بسلسلہ :سائینس وٹیکنالوجی (اکیڈیمیا انڈسٹری لنکجر)
ساتویں انوویشن سمٹ ۲۰۱۸
دوروزہ ساتویں سمٹ ۲۰۱۸
۷۔۸ مارچ ۲۰۱۸
بمقام : ( فیصل آڈیٹوریم، یونیورسٹی آف دی پنجاب)،لاہور،پاکستان
بوقت : ۰۹:۳۰ صبح تا شام ۵:۳۰
Authors
مجاھدعلی،چیف ایڈیٹررائس پلس میگزین،مینجر یوآئی پروگرام
رحمت اللہ،چیف کوارڈی نیٹر ،آئی آر پی
حامد ملک،سی ای اوانڈس پاک،اعزازی مشیر ساتھا
SPNOSORED by SHAFI RESO Lahore
آرگنائزر:ادارہ فروغ تحقیق (آئی آرپی)،یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی لاہور،پاکستان سائنس فاونڈیشن
4th Floor,Suite5 - Central Plaza Barkat Market New Garden Town Lahore
آغاز،افتتاحی سیشن اورمہمانان گرامی کے خطابات
سمٹ کا افتتاحی سیشن
سمٹ کی تقریب اپنے پہلے مقام سے ہٹ کر فیصل آڈیٹوریم میں ہوئی. طلباء اورطلبات کی ایک کثیرتعدادبھی موجود تھی
سمٹ کا باقاعدہ آغاز قومی ترانہ سے ہوااسکے بعد تلاوت قرآن پاک ہوئی
سمٹ کے افتتاحی سیشن میں درج ذیل مہمانوں نے خطاب کیا اورآخر میں رئیس جامعہ یونیورسٹی آف پنجاب کا خطاب ہوا۔
ڈائریکٹراورک فرح روف شکوری نے سپاس نامہ پیش کیا۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں پرجو ٹیکنالوجی پیش کی گئی ہیں وہ ہمارے ملک کودرپیش کئی معاشرتی اورمعاشی مسائل کوحل کرسکتی ہیں۔انھوں نے رئیس جامعہ کو اس سمٹ کے انعقادکےحوالے سے بھرپورمعاونت فراہم کرنے پرشکریہ اداکیا۔اسکے علاوہ یہ بھی کہا کہ طلباء کی تحقیقات کے حوالے سے حوصلہ افزائی کی جائے۔ڈائریکٹرکی جانب سے اورک کے قیام کے اغراض ومقاصد اورکارکردگی پیش کی گئی۔یہ بتایا گیا کہ پاکستان میں ایچ ای سی کی جانب سے اورک جیسے شعبہ جات ملک میں قائم کئے گئے تاکہ پورے ملکی کی جامعات میں اطلاقی سائنس کوفروغ اورعام کیا جائے اسکے ساتھ اکیڈیمیا انڈسٹری کو فروغ دیا جائے نیزاینٹرپرینیورشب کوفروغ دیا جائے۔ انٹیلچکل پراپرٹی اورپیٹنٹ رجسٹریشن کو فروغ دیا جائے۔تحقیقی منصوبہ جات کے فنڈ کیسے لئے جائیں ان پر کورس ورکشاپ کروائی جائیں۔س کے بعد انھوں نے سمٹ کے اغراض ومقاصد پرروشنی ڈالی نیزبتایا کہ اس دفعہ مقابلہ جیتنے والوں کے لئے انعامی رقم ۴لاکھ ہوگی
عابد ایچ کے شیروانی ،سی ای اوآئی آرپی،ڈائریکٹرجنرل یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی لاہور
یہ ایک تاریخی لمحہ ہے چند سال پہلے چھوٹاسا بیج(پودا) لگایا گیاآج ایک تناوردرخت کی شکل اختیارکرگیا ہےسایہ داردرخت بن چکاہے۔میں نے یہ آئیڈیا پاکستان سائنس فاونڈیشن سے شئیر کیا اوران کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے اورکہا کہ ہم مل جل کرکام کریں گے اورپاکستان کو انوویٹ کریں گے۔اسکے بعد میں یونیورسٹی آف پنجاب کے وی سی ڈاکٹرمجاہد کامران سے ملا ۔ وہ دن اورآج کا دن سمٹ ایک برانڈ بن چکاہے ۔سمٹ نے سب اداروں سائنسدانوں کو ایک لڑی میں پرودیا ہے
اس وقت ۱۰۰ سے ذائد ادارے اس میں شرکت کررہے ہیں جبکہ ۵۰۰ سے ذائد ٹیکنالوجی پیش کی جارہی ہیں اور۲۰۰ سٹارٹرپیش کررہے ہیں ۔آپ ٹیکنالوجی کو اون کریں۔ یہ ایک بہترین ٹرپل ہیلکس ماڈل ہے۔سمٹ میں اکیڈیمیا پبلک کارپوریٹ سیکڑ سے بہترین سائنسدان آتے ہیں اس کے علاوہ سندھ بلوچسان اورکے پی کے سے بھی سائنسدان شامل ہوتے ہیں۔
عابدصاحب نے مذیدبتایا کہ پاکستان میں یہاں پاکستان میں بہت پوٹیشنل ہے۔کمی ہے تو مواقع کی۔ہم نے سماعت
سماعت سے محروم افرادکو بھی مدعوکیا ہے ۔نوجوان ہماراقیمتی اثاثہ ہیں جنھوں نے آگے چل کر ملک وقوم کی باگ دوڑسنبھالنی ہے اورآگےچل کر یہی ایجادات کریں گے
مارے ہاں پاکستان میں آراینڈی کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی جاتی جب میں دواعشاریہ پانچ فیصد تعلیم پر جبکہ اعشاریہ نوفیصد صرف آراینڈڈی پرخرچ کیا جاتاہے اس بجٹ کو ڈبل فگرمیں لے جایا جائے ملائشیا ۲۰ فیصد تعلیم پرخرچ کرتاہے اب ۲۰۰ بلین کی برآمدات کرتاہے سری لنکا جیساملک کی برآمدات ۲۰۰ بلین ڈالرہیں چائنہ میں پرکیپٹا انکم ۱۷ ہزارڈالرہے
آج چیلنجزہیں دونوں سب مل کر انوویٹ کریں اورانڈسٹری سے بامعنی انٹرایکٹ کریں۔فیکلٹی مہینے میں ۱۵ دن انڈسٹری میں گزارے جس ان کے مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی اوران مسائل کوحل کرنے میں مدد ملے گی ان کے مسائل کو ریسرچ پراجیکٹ کا حصہ بنائیں۔ دعاہے کہ قافلہ آگے بڑھتارہے آخرمیں اس سمٹ کو آرگنائزکرنے میں رحمت اللہ اورمس ر اشدہ کا شکریہ اداکیا۔
نسیم صادق ؛ سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب
نسیم صاحب نے کہا کہ موجودہ تحقیق سے بڑے اوروسیع پیمانے پرتحقیق سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
زیشان خلیل،صدر لاہورایوان وصنعت تجارت
انھوں نے تقریرکرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ سے ایم اویوکرسکتے ہیں ہمارے پلیٹ فارم کو استعمال کریں ٹیم بھیجنا چاہیں تو بھیجیں
انھوں نے کہا کہ میرابورنگ لیکچرہے لیکن ٹاپک بورنگ ہے لیکن سن لیں میری عزت ہوگی۔ اس دوران فرح شکوری نے مزاحمت کرتے ہوئے شورکرتے طلباء وطالبات کو تنبیہ کرتے ہوئے خاموش رہ کرتقریرسنی جائے ۔
جہاں مل کر کام کرسکیں ہم کام باہمی طورپرکام کریں گے ۔ہم ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کے ایریازمیں کام کرسکتے ہیں
ایل سی سی آئی اکیڈیمیاانڈسٹری لنکیجزڈیولپ کرنے میں یقین رکھتی ہے اورمطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں یقین رکھتے ہیں
ڈاکٹرمارٹن کنگ
ڈاکٹرمارٹن نے اپنی تقریر کے آغازمیں ہی مہمان گرامی کو سلام کیا اورحاضرین کی جانب سے بھرپوراندازمیں وعلیکم السلام کہا گیا۔انھوں نے کہا کہ میرانام مارٹن کنگ ہے اورمیں یہ الفاظ اور ڈاکٹرخلیق الزمان کو ٹریبوٹ پیش کرتاہوں۔میرا شوق اورجستجو ٹیکسٹائل ہے پاکستان اورامریکہ دونوں ہی اکیڈیمیااورانڈسٹری کے حوالے سے کام کررہے ہیں ہم نے پنجاب یونیورسٹی کے پروگرام شروع کیا تاکہ انجنئرزکو ٹرین کیا جائے اورٹیکنالوجی کو بھی پروموٹ کیا جائے
یہ بات لائق تحسین تھی کہ سمٹ میں بین الاقوامی سطح پرمندوبین کوبھی مدعوکیا گیا جس سے اس سمٹ کو ایک سندکی سی حیثیت حاصل ہوئی
ڈاکٹرمنظورسومرو ، ای سی او اکنامک کوآپریشن اّرگنائزیشن ،سابق چیئرمین پاکستان سائنس فاونڈیشن
اپنی تقریر کے آغازمیں انھوں نے کہا کہ کچھ سرگرمیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو انفرادی طورپرنہیں کیا جاسکتا جیسا کہ میگا پراجیکٹ۔میں نے اربن ٹیکنالوجی پرکام کیا ہے ۔ہم یو ایم ٹی کے ساتھ مل کر ایران میں دوپراجیکٹ لیکر گئے تھے ۔
مذیدکہا کہ ہم سائنس کونچلی سطح (گراس روٹ لیول) پرلے کرگئے ہیں ۔ سکول کی سطح پر سائنس کی تعلیم دی جانی چاہئے ۔ڈاکٹرسومرونے کہا کہ ہمیں اپنی تاریخ کو نہیں بھولنا چاہئے ہمیں اپنی سائنسی تاریخ پربھی نظررکھنی چاہے ۔
سکول اورکالجز میں سائینس کی تعلیم کو پیٹنائز کیا جانا چاہئے
ڈاکٹرمحمد علی ،رئیس جامعہ ،جی سی یونیورسٹی فیصل آباد
شرکاء وحاضرین مہمانان گرامی کی تقریروں سے بورنظرآرہے تھے وی سی صاحب نے حاضرین کی اس کیفیت کو بھانپتے ہوئے کہا مجھے پتہ ہے کہ آپ بورہورہے ہیں اورکہ رہے ہوں گے جان چھڈوجی۔ وی سی صاحب نے اپنے پرجوش اندازمیں حاضرین کو گرمائے رکھا اورمختصربات کی اورانتہائی عقلمندی سے اپنا پیغام سب تک پہنچادیا بھی دیا ۔انھوں نے بتایا کہ میں پنجاب یونیورسٹی کا ہی گریجویٹ ہوں ۔میں اپنی درسگاہ کوسلام پیش کرتاہوں ۔انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہماری ضروریات کیا ہیں ہمارے چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں ۔مذید یہ کہا کہ ہمارے ہاں بے پناہ ٹیلنٹ موجودہے بس اگرضرورت ہے توصرف راہمنائی اورلیڈرشپ کی ۔یہاں وی صاحب اوراساتذہ موجودہیں مقصد یہ ہے کہ ہم آپ (طلباوطالبات) کو سیدھے رستے پرڈالیں تاکہ آپ اپنی منزل کو پالیں۔اپنی تقریر کے اختتام پرانھوں نے سرائیکے کے مشہورشاعر کا امیدافزا نظم بھی سنائی جس سے حاضرین بہت محظوظ ہوئےْ
ہمارے لئے یونیورسٹی کے اورک ڈیپارٹمنٹ بہت ضروری ہے۔آپ طلباء کے پاس بزنس آئیڈیازہیں یہ دیکھا جائے کہ سائنس کو کیسے پروموٹ کیا جائے اس میں انویسٹ کرنے کی ضرورت ہے
تمام یونیورسٹی کا ایک دوسرے کا آپس میں لنک ہونا بہت ضروری ہے۔اور یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ یونیورسٹی کی تحقیق کو کیسے کمرشلائزکرنا ہے
انھوں نے جتے جاتے حاضرین کی بوریت کو دورکرنے کے لئے شجاع شاکر کا کلام بھی سنایا کہا کہ میں جامعہ کا ممنون رہوں گا کہ انھوں نے مجھے مدعوکیا۔ اللہ آپ سب کو خوش رکھے خوشیاں بانٹنے کا شرف دے
ڈاکٹرذکریا ذاکر رئیس جامعہ پنجاب یونیورسٹی لاہور
ڈاکٹرذکریا ذاکر نے اپنے مخصوص سماجی علمی پس منظرمیں سماجیات اورسائنسی علم کے تعلق کو بڑے اچھے اندازمیں پیش کیا انھوں نے کہا کہ اکیڈیمیا انڈسٹری لنکجز اورانوویشن ایک بہت اہم ٹاپک ہے یونیورسٹیاں نئے علم کوجنم دیتی ہیں ۔ معاشرے کو کو علمی سائنس سے استفادہ حاؒصل کرنا چاہئے جبکہ دوسری طرف سائنس نالج سے فوائدبھی حاصل کرتی ہیں۔
معاشرہ اورسائنس اگرآپس میں لنک کرلیں تو ہمارے کئی معاشی معاشرتی سماجی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں سائنسی علم کی اہمیت نہیں ہے ۔ہمارے نالج پیداکرنے والے ادراوں میں کچھ مسائل ہیں ہم لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کرسکے نہ ہی ہمارے ہاں صاف پانی تک مہیا ہے۔ہم میں رواداری نہیں ہے یہ سب ہمارے رویوں اورسوچ کی عکاسی کرتی ہیں ہمارے معاشرے میں علم کی اہمیت وقدرنہیں ہےجس کی وجہ سےسائنیسی سوچ کو پروان نہ چڑھاسکے جس کی وجہ سے تخلیق بھی کم ہوئ۔ ۔انھوں نے عصرحاضرسے مثال دیتےہوئے کہا غربت اورتشدد کے علاوہ عدم برداشت کا رویہ عام ہے۔ شدات پسندانہ رویہ رویہ سوسائٹی میں فروغ پاچکاہے ۔یہ ہماری ناکامی ہے کہ ہم سائنسی علم کو معاشرے میں رواج نہ دے سکے۔
ہم نے سائنسی علوم کو صنفی برابری اورفرق ،غربت کو ختم کرنے کے لئے استعمال نہ کیا ۔اخیرمیں حاضرین سے شئیرکرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام اکیڈیمیا انڈسٹری لنکجزکومظبوط کریں گے ۔ان سب کو معاشرے کی بہتری کے لئے لنک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کو بھی مین سٹریم پرلایا جسکے ۔اگر یونیورسٹی کوانسانوں اورمعاشرے کی بہتری کے لئے استعمال نہ ہوں سکیں تووہ یونیورسٹی کہلانے کی حقدارنہیں
وزٹ سٹال وزٹ
افتتاحی تقریب کے بعد مہمان خصوصی اوردیگرمہمانان گرامی کو سٹال کو دورہ کروایا گیا اوروہاں پرپوسٹرڈسپلے اورعملی طورپرٹیکنالوجی اورپروٹوٹائپ ڈسپلے تھا۔بنیادی طورپر یہ جوہرقابل کی کہکشاں ثابت ہوئی تھی۔نوجوان طلباء اورطالبات ،موجدین ریسرچر اورپروفیسر نے اپنی اپنی ٹیکنالوجی کی پریزینٹشن کی ہوئی تھی اس کے متوازی طورپرایک ٹیم مشتمل تھی
جوپیش کی جانے والی ٹیکنالوجی کی اسیسمنٹ کررہی تھی اوراس کے لئے جانچنے کے لئے راہنما اصول وضع کئے ہوئے تھے ۔جن میں اسکے معاشری اثرات ،معاشرے کے فوائد،سستی ٹیکنالوجی اورروزگار کے مواقع جیسے اصول وضع کئے گئے تھے۔جن کی بنا پر اول دوم سوئم آنے والی ٹیم کی ٹیکنالوجی کوجانچا گیا اوراس کے معاشرے افراد اورانڈسٹری پر پڑنے والے مثبت اثرات کا جائزہ لیا گیا نیزیہ کہ معاشی طور پر اس کے کیا فوائد ہیں
سمٹ کے مختلف سیشن کی حسن ترتیب
کوئی بھی تقریب کسی خاص مروجہ طریقہ کاراوراصول اورایجنڈا کے تحت منعقدہوتی ہے دودن کی سمٹ کو مختلف سیشن میں تقسیم گیا تھا۔جسی کی مختصر طور آگاہی ذیل میں دی جارہی ہے تاکہ سمٹ کے پس منظراورپیشن منظرکو سمجھنے میں مددمل سکے
مختلف سیشن ہرسال کی سمٹ کے مستقل حصے ہوتے ہیں جن میں پاکستان کے ابھرتے مسائل اورسیکٹرمیں ہونے والی نمایاں ترقی جدید رحجانات پر بحث ومباحثہ کیا جاتاہے اس میںپی ایچ ڈی سکالر،پروفیسر،سائنسدان طلباء طالبات اپنے اپنے مقالہ جات پڑھتے ہیں اوراس کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ ہوتاہے۔یہ ایک اچھا سلسلہ ہے جس میں محققین شائقین اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔ ہرسیشن میں متعلقہ موضوعات پرسیرحاصل بحث کی گئی۔
اسکے ساتھ ساتھ اکیڈیمیا انڈسٹری لنکجزپرمختلف سیشن کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں اعلیٰ سطح پرمنصوبہ جات بنائے جاتے ہیں اورمستقبل میں مل جل کرکام کرنے لائحہ عمل طے کیا جاتاہے۔جبکہ اس کے متوازی طورپرٹیکنالوجی کا ڈسپلے بھی کیا گیا
درج ذیل مختلف سیشن کی مختصرطورپرمعلومات شئیر کی جارہی ہے تاکہ قارئین کو آگاہی حاصل ہو سکے
روزاوّل۔ ۷ مارچ ۲۰۱۸
پہلے دن زرعی ،ٹیکسٹائل،کیمیکل،اورآئی سی ٹی،فوڈ،سمارٹ سیٹیز،انڈسٹریل پروڈکٹیویٹی اورتعلیم پرمقالہ جات پڑھے گئے
Session 1:In Augration
اس سیشن میں اورک کی ڈائریکٹرکا افتتاحی سیشن سے خطاب ہوتاہے اوراسکے ساتھ آئی آرپی کے سی ای واورڈائریکٹرجنرل نے خطاب کیا اورایوان صعنت وتجارت لاہورکے صدرنے خطاب کیااس کے بعدمختلف مہمانان گرامی نے خطاب اورمختصرتقریرکی ۔مختلف جامعات ،تحقیقاتی ادروں انڈسٹری اورسائنسدان خطاب کرتے ہیں اسی طرح سرکاری ادارو سے بھی مدعو کیاجاتاہے
اس کے بعدٹیکنالوجی نمائش کا باقاعدہ انتظام کیا جاتاہے اورشرکاء اورمہمان خصوصی اوردیگرمہمان سٹال کا دورہ کرتے ہیں اورانھیں سائنسدانوں کی طرف سے بنائی گئی پراڈکٹ،مفید ایجادات پروٹوٹائپ ماڈل اورپوسٹرآئیڈیاز کے متعلق بریفنگ دی جاتی ہے اورکچھ ٹیکنالوجی کا مظاہرہ بھی کروایاجاتاہے اوراس دوران سوال جواب کاسلسلہ ہوتاہے اورمفید معلومات ایک دوسرے سے شئیر کی جاتی ہے
یہ سب یونیورسٹی کے کوریڈومیں لگائی گئیں تھیں۔
اس پوری سمٹ کو پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کی جانب سے رپورٹ بھی کیا گیا اوراسکی پروسیڈنگ بھی کی جاتی ہے
Session 2: Role of Policy on Science,Technology & Innovation
اس سیشن میں سائنس ٹیکنالوجی انوویشن کے حوالے سے پبلک پالسیس پبلک پالیسی پرسیرحاصل گفتگوکی جاتی ہیں اورسفارشات مرتب کی جاتی ہیں اوراسے رفا انٹرنیشنل یونیورسٹی نے آرگنائزکیا تھا
انوویشن کو پروموٹ کرنے کے حوالے معاشی پالیسیوں اوراسکے اثرات کا جائزہ لیا گیا اورٹیکس وڈیوٹی کے نفاذکے حوالے سفارشات مرتب کی گئی تاکہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کوکیسے فروغ دیا جاسکتاہے
Session 03:Popularizing Science through Science Communication
اس سیشن میں اس بات پرسیرحاصل بحث کی گئی تھی کہ کیسے میڈیا پاکستان اوربین الاقوامی طورپرسائنس اورٹیکنالوجی کو فروغ دے سکتاہے
اس سیشن کو ٹیکنالوجی سٹی نے آرگنائزکیا
Session 4:IP Policy for Research Commercialization
اس سیشن کو یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی لاہورکے شعبہ ساتھ کی جانب سے انعقادکیا گیا تھا
اس سیشن کے تحت ان نکات پربحث کی گئی کہ پاکستان میں کیسے حقوق دانشوران یعنی آئی پی پالیسی کےماڈل پربحث کی گئی اوراس ضمن میں اسکے نفاذکے حوالے سے درپیش مشکلات وچیلنجزپربات چیت کی گئی ۔اس سیشن میں مخلتف یونیورسٹیوں کے اورک شعبہ جات کے سربراہان کو مدعوکیاگیا تھا
Session 5: Meeting of Business Incubation Centers on "How to promote entrepneurship in graduates"
اس سیشن کو باقاعدہ طورپر یونیورسٹی آف یونیورسٹی آف مینجمنٹ اورٹیکلنالوجی لاہوراورپنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ایم بی ای نے مشترکہ طورپر کیا ۔اس سیشن میں گریجوایٹ طلباء میں بزنس آئیڈیاز اورطلباء کی کاروباری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے بات چیت کی گئی
Session 6: Technologies for Sustainable Agricultre
اس سیشن کو یونیورسٹی آف سرگودھا سے ایگریکلچر کالج نے آرگنائز کیا اس سیشن میں زرعی انڈسٹری کے لئے ٹیکنالوجیزکو پیش کیاگیا اس سیشن میں انڈسٹری کی جانب سے بھی شرکت کو یقینی بنایاگیا
Session 7:Technologies for Value Added Textile Sector
اس سیشن کویونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی لاہور کے سکول آف ٹیکسٹائل کی جانب سے آرگنائزکیا گیا
اس میں ٹیکسٹائل سیکٹرکے لئے مفید ٹیکنالوجی پربحث کی گئی اورکچھ حل پیش کئے گئے
Session 8 : Technologies for Mineral Based Chemicals and Materials
اس سیشن کوجی سی یونیورسٹی لاہورکے شعبہ کیمیا نے آرگنائزکیاتھا اس سیشن کے تحت کیمیکل اورمیٹرئیل انڈسٹری کے حوالے سے ٹیکنالوجی پیش کی گئی اوران کے کچھ مسائل کااحاطہ کیا گیا
Session 9:Technologies for ICT Sector
اس سیشن کوآرگنائزکرنے میں انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی نے اہم کرداراداکیا اس سیشن میں انفارمیشن کمیونی کیشن اورٹیکنالوجی سے متعلق ٹیکنالوجی کو پیش کیا گیا اوراس سے متعلقہ انڈسٹری کے کچھ مسائل کے حل کی طرف پیش قدمی کی گئی
تمام سیشن متوازی طورپرچل رہے تھے اوران کا انقعاد کروایاگیا اوراس میں طلباء پروفیسزر،موجد سائسندان اورزندگی کے متعلقہ شعبہ جات کے ماہرین اورلوگوں نے بھرپورشرکت کی
Session 10:SATHA Innovation Awad+ NetWorking Dinner
پہلے دن کا آخری سیشن
اس سیشن کا انعقاد یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی کے شعبہ ساتھ کی جانب سے کروایاگیا ۔ اس میں مقامی سائنسدانوں کی جانب سے کامیاب ٹیکنالوجی کی کہانیاں شرکاء سے شئیر کی جاتی ہیں۔ یوارڈ ان کو دیاجاتاہے جنھوں نے انفرادی طورپر یاآرگنائزیشن کی سطح پراپنی ٹیکنالوجی تحقیق انوویشن کے ذریعے معاشی اورمعاشرتی اثرات چھوڑے ہوں
یہ ایوارڈ میڈل، سرٹیفیکیٹ ،تعریفی اسناد یا نقدی کی صورت میں دیا جاتاہے۔اس سے شرکاء کوایک پلیٹ فارم پر نیٹ ورکنگ کا موقع مل جاتاہے۔اس کے مہمان خصوصی ریکٹرپروفیسر ڈاکٹرحسن صہیب مرادتھے ۔ سیشن کے اختتام پرمہمانوں کو پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا
روزثانی
Session 11: Fund Winning Opportunities for Academia & Industry
اس سیشن کے آرگنائز پاکستان سائنس فاونڈیشن تھی
اس سیشن میں اس بات پربحث کی گئی کہ اطلاقی تحقیق کے لئے کیسے موثرپروپوزل کو بنایا جاسکتاہے تاکہ فنڈحاصل کیے جاسکیں اس سلسلہ میں تمام ٹپس ٹیکنیک پربات کی گئی
Session 12:National Workshop on Organic Food & Health :Avenues for Innovation & Entrepreneurship
پاکستان کونسل آف سائنس اینڈٹیکنالوجی نے اس سیشن کا باقاعدہ طورپرانعقادکیا نامیاتی فوڈ اورصحت کے نام سے ورکشاپ ہوئ اوراس میں انوویشن اورکاروبارکے مختلف ذاویوں اورمواقع پربحث کی گئی
Session 13: Innovative Technologies for Food Sector
اس سیشن کو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ آئی اے جی ایس اور اور این اے ایف ایس نامی ادارہ نے مشترکہ طورپر اسکا انعقاد کیا
اس سیشن کے تحت فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری سیکٹرکے لئے مختلف ٹیکلنالوجی کے ذریعے ان کے مسائل کے حل پیش کئے گئے
Session 14:Technologies for Agriculture Engineering
اس سیشن کا آغازاورانعقاد بہاءالدین ذکریایونیورسٹی کے شعبہ ایگری کلچر انجنرئنگ نے کیا تھا
اس میں ایگری کلچرانجنرئنگ انڈسٹری کے مسائل کے حوالے سے ٹیکنالوجی اورحل پیش کئے گئے
Session 15:Technologies for Smart and Sustainable Cities
اس سیشن کا انعقاد یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی کے شعبہ سمارٹ سٹی ریسرچ فورم ،سیپ نے مل جل کر باہمی اشتراک سے کامیاب انعقادکیا
اس سیشن کے تحت عصرحاضرمیں جدید شہروں کے مسائل اوران کے حوالے سے موثرٹیکنالوجی اورحل پیش کئے گئے جدید شہرعصرکا تقاضہ ہیں
Session 16: Business Plan Competition
اس سیشن کا انعقاد پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ایم بی ای اوریونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈٹیکنالوجی نے باہمی طورپرکروایا
اس سیشن میں مختلف یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے طلباء اورطالبات نے اپنے اپنے نئے کاروباری آئیڈیاز
اوران کے پلان پیش کیا گیا کہ کیسے نئے کاروباری مواقع کو تلاش کرکے ان کوشروع کیا جاسکتاہےاس مقابلے میں بہت بزنس پلان سامنے آئے
اس سے طلباء کی چھپی ہوئی کاروباری صلاحیتں اورآئیڈیازسامنے آئے۔
Session 17: Technologies for Industrial Productivity & Efficiency
اس سیشن کو پائیڈ نے آرگنائزکی۔اس سیشن کے تحت مختلف صنعتوں کے پراسیس ڈیزائن اورنظام کے حوالے سے مختلف ٹیکنالوجی اورانڈسٹری کو درپیش چندمختلف مسائل کو ڈسکس کیا گیا اوران کے حل کوپیش کیا گیا
Session 18 : Technologies for Education Sector
اس سیشن کو ملٹی پلائی ایجوکیشن نامی ادارہ نے آرگنائزکیا اوراس کے تعلیمی شعبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ پرسیرحاصل تبصرہ کیاگیا اوراس سیکٹرکی بہتری کے لئے مختلف جدید اختراعی حل پیش کئے گئے
Session 19 : Closing Session
یہ بنیادی طورپراختتامی سیشن تھا جس میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اورک کی جانب سے سمٹ کی مختلف سرگرمیوں کی جھلک کو پیش کیا گیا یہ ویلکم ایڈریس تھا۔اختتام پرجیتنے والے کامیاب امیدواروں کے لئے نقدی پیش کی گئی اسکے ساتھ حوصلہ افزائی کے لئے سرٹیفیکیٹ اسنادبھی پیش کی گئیں
تقریب کے اختتام پرچیف گیسٹ نے خطاب کیا اس کےمہمان خصوصی وی سی یواس جناب ڈاکٹرپروفیسرڈاکٹرطلعت پاشا نے خطاب کیا جبکہ مختلف یونیورسٹیوں کے وی سی صاحبان کو بھی مدعوکیا گیا تھا
ٹیکنالوجی ڈسپلے
اس سمٹ کی نمایاں خصوصیات یہ تھی کہ پورے ملک کے طول عرض سے مختلف جامعات اوراداروں نے اپنے اپنے سٹال لگائے ہوئے تھے ۔آئی آرپی کی ٹیم نے ہرسٹال کی میڈیا کوریج کی۔ سٹال اورٹیکنالوجی کی ویڈیو بھی بنائی تاکہ اسکو قومی اوربین الاقوامی سطح پر متعارف کروایا جاسکے۔
خواتین کی اکثریت بھی اس سمٹ میں حصہ لے رہی تھی انھوں نے اپنی ٹیکنالوجی کی نمائش کی ہوئی تھی اوروہ کسی طورپرنوجوانوں طلباء سے اس میدان میں پیچھے نہ تھیں اوراس دن عورتوں کے دن کے حوالےسے بھرپورنمائندگی کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ یہ ملک کا جوہرقابل ہیں
مہمانان گرامی نے ایجادات ایپس پروٹوٹائپ اوران کی سائسنی کاوشوں کو محنت کو سراہا اورمفید مشوروں سے نوازا اورکچھ پر تنقیدی نکتہ نظرسے جانچا جس سے ان کو اپنی ایجاد وپراڈکٹ کو بہتربنانے میں مدد ملے گی!
بہرحال یہ ایک مجموعی طورپر اکیڈیمیا انڈسٹری حکومتی پارٹنرشپ کا بہترین مجموعہ تھا۔سٹال پریونیورسٹی کے طلباء نے پورادن وزٹ کیا اورمعلومات لیتے رہے
دیگرسٹال
شرکاء کی رہمنائی اورمعلومات کے لئے علیحدہ سے ہیلپ سینٹریا سٹال بھی لگایاتھا جس میں شامل رضاکارومعاونین نے شرکا ء کو معلومات بہم پنچائی
فوڈ سٹال
شرکاء کی کھانے پینے کی ضروریات نیز لذت ودہن کے لئے کھانے پینے کی اشیاء کے سٹال بھی لگائے تھے جن میں فروٹ چاٹ کافی چائے دیگراشیاء بھی موجود تھیں۔
بک سٹال
نوجوانوں ادب کی ترویج کے لئے چندکتب کے سٹال بھی لگائے گئے تھے تاکہ کتاب دوستی کو پروموٹ کیا جاسکے۔طلباء وطالبات نے ادبی سائنسی اوراکنامکس سے متعلقہ کتب کی خریدای کی ۔یہ امرباعث اطمینان ہے کہ ہمارے طلباءوطالبات میں کتب بینی کا شوق پایا جاتاہے جو کہ ایک صحتمندانہ سرگرمی ہے
طلباء کی نفسیاتی وتعلیمی مسائل وکیرئیر ڈویپمنٹ کا سٹال
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ کلینکل سائکالوجی کا بھی سٹال موجود تھا جہاں پرطلباء وطالبات کی نفسیاتی طریقہ سے تھراپی کے حوالے رہنمائی کی جاتی رہی اوران کے تعلیمی اورپروفیشنل کے حوالے سے معلومات اورکونسلنگ کی جاتی رہی تھی جو کہ ان کی کئرئیر کونسلنگ میں بہت اہم عنصرہے
ایجاد واختراع
بعض مسائل رحمت اورزحمت ہوتے ہیں جن کے اندرہی اسکا حل پنہاں ہوتاہے بس اس کے لئے انسانی عقل اورشعورکی اشدضروری ہوتے ہے یہی مسائل بعض اوقات انسان کی روزی روٹی بنکرنعمت ثابت ہوتے ہیں ۔ ملک کے چاروں کونوں سے ہونہارطلباء وطالبات کی کہکشاں جمع تھی جنھوں نے اپنے اپنے شعبہ جات میں مفید ایجادات کی تھیں کچھ کے پاس آئیڈیازتھے توکہیں پروٹوٹائپ بھی دکھائی کچھ آئیڈیازکو پوسٹرپرڈسپلے کیا گیا تھا ۔بنیادی طورپریہ ایجادات ہمارے معاشرتی معاشی مسائل کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہیں اوران مسائل کا حل ایجادات کی صورت میں نظرآیا۔ کاروباری حضرات اورمعاشرے کے لئے کارآمد اداروں کے لئے کچھ مفید ٹیکنالوجی بھی پیش کی گئیں ۔ پاکستان صنعت کو یونیورسٹٰی میسرودستیاب جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔۔ جدید ٹیکنالوجی پر دسترس سے ہی کسی معاشرے میں انقلاب برپا کیا جاسکتاہے
تحقیق کسی معاشرے کی علمی فضیلت اورترقی کے لئے اہم ہے ۔طلباء وطالبات کی ان کے تعلیم وتحقیق کے ذوق کو ابھارنے کی ضرورت ہے۔تحقیق کی طرف لانا ہوگا کائنات کے چُھپے رازوں کا کھوج لگانا ہوگا۔ سائینس کا اصل مقصد انسانی مشکلات کو حل کرنا اورانسان پرعلم اورتحقیق کے دروازے کھولنا ہے۔
نئے علوم کی تخلیق کرنا جامعات کا بنیادی فریضہ ہے۔شرکاء اورمختلف یونیورسٹی کے طلباء اورطالبات کی ایک کثیرتعدادنے ان ایجادات میں دلچسپی لی اورموجدین سے ان ایجادات کے حوالے سے اپنے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالوں کے جوابات بھی حاصل کئے۔ ۔یہ چیزظاہرکرتی ہے کہ پاکستانی نوجوان طلبا وطالبات میں بے پناہ صلاحیتیں بدرجہ اتم پائ جاتی ہیں۔ یوں ملک وقوم کی ترقی سائینسی علم اورنوجوانوں سے ہی ممکن ہے۔ ملک کی ترقی استحکام اورمستقبل ان نوجوانوں باصلاحیت کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بات اظہرمن الشمس ہے نوجوان ہی اصلی اور حقیقی سرمایہ ہیں۔ یہ امرانتہائی خوش آئیند ہے کہ کہ طالبات اور طلباء کی کثیرتعدانے اس سمٹ میں حصہ لیا اورانواع واقسام کی ایجادات کی نمائش کی ۔بعض اداروں اور جامعات کے کچھ طلبات دیگروجوہا ت کی بناپرعدم شرکت سے محروم رہ گئے!
گلہائے رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے ذیب اختلاف سے ہے
تہذیب نسواں، ۱۹۲۸
ہمارے ملکی سائنسدان اور ان کی چندمفید اورکارآمد ایجادنو
جمعرات کو طلباء اورمقامی افراد نے بھی سٹال کا دورہ کیااورمحقیقین ریسرچ آفیسر،موجد،تحقیقاتی اداروں ،صنعتی نمائندوں پروفیسر سمعیت کئی افرادنے سٹال کا دورہ کیا اورپیش کی گئی پراڈکٹ اورٹیکنالوجی کا مشاہد کیا
روبوٹ ٹیکنالوجی
All Ears
سماعت اوربصارت سے محروم افرادکے لئے بھی ایپس اورٹیکنالوجی پیش کی گئیں اوران کے روزمرہ مسائل کے حل کا احاطہ کیا گیا۔ پشاوریونیورسٹی کے طالب علم نے بہرے لوگوں کے لئے ایک آلہ بنایا کیونکہ فائرنگ کی آوازنہیں آتی
خطرے کی جگہ پر فلیش کرتاہے اورساونڈکی تیزآوازہوجاتی ہے موبائل پر یہ فری ہے اوراین جی اوسے مل سکتاہے
اس کے علاوہ لکھا ہواپیغام آوازکی شکل میں وائس بولتاہے
سمارٹ سٹی
البراق
موبائل ایپلی کیشنز
گیس سلنڈر ایل پی جی (ری فلر) ٹیکنالوجی
سب ٹیکنالوجی کی مختصراویڈیو تعارف بھی شامل کیا جائے تاکہ ایک ہسٹری بھی بنتی رہے۔اپلی کیشن بتاتی ہے کہ اب کتنی گیس رہ گئی ہے
سمارٹ فیکٹری
ایس ایم ای سیکٹراسکی پروڈکٹی وٹی ایفی شینسی کو بہترکرنے کے لئے ایپس ڈئزائن کی گئیں
ڈینگی کٹ (آل ان ون)
ریشم کے کیڑے اورریشم تیارکرنے کی مشین
یونیورسٹی میں پہلی دفعہ شرکاء وزیٹرکے لئے پنجاب کے زرعی محکمہ کی جانب سے شُترمرغ کے حوالے سے آگاہی سٹال
سٹال بھی لگایا گیا جہاں طلباء ولوگوں نے معلومات لیں۔شرکاء کوبتایاگیا کہ شترمرغ کا گوشت ۹۰ فیصدچکنائی سے پاک ہوتاہے یہ دل سے متعلقہ کئی بیماریوں کا علاج کا حل بھی ہے۔ انسانوں کے مابین جانوروں کی موجودگی سے شرکاء بہت محظوظ ہوئے اوران کے ساتھ سیلیفی بھی بناتے رہے
نہیں ہے کشت بڑی نم ہے ساقی
ذرا
نوٹ:آئی آرپی سے اس سمٹ میں پیش کی گئی دیگر ٹیکنالوجی کی تفصیل اوردیگر متعلق معلومت رابطہ کرکے لی جاسکتی ہیں
اختتامی تقریب وتقریب انعامات
مختلف اداروں جو کہ بطورسپانسر بھی تھے ان کی طرف سے اول دوم سوئم آنے امیدواروںکوکیش ایوارڈ دئے گئے ور انکی حوصلہ افزائی کے لئے سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے گئے !اوربعض سائنسدانوں کو خدمات اوراعزازکے طورپرتوصیفی شیلڈواسناد پیش کی گئیں۔بعد میں مہمان خصوصی کو خصوصی شیلڈ پیش کیا ۔ آئی آر پی ٹیم ،منتظمین اورآرگنائزکی محنت اورخدمات کو سراہتے ہوئے اعزازی شیلڈ پیش کی گئیں۔
۸ مارچ کو چونکہ خواتین کاعالمی دن بھی تھا سو اس دن کی مناسبت سے ان کی خدمات اورکردار کو سراہا گیا
سمٹ کے اختتامی تقریب میں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈاینمل (یواس) کے رئیس جامعہ جناب پروفیسرڈاکٹرطلعت نصیرپاشا نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔ان کی شرکت بوجہ ٹریفک جام دیرسے ہوئی انھوں نے باتوں باتوں
میں آئیڈیا دیا ہمیں ایسی انوویشن کی ضرورت روزمرہ ٹریفکے مسائل اورمعلومات ایپ کے ذریعہ فرام کرے
انھوں نےمذید کہا کہ اس طرح کے ایونٹ جامعات اورصنعتوں کے درمیان تعلق کوفروغ دیتے ہیں۔انھوں نے نجی اورعوامی اشتراک کے زیراہتمام کامیاب ایونٹ کے انعقادپرمنتظمین کی کوششوں کوسراہا اورتعریف کی۔
تقریب کے اختتام پر یونیورسٹی کی جناب سے مہمانان گرامی کی لذت دہن کے لئے ہائی ٹی کا انتظام بھی کیا گیا اوریوں تقریب باقاعدہ طورپر اختتام پذیرہوئی
طلباء وطالبات، سائنسدان اوردیگرشرکاء علم کے تحٓائف کچھ سیکھتے سکھاتے اپنے تجربات شئیرکرتے ہوئے ،حسین یادیں لئے رخصت ہوئے اورملک وقوم کی ترقی میں اپنے حصے کی شمع جلاتے ہوئے کسی نئی منزل کی طرف رخصت ہوئے۔طلباء وطالبات کیش ایوارڈ اورحوصلہ افزائی ملنے پرمسرورتھے۔ ان کے چہروں پرخوشی کی جھلک اور دمکتے چہرے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ انھوں نے اپنی محنت کے پھل اورکچھ مقاصد کو پالیا ہے اورآئی آر پی کا مقصد تھا کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے!یوں وہ دل ودماغ میں حسین یادیں سمیٹے ہوئے اورمسقتبل کے خواب آنکھوں میں سجائے ہنسی خوشی اپنے گھروں کو رخصت ہوئے اور سیکھ سکھاکر پھرکسی نئی منزل کی طرف گامزن ہوگئے!
آئی آرپی کی پوری ٹیم اس بات کی مبارکبادکی مستحق ہے کہ جنھوں نے اس سمٹ کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات کوشاں رہے بہرحال یہ ایک کامیاب تقریب تھی!آئی آرپی نے ملک کے طول وعرض سے آئے ہوئے مہمانوں کی رہائش کے اچھا انتظام کیا ہوا تھا۔سمٹ کو سوشل میڈیا پرشئیر کیا گیا اورپیش کی گئی ٹیکنالوجیزکو نہ صرف سماجستان کی مختلف ویب سائٹ جیساکہ ٹویٹر،فیس بُک انسٹاگرام ،سنیپ چیٹ یوٹیوب پر،مقامی اورعالمی سطح پرشئیرکیا گیا جس سے پاکستان کا ایک سافٹ امیج کو پروموٹ کیا گیا۔پورے ملک میں سائنس اوورٹیکنالوجی کافروغ ہوگا اس سمٹ کے اثرات اورکامیابی کا ااندازہ چاروں صوبوں میں منعقد ہونے والی انوویشن سمٹ سے لگایا جاسکتاہے ۔
ہماری آنکھوں میں جوخواب ہیں وہ سب وطن کےہیں
یہاں جو گوہر نایاب ہیں سب وطن کے ہیں
######
حاضرین کی سمٹ سے متعلقہ فیڈبیک،تجاویز اور تجویزکردہ عملی سفارشات
سمٹ کے دوران اوردوران گفتگو، مختلف سیشن اورفریقین اورطلباء وطالبات سے گپ شپ کے دوران سمٹ کے حوالے سے اورفروغ تحقیق وسائنس ٹیکنالوجی اورتحقیق کے فروغ کے لئے مفید تجاویزسفارشات اورکارآمدمشورہ جات سامنے بھی آئے جوقارئین اورمتعلقہ فریقین کے لئے دلچسپی کے حامل ہوں گے یہ نکات آپ کے لئے حاضرخدمت ہیں۔
ٹیکنالوجی بُک بنائی جائیں جس میں ہرسائنسدان اورٹیکنالوجی کا تعارف ہو اسکو انگلش اوراردومیں تحریرکیا جائے
طلباء اورطالبات کے سائنٹفک آئیڈیازکو پروموٹ کریں
یونیورسٹی اوراسکی تحقیق کو کوگلوبل نالج کا حصہ بنائیں
یونیورسٹی کے اندر ایسا ماحول ہو جس میں تدریس وتحقیق اورسیکھنے کے عمل کو فروغ مل سکے
انتظامیہ ریسرچ فرینڈلی پالیسی بنائے
ایسی تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جو ملک اورمعاشرے کی ترقی اور معیشت پر مثبت اندازمیں اثرکرے
ڈائریکٹری بنائی جائےٹیکنالوجی بک جس میں ہریونیورسٹی کی ٹیکنالوجی کا تعارف موجودہو۔اس ٹیکنالوجی کے چند فوائد اورقوم وملک کو حاصل ہونے والے فوائد کاتذکرہ ہو
ملک میں طلباء نچلی سطح پرقدرتی ٹیلنٹ کوفروغ دینے کی ضرورت ہے
ملکی یونیورسٹیوں کا عملی جامعات بنانے کی طرف قدم اٹھانے کی عصرحاضرمیں بہت بڑی ضرورت ہے
سمٹ کی کچھ تصویری جھلکیاں
|
تمت بالخیر |
|
مصنفین کا مختصرتعارف اورشخصی خاکہ
|
رحمت اللہ:آئی آرپی کے روح رواں اورچیف کوارڈینٹر اورپاکستان میں تحقیق کے کلچر کے فروغ کے لئے عرصہ ۱۵ سال سے دن رات مصروف عمل ہیں ۔پاکستان میں انڈسٹری اکیڈیمیا انڈسٹری لنکجز اورانوویشن سمٹ ان کے زرخیزذہن کی اختراع ہے۔اب تک کئی جامعات ،انڈسٹری ،پبلک سیکٹر نجی اداراوں کے ساتھ ملکر کئی تحقیقی پروگرام کانفرنس ورکشاپ سیمینار کا کامیابی سے انعقادکرواچکے ہیں۔ان کامحبوب موضوع ٹیکنالوجی مینجمنٹ ہے۔
حامد ملک :ساتھا میں بطورایڈوائزراعزازی طورپر مشیرہیں۔ادارہ فروغ تحقیق کے سابقہ ڈائریکٹر رہ چکے ہیں فی الوقت ای اینڈ وائے کے کنسلٹنٹ ہیں اورانڈس پاک پاکستان کے سی ای اوہیں جوکہ رائس مشیینری میں ایک نمایاں ادارہ ہے ۔کئی پلیٹ فارم پراکیڈیمیا انڈسٹیری لنکجز پروگرام کے حوالےسےنمائندگی کرتے ہیں ملکی سطح پرتحریروتقریرسے ملک وقوم کی خدمت کررہے ہیں۔
مجاہدعلی: یوآئی پی پروگرام کے سابق کے پروگرام یوآئی پے مینجراورریسرچ ایگزیکٹورہ چکے ہیں اورڈیلی رائس نیوزلیٹراوررائس پلس میگزین کے مدیرہیں
چلوتم ادھرجدھرکی ہواہو
mujahidali12 5 @yahoo.com
No comments:
Post a Comment