۲۰۲۲نویں جماعت کے نتائج اور۹ لاکھ بچے ناکام
|
بسلسلہ :تعلیم وتریبت |
ملک وقوم کے لئے خطرے کی گھنٹی اورلمحہ فکریہ
تحریر:مجاہدعلی
mujahidali125@yahoo.com،0333 457 6072
ستمبر۲۰۲۲ میں جاری ہوئے حالیہ نتائج کے مطابق صوبہ پنجاب میں ۹ لاکھ طلباء وطالبات نویں جماعت کے امتحانات میں ناکامی سے دوچارہوئے ہیں۔صرف ۴۳ فیصدطالب علم کامیابی حاصل کرپائے! 57 فیصدناکامی سے دوچارہوئے!یہ نتائج محکمہ تعلیم اورمتعلقہ اداروں کی تعلیمی کارکردگی پر سیاہ دھبہ اور سوالیہ نشان ہے۔ ایسامحسوس ہوتاہے کہ جیسے تعلیمی نظام ہی تباہ ہوگیا ہو۔اتنی کثیرتعدادمیں بچوں کافیل ہوناان کے مستقبل کے کھیلنےکے مترادف ہے۔ان نتائج کے جہاں تک سکول انتظامیہ اوراساتذہ ذمہ دارہیں وہیں پروالدین یاسرپرست بھی کسی حدتک ذمہ دارہیں ! بہرحال یہ نتائج لمحہ فکریہ ہیں!اگرنتائج اس طرح کے ہوں گے تو مستقبل میں ملک وقوم کی باگ دوڑکون سنبھالے گا؟ کیونکہ بچے تومُلک کے سُنہری مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں ۔
کچھ وجوہات:
گریس مارکس دیناجس کی وجہ سے طلباءمحنت کرناہی چھوڑگئے
ناقص تعلیمی حکمت عملیاں
طلباوطالبات کی سکول سے طویل غیرحاضری
طلباء میں موبائل فون کے استعمال میں بڑھتارحجان
گریس مارکس پالیسی
اساتذہ کی غیرنصابی فرائض حالانکہ اصل کام طلباکوتعلیم دینا
طلباءپرعدم توجہ
ماہرین کی تجاویز
تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے نئی سودمندحکمت عملی کومتعارف کروایاجائے
طلباو،والدین اوراساتذہ کوعملی تربیت اوربہترمعلومات فراہم کرناضروری تاکہ تعلیمی نظام بہترہوسکے
بہرحال ارباب اختیارکواس مسلے کی طرف سنجیدگی سے سوچناچاہئے نیزہماری جامعات کے تحقیق سے متعلقہ اداروں کوبھی
|
صاحب تحریر:بنیادی طوپرتعلیم وتربیت کے مضامین اورکیرئیرکونسلنگ وگائیڈنس پروقتافوقتامطالعہ کے بعدتحریرکرتے رہتےہیں تاکہ ہمارے اساتذہ سکول اورارباب اختیاراس طرف کچھ توجہ کرسکیں۔یہ آرٹیکل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے سمبر۲۰۲۲ |
No comments:
Post a Comment