Monday, 14 November 2022

Real and Genuine role of a Teacher in a Society

 

بسلسلہ تعلیم وتربیت ،کیرئیرکونسلنگ وگائیڈنس

معاشرے میں ایک  اُستادکااصل اورحقیقی کردار!

عصرحاضر کےاساتذہ اورپروفیسرزکے لئے ایک راھنُما اورفکرانگیزتحریر

۳مختصرکہانیاں

فکرخیال:مجاہدعلی

mujahidali12 5@yahoo.com,0333 457 6072

 


مجھے بچوں سے پیارتھا!

کئی سال پہلے   کی بات ہے ہندوستان کے  مشہورشہردہلی کی ایک کچی بستی جسے جھونپڑپٹی  بھی کہاجاتاہے ،وہاں پرسرکاری پرائمری سکول  میں  انتہائی غریب والدین کے ۸۰  طلباءزیرتعلیم تھے۔ جن کے  پاس   نہ کھانے  پینے کے لئے وسیع ذرائع  اور نہ  ہی پہننے کے لئے مناسب لباس!لیکن بہرطورکسی نہ کسی طرح طُلباءاپنی تعلیم کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔اوردن بس ایسے گزرتے رہے۔

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

پھرکچھ ایسا ہوا کہ دہلی  شہرکی ایک جامعہ کے شعبہ عمرانیات کے پروفیسرنے جامعہ کے ایم اےکے طلباءکوپراجیکٹ دیاکہ وہ  اس  بستی کے سکول کے بچوں پر اپنی خصوصی رپورٹ مرتب کریں کہ ان  غریب بچوں کاآخرکیا  مستقبل ہوگا ؟ طلباء نےتحقیقات کرکے مطابق  اپنی رپورٹ مرتب کی۔ نتائج کی بناپر اس کا لُب لباب یہ تھاکہ اُن کامستقبل ان کے والدین کی طرح ہی تاریک ہوگا ؟ خیریہ رپورٹ بھی یونیورسٹی کے شعبہ ریکارڈکی الماریوں کی زینت بن گئ!

بیس سال بعدآنے والے  نئےپروفیسرکےذہن میں اچُھوتاخیال  آیاکہ برسوں پہلے ہوئی اس تحقیق کے نتائج کوذراپرکھ لیاجائے کہ بچے اب کن معاشی اورپیشہ ورانہ حالات سے گزررہے ہیں ؟ شعبہ عمرانیات کے طلباءکوایک بار پھریہ اسائنمنٹ سونپ دی گئ کہ وہ چھان پھٹک کریں کہ بیس سال پہلے اس سکول کےطلبا کی چھان پھٹک کریں کہ وہ آج کل کن حالات میں ہیں! طلباءنے انتہائ محنت اور بہت تلاش بسیارکے بعد انتہائی حیران کُن نتائج اخذکرکرکے یونیورسٹی کے پروفیسرکوپیش کئے ۔ان نتائج کے مطابق ۷۶ نوجوان جوکل کے بچے تھے آج ان میں سے کوئی کامیاب ڈاکٹرہے توکوئی انجنئیر ، کاروباری ،وکیل  یاپھراکاونٹنٹ اورباقی اسی طرح کامیاب پروفیشنل اوراچھے عہدوں پرفائزتھے!اس پرنیاپروفیسرحیران تھا کہ آخرکس  طرح طلباء کی ذندگی میں اس طرح کاانقلاب برپا ہواتھا۔اس کوجستجوہوئی کہ ہونہ ہوطلباء کی اس کامیابی کے پیچھے ضرور کسی نہ کسی بہترین اورکامیاب اُستادکاہاتھ ہے۔خیروہ پتہ کرتے کراتے اس  ریٹائرڈبوڑھی ٹیچرکےگھرجاپہنچا!اس سے پوچھاگیاکہ آخریہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا ،کہ آپ کے زیرتعلیم طلباءنے اتنی نمایاں اورحیران کُن حدتک ذندگی میں کامیابی حاصل کرلی ؟ تواس نے  جوجواب دیا،وہ سنہرے حُروف سے لکھنے کے قابل ہے ۔اُس نے بڑی عاجزی اور متانت  سے جواب دیا :

مجھے اُن بچوں سے پیارتھا

اب ذرا تھوڑی  دیرکے لئے توقف کرکےکچھ اساتذہ  خودکواس پیمانے ، کسوٹی پررکھ اورترازومیں تول کرتودیکھیں!وہ خودکہاں کھڑے ہیں اور پھرپوری ایمانداری سے اپناجائزہ لیں ؟

کاش یہاں بھی بچوں کویہ کہ سکیں کہ آپ جوبنناچاہتے ہیں بن سکتے ہیں! چلیں  آگے بڑھ کراب ذرا ملتاجُلتا ایک  اورواقعہ بھی پڑھ لیجئے:

میں نہیں کرسکتا!

اب ذراسری لنکاکی ایک خاتون اُستادکاقصہ پڑھ لیں !

ودیاسنہا سری لنکاکے ایک سرکاری سکول میں سنہالی ذبان کی استانی تھی!ہرسال اُس کی کلاس میں جب نئے بچوں کاداخلہ ہوتا تو پہلے دن  سب  ایک دوسرے اپنااپنااپناتعارف کرواتے۔اُس ایک پہلے دن   وہ بچوں سے ایک سرگرمی ضرورکرواتی  تھی۔وہ ان  تمام بچوں کوکوحُکم دیتی تھی  کہ تمام بچے اپنی کاپیوں میں  سے ایک خالی صفحہ پھاڑیں!

پھران بچوں  سےکہا جاتاکہ اُس صفحہ کی پہلی لائن سے لیکراخیرلائن تک جلی حروف سے ایک فقرہ ،میں نہیں کرسکتا! تحریرکریں۔ جب سب بچے نے وہ فقرہ لکھ  لیا توان کوکہا گیا کہ ہربچہ باری باری اپنے اپنے صفحے کودوتہوں میں لپیٹ کرکلاس کے کونے میں رکھے ہوئے ایک ڈبے میں رکھ آئے! لیکن اس سے  پہلے  استانی نے خود آغازکرتے ہوئے بطور ایک لیڈر اوررول ماڈل، کاغذپروہ فقرہ لکھ کرتہ کرکے ڈبے میں ڈالا! پھربچوں نے اس ڈبے کوگوندلگاکراچھی طرح پیک کردیا۔بچوں سے کہاگیاکہ مالی سے پھاوڑایاکُدال لیکرآئیں۔استانی نے بچوں کوکہاکہ ایک قطارکی شکل میں  میرے پیچھے  سکول کے باغ کےصحن میں آو۔تین چارصحت مندبچوں کوکہاگیاکہ ڈبے کے سائزکے مطابق ایک گڑھاکھوداجائے۔اوریوںگڑھے میں اس ڈبے کودفن کردیاگیا۔ہربچے کوکہاگیاکہا کہ وہ مٹی کی ایک  ایک مُٹھی اس گڑھے پرڈالے، یوں اس گڑھے نے قبرکی شکل اختیارکرلی ۔ اس فرضی قبرپرایک کتبہ کندہ کردیاگیا جس پریہ تحریرتھا   ” میں نہیں کرسکتا“:تاریخ وفات ۱۰ اپریل ۲۰۰۰

پھراستانی نے اسی قبرپرکھڑے ہوکربچوں کوایک مختصرلیکچردیااورتمام بچوں سے عہدلیا  کہ آج کے بعد کوئی بچہ یہ نہیں کہے گاکہ میں نہیں کرسکتا ؟ کیونکہ  اب آپ طلباءنے اپنے اپنے ڈراورخوف کواس گڑھے میں دفن کردیاہے۔اب اس دن کے بعدیہ ہونے لگاکہ جب بھی  کوئی بچہ کسی کام کاعُذرتراشتا کہ میں گھرکاکام نہیں کرسکا،یایہ بہانہ کرتا کہ سوال ذرامُشکل ہے یا کوئی اورتاویل پیش کرتا تو بچوں  کو  فورا میں نہیں کرسکتایاددلایاجاتا۔ چُنانچہ اب بچوں نے اکتساب علم کے ذریعے جان لیاکہ ہاں میں توکرسکتاہوں ؟ لہذابچوں  کےاندر عجیب طرح کے اعتمادنے جنم لے لیا۔ ایک اُستادکاخواب اورسوچ پوری ہوگئی، بس  بچوں کی یہی اصل تربیت  کرنا مقصودتھی!

کاش  کوئی اب طلباء کو یہ کوئی کہ سکے کہ ہاں ،شاباش تُم کرسکتے ہو!

اپنے مستقبل کاخواب اورمقصدتحریرکریں!

برسوں پہلےایک  دفعہ دوران تحریر اسی سے ملتی جُلتی تحریرپڑھی تھی کہ  ایم اے اوکالج لاہورمیں کلاس کے اندر ایک استادنے اپنی کلاس کے نوجوان طالب علموں کوکہاکہ سب اپنی اپنی ذندگی کامقصد،خواب  تحریر ی شکل میں جمع کروائیں کہ وہ آگے  چل کرمُستقبل میں جاکرکیابنناچاہتے ہیں ؟ ان کے اپنے فیوچرپلان کیاہیں!برسوں بعد ان طلباءکےمتعلق جانچ  پڑتال کی گئی  اورپتہ کروایاگیا کہ جن طلباء نے اپنے خواب  اورمقصدکے متعلق بتایاتھا ۔ اب وہ سب  کن حالات  میں ہیں ؟ جب ان کےپتوں اورفون سے رابطہ کیا گیا ،تونتائج سے  یہ معلوم ہواکہ جن بچوں نے اپنے اپنے مقصدتحریرکئے تھے۔ان میں سےاکثریت  نے اپنے خواب اورمقصد ، منزل کوپالیا تھا ۔

تجزیہ ،تبصرہ اورتنقیدی جائزہ

یہ واقعات امریکہ  یامغربی ممالک سے مُستعارنہیں لئے گئے بلکہ یہ ذندہ اورجیتے جاگتے  ترقی پذیرممالک کے مختصر واقعات   ہیں جوتحقیق ونتائج پرمبنی ہیں ۔ان  میں ایک توہماراپڑوسی ملک  اوردسراایشائی ملک سری لنکا اورتیسرے ہم خودپاکستانی  ۔درج بالا تینوںواقعات میں حالات کا معروضی طوپر  ہلکا پھلکا  جائزہ لیاگیا ہے۔ان تینوں  واقعات میں ایک قدرمشترک ہے  اوروہ ہے تخلیقی سوچ!اوراُستادکاطلباء کی شخصیت   کوسنوارنے کے حوالے سے اہم کردار!

پہلے واقعہ  میں ہم دیکھتے ہیں  کہ کیچڑمیں بھی کنول پھول  پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے، کوئلوں میں چھپے ہیروں کوبھی تراشناپڑتاہے اوراستادکوہمیشہ ایک جوہری کاکام کرناپڑتاہے۔ ٹیلنٹ پانی کے بہاوکی طرح ندی نالوں میں اپناراستہ  خودبنالیتاہے۔غریب ہویاامیراللہ نے سب بچوں کوایک جیساپیداکیاہے۔اب بڑے ہوکرسب ان کی صلاحیت پرمنحصرہے۔اس مین بچوں کے ٹیلنٹ کوجاناگیا اوران کوہیرے کی طرح پالش کیاگیا۔

دوسرے واقعہ  میں طُلباء کے حوالے سے یہ سبق ملتاہے کہ ہاں شاباش تم کرسکتے ہو! بچوں کے ذہنوں،دل ودماغ سے ناکامی  کا ڈراورخوف نکالاگیا۔ آئیں بچوں کے ڈراورخوف کوبھی ایسے  ہی دفن کریں ۔بعض سوچیں اورخوف  بے بنیادہوتی ہیں جن کاکوئی سر اورپاوں نہیں ہوتا ۔اسی طرح تیسرے اورآخری کیس میں بچوں کے اصل خواب منزل ومقصد کودریافت کیاگیا!اور ان کی رھنمُائی کی گئ!

بحثیت قوم ہم ہمیشہ اپناموازنہ ہمیشہ ترقی یافتہ ممالک سے کرتے ہیں ۔لیکن یہ ترقی پذیرممالک  کے کیسزہیں ۔درج بالاکیسزمیں نہ توکوئی اتنے پیسےخرچ ہوتے دکھائی دیتے ہیں نہ ہی وسائل مختص کئے گئے بلکہ میسراوردستیاب وسائل سے کام لیاگیا۔محض  مثبت سوچ کی تبدیلی سے اہداف ومقاصدحاصل کرلئے گئے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ ان طلباء کی ذندگی میں ایساانقلاب آجائے گا۔یہ ہے ایک استاد  کا صحیح کردار،جس میں  جدت اوراختراعی سوچ کواپنایا گیا!اگرہم تعلیم وتربیت کی بات کریں، تواصل میں یہ ہے تعلیم اورتربیت ! اگربچوں پرتوجہ دی جائے تو ان میں  بھی کوئی ڈاکٹرعبدالقدیر، توکوئ ارفع کریم ،کوئی حکیم سعید توکوئی ابو الاعلی مودودی  ،جان شیرخان ،عبدالستارایدھی وغیرہ جیسے قابل لوگ  سامنے آسکتے ہیں۔

مجھے اس موقع پردُنیامیں  اپنی محبوب ہستی ڈاکٹرعارفہ سّیدہ زہرہ ،ماہر تعلیم  کی بات یادآجاتی ہے ۔وہ کہتی ہیں کہ تمھیں پتہ ہے اُستادکسے کہتےہیں ۔وہ فرماتی ہیں !استادفارسی زبان کالفظ ہے جس  کا مطلب ہے کھڑاہوا،ایستادہ ، باقی سب بیٹھے ہوئے۔ اگروہ کلاس میں کھڑاہواتوسب سے نُمایاں نظرآئے گا ۔اس کی نظر میں سب  طُلباءبرابر چاہے امیرہو یا غریب ،وہ سب کوایک جیساعلم بانٹتاہے!

اودینے والے تونے توکوئ کمی نہ کی تھی

اب کس کوکیاملایہ مقدرکی بات ہے

آج کے اساتذہ تعلیم توضروردیتے ہیں لیکن اپنے ایک دوسرے فرض سے اکثر پہلوتہی  اختیاررکرتے ہیں  ۔وہ تربیت پرذیادہ توجہ نہیں دیتے ہیں جوکہ اصل میں کردارسازی اورذہنی نشوونماکانام ہے۔ شاید ہمارے ہاں بھی اساتذہ نے شاید طلباءکے مقصداورجانناہی چھوڑدیاہے۔بچوں اور طلباء کو اکثرضرورت ہوتی ہے توبس رھنمائی اورتھوڑی سی حوصلہ  افزائی کی !

ہمارے ہاں بھی اساتذہ کوچاہئے کہ وہ  طلباء کی تعلیم وتربیت کے حوالہ  سے اختراعی سوچ  کو اپنائیں  تاکہ   عام اورغریب طلباء کی شخصیت  میں بہتری اورنکھار آئے  اوران کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہو۔!

 اساتذہ بھی ایسے ملتے جلتے  واقعات  معاشرے سے ضرورشئیرکریں تاکہ چراغ سے چراغ جل سکیں!

کچھ صاحب قلم کے بارے:راقم  کو طلباوطالبات کے حوالے سے تعلیم وتربیت  اورکیرئیر کونسلنگ وگائیڈنس کے شعبے سے دلچسپی ہے ۔مطالعہ کے دوران کچھ موتی چُن کرافادہ عامہ اورمتعلق فریقین کے لئے تحریر کی شکل میں شئیرکردئےجاتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...