Saturday, 17 June 2023

اج دے بدمعاش

 

بسلسلہ:حالات حاضرہ اورسیاسیات

کراچی مئیرالیکشن جون ۲۰۲۳  ڈرامہ کے تناظرمیں ایک تحریر

تحریروتحقیق:مجاہدعلی

mujahidali125@yahoo.com

 

پاکستان کے سب سے بڑا شہر کراچی  صنعتی ،تعلیمی ،معاشی ‘تعلیمی‘ثقافتی اورتہذیبی  سرگرمیوں کے باعث تمام دُنیا میں  سبب دنیا بھر میں اپنی ایک نمایاں شناخت رکھتا ہے۔ دنیامیں آبادی کےحوالے سے بارہواں نمبر ہے ۔ مُلک کی سیاسی،معاشرتی ،معاشرتی اوراقتصادی ترقی کےحوالہ سے بھی  اس کااہم کردارہے۔

کراچی   توجہ نہ ملنے کی وجہ سے ٹوٹی پھڑکی سڑکوں ،گندے پانی کاشہربن چُکاہے۔اس کوسیاسی طورپرلاوارث شہرکےطورپربھی جاناجاتاہے۔اس  کے علاوہ  بھی اس کے بے پناہ مسائل ہیں۔سیوریج،کچرا  کے انتظام اوربُنیادی سہولیات کی فراہمی میں کمی  بھی مسائل کاحصہ ہیں۔ان مسائل کےحل میں بلدیاتی نظام  یعنی مقامی حکومت کابہت اہم کردارہوتاہے۔

کراچی بلدیاتی الیکشن  : رکاوٹیں اورمسائل

15 جنوری ۲۰۲۳ کےدن یونین کونلسزکےانتخابات ہوئے اوراللہ اللہ کرکے پانچ ماہ بعدمئیرکےالیکشن ہوئے۔15 جون ۲۰۲۳ کا وہ دن  بھی آن پہنچا جس دن کراچی مئیرکاانتخاب ہونا تھا۔اس دن  کےلئے جماعت اسلامی اوران کی ٹیم نےبھرپورمحنت کی تھی!لیکن شایدقسمت ،حالات کوکچھ اورہی منظورتھا۔لیکن جب انتخاب کاعمل شروع ہواتوڈرامہ سامنے آیا۔

کراچی میں پہلے ہی بڑی مشکل سے  بلدیاتی الیکشن کروائے گئے ۔سندھ حکومت  پہلے دن ہی سےبلدیاتی انتخابات میں رکاوٹ بن کرکھڑی رہی۔کبھی سیلاب توکبھی پولیس کی عدم دستیابی اورانٹیلی جنس اداروں کی رپورٹوں کاسہارالیاگیا،الیکشن کمشن نے بھی اے ٹیم بن کربھرپورساتھ دیا۔ ۔جعلی حلقہ بندیاں کی گئیں جس سے پی پی پی کوفائد ہوا۔جبکہ ووٹرلسٹیں بھی درست نہ تھیں۔

ایم کیوایم نے نوشتہ دیوارپڑھ لیاتھااس لئے انتخابات میں حصہ نہ لیا۔خیرالیکشن ہوئے اس میں دھاندلی کے الزامات لگے ۔کچھ حلقوں کی ری  کاونٹنگ بھی ہوئی ۔ نعیم الرحمن کایہ بھی کہناتھاکہ کراچی والوں نےجماعت اسلامی پراعتمادکرکےووٹ دیا ۔اوریوں  بہرحال قوی امکانات تھے کہ اگلامئیرجماعت اسلامی کاہی ہوگا۔اوراب باری تھی جماعت اسلامی کی !کیونکہ انھوں نے اس دوران بہت سیاسی طورپرمحنت کی تھی اور۱۸سالہ طویل انتظارکےبعدمئیرشپ حاصل کرنےکے نزدیک تھیَ۔جبکہ پی پی پی اورجماعت اسلامی دونوں نے دعوی کیاتھاکہااگلا مئیرہماراہی ہوگا۔

کراچی میں جماعت اسلامی کی سیاسی جدوجہداورکامیابی کے رازو اثرات

دین کےفروغ سے ہٹ کربات کریں توجماعت اسلامی نے کراچی کے حقوق کےلئے بھرپورآوازاٹھائی۔اوریوں کامیابی کاکافی حدتک سہرانعیم صاحب اوران کی ٹیم کوجاتاہے۔ کراچی کے عوام کرپشن فری نظام چاہتے ہیں۔لیکن 9 مئی کے بعد ملکی اور مقامی سیاست تیزی سے تبدیل ہوئی۔حافظ نعیم صاحب نے بہت محنت کی اور شہریوں کے مسائل کو انہوں نے موثر انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی سیاست کی تشکیلِ نو کی اور کراچی کے ترجمان بن کر ابھرے ہیں۔انجنئیرنعیم الحسن نے دن رات محنت کی اوراس کاپھل ۱۷۳ ارکان کی صورت میں نکلاہے۔

سنہ 2005 کراچی میں منصب کے لیے مرتضی وہاب کی ماں  فوزیہ وہاب امیدوار تھیں،آج ۱۸ سال بعد بیٹاکامیاب ہوگیا۔  اس وقت فوزیہ وہاب جماعت اسلامی کے امیدوار نعمت اللہ خان کے حق میں دستبردار ہو گئیں تھیں ۔آج وہ جماعت اسلامی کےامیدوار انجنیرر نعیم الرحمان کو شکست دے کر کراچی کے جیالا میئر بن بیٹھے۔

کراچی مئیر الیکشن انتخاب

مئیر کراچی  کاانتخاب ووٹنگ شو آف ہینڈ کے ذریعے ہوا۔ میئر کے انتخاب کے لئے 184ووٹ لینا لازمی ہے ۔ پی ٹی آئ نےجماعت اسلامی کے مئیر کےحوالہ سےنیک نیتی سےغیرمشروط حمایت کااعلان کیا۔جماعت اسلامی اورپی ٹی آئ نےاپنامشترکہ مئیرکاامیدوارکھڑاکیا ۔ ۳۱پی ٹی آئی اراکین ایوان میں نہ آئے اورغائب رہے ۔ یوں نعیم الرحمان مطلوبہ ووٹ کی تعدادحاصل نہ کرسکے۔مئیر کراچی کےانتخابات میں مرتضیٰ وہاب نے 173 ووٹ لئے جبکہ حافظ نعیم الرحمان نے161ووٹ لئے!حالانکہ دونوں جماعتوں نے تقریبا نے۹ لاکھ سےذائدووٹ لئے  تھےجبکہ  پی پی پی نے محض ۳لاکھ ووٹ لےسکی تھی!پی ٹی آئی ارکان نے اچانک  اپنی وفاداریاں تبدیل کرکے انتخاب  کی بساط ہی اُلٹادی۔ مئیر منتخب تونہیں ہوامسلط ہواہے۔یہ سلیکشن تھی۔حافظ صاحب جیت کربھی ہارگئے ہیں۔اقلیت اکثریت میں بدل گئ۔

الیکشن کمشن سندھ اعجازچُوہان  نے مئیرکراچی کے انتخاب پرکہاکہ انتخابات پرامن اورشفاف ہوا۔

 عجب کرپشن کی غضب کہانیاں ،پری پول رگنگ ، الزامات

یہ بات  بلدیاتی الیکشن سے پہلے  طےہوچکی تھی کہ مئیرشپ کراچی   پی پی پی  ہی کوملنی ہے اورکراچی کاتمام کنٹرول وہی رکھے گی۔الیکشن سے ایک دن پہلے پی پی پی کے غنی سعیدنےبرملا،کُھلم بیان دیاکہ میں آپ کوسوفیصدکہتاہوں کراچی کامئیرپی پی پی کا ہی منتخب ہوگا۔سئینرتجزیہ کارکومعلوم تھاک انھوں نے یہ مینج کرلیناہے۔

پہلے توبلدیاتی الیکشن جس اندازسے ہوئے ،اس کی ساری کاروائی مشکوک اندازمیں چلتی رہی۔پہلے مرحلہ میں ہی بلامقابلہ چئیرمین منتخب کروائے گئے۔شہروں میں بلدیاتی الیکشن میں ٹھپے پہ ٹھپے لگے۔یہ الیکشن ایسے ہی تھے جس طرح کے مناظرسندھ میں میٹرک کےامتحانات کے دوران نظرآتے ہیں جس میں طلباسرعام نقل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

 پیپلزپارٹی اور اوراس کےاتحادی ارکان کی تعداد۱۷۳  تھی جبکہ پاکستان تحریک انصاف اورجماعت اسلامی کےمشترکہ اراکین کی تعداد۱۹۲تھی۔ پی پی پی کی حکمت عملی کے تحت  پی ٹی آئی کے۳۰ ارکان  کافاروڈبلاک بنوادیاگیا۔اوریوں اقلیت والاجیت گیااوراکثریت ہارگئ۔پی پی پی نے کہا کہ  پی   ٹی آئی کےارکان ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں ۔پی ٹی آئ نے پارٹی سطح پرنوٹس لیتے ہوئے حلیم عادل شیخ کی ہدایت پر۱۱رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنےکااعلان کردیا ۔بہرحال جوکچھ بھی  جوڑتوڑہوا، جس کانتیجہ سب کے سامنے ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں کس طرح سے دھاندلی سے کامیابی حاصل کی۔ اب توہرچیزواضح ہے۔

جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پرہراساں اوراغواکےالزامات عائدکئے۔ کچھ کوعین وقت پراٹھالیاگیااورکچھ کوروکاگیا پولیس کےذریعےاکثریت کواقلیت میں بدل دیاگیا۔مئیرکے الیکشن میں انتہائی دلیری اورڈھٹائ سےکراچی کے مینڈیٹ پرڈاکہ ڈالاگیا۔ایسالگتاہےکہ الیکشن کمشن اورپیپلزپارٹی کی ملی بھگت سے جمہوریت پرشب خون ماراگیاہے۔الیکشن کمشن ویسے ہی اے ٹیم بنی ہوئی تھی ۔جماعت اسلامی کے لیڈرکاکہنا ہےکہ کراچی کے عوام ترقیاتی کاموں کےلئے ترسے ہوئے ہیں۔جبکہ کراچی کی عوام نےکبھی بھی پی پی پی پرمکمل اعتماد کااظہارنہیں کیاہے ۔کہاجاتاہے کہ یہ دھاندلی نہیں دھاندلہ ہوا۔

جماعت اسلامی نے مئیر کے انتخاب سے قبل بلدیاتی قانون میں ترمیم کوبھی چیلنج کیاتھا۔پیپلز پارٹی مئیر الیکشن کے انتخابی عمل  کےحوالہ سے پول ریگنگ میں ملوث رہی  تھی۔پیپلزپارٹی نے مئیرکےالیکشن میں تاخیرکامظاہرہ کیا۔اس دوران وہ پی ٹی آئی کے ممبران کودھونس جبرلالچ کے ذریعے خوف ذدہ کرتی رہی جس کانتیجہ یہ نکلاکہ ووٹنگ کےعمل سے پہلے ڈرامائی صورتحال پیداکی گئ ،جس میں ۳۰ اراکین نےفارورڈ گروپ کی تشکیل کااعلان کیااوراس ضمن مین الگ پارلیمانی لیڈرکی نامزدگی کردی گئ اوروہ ووٹنگ کےعمل میں ان کی غیرحاضری نوٹ کی گئ ۔اس سازش کے نتیجہ میں پی ٹی آئی اورجماعت اسلامی اتحادکی اکثریت ختم کردی گئ۔اس تناظرمیں فارورڈبلاک کی سمجھ آتی ہے کہ پی ٹی آئی کے فارورڈبلاک کے اراکان کاجماعت اسلامی کوووٹ نہ ڈالناکوئی حیرانگی کی بات نہیں ۔ ووٹ سے انحراف پر سندھ  کا بلدیاتی قانون خاموش ہے۔لیکن نے سپریم کورٹ نے یہ پہلے ہی طے کردیاتھاکہ پارٹی ممبراس بات کےپابندہیں کہ وہ پارٹی کےاحکامات کے مطابق اپنی  جماعت کوووٹ ڈالیں گے ۔لیکن ریاستی  سطح پربدمعاشی کرتے ہوئےپی ٹی آئ کے اراکین کوآنے نہ دیاگیا۔ اکثریت ہارگئی اقلیت جیت گئ۔

پی پی پی سے یہی توقع کی جارہی تھی ، پیپلزپارٹی نے پھر۱۹۷۱ کاکھیل کھیلا۔کراچی میں جبردھونس ریاستی بدمعاشی کے سابقہ ریکارڈٹوٹ گئے!سیاست میں شرافت نام کی کوئی چیزباقی نہیں رہ گئ ۔ اس عمل میں  ریاستی جبرکابھرپوراستعمال کیاگیا۔اس نے دھاندلی سے اپنامئیرمنتخب کروالیا۔محض اپنی ریاستی جبر،طاقت،اورالیکشن کمشن کی ملی بھگت سے،جبکہ دوسری طرف انسانوں کی منڈیاں لگیں۔کسی کواغواکیاگیاتوکسی کولاپتہ۔وہی کھیل کھیلاگیاجوپنجاب میں ۹ مئی کےبعدپی ٹی آئی کے ساتھ کھیلاگیا۔ ایسالگاکہ کراچی میں چھانگامانگاکی سیاست کااعادہ کیاگیا۔

عمر بھر تو کوئی بھی، جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے، تجربہ ہمارا ہے

منظربھوپالی

اس سلسلے میں پولیس اورکرپشن لوٹ مارنےبہت اہم کرداراداکیا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والافارمولہ کامیاب ہوا۔ایسالگاکہ جیسے  سسلسین مافیااورگارڈفاڈرکادورچل رہاہو۔یہ انھوں نےکیا جوخودکوجمہوریت پسندکہتے ہیں بہرحال جوکچھ بھی جماعت سے ہاتھ کردیاگیا۔لیکن  تجزیہ نگارکہتے ہیں ایسے حالات ذیاد دیرتک نہیں چل سکتے ہیں۔

ایسالگتاہے کہ پی پی پی کاپارٹی جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں  رہا۔سیاسی اخلاقیات کاجنازہ نکال دیاگیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی بطور ایک خالصتا مفادپرست اورطاقت کی حریص جماعت ابھری ہے۔جوصرف جمہوریت کے نام پرلوگوں کوبے وقوف بناتی ہے۔بہرحال دھونس جبر،ہارس ٹریڈنگ ،بدمعاشی جبردھونس دھاندلی سے حافظ نعیم الرحمن کوشکست دیکرمئیرکاانتخاب کرلیا۔اچھی بات یہ تھی کہ جماعت اسلامی کے تمام ارکان حاضرتھے۔

نتائج آنے پرآرٹس کونسل کراچی کےباہرپی پی پی اورجماعت اسلامی کے کارکن کے مابین جھگڑے ہوئے اوریوں علاقہ جنگ بن گیا۔سوال یہ ہے کہ جب مئیرکاالیکشن ہواتوکیوں رینجرزکی تعیناتی نہ کی گئ لیکن جب دھاندلی ہوئی  ،جماعت اسلامی کے کارکنا ن نے احتجا ج کیاتوعوام کومنتشرکرنےکےلئے رینجرکوطلب کرلیاگیا۔

جماعت اسلامی احتجاج  اوربیانات

جماعت اسلامی نے الیکشن نتائج ماننےسے انکارکرکےپی پی پی پرمبینہ دھاندلی اورپی ٹی آئی ارکان کےاغواہونےکاالزام لگایا۔جماعت اسلامی نےمئیرکےانتخاب کوردکردیا ۔امیرجماعت سراج الحق نے پرامن احتجاج کااعلان کردیا۔انھوں نے میئر کےانتخاب کےدن کوسیاہ دن قراردیااورکہا کہ الیکشن کمشن اپنی ذمہ داری پوری کرنےمیں مکمل ناکام رہا۔

 امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے الزام عائد کیا ہے کہ میئر کراچی انتخاب کا نتیجہ زورزبردستی سے بدلا گیا ۔مذیدکہاکہ ۱۹۷۰ کے الیکشن میں 81 ووٹ والوں نے 161 ووٹ کا مینڈیٹ نہیں مانا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ 1977ء میں امیدوار اغوا کر لیے گئے تھے، وہی تاریخ ایک دفعہ پھر دہرائی گئی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے ہر مرحلے میں بدترین دھاندلی ہوئی۔ میئر کے انتخاب کے دوران 31 منتخب افراد کا غائب ہونا ملکی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے  بھی میئر کراچی کا الیکشن مسترد کردیااورکہاکہ ارکان کولاپتہ غائب کردیا گیا اورجمہوریت پرشب خون ماراگیا۔ حافظ نعیم پہلے ہی کہ چکےتھے کہ وڈیرے شہرکے مینڈیٹ پرقبضہ کرناچاہتے ہیں اورشہرکوشہزادے کی خواہش پرچلاناچاہتے ہیں۔ نعیم الرحمن نے الزام عائدکیاکہ مئیرزبردستی بنایاگیاہے عوام نے تسلیم نہیں کیا۔اورمذیدکہاکہ پی پی پی کوپوراپاکستان مینڈیٹ چورڈاکوتک کہ رہاہے۔

جماعت اسلامی اورپی ٹی آئ  دونوں نے الیکشن نتائج کو  مستردکیا  جماعت اسلامی نے  پیپلز پارٹی کی فسطائیت و جمہوریت دشمن رویے، مینڈیٹ پر ڈاکے اور الیکشن پر قبضے کے خلاف جمعہ سولہ جون 23 کوملک گیریوم سیاہ منانے کااعلان کیا۔ فیصلہ کیاگیاکہ اس دن ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کراحتجاج کیاجائےگا۔جماعت اسلامی نے عدالت میں جانےکااعلان کردیا ۔اورلوکل ایکٹ ترمیمی بل پرسندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کر دی، کراچی حافظ محمد نعیم نے عدلیہ سے مئیرالیکشن کوکالعدم قرار دینے اور ازسر نو شیڈول جاری کرنےکی استدعاکی ہے ۔جماعت اسلامی نے سولہ جون۲۰۲۳ سے حق دوکراچی تحریک نیاسلسلہ شروع کردیاہے۔

ناکامی  کی کچھ ممکنہ وجوہات

یہ بات یادرہےکہ ۹مئی کےتناظرمیں مقامی اورملکی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی جس کافائدہ پی پی پی نے اٹھایااورپنجاب حکومت کی طرح انھوں جبردھونس جیساکرداراداکیا۔۹ مئ کے تناظرمیں جس طرح پی ٹی آئی کے ارکان کوتوڑاپھوڑاگیا اس کی نظیرنہیں ملتی ۔سندھ میں پی ٹی آئی کے  کچھ ارکان بھی بظاہر ڈرے سہمے ہوئے تھے۔پی ٹی آئی کے لیڈروں کی طرف سے بھی بھرپوراس دھاندلی اورناانصافی کے خلاف بھرپورآوازنہ اٹھائی گئ تھی ۔ ذمہ داران بھی ذیادہ  ایکٹونہ تھے ۔بہرحال پی پی پی نے پی ٹی آئی کی غیریقینی صورتحال کے حوالہ سے  غیریقینی صورت حال  کابھرپورفائدہ اٹھایا ۔

دوسری طرف اگرایم کیوایم انتخابات میں حصہ   لیتی توشایدسیاسی صورتحال کچھ مختلف  ہوتی ۔اگرصورتحال کاجائز ہ لیاجائے تومعلوم ہوگا کہ 15جون ۲۰۲۳ کو جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا اورجمہوریت پرشب خون ماراگیاعوام کےمینڈیٹ کوپامال کیاگیا۔ن لیگ کے دورمیں  پنجاب میں جہاں پی ٹی آئی پربدترین کریک ڈاون کیاگیا۔اوریہ اسی قانون اورآئین کوجوتے کی نوک پررکھتے ہوئے سیاست کاگندہ کھیل کراچی میں کھیلاگیا۔بہرحال مئیرکی حیثیت ایک شوپیس کی طرح ہی رہے گی۔

بہرحال یہ ملکی سیاست کا افسوس ناک اورشرمناک بلکہ انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے۔جس کی جتنی بھی مذت کی جائے اتناہی ہی کم ہے۔

حرف آخر!

سوال یہ ہے کہ اس انتخاب کی اخلاقی ،قانونی اوراخلاقی ساکھ کیارہ جاتی ہے،کیااس انتخاب کی بُنیادپرسٹی کونسل کواگلے۴سال تک چلایاجاسکےگا۔

یہ پاکستانی سیاسی عمل پرسوالیہ نشان ہے کیونکہ پی پی پی حکومت نے مقامی حکومت کےالیکشن میں تاخیرکی ۔بہرحال کراچی کےحالات ایسے ہی رہیں گے جیساکہ ماضی میں رہے ہیں ۔ یہ ہمارے سیاسی عمل پر سوالیہ نشان ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے مقامی حکومت کے انتخابات میں اس حد تک تاخیر کی ۔ 

دیکھتے ہیں کہ اُونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے ۔بہرحال مستقبل میں اس کے کیاسیاسی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔بقول شیخ رشیدمیئر سیٹ کی خاطر پی پی نے جماعت اسلامی کو دور کر کے کیا کھویا کیا پایا یہ وقت بتائے گا۔ دیکھتے  ہیں آئیندہ دنوں میں اس کے سیاست پرکیااثرات مرتب ہوتےہیں۔

 مشہورتجزیہ نگارمظہرعباس کاکہناہےکہ،، پیپلز پارٹی کیلئے کراچی میں سیاسی ساکھ بنانا بہت مشکل ہوچکا ہے،،    لہذا مئیرکےانتخاب کامعاملہ ا ب عدالت کےپاس جائے گا ۔ دیکھتے ہیں کہ مئیرکراچی کے انتخاب کاپوراعمل ریورس ہوتاہے یانہیں ۔لیکن یادرہے کہ متنازعہ   مئیرہی رہے گا۔

قارئین اچھی جانتے ہیں کہ پنجاب اورسندھ میں آج کے بدمعاش کون ہیں!مئیرالیکشن اس بات کے بھی سگنل دیتے ہیں کہ آئیندہ جنرل الیکشن  کیسے ہوں گے۔

کراچی کودرپیش مسائل اس وقت حل ہوں گے ،جب ذاتی غرض  کےدائرے سے نکل کراجتماعی بہبودکےلئے سوچاجائے گا اوراسےاپناشہرسمجھاجائے گا۔شہری مقامی حکومتوں سے ہمیشہ توقعات رکھتے ہیں کہ و ہ انھیں مسائل سے نجات دلانےکےساتھ کراچی کودوبارہ روشنیوں کاشہربنائیں گے  اوریہ دوبارہ امنگوں اوررنگوں کاشہربنے گا۔تاکہ اس کاشماربھی ترقی یافتہ شہروں میں ہوسکے۔

طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے

 

 

 

کچھ لکھاری کےبارے میں:صاحب تحریروقتافوقتاسماجی اورسیاسی موضوعات پرتحریرکرتے رہتے ہیں۔بلاگ پربھی اپنی تحاریربلاگ پرشئیرکرتے رہتے ہیں۔ماضی میں تحقیق سے متعلقہ اداروں سے وابستہ رہے ہیں اوسیاسیات میں ایم اے کررکھاہے

                                                                                                                                                                    

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ماخذاورذرائع!

 

 

 

 https://urdu.arynews.tv/ji-rejects-karachi-mayor-election-results-announces-black-day

https://dailypakistan.com.pk/16-Jun-2023/1592912

https://dunya.com.pk/index.php/author/dr.-hussain-ahmed-paracha/2023-01-21/42570/40935258

https://humnews.pk/latest/446004

https://jang.com.pk/news/1233487

https://urdu.alarabiya.net/pakistan/2023/06/15/%D8%AC%D9%85%D8%A7%D8%B9%D8%AA-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%D8%A6%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%84%DB%8C%DA%A9%D8%B4%D9%86-%D9%85%D8%B3%D8%AA%D8%B1%D8%AF-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%8C-%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8-%D9%86%D8%B9%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%AA-%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86https://dailypakistan.com.pk/16-Jun-2023/1592912

https://urdu.arynews.tv/election-commissioner-statement-about-mayor-karachi-election

https://urdu.arynews.tv/investigation-committee-was-formed-on-the-absence-of-pti-members-in-the-mayor-karachi-election/

https://urdu.arynews.tv/jamaat-e-islamis-demand-to-declare-the-election-of-mayor-karachi-null-and-void/

https://urdu.arynews.tv/sheikh-rasheed-tweet-about-karachi-mayor/

https://urdu.arynews.tv/whole-pakistan-is-calling-the-peoples-party-a-mandate-thief-hafiz-naeem/

https://www.bbc.com/urdu/articles/cv2rn3xxed0o

https://www.dawnnews.tv/news/1206009

https://jang.com.pk/news/1126034

https://www.urdunews.com/node/358906/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F

 

https://dailypakistan.com.pk/14-Jun-2023/1592499

 

 

 

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...