ایک عملی سائنسدان کیسے بنا جائے؟ تیسرا طریقہ یہ بھی ہے!
مترجم : مجاہدعلی
قلم کار: جیوئیر گارشیا مارٹی نیز
خالق کائنات نے ہرانسان کو مختلف قسم کی صلاحیتیوں سے نوازرکھا ہے ۔انھیں میں سے ایک صلاحیت تعلیم سے متعلق بھی ہے۔ پوری دنیامیں جامعات اعلی اورمعیاری تعلیم کی فراہمی کا مرکز وہ محورہوتی ہیں۔جامعات کا بنیادی مقصد ہی تعلیم وتحقیق کا فروغ ہے۔ اسی طرح طلباء پروفیسر سائنسدان کسی بھی جامعات کے بنیادی اور فریقین ہوتے ہیں ۔ ان میں تعلیم ،تحقیق اور تخلیقی صلاحیتں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں کسی میں کم توکچھ میں ذیادہ ۔ کچھ سائینسدانوں کی صلاحیتوں کو بیدارکرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ حیرت انگیزطورپر کچھ سائنسدانوں میں بہت حد تک چیزوں کو ایجادکرنے کی صلاحیت ہوتی ہے،لیکن اپنی اس ایجاد کو کمرشلائزکرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔وہ مختلف آئیڈیازتو سوچتے ہیں لیکن ان کے اندر پراڈکٹ کوکمرشلائز کرنے کی صلاحیت مفقودہوتی ہے۔ لیکن اگر کچھ سائنسدانوں کی ذات میں آئیڈیاز،تخلیق نو،پراڈکٹ کمرشلائزیشن جیسی صلاحیتیں مرتکزہوجائیں تو سونے پرسہاگہ والی مثال ثابت ہوجاتی ہے ۔اگرکسی عملی سائنسدان میں یہ صلاحیتیں موجزن ہوجائیں تو وہ تعلیم کاروباراورتخلیق کا عمل ایک ساتھ جاری رکھ سکتاہے۔
زندگی میں کبھی کبھار ایسا بھی ہوتاہے جب ایک عملی سائنسدان اپنی ذندگی اور کیرئیر کے دوراہے پرآن کھڑاہوتاہے وہ سوچتاہے کہ کیا کرے اورنہ کیا کرے۔وہ خیال کرتاہے کہ کیا مجھے یہ تعلیمی کیرئیر جاری رکھنا چاہئے یاپھر مجھے کسی انڈسٹری میں جاب حاصل کرلینا چاہئے۔ تیسری صورت پھراپنی سائنسی اور تخلیق کی صلاحیت کو بروئے کارلاتے ہوئے اسکی بدولت معاشرے میں مثبت اثرات چھوڑسکوں جس سے انسانیت اورمعاشرے کا بھلا ہو۔یہ ایک بہت عمومی سوال ہے جو ہم جیسے سائنسدانوں کو زندگی کے کسی بھی لمحے اس سوال کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
مذیدبرآں،سائنسدانوں کواپنی تعلیمی آزادی کی قربانی دیتے ہوئے مارکیٹ میں اپنی نئی سے نئی دریافت کو بھی سامنے لانا چاہئے ۔۔ان دنوں عصر حاضرکے تناظر میں کیرئیرکا ایک نیا راستہ ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی دورمیں ان کے پاس ایک تیسری راہ کی گنجائش اورموقع موجودہے اوریہ صرف ان کےلئے ہے جن کے اندرتخلیقی قوت،ہمت وجرات اوراپنے آپ کومنوانے اوراہل ثابت کرنے کی صلاحیت موجودہے اوریہی عملی سائنسدان ہونے کے لئے بنیادی خصوصیات ہیں۔عصرحاضرمیں کئی کامیاب عملی سائنسدانوں کی جیتی جاگتی مثالیں معاشرے میں موجودہیں جو کہ بیک وقت اپنے تحقیقات کو شائع بھی کرواتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپنی ایجادات کے حوالے سے تجارتی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں
عام انسان کی طرح ایک عملی سائنسدان کے بھی اپنی ذندگی کے کچھ مسائل ہوتے ہیں اوروہ نجی ،پیشہ ورانہ مسائل اوردیگرگوناگوں مسائل اورکشمکش سے دوچاررہتے ہیں۔
دودنیاوں میں ایک قدم
عملی سائنسدان کے کچھ مسائل :ایک عملی سائنسدان کے سامنے کئی مسائل ہوتے ہیں ۔ان کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتاہے اوران سے نبردآزما بھی ہوناپڑتاہے۔مثلا پہلا مسلہ تو یہ ہے ان کے اندر کچھ ضروری قسم کی صلاحیتیں ہونی چاہئے یا پیداکرنی چاہئیں۔ان کے اندرروایتی سائنسدانوں کی طرح کچھ خصوصیات کا ہونا بہت ضروری ہے جیسے کہ کسی کام کوشروع کرنا۔ خود آغازی اورتکنیکی صلاحیتیں ،عزم وہمت وغیرہ۔اس طرح ان کے اندرروایتی کاروباری شخص کی طرح کی کچھ خصوصیات کا پایا جانا اشدضروری ہے جیسا کہ کاروباری مواقع کی نشاندہی وتلاش اورگاہک کے لئے کوئی ویلیوتخلیق کرنا اورخطرات کو مول لینے کا حوصلہ
ایک عملی سائنسدان کے مقاصد اعلٰی وارفع ہونے چاہئے !ان کو اپنے وعدوں کوپوراکرنا چاہئے۔ اوران کے اندرتحقیق کے نتائج کومعاشرے کی نچلی سطح پرلے جانے کی سوچ ہوتاکہ عوام الناس کابھلا ہو تاکہ معاشرےکے نظراندازکئے جانے والے افرادکا بھی بھلاہو۔کیونکہ اصل چیز بھی یہی ہے کہ تحقیق کے نتائج سے معاشرے کے عام افرادکیسے مستفید ہوسکتے ہیں ۔
اگرکسی عملی سائنسدان میں یہ تمام صلاحتیں موجودبھی ہوں توپھربھی یونیورسٹی کا ماحول انھیں ان کوانکے مقاصدحاصل کرنے میں حائل ہوتاہے ۔ کم ازکم یونیورسٹی کی روایتی اورغیرمعیاری سائنسی تعلیم کسی سائنسدان میں عملی سائنسدان بننے کا جذبہ اورصلاحیت پیدا نہیں کرتی جس سے کئی قابل نوجوان سائنسدان اس صلاحیت (عملی سائنسدان بننے کی) سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ایک پرنسپل انویسٹی گیٹرکا اکثرخیال ہوتاہے کہ ایک پی ایچ ڈی کے طالب علم اورپوسٹ ڈوک کوہمیشہ اپنی تحقیق پر توجہ مرکوزرکھنی چاہئے ! یہ چیزبھی ضروری ہے کہ روزمرہ کے ذاتی اورپیشہ ورارانہ مسائل اس پر غالب نہ آسکیں نہیہ مسائل ان کو زیر کرسکیں اورنہ ہی ان کے اندربھیانک ڈرپیداہونا چاہئے۔
بعض اوقات حالات ان کے حق میں اتنے سازگارہوتے ہیں کہ وہ ایک بین الاقوامی سطح کے محقق بن سکتے ہیں اوراپنی ٹیکنالوجی کوبھی تجارتی بنیادوں پرفروخت کرسکتے ہیں لیکن ڈر اورخوف کا عنصرایک ایسی چیزہے کہ وہ ان دوچیلنجزسے کماحقہ طورپرعہدہ برآنہیں ہوپاتے ۔وہ لاشعوری طورپر اپنے اندر خوف کاسامنے کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی سطح کے محقق نہیں بن سکتے اورنہ ہی اپنی ٹیکنالوجی کو کمرشلائزکرسکتے ہیں۔انھیں اپنے اس خوف سے چھٹکاراپانے کی ضرورت ہے۔
عملی سائنسدانوں کے لئے عصرحاضرمیں کچھ حوصلہ افزاء امثال
اگر درج بالا بیان کی گئ رکاوٹوں کو دیکھا جائے تو یہ حقیقی رکاوٹیں بھی ہیں ۔لیکن آئیے اب ہم اپنے اردگرد کچھ حوصلہ افزاء اعدادوشماراور امثال پر بھی نظردوڑاتے ہیں ۔عصرحاضرمیں ہم اپنے اردگردنظریں دوڑائیں توپتہ چلے گا کہ سائنسدانوں کی وجہ سے اب پیٹنٹ،لائسنس اور سپن آف کمپنیوں کی تعدادروزبروز بڑھ رہی ہے۔
۲۰۰۹ میں میساچوسیٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی )،سلون سکول آف مینجمنٹ،ایلومنائ کے تحقیقاتی مطالعے کے مطابق ایم آئی ٹی نے پوری دنیا میں ۲۵۸۰۰ کمپنیوں کی تشکیل کی گئی جن کی سالانہ سیل ۲ ٹریلین ڈالرتھی ۔
ان دنوں اب بہت ساری یونیورسٹیاں ابھرتے ہوئے عملی سائنسداںوں کی ایڈہاک کورسز کے ذریعے تعاون کررہی ہیں اوران کو ٹیکنالوجی ٹرانسفرآفسز،بزنس آفس اورانوویشن پارک تک رسائی دی جارہی ہے
ایم آئی ٹی ٹکینالوجی ریویوکے مطابق ٹی آر۳۵ پروگرام کے تحت ان سائنسدانوں کی عملی معاونت کرتی ہے جن کے پاس اپنے عملی تعلیم کے آغازہی میں کوئی شانداربزنس آٗئیڈیا ہوتاہے۔
اس پروگرام کے تحت شیواک پٹیل جن کا تعلق یونیورسٹی آف واشنگٹن سے تھا ان کو ایوارڈسے نوازگیا اسی طرح انھوں نے ایک ایوارڈ برائے سادہ سینسر کی تخلیق کو جیتا جوعام گھروں میں بجلی کی کھپت کو مانیٹرکرتاہے
اس طرح ایک دوسرے شخص لوئیس وون آہن جن کا تعلق کارنیگی میلن یونیورسٹی پٹسبرگ سے ہے کوبھی ایوارڈ سے نوازاگیا جوکہ ڈیجیٹل بک کے حوالے سے کپاچہ کا استعمال کیا جاتاہے
سائنسدان اپنے ابتدائی کیرئیرکے آغازمیں اب کئی رول ماڈل کو تلاش کرسکتے ہیں۔ اپنے اردگرد کئی رول ماڈل تلاش کرسکتے ہیں جواب کامیاب عملی سائنسدان بن چکے ہیں جیسا کہ بائیوکیمسٹ ہربرٹ بوائر جنھوں نے گرین ٹیک کے مشترکہ بانی ہیں اوراسی طرح کیمسٹ جارج وائٹ سائیڈزجنھوں نے مشترکہ طوپر جینزائم کے نام سے مشترکہ طوپرکمپنی کا آغازکیا اوربہت ساری کمپنیوں کاآغازکیا جن کی بنیاد ایم آئی ٹی اورہارورڈیونیورسٹی تھی۔
دیکھاجائے تو اصل میں آئیڈیا ہی ہوتاہے جوآگے چل کرکسی کامیاب پراڈکٹ اورکاروبارکاپیش خیمہ بنتاہے
میری کمپنی کا تعارف
میں نے خود بھی ٹی آر۳۵ ایوارڈ جیتا اورپچھلے تین سال جیوری کا ممبررہاہوں ۔میرے یقین اورتجربے کے مطابق عملی سائنسدانوں میں درج ذیل تین بنیادی خصوصیات کا ہونا تو بہت ضروری ہے
۱۔مظبوط ٹھوس تحقیق
۲۔ایک اچھے آئیڈیاکوکارورباری مواقع
۳۔ تخلیق اورایجادکے لئے سازگارماحول
COURTESY OF JAVIER GARCIA-MARTINEZ
میں ۲۰۰۱ سے لیکر۲۰۰۴ تک اسی طرح کے ماحول سے گزراحالات سے گزراہوں۔فُل برائٹ فیلوشپ کے تحت ایم آئ ٹی میں پوسٹ ڈوک کیا۔وہاں میں نے نینوٹیکنالوجی کے حوالے حکمت عملیاں بنائیں تاکہ زیولائٹ کرسٹلائن میٹریل سے زیولائٹ جیسے میٹریل وسیع پیمانے پرتیارکیا جائے ۔میں نے یہ جانا کہ کیٹالسٹ انڈسیٹری میں زیولائٹس بنانا بہت منافع بخش ہوسکتاہے سو جلدہی میں نے اپنے نتائج کوکمرشلائزکرنا شروع کردیا۔۲۰۰۴ میں جب میراپوسٹ ڈوک تقریبا ختم ہونے جارہا تھا تو میں ایم آئی ٹی کے پروگرام ایم آئی ٹی ۵۰ کے ڈالر کاروباری مقابلہ میں داخل ہوا یہ دنیا میں اپنی نوعیت کاسب سے بڑا کاروباری پلان کا مقابلہ تھا میں نے یہ یہ توجیتانہیں لیکن جوکورس میں نے کئے انھوں نے مجھے اس قابل کیا کہ حقوق دانش سے روشناس کروایا،کاروباری منصوبہ جات کیسے بنتے ہیں اورمیری کمیونی سکلزاورفنڈریزنگ صلاحیتوں کو جلا بخشی اورمہمیزکاکام کیا۔ ان دنوں اس طرح کے کورس اب آن لائن فری ہیں
۲۰۰۵ میں کیمبرج میں رائیوٹیکنالوجی نامی ادارہ کی تشکیل کی گئی جوکہ بالکل خصوصیات میں ایم آئی ٹی کے قریب تھا۔جب ۱۴ ملئن کا کیپٹل حاصل کرلیا تو ہماری تحقیق وترقی کی سرگرمیاں پرنسٹن نیوجرسی میں شروع ہوگئیں۔جب ان کمپنیوں سے ۶۷ ملئین منافع حاصل کیا تو رائیوٹیکنالوجی نے نینو زیولائٹ کی ڈیزل اورگیسولائن کی پروڈکشن کے لئے کمرشلائزکرنا شروع کیا
A win-win situation
میں نے یہ کمپنی اس وقت شروع کی جب میں ایک مستقل فیکلٹی پوزیشن پرتھا میں نے یہ اس وقت کیا جب میں دوسرے براعظم میں تھا۔۔۲۰۰۴ میں پوسٹ ڈوک ختم ہونے پر اپنے آبائی وطن سپین پہنچا اور یونیورسٹی آف ایلی کانٹے میں رے من وائے کاجل فیلوشپ حاصل کی ۔میں نے یوینورسٹی کے ساتھ ٹرانسفرآف ٹیکنالوجی معاہدہ کیا اور دوبارہ ۲۰۰۹ میں جاب حاصل کی۔
کاروبارکو بالکل شروع سے چلانا جبکہ اسکے ساتھ ساتھ یونیوسٹی کی جاب کرنا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن میں نے بڑی کامیابی سے یہ دونوں افعال سرانجام دئے اسکے لئے میں دونوں جگہوں کی ٹیم کا بے حدشکرگزارہوں
نئے عملی سائنسدان اکثرایک غلطی بہت ذیادہ اورتواترسے کرتے ہیں وہ یہ کہ وہ ایک ہی وقت میں کئی کام سرانجام دینا چاہ رہے ہوتے ہیں۔
کمپنی بننے کے کچھ ماہ بعدہی ہمارے پہلے سی ای او نے اسکو جوائن کیا ۔انھوں نے کہا کہ ہمیں چیف سائنٹسٹ اوربورڈآف ڈائریکٹرزکی ذمہ داریوں پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ایک بڑی کمپنی جس کے ملازمین اورساتھ کام کرنے والے جو پورے امریکہ میں پھیلے ہوئے تھے ان پر توجہ رکھنا، دیکھ بھال مینج کرنا ایک بڑاچیلنج تھا لیکن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی نے واقعی ہمیں ان سے رابطے میں رہنے اورمعلوماتی کی فراہمی اورموصول ہونے کے حوالے سے بہت مدددی ۔ ہم اپنا واضح وژن شئیرکریں گے ۔ہماری ایک ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی ہے جسکا میں ایک ممبرہوں۔ یہ کمیٹی ترجیحات سامنے رکھتے ہوئے کوشش کرتی ہے اورمختلف جگہوں پرہونے والی سرگرمیوں کوارڈی نیٹ کرتی ہے
جامعات میں رہتے ہوئے کام کرنا میرا بطور عملی سائنسدان ہونا میری ذات کے لئے اورمیرے لئے بہت مفید ثابت ہواہے۔اس نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ اپنی فیلڈ میں کیسے نتائج سے بھرپورفائدہ اٹھانا ہےْ۔میں ذیادہ گہرائی اوروسیع تناظر اورتنقیدی سوچ سوچتاہوں کہ کیسے اپنی ٹیکنالوجی کو ٹرانسفرکیا جائے اورکس طرح ایک نئی سائنس پراڈکٹ ڈویلپ کی جائے جوکہ ایک نئے کاروباری مواقع کی طرف لے جاسکے ۔اس کے ساتھ ساتھ نئے ٹیلنٹ کی نشاندہی کرسکوں اورکاروبار کے لئے نئی بھرتی بھی کرسکوں
عملی سائنسدانوں کسی بھی معاشرے پر اپنے گہرے اثرات اورچھاپ چھوڑتے ہیں۔معاشرے کی بہت اہم نوعیت کے مسائل کو حل کرنے کے حوالے سائنس اورٹیکنالوجی کا کردارہمیشہ اہم رہے گا چاہے ماحولیاتی تبدیلیاں ہوں، فوڈ سیکیورٹی یا پھرصحت عامہ ۔
ہمیں ایسے لوگوں کی بہت ضرورت ہے جن میں جرات رندانہ ہواوران کے پاس تکنیکی علم بھی ہو تاکہ وہ اپنی دریافت کو عام روزمرہ زندگی کے حقائق کی روشنی میں ان کا نفاذکرسکیں اوراستعمال میں لاسکیں جوکی اس معاشرے کے ماحول اورمعاشرے سے مطابقت رکھ سکیں۔
مختصرتعارف جیوئیر گارسیا مارٹی نیز بنیادی طورپرکیمسٹری کے پروفیسرہیں اور سپین میں مالیکیولر نینوٹیکنالوجی لیب کے ڈائریکٹرہیں اورپرنسٹن یونیورسٹی میں ای لیب پروگرام کے وزٹنگ پروفیسرہیں۔اس کے علاوہ وہ رائیوٹیکنالجی کے بانیوں میں بھی ان کا شمارہوتاہے ۔ وہ اب یہاں بطورچیف سائنسدان کی خدمات سرانجام دہے رہیں۔اوربورڈ آف ڈائریکٹرکے ممبربھی ہیں۔
جیوئیر گارسیا مارٹی نیز ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل ایجنڈہ کونسل کے ممبربھی ہیں جو دنیامیں تیزی سے ابھرتی ہونئی ٹیکلنالوجی کے حوالے سے کام کرتی ہے اوراسی طرح گلوبل ینگ اکیڈیمی کے لئے بھی کام کرتی ہے۔
http://www.sciencemag.org/careers/2014/03/third-wa
نوٹ: درج بالا ایک انگلش آرٹیکل کا اردو ترجمہ ہے جس کو افادہ عامہ کے لئے اردو میں تبدیل کیا گیا ہے ترجمہ میں کہیں جھول ہوسکتی ہے کیونکہ بعض اوقات انگلش الفاظ کواردو میں تبدیل کرتے ہوئے الفاظ نہیں ملتے اورنہ ہی اسکا مناسب طورپر ترجمہ کیا جاسکتاہے ۔اس کے لئے آپ کو اصل متن یعنی انگلش آرٹیکل کی طرف متوجہ ہونا ہوگا تاکہ صحیح طوراسکے پس منظراورپیش منظرسے آگاہ ہوسکیں ۔اصل متن کے لئے ذیل کے لنک کو کاپی کرکے گوگل سرچ میں ڈالیں اورآرٹیکل کوپڑھیں
http://www.sciencemag.org/careers/2014/03/third-way-becoming-academic-entrepreneury-becoming-academic-entrepreneur
No comments:
Post a Comment