|
خصوصی مقالہ:خدمت خلق |
صاحب ثروت ،اداروں اورعام انسان کے لئے منفرد،خصوصی اورفکرانگیزتحریر
تحقیق وتحریر:مجاہدعلی
mujahidali125@yahoo.com,0333 457 6072
|
خلاصہ: مذکورہ مقالہ خدمت خلق،اغراض ومقاصدسمعیت منسلک اُمورکااحاطہ کرتاہے ۔ مقالہ کو اسلام ،قرآن اوراحایث کے تناظرمیں بیان کیاگیاہے ۔علاوہ ازیں یہ انبیائے اکرام کی سیرت اورصحابہ کرام بزرگان دین کی سیرت کااحاطہ بھی کرتاہے۔مختصرحکایات ،اقوال ذریں اسکاحصہ ہیں ۔خدمت خلق کے حوالے سے سائنسی نفسیاتی انکشافات ،صحت پرمثبت اثرات خصوص طورپراس میں شامل کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اہل ثروت حضرات کی ذمہ دٓاریاں اورسفارشات مرتب کی گئی ہیں |
ایک بہت بڑے بزرگ اورعالم جوعاشق قرآن تھے ،وہ تمام عُمرقرآن وحدیث کادرس دیتےرہے۔ان کاکہناتھاکہ اگرکوئ مجھ سے یہ پوچھے کہ تمام قرآن کاخلاصہ(نچوڑ) کیاہے!تومیں بیان کروںگاکہ صرف ۳ چیزیں!
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی
حضورﷺکی سنت مبارکہ پرعمل
مخلوق خداکی خدمت
جبکہ اسی طرزپرعلامہ رازی عبادت کی تفسیرکرتے ہوئے تحریرکرتے ہیں کہ عبادت کی تلخیص ۲چیزوں پرمشتمل ہے،ایک اللہ کے حکم کی تعظیم اوردوسرااللہ کی مخلقوق پرشفقت!
لہذاقرآن کا یہ تیسرا حکم خدمت خلق جس کاتعلق حقوق العباد سے ہے،مقالہ کااس خصوصی موضوع ہے۔آئیں دیکھیں کہ خدمت خلق کیا چیزہے ۔
خدمت خلق کیاہے
خدمت خلق کابہت سادہ سامفہوم ہےیعنی اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنا۔اگراسلام کے تناظرمیں دیکھیں تواللہ کی رضاکے لئے دکھی انسانیت کی جائزکاموں میں مددوتعاون کرنا۔یہ وہ جذبہ ہے جس کی وجہ سے اہل ثروت حضرات دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ وہ جذبہ ہےجس کی بدولت کوئی بھی بندہ اللہ کی رضااوربارگاہ الہی میں تقرب کادرجہ پانے کااہل ثابت ہوسکتاہے اورمخلوق میں بھی پسندیدہ ٹھہرسکتاہے۔لہذانماز،روزہ ،حج ،زکوۃ کی طرح یہ بھی ایک اہم عبادت ہے۔لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ خدمت خلق کُل دین نہیں ہے۔
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
فلسفہ خدمت خلق(سماجی بہبود) اور اغراض ومقاصد
خدمت خلق وسماجی بہبودکا اولین مقصدیہی ہےکہ معاشرے کے ان پسے ہوئے افرادوطبقہ کہ اس طرح سے مددکرناکہ وہ ایک صحت مندذندگی گُزارسکیں اور ان کےذاتی وسماجی تعلقات اس طرح سے ہوجائیں جوان کی صلاحیتوں کوجلادے سکیں تاکہ ان کے خاندان کی ترقی ہوسکے۔
مذہبِ اِسلام میں خدمتِ خلق کی اہمیت و افادیت:آیات واحادیث کی روشنی میں
اسلام میں حقوق العباد کاخدمت خلق سے گہراتعلق ہے۔ اگلے صفحات میں قرآن اورسنت کی تعلیمات کی روشنی میں میں خدمت خلق کاجائزہ لیاجائے گا۔ جس سے اندازہ ہوگاکہ یہ کتنااہم شعبہ ہے اوراوراسلام اس ضمن میں کتنی سنجیدہ رھنمائی فراہم کرتاہے تاکہ صاحب ثروت اپنی ذمہ داری کوجان سکیں۔
قرآن پاک اورحضورﷺکی سیرت مبارکہ وتعلیمات کے مطابق سب سے بہترین انسان وہ ہے جودوسروں کونفع پہنچائے۔اسی لئے بہترین انسان کا ایک نمایاں وصف خدمت خلق بھی ہے۔اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ خیروبھلائی اور اچھے کام کریں جوکہ خدمت خلق کا لازمی جُزو ہیں ۔اسی لئے ایک مسلمان کودوسرے مسلمان کابھائی قراردیاگیا گیا ہے۔۔اس لئے کہاجاسکتاہےکہ خدمت خلق اسلامی تعلیمات کا ایک کُلید ی اوردرخشندہ باب ہے۔
قرآن پاک اورخدمت خلق کافریضہ
وَتَعَاوَنُوا عَلَی البِرِّ وَالتَّقویٰ سورۃ المائدہ:۲
ترجمہ :نیکی اورتعاون کے کاموں میں ایک دوسرے کی مددکیاکرو
اللہ اس بات کوپسندکرتاہے کہ کوئی اس کے کُنبے کے ساتھ نیکی کرے اوراللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ محبوب ہوتے ہیں ۔
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
لَقَد كَانَ لَكُم فِى رَسُولِ اللّٰهِ اُسوَةٌ حَسَنَةٌ الاحزاب : ٢١
ترجمہ: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ الحجرات:۱۰
ترجمہ:’’مسلمان آپس میں ایک دُوسرے کے بھائی ہیں
قرآن کی نظرمیں ایک مسلمان، دوسرے کابھائی ہے توپھریہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بھائی اپنے بھائی کی مددنہ کرے
سورۃ بنی اسرائیل کے تیسرے اورچوتھے رکوع میں حقوق العباداورخدمت خلق سے متعلق۱۶ اموربیان کئے ہیں،جن میں سے کچھ یہ ہیں کہ رشتہ داروں،مسکینوں اورمسافروں کوان کاحْق دیاجائے۔لہذاجن متمول افرادکواللہ نے مال دولت سےنوازنے کے علاوہ ان کوسرسے لے کرپاوں تک صحت وسلامتی کی دولت بھی عطاکی ہے۔تواگران تمام نعمتوں کے باوجودان میں خدمت خلق کاجذبہ اوررحم نہ ابھرے تواس کامطلب یہ ہے کہ ان اہل ثروت حضرات کادل ہی ان نعمتوں سے خالی ہے اوریہ انتہادرجے کی بےحسی بھی ہے۔اللہ اس طرح کی بے حسی پرسخت گرفت کرتاہے۔یادرہے کہ رفاعی کاموں سے اللہ کی رضائے الہی اورحقوق العباد کی ادائگی ہوتی ہے۔یہ معاشرے کے وہ طبقات ہیں جن کی دلجوئی اوردادرسی کرنابہت ضروری ہے تاکہ ایک ایسامعاشرہ تشیکل ہوجہاں کوئی پریشان نظرنہ آئے ۔اوران کی اس طرح سے مددکی جائے کہ عزت نفس بھی مجروح نہ ہو۔
خدمت خلق کے لئے پید ا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
خدمت خلق میں صاحب حیثیت اوراہل ثروت افرادکااہم کردار
کہتے ہیں کہ اصل انسان وہی ہے جودوسروں کی خاطرجیتاہے۔کیونکہ اپنے لئے توہرکوئی جیتاہے۔خدمت خلق تویہ ہے کہ اپنے مال دولت ،قیمتی وقت اورآرام کومصرف میں لاتے ہوئے معاشرے کے لاچار،تنگدست،نادار،محتاج لوگوں کے لئےفلاح وبہبوداورراحت رسانی جیسے مفیدکام کئے جائیں جسکاحکم اورتعلیم ہمارادین اسلام دیتاہے۔
ہردورمیں کم وبیش ہرمعاشرے میں ایسے مخیرحضرات کاوجودضرورپایاجاتاہے جورفاہ عامہ کاکام سرانجام دیتےہیں۔ان میں سے کچھ خدمت خلق کے حوالہ سےحیران کُن اورغیرمعمولی کام سرانجام دیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے بنی نوع انسانوں کوبہت ذیادہ فائدہ ہوتاہے۔لیکن دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ معاشرے میں ایسے افرادبہت کم پائے جاتے ہیں۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ افرادمیں قوت اورصلاحیت کاایک قلیل سرمایہ ہوتاہے۔ لہذاوسیع پیمانے پرایک فردواحد خدمت خلق اوررفاہ عام کے
کام سرانجام نہیں دے پاتاہے۔لیکن اگرافرادکی اکثریت آپس میں مل کراگرمنظم کوشش کریں توکافی حدتک خدمت کے خلق کے شعبہ میں کام ہوسکتاہے۔
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
دوسروں کی خدمت کرنا اوردوسروں کے دکھ کوسوچنا سمجھناانتہائ اعلیٰ سوچ ہے۔اس طرح کی سوچ صرف اہل ظرف کاہی خاصہ ہوتی ہے۔ایسےافراد معاشرےکے وہ صاحب حیثیت افرادہوتے ہیں، جن کواللہ نے دولت کی شکل میں تمام نعمتوں اورفضل سےنوازرکھاہوتاہے۔ان میں سے کچھ ہی فطرت سلیم رکھنے والے غریب غرباءکامالی لحاظ سے خیال رکھتےہیں ۔ یہ افرادانتہائی مبارک بادکے مستحق ہیں جودن رات اپنی جان ومال سے دوسروں کی مددوکفالت کرتےہیں ۔جو لوگ دوسروں کے لئے درددل رکھتے ہیں، دراصل وہی انسان کہلانے کےمستحق ہیں۔ایسے افرادبادشاہ کادرجہ رکھتےہیں کیونکہ ان کادینے والاہاتھ ہوتاہے، جو بس بانٹتے ہیں اوربانٹنے کامزاوہی جانتےہیں جواس طریقہ سے دیناجانتے ہیں۔کیونکہ ایسے افرادکواللہ نے اپنا نائب بناکررزاق کی چندخصوصیات عطاکرکےاپنے بندوں کی خدمت کے لئے چُنا ہواہوتاہے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
اس کے علاوہ وہ مخیرحضرات بھی انتہائ مُبارک بادکے مستحق ہیں ،جو رنگ ونسل قوم،مذہب،مسلک، ،نسل،ملت سے ہٹ کرسوچتے ہیں اورغریبوں کی روپوں پیسوں وغیرہ سے مددکرتےہیں۔دراصل دوسروں کے کام آنا ہی اصل زندگی اوربہت بڑی نیکی ہے۔ایک انسان کودوسروں کے لئے ہمیشہ ہی نفع مندہوناچاہئے۔،ایساکرنااسلام کی روح اورایمان کے مطابق ہے ۔ایسے افرادکے لئے دُکھی انسانوں کے دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔کہاجاتاہے کہ دعائیں اور بددعائیں انسان کاہمیشہ تعاقب کرتی ہیں بلکہ اگلی نسلوں تک یہ منتقل ہوتی ہیں۔
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بےبندگی شرمندگی
خدمت خلق معاشرےکی اہم ضرورت
خدمت خلق کی اصل ذمہ دار توریاست ہوتی ہےلیکن ریاست کےپاس ہمیشہ محدودوسائل ہوتے ہیں ۔اس لئے اس کمی اورخلاکوپوراکرنے کے لئے ہمیشہ غیرسرکاری تنظیموں اوراہل ثروت افرادکوہی آگے آناپڑتاہے۔تاکہ معاشرے میں جوافرادامدادکے صحیح مستحق ہیں ان کوان کاحق مل سکے۔ معاشرے میں ایسےپسماندہ طبقات کی تعداداتنی ذیادہ ہے کہ رفاہ عامہ ادارے اس کے مقابلے میں بہت کم پڑجاتےہیں۔ مقام شُکرہے کہ کوئ بھی معاشرہ مُخیرحضرات سے بالکل خالی نہیں ہوتاہے،جن کی وجہ سے یہ خلا بھی پُرہوتارہتاہے ۔ہرشہرملک میں ایسے ادارے ضرورہوتے ہیں جومخلوق خداکی مختلف طریقوں سے خدمت کرتے ہیں۔
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
خدمت خلق کسی بھی معاشرے کی اہم ضرورت متصورہوتی ہے اس فعل سے پہلوتہی معاشرہ تباہی کے دہانے پرکھڑاہوسکتاہے۔ معاشرے کے تنگ دست تہی دست ،یتیم،مفلوک الحال، محتاج نادار،مسافر،یہ سب انسانی امداد کے ساتھ ساتھ غمخواری ،غمگساری اوربھلائی کے بھی مستحق ہوتے ہیں۔
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
معاشرے ایسے افرادکو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے،جنھوں نے مذہب ،رنگ و نسل سے ماورا ہو کر انسانیت کی خدمت کو اپنا شعاربنالیاہو۔ایک معاشرے میں میں خدمت خلق جیسے فریضے کوقطعی طورپرنظراندازنہیں کیاجاسکتاہے اس کی بُنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ اپنے حقوق یعنی حقوق اللہ تومعاف کرسکتاہے لیکن حقوق العبادکومعاف نہیں کرے گا۔لہذایہ بات اورنکتہ بہت اہم ہے
خدمت خلق کاکام رنگ ونسل،مذہب ومسلک سےمبراہوناچاہئے۔اگرانسانوں خدمت کا جذبہ موجودنہ ہوتوانسان حیوان کاکرداراداکرسکتاہے
ایک انسان ہمیشہ دوسرے انسان کامحتاج ہوتاہے۔شایداسی لئےانسان کوسماجی جانورکہاگیاہے، لہذاانسانوں سے کٹ کرذندگی گزاری نہیں جاسکتی ہے۔
دردرکھتے ہیں جو مخلوق کی خاطردل میں
ایسے بندوں سے خدابھی خفاہوتانہیں
بہترین اورمہذب معاشرے کی خُوبی ہے کہ وہ رحمدلی اوراورایک دوسرے کی خیرخواہی کے اصول کی بُنیادپرچلتاہے اوریہی اسلامی معاشرے کی خوبصورتی ہے۔یہی انسانیت کوبرقراررکھتی ہے۔خدمت خلق انسانیت کی بہترین مثال ہے۔معاشرے کے پسے ہوئے اورپسماندہ طبقات کی خبرگیری کرنابہت ضروری ہے۔ اوریہ کارخیراورباعث اجروثواب ہے۔
خدمت خلق احادیث مُبارکہ کی روشنی میں
حضورﷺکی تعلیمات کاایک بڑاحصہ حقوق العباداورخدمت پرہی مشتمل ہے۔آپ ﷺکی ذات مبارک خدمت خلق کابہترین نمونہ تھی ۔آپﷺ کی مبارک ذندگی صرف اسی ایک لفظ سے عبارت رہی ہے۔جب ہم سیرت مبارکہ کامختلف جہتوں سے مطالعہ کرتے ہیں تواحادیث میں جابجا ہمیں خدمت خلق کے بہت سارے واقعات پڑھنے کوملتے ہیں اوراس ضمن میں آپ کی بےشماراحادیث اسی موضوع احاطہ کرتی ہیں ۔طویل کلام سے بچنے کے لئےان میں سےچنداحادیث کو ذیل میں تبرکاپیش کیاجارہاہے۔
آپﷺکی سیرت کاوصف تھاکہ آپ ﷺ ہمیشہ کمزوروں ۔مسکینوں غریبوں کی دادرسی اورمدد فرماتے اوراسی طرح کمزوروں،بے کسوں اورمحتاجوں اورمفلوک الحال کی مددفرماتے تھے۔آپ نبوت سے پہلے بھی خدمت خلق میں مشہورتھے۔
آپﷺ کی حیات کاملہ پوری کی پوری لوگوں کی خدمت سے عبارت ہے۔آپ ﷺضرورت مندوں لوگوں کے چھوٹے چھوٹ کام خوداپنے دست مُبارک سے کیاکرتے تھے۔آپﷺ کادست کرم غیرمسلوں پربھی ہوتاتھا،وہ بھی اس کرم سے محروم نہ رہتے تھے۔حتی کہ جانورپرندے چرندپرندجمادات اورنباتات بھی!
خدمت خلق کااحاطہ کرتی کچھ احادیث
"خیر الناس من ینفع الناس"*
’’تم میں سےبہترین وہ ہے جس سے دوسرے انسان کو فائدہ پہنچے‘‘
کنزالعمال، ج:8، حدیث نمبر:42154
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا
خلائق سے ہے جس کو رشتہ ولا کا
حدیث
الْمُسْلِمُ أَخُوْ الْمُسلِمِ، لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ، وَلَا یَحْقِرُہٗ۔ اَلتَّقْوٰی ھَاہُنَا وَیُشِیْرُ إِلٰی صَدْرِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ یَّحْقِرَ أَخَاہُ الْمُسلِمَ، کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُہٗ، وَمَالُہٗ، وَعِرْضُہٗ۔ (صحیح مسلم،ج:۲،ص: ۳۱۷، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ)
ترجمہ: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اُس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے
حدیث
سیدناابوذر فرماتےہیں کہ رسول کریمﷺ سے پوچھاگیاکہ ایک شخص بھلائ کاکوئی کام اللہ کی رضاکے لئے کرتاہے لوگ اس کام کی وجہ سے اسے پسندیدگی کی نظرسے دیکھتے،یہ کیساہے؟ توآپﷺنے فرمایا:ذالک عاجلُ بُشریٰ المومنین(ترجمہ:یہ بندہ مومن کے لئے نقدانعام اوربشارت ہے :سنن ابن ماجہ،باب ثنا الحسن،رقم: ۴۲۲۵
بحوالہ اشاعت کتاب:ہرواقعہ بےمثال حصہ دوم،ص
حدیث
’’لن تدخلوا الجنۃ حتی تؤمنوا ولن تؤمنوا حتی تحابوا أَوَ لا أدلکم علی شئی لو فعلتموہ تحاببتم ، أفشوا السلامَ بینکم ‘‘ (صحیح مسلم،ج:۱،ص: ۵۴، باب بیان لایدخل الجنۃ الاالمؤمنون)
ترجمہ:’’تم ہرگز جنت میں نہیں جاسکتے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ۔ اور اُس وقت تک تم ایمان والے نہیں بن سکتے، جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو
حدیث
اَلْخَلْقُ کُلُّھُمْ عِیَالُ اللہِ فَأحَبُّ الْخَلْقِ عِنْدَ اللہِ مَنْ اَحْسَنَ الٰی عِیَالِہ
ترجمہ: ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے پیاری وہ مخلوق ہے، جو اس کے کنبہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
خَیرُ النَّاسِ مَن یَّنفَعُ النَّاسَ۔
کنز العمال: ج ۸ ص ۲۰۱، کتاب المواعظ والرقاق والخطب والحکم من قسم الافعال
حدیث
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا! جس نے کسی مومن سے دنیاکی تکلیفوں میں سے کوئ تکیف دورکی اللہ اسکے آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دورکرے گا اورجس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تواللہ دنیااورآخرت میں اسکی پردہ پوشی فرمائے گا! اللہ بندوں کی مدد میں لگارہتاہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مددمیں لگاہواہے (ترمذی ،مسلم شریف)
بحوالہ اشاعت :ماہنامہ چراغ اسلام اگست ۲۰۱۹
حدیث
حضرت انسؓ سے روایت ہےکہ رسولﷺ نے ارشادفرمایا:جس نے میری اُمت کے کسی آدمی کوخوش کرنےکے لئے اسکی حاجت پوری کی اس نےمجھے خوش کیا اورجس نے مجھے خوش کیااس نے اللہ تعالیٰ کوخوش کیااورجس نے اللہ تعالیٰ کوخوش کیا اس کوہ جنت میں داخل فرمادے گا
ماہنامہ محاسن اسلام،ش ۲۶۵، اکتوبر ۲۰۲۱،ج۲۳،ص۴۳،۴۴
حدیث
*’’ وﷲفی عون العبد ما کان العبد في عون اخیه ‘‘*
"اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ‘‘
(صحیح ابن ماجہ للالبانی: ۱۸۴)
حدیث
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:رحمت کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے، تم زمین پر رہنے والوں پر رحم کرو،آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔(صحیح مسلم)
حدیث
جوشخص دنیامیں کسی مومن کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دورکرے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دُورکرے گا،جوشخص کسی مشکل میں پھنسے ہوئے آدمی کوآسانی فراہم کرے گا اللہ تعالیٰ دنیاوآخرت میں اس کے لئے آسانی فراہم کرے گا۔جو کسی مسلمان کی سترپوشی کرے اللہ تعالیٰ دنیاوآخرت میں اس کی سترپوشی کرے گا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی مددمیں رہتاہے۔جب تکہ بندہ اپنے بھائی کی مددمیں لگارہتاہے(مسلم،کتاب الذکروالدُعا،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن)
کتاب:اسلام میں خدمت خلق کاتصور،مصنف مولاناسیدجلال الدین عمری،ناشرادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ انڈیا،اشاعت ۱۹۹۰،ص ۳۹،۴۰
حدیث
حضرت جابربن عبداللہؓ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ
بھلائی کاہرکام صدقہ ہے
ترمذی،ابواب البروالصلتہ،باب ماجاء فی صنائع المعروف
کتاب:اسلام میں خدمت خلق کاتصور،مصنف مولاناسیدجلال الدین عمری،ناشرادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ انڈیا،اشاعت ۱۹۹۰،ص۶۸
مفہوم حدیث
مفہوم حدیث ہے کہ تمام مخلوق اللہ کاکُنبہ ہے
مفہوم حدیث ہے کہ اگرکسی مسلمان کودوسرے کی تکلیف دکھ دردکااحساس نہیں ہوتاہے تووہ اللہ کی رحمت نہیں پاسکتا اس لئے کہ اللہ کی مخلوق پررحم کیاجائے تاکہ اللہ تم پرمہربان ہوجائے
مفہوم حدیث ہے کہ بیوہ کی خبرگیری جہادکے مساوی ہے
مفہوم حدیث ہے کہ بیواوں اورمسکین کی خبرگیری کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی طرح ہے(بخاری ومسلم)
مفہوم حدیث ہے کہ حضرت ابُوموسیٰ اشعری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’’مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے کہ اس عمارت کا بعض حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کردیتا ہے’’
خدمت خلق :اقلیت اورجاندار
خدمت خلق ایک اہم ترین فریضہ ہے ،اسی لئےدنیاکی کوئی شریعت خدمت خلق کے جذبے سے خالی نہیں ۔یہ جذبہ ہرمذہب ومسلک میں یکساں اورمقدم ترین فریضہ سمجھاجاتاہے۔خدمت خلق کے زمرہ میں میں تمام انسان اورجاندار شامل ہیں۔مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلم یعنی اقلیتیں بھی کسی بھی معاشرے کااہم حصہ ہوتے ہیں ۔جہاں مسلمان خدمت خلق کے حوالے سے اہم متصورہوتے ہیں ۔وہیں پرغیرمسلم بھی یکساں خدمت خلق کےمستحق ہیں ۔
بنایاآدمی کوذوق ایک جُزوضعیف
اس اس ضعیف سے کُل کام ۲جہاں کے لئے
یہی خدمت خلق حقوق العبادکے فلسفے کی بنیادہے۔ایک سماج میں خدمت خلق محض مسلمانوں تک محدودنہیں ہوتی بلکہ غیرمسلم حتٰی کہ جاندار بھی انسانی ہمدردی اورحُسن سلوک کے یکساں مستحق ہوتے ہیں۔
عام طورپریہ سمجھ لیاجاتاہے کہ نیکی ،بھلائ اورخدمت خلق کاتعلق محض انسانوں سے ہے۔ لیکن جاندارجیسا کہ جانور،پرند چرند، حشرات بھی اللہ کی مخلوق ہیں ۔یوں ان کے بھی کچھ حقو ق ہیں ،جن کاخیال کرناقرآن وسنت کے مطابق بہت ضروری ہے ۔بلکہ اس سے بڑھ کرجمادات اورنباتات تک کاخیال رکھنے کاحکم ہے جس میں کسی درخت تک کوبغیرکسی وجہ کے اکھیڑنے سے منع کیاگیاہے۔جہاں انسان ،ایک دوسرے کی مددکرتے ہیں وہیں پر جانداروں میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کی مددکاجذبہ پنہاں کررکھاہے۔
اگرہم یوٹیوب پراس حوالے سے تلاش کریں توہمیں بے شمارمناظردیکھنے کومل سکتے ہیں اسی طرح تحریری مودابھی پڑھ سکتے ہیں۔ جس سے یہ اندازہوگاکہ مختلف جانداراورجانورایک دوسرے کی مددکرتے ہیں ۔مثالوں سے پتہ چل گا کہ خدمت کاجذبہ جانداروں میں بھی بدرجہ اُتم پایاجاتاہے۔ انسان توپھربھی اشرف المخلوقات ہے ۔وہ سوچنے سمجھنےعقل کی بہترین صلاحیتیں رکھتاہے توپھروہ بھلااللہ کی مخلوق یعنی اپنے جیسے لوگوں اورچرند پرند کی خدمت سے کیوں کر دامن چھڑاسکتاہے۔
خدمت خلق کیاہے
خدمت خلق اللہ کی خوشنودی ورضاکاباعث ہے
خدمت خلق دلی سکون اورروحانی تسکین کاباعث ہے
اللہ کواپنی مخلوق کی خدمت کرنابہت پسندہے
خدمت خلق بہت بڑی عبادت ہے
خدمت خلق ایک پاکیزہ ومقدس جذبہ ہے
خدمت خلق کاشمارافضل ترین عبات میں ہوتاہے
خدمت الہی سے رضائے الہیٰ حاصل ہوتی ہے
خدمت خلق بہترین سماج کی تشکیل کااہم ذریعہ ہے
خدمت خلق اخلاقیات کاایک اہم جزو ہے۔
انسانیت کی خدمت بہت بڑااورخوبصورت جذبہ ہے
خدمت خلق کاجذبہ وہی لوگ سرانجام دیتے ہیں جواپنے دل میں خوف خداکاجذبہ رکھتے ہیں
خدمت خلق ایک عظیم الشان عبادت ہے
خدمت خلق کےکام سے خیرکے دروازے کھلتے ہیں
صدقہ جاریہ کاباعث بنتے ہیں
مخلوق خدامستفیدہوتی ہے
کمزورلوگوں کی دعائیں ملتی ہیں
خدمت خلق کاکم صدقہ جاریہ کاباعث بنتے ہیں
اللہ تعالیٰ کی خوشنودی خدمت خلق میں ہے
خدمت خلق اور دکھ سکھ میں کام آناحصول جنت کاایک ذریعہ ہے
خدمت خلق سے انسانوں کے دُکھ دردبانٹے جاتے ہیں ۔
خدمت خلق حصول جنت کاایک آسان راستہ ہے
خدمت خلق اورخیرات سے عروج حاصل ہوتاہے
خدمت خلق دنیاوآخرت کی میں نُصرت اورکامیابی کاایک ذریعہ ہے
خدمت کرنے والوں کادنیامیں مرتبہ بُلندہوجاتاہے
خدمت خلق کرنے والوں شخص کودین ودنیاکی دولت بھی نصیب ہوتی ہے
اللہ سے مضبوط تعلق خدمت کے جذبہ کومستحکم کرتاہے
خداکے بندے خلوص سے مخلوق خداکی خدمت کرتے ہیں
خدمت خلق وسیع مفہوم کے تناظرمیں
عوام الناس کے ذہنوں میں خدمت خلق کے حوالے سے عام طورپرایک سوچ پائی جاتی ہے وہ یہ کہ غریب غُرباءکی پیسوں سے اعانت کرنا۔ لہذا لوگ اکثرلاعلمی کی بنا پرمحض مالی امداد کو ہی خدمت خلق سمجھتے ہیں ۔اگرغوروفکراورتحقیق کی جائے توامعلوم ہوگا کہ خدمت خلق کااطلاق وسیع معنوں میں ہوتاہے ۔
خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
کسی کے گر آفت گزر جائے سر
پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر
ذیل میں دیکھاجاسکتاہےکہ خدمت خلق جوکہ باقاعدہ طورپرایک خصوصی شعبہ ہے ،اس کا اطلاق مختلف امورمیں ہوتاہے۔خدمت خلق کی کئی شکلیں اوراقسام ہیں۔آئیں دیکھیں کہ خدمت خلق کی کتنی اقسام ہیں اورکیا صورتیں ہیں۔خدمت خلق سے جڑے شعبہ جات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ہرشخص اورادارہ اپنی پسند ،ذاتی رحجان اورمعاشرے کی ضرویات کومدنظررکھتے ہوئے خدمت خلق کے کام سرانجام دیتےہیں۔
خدمت خلق ۳ طرح سے سرانجام پاتی ہے۔
۱۔ مال:غریب غُرباءپرخرچ کرنا
۲۔ زبانی خدمت:کمزوراوربیمارلوگوں کےلئے کام کرنا
۳۔اخلاقی وروحانی خدمت:انسانوں کوبُرائی سے بچانا،نیکی کی تلقین کرنا
لہذابدنی،روحانی مالی اندازسے خدمت خلق بھی کرناضروری ہے،جن کاشُمار سماجی بہبودمیں ہوتاہے۔
آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو
اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف
خدمت خلق اورحُسن سلوک کے مستحق افراد :کچھ طریقے
یتیموں ، بیوائوں کی خبرگیری وکفالت
غریب غرباءکی مالی امداد
کسی بے روزگارکوروزگاردلوانا
اولڈایج ہوم برائےضعیف اوربوڑھے مردوزن
لاوارث بیمار مریضوں کی عیادت اورادویات کی فراہمی
معذور افراد کے لئےوہیل چئیرسروسز
معذروں کی خدمت
ایمبولینس سروسز
زخمیوں کی امداد
بلڈبینک قائم کرنا یا خون کے عطیات دینا
یتیم:شفقت رحمت کرنا،مالی اعانت،عزت وشفقت کامعاملہ،انصاف کرنا،تعلیم
کسی بھوکے کو کھانا کھلانا
غرباء کے لئے دسترخوان کی خدمات
فوڈ بنک یاروٹی بینک
ماہ رمضان میں خصوصی افطاردسترخوان
ماہانہ راشن کی فراہمی یافوڈباسکٹ
مہنگی ادویات کےلئے میڈیسن بینک
ڈسپنسریاں قائم کرنا، ادویات مہیا کرنا،
ذہنی امراض کے اسپتال
جنازہ اورجنازگاہ کے لئے ٹرالاکی فراہمی
لاوارث میت اورافرادکے لئےکفن دفن
اسپتالوں میں غریب مریضوں اورلواحقین کوکھاناکھلانا
اسپتال وشفاخانوں کاقیام
دستکاری سکولوں کاقیام
صاف پانی کی فراہمی
پناہ گاہوں اورمُسافرخانوں کی تعمیر
ذاتی کارو بار اور زراعت میں کسی کی شرکت
غرباء کی امداد کا مسئلہ
تعلیم کی فراہمی
تعلیمی چندہ
پانی کے ذرائع ٹیوب ویل اورکنوئیں بنوانا
پانی پلانا پیاسے کو
ٹھنڈے پانی کے کُولرلگوانا
صحرائی لوگوں کے لئے پینے کے پانی کی فراہمی
صحرا کے علاقوں میں زراعت کے لئے سولر ٹیوب ویل کی فراہمی
درخت لگانا
بے سہاراافرادکی مددتعاون
جیل کےبے سہارا،بیگناہ قیدیوں کاجرمانہ کااداکرنا اوررہائی کاساماں کرنا
مظلوم افراد کوانصاف دلوانا
راستے سے پتھرکانٹے رکاوٹ ہٹانا
مطلقہ ،خلع والی ،یتیموں بیواوں،مسکین لڑکیوں کی شادی کروانا
اجتماعی شادیاں
بچے بچیوں کو جدید ہنروفنون سکھانا
کسی طالب علم کاخرچ اٹھانا
نئی مساجداوردینی مدرسوں کاقیام
نئے خدمتی مراکز
مسافرخانے اورپناہ گاہوں کی تعمیر
دارالامان بنانا
نئےاسکول وکالجز بنانا
حاجت مندکی جائزسفارش
کسی کاجائزکم کردینا
سڑکوں پرلاوارث افراد ،جن کوکوئی پوچھنے والانہیں ہوتا
کسی کی بہترین رھنمائی کرنااورمشورہ دینا
کسی کے جائزکام کےلئے قدم سے قدم ملاکرجانا
اسپتالوں میں لاچارمریض دومیٹھے بولوں کے مُنتظرہوتے ہیں
ضعیف یاکمزور،بوڑھےانسان جوکسی وجہ سے بس یاویگن وغیرہ میں سوارنہیں ہوسکتاہے ۔اُن کوسوارکروانا
پیار و محبت ،اچھے اسلوب ، احسن طریقے سے نیکی و بھلائی کا حکم دینے سمعیت برائی سے روکنا
بُھولے بھٹکے کواس کی منزل پرپہنچادینا کسی
صلح وصفائی کافریضہ سرانجام دینا
غرض ہرخدمت صدقہ کے زمرہ میں ہی آتی ہے
بہرحال یہ کچھ خدمت خلق کی صورتیں ہیں۔یہ کچھ ایسے امورہیں جن کاتعلق خدمت خلق سے ہے جبکہ بے شماردیگرکام بھی ہیں جن کو دیکھ بھال کرمحض اللہ کی رضاکیاجاسکتاہے۔یہ سب کے سب راحت رسانی کےزُمرے میں آتے ہیں۔لہذا دامے درمے سُخنے ،غرض ہرطریقے سے مددکی جاسکتی ہے
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
خدمت خلق اقوال کی نظرمیں
تمھاری عمربرابرگھٹی جارہی ہے بس جوکچھ تمھارے ہاتھ میں ہے اس سے کسی کی مددکرجاو (حضرت امام حسنؑ)
ہمیشہ دوسروں کے کام آ،خدابھی تیرے کام آسکتاہے (شیخ عبدالقادرجیلانیؒ)
انسان کی خدمت خداکی اطاعت ہے(شیخ سعدی)
میں نے جوکچھ خدمت خلق سے حاصل کیا وہ آج تک علم سے حاصل نہ کرپایاتھا (ابوہیرۃ خواجہ امین الدین بصریؒ)
خدمت خلق دیگرعبادات سے افضل ترین عبادت ہے حضرت خواجہ غلام محمدؒ
خدمت خلق کسی مقصدکے حصول کاذریعہ نہیں ہے بلکہ خودایک مقصدہے(سید ابوالاعلیٰ موددودیؒ)
اگرآپ کوایک گھنٹے کے لئے خوشی چاہئے توآپ قیلولہ کریں،اگرپورے دن کی خوشی درکارہوتوآپ فشنگ کریں
اوراگرایک سال کے لئے خوش رہنا ہے ہوتوآپ کوکودولت کی ضرورت ہے اوراگرآپ کوپوری ذندگی کی خوشی چاہئے تودوسروں کی مدد(خدمت خلق) کریں
جودوسروں کے ساتھ اچھا کرتے ہیں ان کے ساتھ اچھا ہوتاہے
دوسرو ں سے بھلاکرتے وقت یقین کروکہ تم اپنا بھلاکررہے ہو
ایمان کے بعدافضل ترین نیکی مخلق خداکوراحت پہنچاناہے
جو تجھ سے ہو سکے تو
خلق کی خدمت گزاری کر
خدمت خلق :تاریخ کے جھروکوں سے، چندعملی مثالیں
آئیں کچھ واقعات کاضمنامطالعہ کرتے ہیں
خدمت خلق پیغمبروانبیاء کی تعلیم میں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کاعلاج معالجہ کرتے تھے۔
حضرت داودوعلیہ السلام لوگوں کے مابین تنازعات طے کراتے تھے
حضرت ابراہیم مہمانوں کوکھاناکھلانے میں پیش پیش ہوتے تھے
حضرت مُوسیٰ علیہ السلام مظلوم لوگوں کوظالم کی غلامی سے نجات دلاتے توکہیں قیدی کوقیدکونکال آذادی جیسی نعمت دلاتے تھے
خلفائے راشدہ ،صحابہ اورخدمت خلق
خلفائے راشدین اورصحابہ کرام اجمعین بھی مسلمانوں کی خدمت سے پیچھے نہ رہتے تھے۔ صحابہ کی جماعت بھی آپ ﷺکی طرح جذبہ خدمت خلق سےہمیشہ سرشاراورلبریزرہتی تھی ۔ آپﷺکے جان نثارصحابہ ہرلمحہ اپنامال لاوارثوں ،یتیموں اورمسکینوں پرخرچ کرنے کے لئے کمربستہ رھتے ہیں ۔تاریخ ان واقعات سےبھر ی پڑی ہے کہ وہ کیسے عام افرادکی خدمت کیاکرتےتھے ۔کچھ امثال حاضرخدمت ہیں۔
صحابہ رسولﷺ کی خدمت خلق کے نمونے
اسلام اورمسلمانوں کی خاطر صدیق اکبرؓنے اپنے گھرکاپورامال اورحضرت عثمان غنیؓ نے اپناگھرکاآدھامال اللہ کی راہ میں حضورﷺکی خدمت اقدس میں پیش کیا۔
حضرت عمرؓبھیس بدل کرراتوں کومخلوق خداکی دادرسی فرماتے۔
حضرت عثمانؓ نے یہودی سےپانی کاکنواں خریدکرمسلم وغیرمسلم سب کے لئے وقف کردیا
حضرت علیؓ غلاموں کوخریدکرآذادکرتے اورآزادکرنے سے پہلے تعلیم کے زیورسے آراستہ کرتےتھے۔عرب میں پانی کی قلت ہوتی تھی ۔آپ نےمختلف مقامات پر
پانی کاانتظام کیاتاکہ لوگ سیراب ہوسکیں اوراپنی فصلیں اگاسکیں
صحابی حضرت ابوطلحہ انصاریؓ نے اپناباغ بیرحائ غرباءکی کفالت کے لئے مختص کردیا
اہل بیت اورخدمت خلق
حضرت زین العابدین علیہ السلام نے اپنے بھائی کے قاتل کوبحالت فالج اپنی پشت مبارک پرلادکراس کے گھرپہنچایا
تاریخ میں انھیں انسانوں کومدتوں یادرکھاجاتاہے جنھوں نے انسانیت کی خدمت کواپنانصب العین اورشعاربنایا اس کی واضح مثالیں عبدالستارایدھی،حکیم سعید،کیاآپ تاریخ کے صفحوں میں ذندہ رہناپسندکریں گے
خدمت خلق اوربزرگان دین
مشائخ بزردگان دین نفس کشی کے لئے مریدوں بیماروں کی تیمارداری اورفضلہ بول وبرازصاف کرواتے تھے۔ لہذایہ مطلوب اورمقصدکے زمرہ میں آتی ہے۔یہی سچی طریقت ہے اوربہت بڑاکمال ہے۔
بزرگان دین اکثراپنے ہاں غریبوں کے لئے لنگرپانی کااہتمام فرماتے تھے اورابھی بھی یہ سلسلہ ایساہی ہے
اکبربادشاہ اورغریب افراد
خُوداکبربادشاہ تخت سے اترکرفرش پرغریبوں کےساتھ بیٹھ جاتے ۔غریبوں کی دلداری اوردلجوئی کرتے تھے۔ہمددری سے حال پوچھتے تھے۔
خدمت خلق حکایات کی روشنی میں
حکایت کے مطابق جب حضرت مُوسیٰ علیہ والسلام نے اللہ پوچھاکہ تمھیں کہاں تلاش کروں ایک
اللہ نے جواب دیا:شکستہ دلوں میں
اب سارے غورکریں تومعاشرہ کے یہ سب افرادشکستہ دل ہی تو ہوتے ہیں۔
ایک بہت مشہورومعروف واقعہ ہے کہ ایک فاحشہ عورت محض پیاسے کُتے کوپانی پلانے پرجنت جانے کی حقدارقرارپاگئی۔
خدمت خلق اورشیخ سعدیؒ
شیخ سعدی ؒ کےفارسی کلام میں جابجاخدمت خلق کاتذکرہ ملتاہے جن میں سے دوکابیان کیاجارہاہے۔
طریقت بجُزخدمت خلق نیست
یہ تسبیح وسجادہ ولق نیست(شیخ سعدی)
ترجمہ :درویشی تومحض محض خدمت خلق میں ہے،تسبیح جا نمازاور گُڈری وغیرہ درویشی کی چیزوں میں نہیں ہے
ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد
ہرکہ خود را دید او محروم شد۔
ترجمہ :جو شخص دوسروں کی خدمت کرتا ہے ،لوگ اس کے مخدوم بننے پرمجبورہوجاتے ہیں
تسبیح پڑھنا،نمازیں پڑھنا یہ سب توآسان کام ہیں !۔لیکن اللہ کی خلق کی صحیح معنوں میں خدمت کرنا،اوربنی نوع انسان کونفع پہنچانا یہ بہت مشکل کام ہے۔یہ وہ جزبہ ہے جس کی بدولت انسان انسانیت کے اعلی ترین درجہ پرپہنچ جاتاہے، جہاں اللہ کے نیک بندے برسوں کی ریاضت اورعبادت ،روزے نماز،تقوی اور پرہیزگاری کے ذریعہ سے ہی پہنچ سکتےہیں ۔ لہذا خدمت خلق قرب الہی کابہت بہترین ذریعہ بھی ہے
خدمت خلق اور بیسویں صدی میں
جب جاپان میں زلزلہ آیا تووہاں پرکچھ دکانداروں نے دکان پرچیزیں رکھ دیں اورکہا کہ جس کوضرورت ہو مفت میں لے جاسکتاہے!عیسائی اپنے غریب بھائیوں کاخیال رکھتےہیں جب کرسمس یادیگرتہوارآتے ہیں توانتہائ کم اوررعایتی نرخوں پرچیزوں کی سیل لگادیتے ہیں حتی کہ چیزوں کے دام آدھی قیمت تک کردئے جاتے ہیں تاکہ امیروغریب تہوارکوخوشی سے مناسکے جبکہ اس کے برعکس پاکستانی تاجروں کارویہ ماہ رمضان کتنابدل جاتاہے وہ سب مناظرآپ کے سامنے ہوتےہیں۔جوکہ کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں
عہدجدید اورعصرحاضر اور۲۱ ویں صدی
عصرحاضرمیں آپ کے پاس زرائع ہیں میڈیا جن کوبیان کرنےکی چنداں ضرورت نہیں ہے وہ سب یقیناآپ کی نظروں میں ہوں گے
خدمت خلق کاتاریخی پس منظر
معاشرے میں روزغیرسرکاری تنظیموں (این جی او) کی بڑھتی تعداد اس بات کاثبوت ہے کہ خدمت خلق کتنی اہمیت اختیارکرگئی ہے۔بڑی بڑی یونیورسٹیوں نے اپنے ہاں سوشیالوجی اورسوشل ورک(سماجی خدمات) کے خصوصی شعبے قائم کررکھے ہیں ۔کاروباری سطح پرکارپوریٹ سوشل ریسپونس جیسے شعبہ جات اس بات کی تصدیق کرتے دکھائ دیتے ہیں کہ خدمت خلق کےحوالے سے ان کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں ،اوروہ کسی حدتک اپن ذمہ داریوں کوپورے کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔
شعبہ خدمت خلق کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اس علم کاباقاعدہ طوپرآغازسولہویں صدی میں ایجادہوا۔حکومت برطانیہ میں ایک بادشاہ ہنری ہشتم نے پندرہ سو۳۱ میں ایک قانون پاس کیاکہ مجسٹریٹ اوردیگرسرکاری ملازمین کافرض ہوگا کہ وہ معذورافرادکی جانچ پڑتال کریں۔
خدمت خلق میں اہل ثروت کاکُلیدی کردار
یہ بات مسلمہ ہے اہل ثروت کے تعاون کے بغیرخدمت خلق جیسا نیک فعل آگے نہیں بڑھ سکتا، یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی حکومت وقت تن تنہااتنی بڑی سطح پرتمام معاشرے کے تمام غرباءکی کفالت نہیں کرسکتی ہے اورنہ ان کے بوجھ کواٹھاسکتی ہے۔ اس کے لئے غیر سرکاری تنظیمیں اورمخیرافرادہی آگے آتے ہیں۔ دولت کاصحیح مصرف یہ ہے کہ وہ اپنے صحیح مقام اور غریب انسانوں کی ضروریات پرخرچ ہو
کبھی مفلس نہیں ہوتے وہ اہل زرزمانے میں
جواپنے مال سے دل کھول کرخیرات کرتے ہیں
خدمت خلق کے متعلق یہ بات اکثر کہی جاتی ہےکہ جوافرادخودغربت کی چکی سے نکل کرآئے ہوتے ہیں اورحلال طریقے سے کماکرآگے نکلتےہیں انھیں کواکثرمعاشرے کے پسماندہ اورپسے طبقے کابہت خیال ہوتاہے۔
عمرلمبی ہو ان کی اے عامر
جو دلوں کو نہال کرتے ہیں
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ جومخیرحضرات اللہ کی رضا کی خاطرلوگوں میں روپے پیسے بانٹتے ہیں، اللہ تعالی ضروران کے مال واسباب میں برکت عطاکرتاہے جس سےوہ نعمت مذیدبڑھتی ہے کیونکہ یہ اللہ کابندوں سے وعدہ ہے۔لہذاﷲ پاک کی رضا کی خاطر خدمت خلق کے جذبے کے ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہیے ۔
کرومہربانی تم اہل زمیں پر
خدامہرباں ہوگا عرش بریں پر
ایک بات ہمیشہ پیش نظررہنی چاہئے۔ خدمت خلق نام ونمود،ذاتی تشہیر،شہرت دکھلاوے سے مُبراہوناچاہئے اوریہ خالص اللہ کی رضاکے لئے ہونی چاہئے نہ کہ اس میں ذاتی غرض شامل ہو۔کیونکہ ایساکرنے سےاس میں خودغرضی کاعُنصرشامل ہوجاتاہے اورخداکی بارگاہ میں مقبولیت کادرجہ نہیں پاتا بلکہ یہ ریاکاری میں شُمارہوجاتاہے۔لہذا انسان صرف اُسی صورت میں اشرف المخلوقات کادرجہ پاسکتاہے جب وہ کسی کے دردوغم کومحسوس کرسکے۔
اگرخلوص نیت سے اس فعل کوسرانجام دیاجائے تواس سے نہ صرف ایک دوسرے کی خیرخواہی ہوتی ہے بلکہ بھائی چارہ کارشتہ بھی مضبوط ہوتاہے۔
مرنا بھلا ہے اس کا جو اپنے لیے جیے
جیتا ہے وہ جو مر چکا انسان کے لیے
لہذاضرورت اس امرکی ہے کہ معاشرے کے ذیادہ سے ذیادہ اہل ثروت،بااثرافراد،سرکاری اورغیرسرکای تنظمیں خدمت خلق کے لئے آگے آئیں۔ اہل افرادکی مددکرنے میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھیں۔ لہذامعاشرہ کےاہل ثروت پریہ مذہبی اخالقی فرض عاید ہوتا ہے کہ معاشرے کے ان پسے ہوئے طبقت کے مصائب دوکھ درد کامداوا اوراس کی ضروریات کی تکمیل میں فکرکرے اورخیرخواہی کام سرانجام دیں اوران کے دکھ دردپرمرہم رکھیں۔ اس کے علاوہ تمام مکاتب فکر ے لوگ،تنظیمیں اورجماعتیں فروعی اختلافات سے بالاترہوکرخدمت خلق کریں۔ لہذاصاحب ثروت کوایسے رفاعی کام ٖکرناچاہئے جس سے عوام الناس بالخصوص عام لوگوں کوذیادہ فائدہ پہنچے۔ ذیادہ سے ذیادہ صاحب ثروت خصوصی طورپرخدمت خلق اورانسانیت کی خدمت کواپناشعاربنائیں اورحتی الامکان خلق خداکونفع پہنچائیں اورراحت رسانی کاساماں بنیں۔ اوراس فرض کی انجام دہی سے ملک پاکستان کے لئے چشمہ فیض ثابت ہوں۔ اصل میں جوغریبوں کی مددکرتےہیں وہی اصل میں بڑے لوگ ہیں
ہمیں یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ خدمت خلق صرف دلوں کے فتح کرنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اسلام کی ترویج واشاعت کا موثر ہتھیار بھی ہے
اللہ تعالی معاشرے کے متموّل حضرات کو مخلوق کی خدمت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔االلہ تعالی ہم سب کواورعام انسانوں کوبھی مخلوق کی خدمت کرنے کی سعادت ابدی عطافرمائے آمین ،ثم آمین
خدمت خلق :چندفوائد
خدمت خلق سے فطری طورپراخوت اوربھائی چارہ کے احساسات پیداہوتےہیں اورانسان ایک دوسرے کے قریب ہوتےہیں۔جس سے معاشرے میں اتفاق پروان چڑھتاہے۔خدمت خلق کے جذبے سے ہی انسان کوسرداری ملتی ہے۔اللہ کی مخلوق کی مددکرنا بہت بڑی نیکی اوراجروثواب کاکام ہے
یہ وہ جذبہ جس سے ایک رضاکارخدمت خلق سے تھکتانہیں اورنہ ہی بیزارہوتاہے،کیونکہ ایک انسان اپنی مرضی سے ،دلی سکون وخوشی کے ساتھ محض اللہ کی رضاکی خاطریہ کام کرتاہے۔دوسروں کی خیر خواہی اور مدد کرکے حقیقی خوشی اور راحت حاصل ہوتی ہے
خدمت خلق کاوسیع تناظرمیں جائزہ:نفسیاتی ،تحقیقی، اسلامی نکتہ اورصحت پرمثبت اثرات
خدمت خلق نفسیات اورتحقیقات کی روشنی میں
خدمت خلق کرنے سے انسان کا دوسرے انسانوں کے ساتھ رابطہ بڑھتا ہے، رضا کارانہ طور پر دوسروں کی مدد کرنے سے انسان کے جسم میں ایسے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جن کی وجہ سے انسان کا ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، دوسری طرف دوسروں کی مدد کرنے سے اس کا ایک ایسا حلقہ بننا شروع ہو جاتا ہے کہ جو وقت پڑنے پر اس کے اپنے کام آتا ہے۔ دوسروں کی مدد کرنے سے انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہے اور یوں دوسروں کی مدد کرتے وقت دراصل انسان اپنی مدد بھی کر رہا ہوتا ہے (ماہر ِنفسیات محمد نعیم صدیقی،۲۰۱۳ )
خدمت خلق تحقیقات کی روشنی میں
دوسروں کا درد رکھنے والوں کے دل زیادہ صحت مند
ہوتے ہیں۔ خدمت ِخلق سے انسان کے دل اور شریانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ہے اور دل مختلف امراض سے محفوظ رہتا ہے۔
(امریکی
جریدے سائنٹیفیک امیریکن مائنڈ،۲۰۱۳)
کینیڈاکی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیاکی تحقیق کے مطابق
وینکوور کے ایک اسکول کے 106 بچوں میں سے آدھے بچوں کو دس ہفتوں ہر ہفتے ایک گھنٹہ دوسرے بچوں کی اسکول کے ہوم ورک اور دوسرے کاموں میں مدد کرنے کو کہا جبکہ باقی آدھے بچوں سے دوسروں کی مدد کا ایسا کوئی کام نہیں لیا گیا۔بچوں کے دونوں گروپوں میں تحقیق سے پہلے اور بعد میں معائنے اور سوالنامے کی مدد سے یہ معلوم ہوا کہ جن بچوں نے دوسروں کی مدد کی ان کے دل اور شریانیں زیادہ صحت مند تھیں۔لیکن نو عمروں میں بھی رضاکارانہ طور پر دوسروں کی مدد کرنے کے صحت پر مثبت اثرات جاننے کے لئے کی جانے والی ان کی اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ نوعمری میں بھی دوسروں کی مد د کرنے دل کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ دوسروں کی مدد کرنے والے اپنے بارے میں اچھا محسوس کرتے ہیں اور وہ منفی موڈ کے شکار کم ہوتے ہیں یوں ان میں دل کے امراض کے امکانات کم ہو جاتے ہیں
(ماہرنفسیات ڈاکٹر ہننا شرایا ،کینیڈا میں یونیورسٹی آف بریٹش کولمبیا)
انسانی صحت پرخدمت خلق کے اثرات
جہاں تک انسان کے وزن اور کولیسٹرول کا تعلق ہے تو اس کو کم کرنے کے لئے تو انسان کو اپنی غذا کا خیال رکھنا چاہئے اور باقائدگی سے ورزش کرنی چاہئے لیکن دوسروں کی مدد کرنے سے اسٹریس کم ہوتا ہے۔خدمت خلق کرنے سے انسان دباو میں کمی محسوس کرتا ہے اور وہ خوش رہتا ہے ان تبدیلیوں کے طویل مدتی اثرات میں دل کے امراض میں کمی شامل ہے اور اس سے انسان کا بلڈ پریشر بھی کم رہتا ہے۔ باقاعدگی سے دوا لینے اور عبادت کرنے سے بھی یہ تمام فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔(ماہر ِ امراض ِ قلب ڈاکٹر فیصل احمد)
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
خدمت خلق :خدمت خلق فوائدبزبان سربراہ
دوسروں کے کام آنے سے انسان کی روح کو سکون ملتا ہے، یہ انسان کو خوشی اور ذہنی سکون دیتا ہے۔ مزید یہ کہ دوسروں کی مدد کرنے پر انعام کے طور پر انسانی جسم میں ایسے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جو انسان کو توانائی دیتے ہیں اور اس کی عمر دراز کرتے ہیں(سربراہ ہنیڈز این جی او،ڈاکٹرغفاربلو)
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
جب دلیپ کمار سے پوچھا گیاکہ اوپر والے نے ان کو اتنا سب دیا ہے کیا اس کے بعد بھی زندگی میں کسی چیز کی کمی محسوس ہوئی تو دلیپ کمار نے جواب دیا کہ کچھ سال پہلے تک زندگی میں ایک خلا تھا جو اس وقت پر ہو گیا جب سے انھوں نے ضرورت مندوں کی مدد کرنا شروع کر دی(سربراہ ہنیڈز این جی او،ڈاکٹرغفاربلو)
ذندگی اورمقصدکےحوالہ سے ہارورڈیونیورسٹی نے ۷ ہزارافرادپرمشتمل گروپ پرتحقیق کی ،جن کی عمریں پچاس سال سےذائدتھیں۔نتائج سے پتہ چلاکہ جن کی ذندگی میں کوئی مقصدتھا ،ان میں جلد موت کاخطرہ کم ہوگیابنسبت ان افرادکے جن کاذندگی میں کوئی مقصدنہ تھا۔
بہت ساری تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ جن افراکاذندگی میں کوئی اعلیٰ مقصدہوتاہے ان میں جلدموت کا خطرہ کم ہوجاتاہے۔کیونکہ جب کوئی مقصدہوتاہے تووہ مثبت طرزعمل اختیارکرتے ہیں جوان کی صحت کے لئے بہترہوتاہے۔
کچھ تحقیقی مطالعات میں لوگوں سے صرف یہ پوچھاگیا کہ انہیں زندگی میں مقصد کا احساس کیا دیتا ہے۔ لوگوں نے اس کے جواب میں کچھ اس طرح کے عوامل کوبیان کیا:
خاندان اورتعلقات
کمیونٹی
دوسری کی مددکرنا
نئی مہارتیں سیکھنا
جن کی ذندگی میں کوئی مقصدہوتاہے،یقینی طورپران کی ذندگی بامعنی ہوتی ہے۔اس کی وجہ سے ان میں دل کی بیماریاں کم ہوتی ہیں ۔سٹریس لیول کم ہوتاہے۔لہذاان نتائج سے اخذکیاجاسکتاہے کہ خدمت خلق کرنےوالے اپنی ذندگی میں لوگوں کی خدمت خلق کاواضح جذبہ رکھتےہیں۔پورے مقالہ میں اکثرنکات اس بات کی تصدیق بھی کرتی دکھائی دیتے ہیں۔
ایک اورتحقیق کے مطابق ایک امریکن یونیورسٹی کے ریسرچر نے ایک ریسرچ سے ثابت کیا کہ جب آپ دوسروں کی مددکرتے ہیں توآپ کے دماغی اعصاب پرخوشگواراثرہوتاہے جس سے آپکی صحت میں بہتری ہوتی ہے اورسٹریس وٹینشن میں کمی آتی ہے(بحوالہ ماہنامہ چراغ اسلام اشاعت فروری ۲۰۲۲،ص ۳۷، ج ۲۶،ش۲ )
درج بالا امثال سے ظاہرہوتاہے کہ خدمت خلق کے مال ودولت اورصحت پرہمیشہ مثبت اثرات ہوتے ہیں۔اللہ نے اس میں انسانوں کے لئے فوائدپنہاں کررکھے ہیں۔
اخیر
عصر حاضرمیں خدمت خلق کی ضرورت پہلے سے کہیں ذیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ کرونا وائرس اورپھرملکی وبین الاقوامی حالات اورمہنگائی کے باعث غریب لوگ مذیدخط غُربت سے نیچے جارہے ہیں ۔
حالیہ دنوں میں سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں تباہی مچی ہوئی ہے لوگ مذیدخط غربت سےنیچے جارہےہیں۔اس لئےعصر حاضر بھی خدمت خلق کی اہمیت پہلے سے بھی کہیں ذیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ذاتی مفادسے بالاترہوکرمخلوق خدااورانسانیت کی مددکی جائےآئیں اس کاعہدکریں لہذاانسانیت کی فکرکرنابہت ضروری ہے۔
کسی نے خوب کہاہے
کسی کے دل کوراحت پہنچادو یہ یہی سب سے بڑھ کرمذہب ہے
وَتَعَاوَنُوا عَلَی البِرِّ وَالتَّقویٰ
###
کچھ مصنف کے بارے میں:راقم اکثرسماجی معاشرتی موضوعات پرتحریرکرتے رہتےہیں جوسوشل میڈیاکاحصہ بن جاتی ہیں اورجرائدمیں شائع بھی ہوتی ہیں۔راقم ماضی میں تحقیق سے متعلق ادارہ گیلپ اوراوایسس سے وابستہ رہے ہیں ۔جبکہ کئی سال ادارہ فروغ تحقیق میں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
استفادہ وماخذ۔۔۔
کتب
کتاب خدمت خلق قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ،مصنف مولاناامیرالدین مہر،،ناشردعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد،:۲۰۱۰
کتاب:اسلام میں خدمت خلق کاتصور،مصنف مولاناسیدجلال الدین عمری،ناشرادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ انڈیا،اشاعت ۱۹۹۰
کتاب خدمت خلق،۱۹۳۱،مصنف نیازمحمدخان،مطبوعہ انڈین پریس لیمیٹڈ ،الہ آبادانڈیا
جرائدورسائل
ماہنامہ محاسن اسلام،ش ۲۶۵، اکتوبر ۲۰۲۱،ج۲۳،ص۴۳،۴۴
ماہنامہ چراغ اسلام،اشاعت ، اگست ۲۰۱۹
ماہنامہ محاسن اسلام،ش ۲۶۵، اکتوبر ۲۰۲۱،ج۲۳،ص۴۳،۴۴
ویب گاہیں
https://darulifta-deoband.com/home/ur/hadith-sunnah/43142
https://www.darululoom-deoband.com/urdu/articles/tmp/1493287019%2001-Idariya_MDU_12_December_13.htm
https://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%DA%86%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7-%D8%AE%D9%88%D8%AA-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C
https://www.health.harvard.edu/blog/will-a-purpose-driven-life-help-you-live-longer-2019112818378
https://www.nawaiwaqt.com.pk/19-Nov-2021/1452698
https://jang.com.pk/news/756521
https://www.urdunews.com/node/337081/%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C/%D8%AE%D8%AF%D9%85%D8%AA%D9%90-%D8%AE%D9%84%D9%82-%D8%8C%D8%A7%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%B6%D8%A7
https://www.myislamicinfo.in/2020/05/blog-post_109.html
https://mag.dunya.com.pk/demo.php/deen-o-dunya/1068/2019-09-22
https://afkareraza.com/?p=11643
https://www.nayasaweralive.com/archives/1442
https://www.express.pk/story/2399137/1/
نوٹ:اس آرٹیکل میں تمام احادیث جہاں ہے جیسے کی بنیادپراصل متن کی شکل میں ویب گاہ سے نقل کی گئی ہیں لہذادروغ برگردن راوی
نفسیات کے حصہ میں بھی ویب گاہ سے موادمتن کی شکل میں نقل کیاگیاہے۔اوراس کواپنے معنی اورمفہوم پہنانے کی کوشش نہیں کی گئ ہے ۔یعنی یہ تحریرکردہ الفاظ میرے نہیں بلکہ کسی اورمصنف یاویب گاہ پرتحریرتھے تاکہ تحریرمیں خوبصورتی اورروانی برقراررہے اس لئے تمام موادکوکوٹ کی شکل میں لکھاگیاہے۔ اوراسی طرح کُتب سے بھی احادیث نقول کرکےطبع کی گئی ہیں۔تاکہ تحریرسے متعلق موادحاصل ہوسکے اورتحریرمیں روانی برقراررہ سکے!
No comments:
Post a Comment