Saturday, 8 April 2023

مُسکان تیری جرات کو دوبارہ سلام

 


مُسکان تیری جرات کو دوبارہ سلام

مزاحمت کااستعارہ

مجاہدعلی

mujahidali125@yahoo.com,0333 457 6072

یہ  فروری ۲۰۲۲ کی بات ہے، جب انڈیاکی ریاست کرناٹک کے ایک کالج میں مُسکان نامی طالبہ کوحجاب پہن کرکالج میں داخل ہونے سےروکنے کی بھونڈی حرکت کی گئ مودی کی حکومت میں مسلمانوں کے خلاف جوتعصب برتاجاتاہے اس کی ایک جھلک تھی!مذہبی جنونیت کی ایک بھونڈی مثال  ۔

۱۹ سالہ مسکان کاتعلق بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک سے ہے۔واقعہ کے مطابق وہ حجاب پہنےاپنی سکوٹی پرکالج  کے احاطے میں داخل ہوتے دکھائی دیتی ہے۔  انتہاپسندہجوم اس کودیکھ کرجے شری رام کے نعرے بلندکرتاہے اورپیچھاکرکرکے  مسکان  کوکالج میں داخل ہونے سے روکتابھی ہے۔لیکن  دوسری طرف مسکان بڑی کمال بہادری سے اللہ اکبرکانعرہ لگاتے ہوئے کلاس میں داخل ہوتی ہے ۔دنیانے دیکھا کہ اللہ اکبرنے کیسےایک کمزورنہتی لڑکی کوطاقت اورتحفظ دیا۔اس کوڈرانے والے خودخوف کاشکارہوگئے۔

یہ عصرحاضرمیں وہ تاریخ ساز لمحہ تھا ،جب مسکان نے اپنے اسلاف کی تاریخ کوزندہ کردیا۔ اورباطل کے سامنے کلمہ حق کوبلندکیا۔ ایک تن تنہا،نہتی لڑکی نےگروہ کوپچھاڑکررکھ دیا اورسب کے چھکےچھڑادئے۔

مُسکان پوری دنیامیں مزاحمت کی ایک مثال بن کرسامنےآئ۔مسکان نے واقعی اسلام اورمشرق کی بیٹی ہونےکاثبوت دیا۔مُسکان نے بتایاکہ میں نے ارادہ کرلیاتھاکہ اگرمیں نےحجاب اُتارناہے توگھرمیں !وہ اپنےاس فیصلے پرڈٹ گئ ! اس نےمزیدبتایا کہ جب میں ڈرتی ہوں تواللہ کانام لیتی ہوں۔

حضرت علیؓ جب اللہ اکبرکہتے تھے توپُوراخیبرلرزجاتاتھا۔اللہ اکبر کانعرہ ایک کمزور انسان کوتحفظ اورطاقت دیتاہے ۔جب مسلمان  اکبرکی صدابُلندکرتاہے تودشمنوں پرایک ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔یہ وہ الفاظ ہیں جوایک مسلمان کے پیداہونے پر اس کےکان میں کہےجاتےہیں۔

فریاد سے، رونے سے، تڑپنے سے کسی کو
خیرات بھی کوئی مرے بھائی! نہیں دیتا
انسان کی تقدیر بدلتا ہے وہ انسان
جو نعرہ لگاتا ہے، دُہائی نہیں دیتا

انورشعور

دراصل اس واقعہ میں مسلمان بچیوں کےلئے بہت گہراپیغام پنہاں ہے ،جس کوسمجھنےکی اشدضرورت ہے۔یہ کردارہراس بہادرلڑکی یا خاتون کاہوناچاہئے جوحجاب میں رہ کرذندگی کی جدوجہدمیں اپناکرداراداکررہی ہے۔اس سے  دوسری مسلمان بچیوں کوحوصلہ ملتاہے کہ اصل چیزانسان کاکردارہے وہ جتنا بھی ترقی یافتہ ہوجائے، اسلامی اقدارکبھی نہیں بدلتیں ۔مسکان جدیدتعلیم حاصل بھی کرناچاہتی ہے لیکن وہ اپنی اسلامی اخلاقی اقدارپر آنچ بھی نہیں آنےدیتی! سوشل میڈیا  اوربڑھتی ہوئ فحاشی کے دورمیں رہ کراپنی اسلامی اوراخلاق کوبھی برقرارررکھناچاہتی  ہے۔

بھارت کوایسے متعصبانہ واقعات پرقدغن لگانی چاہئےتاکہ مستقبل میں اس طرح کی روک تھام ہوسکے۔ ان کویہ بات یادرکھناچاہئے کہ حجاب پہنناکوئی مصری عربی ایرانی یاپاکستانی ثقافت نہیں بلکہ ایک اسلامی شعارہے۔

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...