لیکن تجربات اورتحقیقات بتاتی ہے کہ ذندگی کامقصد کاتعین عمراوروقت کے کسی بھی لمحے میں ہوسکتاہے۔
اسی تحقیق کوثابت کرنےکے لئے امریکہ کے ماہرسماجیات نے اولڈپیپلزہاوس میں خطرناک بیماریوں میں مُبتلاافراد پر ایک نفسیاتی تجربہ کیا۔ان بوڑھے افرادکے دن بس گنے چنے ہی رہ گئے تھے۔ یہ بات ہرکوئی جانتاتھا۔ اس ہاوس کے افرادہروقت آپس میں لڑتے تھے جبکہ ان کاسٹاف کے ساتھ بھی جھگڑارہتاتھا۔اولڈپیپلزہاوس کی انتظامیہ آئے روزکے جھگڑوں اورہاوس کے اندرونی ناخوشگوارحالات سے تشویش کاشکارتھی۔آئے روزچپقلش اوررنجش۔اس مسلے کوحل کرنے کے لئے انھوں نے ایک پروفیسر، ماہرسماجی سائنسدان کی خدمات مستعارلیں۔سٹڈی ٹیم نے اس مسلے پرخوب غوروخوض کیااوران کے مسائل کومدنظررکھتے ہوئے ایک نفسیاتی تجربہ حل کی شکل میں پیش کیا۔جس کے حیران کن نتائج برآمدہوئے۔پروفیسرنے اس ہاوس کے مردوزن کودوگروپ میں تقسیم کیا۔
پہلی ٹیم اورفرائض
پہلی ٹیم کے لئے بازارسے چندخالی گملے ا،پودے ،پھول اورمٹی کاانتظام کیاگیا اوران کوکہاگیاکہ گملوں میں مٹی ڈال کربیج ڈال ڈالیں اورکھاکوکیسے ڈالنا ہےاورباغبانی امورپررھنمائی کی اورکہاگیاکہ اب آپ نے مل جل کر اسکی حفاظت کے فرائض خود سرانجام دینے ہیں ۔خیروہ اپنے کام میں دل وجان سے جت گئے۔کوئ پانی دیتاتوکوئی گوڈی کررہاہوتا ،کسی کے ذمہ ان پودوں کو مچھروں مکھیوں اورپرندوں سے حفاظت اوربچاناتھا ۔مردوزن پرمشتمل ٹیم اپنے کام میں خاصی مصروف رہتی تھی۔ اس دوران ان کی مسلسل حوصلہ افزائی بھی کی جاتی رہی اوریوں آخرکاران لوگوں کی نگہداشت اور محنت رنگ لائی اورپودے بڑے ہونا شروع ہوئے اورکچھ پرپھول آگئے۔اوروہ اس پرخوش بھی تھے۔
دُوسری ٹیم اورفرائض
دوسری ٹیم کے کمروں میں گملے پودے رکھ دیے گئے اورساتھ ہی ان کوکہاگیاکہ آپ چاہیں توپودوں کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھالیں آپ چاہیں تودیکھ بھال کرسکتے ہیں اوراگرنہ چاہیں توکوئی بات نہیں ۔خیراس تحقیق پرپوراایک سال صرف کیاگیا!اوراس دوران دونوں گروپ کوزیرنگرانی اورمشاہدہ میں رکھاگیا ۔ اوریوں ان کی ہرسرگرمیوں کونوٹ کیاجاتارہا اورنتائج کومرتب کیاجاتا رہا ۔ان دونوں گروپ کی تجربے سے پہلے اوربعدمیں طبی جانچ کی کی گئی ۔ان کے وزن بلڈپریشراوردیگرنفسیاتی طریقوں سے جانچ کی گئ۔
نتائج اورنکات
جب پروفیسراوران کی ٹیم نے نتائج مرتب کئے توحیران کن نتائج سامنے آئے۔جب ان نتائج کاتقابلی جائزہ لیا گیا توبہت مثبت نتائج سامنے آئے۔
پہلے گروپ کے افراد چڑچڑے، بدمزاج اورجھگڑالو تھے۔ اوران کاآپس میں اورعملے کے ساتھ بھی اکثرجھگڑاوفسادہوتارہتاتھا۔
یہ فطری بات تھی کہ وہ اپنی بیماری اورطبعی عمرکی بناپرچڑچڑے پن کاشکارتھے۔ وہ ہیمشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پرلڑتے تھے۔ اوربسترپرہی پڑے آرام کرتے رہتے تھے۔بس کھاناپیناآرام کرناہی مقصدرہ گیاتھا ۔ ان کی کوئی سرگرمی نہ تھی ۔لیکن تجربے کےبعد اُن کے رویوں میں نُمایاں تبدیلی آئی۔ یہ گروپ پہلے سے ذیادہ فعال ہوگیااوران کی جسمانی صحت بھی بہترہوگئ۔اوران کوبھوک لگناشروع ہوگئی جوکہ چلنے پھرنے اورچہل قدمی کی وجہ سے ایساممکن ہوسکا ۔ ان لوگوں کے دردوں میں کمی واقع ہوناشروع ہوگئ اوران کا ادویات پرانحصارکم ہوااوروہ طبی عوارض میں کم مُبتلاہوئے۔
ان کاآپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رویہ خوشگوارہوگیااوروہ پہلے سے ذیادہ بااخلاق ہوگئے اوریہی رویہ سٹاف کے ساتھ بہترہو گیا۔ کیونکہ ان کومصروفیت کابہانہ مل گیا تھا۔ اس سرگرمی کے بعد اولڈ پیپلز ہاوس کی فضا پربھی خوشگواراثرات مرتب ہوئے۔ ان کاسب کے ساتھ رویہ اورمزاج خوشگوارہوگیا۔اورجسمانی طورپرفٹ رہنے لگے۔
اب ذرا دوسرے گروپ کے نتائج ملاحظہ کریں۔اس گروپ کے افرادمیں کوئی خاص تبدیلی رُونمانہ ہوئ اورنہ انھوں نے اپنی طرزذندگی کوبدلابلکہ پہلے کی طرح بسترپرپڑے رہتے اوروہی روزمرہ کا جگھڑافساداورچخ چخ۔دل میں آیاتودیکھ بھال کرلی یعنی سرگرمی میں کوئی باقاعدگی نہ تھی،
تحقیق کےمذیدشواہدسے پتہ چلاکہ پہلےگروپ کے افراکا بلڈپریشراورذہنی حالت اورفٹنس بھی طبی نکتہ نظرسے بہتررہی اوروہ چاق وچوبندبھی تھے۔ یعنی حرکت میں برکت والی بات واقعی ثابت ہوئی ۔ایک حیران کن نتیجہ یہ بھی تھاکہ دوسرے گروپ کے تقریبا۳۰فیصدافرادجلدہی موت کاشکارہوگئےتھے۔جبکہ پہلے گروپ میں مرنے کی شرح پہلے سے گرکرکم ہوگئی۔
اس تحقیق سے اوربھی کئی نتائج سامنے آئے۔ یہ عجیب وغریب حیران کن تحقیقاتی مطالعہ تھا۔اصل میں پہلے گروپ کے مردوزن کوذندگی کامقصد مل گیا۔جبکہ دوسرے فارغ رہتےتھے۔ان کی نفسیاتی اورطبی حالت ویسے کی ویسی حالت رہی۔پروفیسرکاتجزیہ اصل میں یہ تھاکہ ایک ذندگی جب کسی دوسری ذندگی کابوجھ اٹھالیتی
ہے توجسمانی طاقت اورہمت میں اضافہ ہوجاتاہے اورذندگی خوشگوارہوجاتی ہے۔
سوچنے کا مقام اورنکتہ
اب ذرامقصدکے بغیرافرادخودکواس ترازو میں تول کردیکھیں۔توفرق معلوم ہوجائے گا۔ وہ ذرااپنی ذات،خودکواوربالخصوص نوجوان خودکو اس سانچے میں فٹ کرکے دیکھیں اور نتائج کی کسوٹی پرخودکوپرکھیں۔تو انھیں اپنی ذندگی بھرکی ناکامیوں،کوتاہیوں کمیوں، خرابیوں کے ساتھ ڈیپریشن اورانزائیٹی کابھرپورجواب مل جائےگا۔
جب ہماری ذندگیوں میں کوئی مقصد آجائے توقوت مدافعت میں قدرتی طورپراضافہ ہوجاتاہے۔ہمارےمزاج اوررویے بھی خوشگوارہوجاتے ہیں ۔ذندگی، لوگوں سے شکایت بھی کم ہوجاتی ہے۔خودکشی ،چوری ڈاکے لڑائی جھگڑے جیسے واقعات بھی کم ہوجاتےہیں۔ اگربے مقصدیت ہوتواپنی ذات کوزمین کابوجھ سمجھ لیاجاتاہے۔مقصدکے بغیردل دوماغ میں ایک خلیج سی حائل ہوجاتی ہے۔جوانسانوں کواندرسے کھوکھلاکرتی ہے اورانسان مختلف بیماروں کاشکاربھی ہوسکتاہے۔ حتی کہ بُری صحبت میں پڑکر گُمراہی کاشکارہوکربھیانک جرائم کاارتکاب کربیٹھتاہے۔
|
لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ |
No comments:
Post a Comment