Tuesday, 18 April 2023

شادی :انسانی ذندگی میں کیوں، کیسے اورکس طرح اہمیت رکھتی ہے ؟

 

بسلسلہ :نفیسات وشادی

شادی :انسانی ذندگی میں کیوں، کیسے  اورکس طرح اہمیت رکھتی ہے

سماجی علوم کے ۳۰ نتائج

تلخیص وترجمہ :مجاہدعلی

 

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میرے ایک انتہائی عزیزدوست جواپنے زمانہ طالب علمی میں جماعت اسلامی کے انتہائ فعال کارکن تھے۔ایک دن ایسے ہی باتوں باتوں میں کہاکہ میرے تمام دوست شادی کے بعد خوشحال ذندگی گزاررہے ہیں  جبکہ میں ابھی کُنوارا ہوں اورغریب بھی ہوں ۔موصوف نے خودچتھیس ،سینتیس سال کی عمرمیں شادی کی۔اورمزے کی بات یہ ہوئی کہ شادی کے بعدوہ بھی خوشحال ہوگئے!

اسی طرح ایک دفعہ مجھے پرانے دور ۱۹۶۸ کی بلیک اینڈوائٹ فلم کنیادان دیکھنےکااتفاق ہوا ۔جس میں ایک منظرتھاکہ شادی کےایک سال بعد ہیروبچےکوہاتھ میں اٹھائے کہتاہے کہ یارتُوپہلے آجاتاتومیں اورامیرہوجاتا۔دوران مطالعہ  ایرانی طالب علموں پرہوئی شادی کےحوالےسے ایک تحقیق پڑھنےکاموقع بھی ملا۔جس کالب لُباب یہ تھاکہ جن طالب علموں نےدوران طالب علمی شادی کی، وہ سب کےسب خوشحال ہوگئے تھے۔قرآن انھیں الفاظ میں ان واقعات ان حوالوں سے تصدیق کرتادکھائی دیتاہے۔

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ-اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۳۲)

اور نکاح کردو اپنوں میں اُن کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ اُنہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ترجمہ: کنزالایمان

مغربی تحقیقات اورشادی

عصرحاضرمیں لٹریچر نکاح ،شادی  پر مغربی تحقیقات سے بھراپڑاہے ۔آئے روزشادی کےفوائد پرکوئی نہ کوئی تحقیقات سامنے آتی رہتی ہے۔راقم کےپاس  بھی شادی کےفوائدپرمبنی ترجمہ شدہ آرٹیکلزکاوسیع ذخیرہ موجودہے۔جوکتابی شکل میں شائع کیاجائے گا۔

موجودہ تحقیق

یہ تحقیق شادی شدہ افرادپرشادی کے سماجی ،معاشی،معاشرتی اورنفسیاتی اثرات کاجائزہ پیش کرتی ہے۔اس کےعلاوہ یہ تحقیق  شادی کے بغیرپیداہونےبچوں کے مسائل پرسیرحاصل تبصرہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔یہ ایک حیرت انگیزاورچشم کُشاتحقیق ہے ۔یہ تحقیق اس پہلوپربھی روشنی ڈالتی  دکھائی دیتی ہےکہ شادی کے خانگی معاملات،بچوں اورزوجین پرکس طرح کےاثرات مرتب ہوتے ہیں ۔یورپ اورامریکہ جیسے معاشرے میں لاولدبچے حکومتوں پر بوجھ  ہیں،مغربی معاشرے میں  ان کی وجہ سے بعض اوقات ناخوش گوار معاشرتی اورسماجی اثرات بھی مُرتب ہوتے ہیں۔یہ تحقیق اس بات کابھی احاطہ کرتی ہے۔ علاوہ ازیں  تحقیق شادی کے بغیر اکٹھے رہنے والے جوڑوں کے مسائل پربھی بات کرتی ہےجبکہ دوسری طرف یہ تحقیق  شادی شدہ جوڑوں پرشادی کے مثبت اورخوشگواراثرات اورپہلووں کوبھی آشکارکرتے دکھائ دیتی ہے۔

خاندانوں پرتحقیق کرنے والے نُمایاں عالم و ماہراورمحققین کے متنوع گروپ ان نتائج پربحث کرتےہیں کہ شادی  کرنے سے جوڑوں پرکیا فرق پڑتاہے اوران پرکیااثرات مرتب ہوتے ہیں۔آئیں ذیل میں تحقیق سے حاصل کردہ سوشل سائنس سے حاصل کردہ ۳۰ عجیب وغریب اہم نُکات ونتائج کامطالعہ کرتے ہیں۔

۱۔شادی کے نتیجہ میں ماں باپ کے اپنے بچوں سے بہترتعلقات بڑھنے کےامکانات بڑھ جاتےہیں

۲۔شادی کے نتیجہ پیداہونے والے بچوں کے لئےخاندانی استحکام سے لطف اندوز ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے

۳۔ پیچیدہ گھرانوں میں بچوں کے پھلنے پھولنے کا امکان کم ہوتا ہے

۴۔شادی کئے بغیرایک جگہ پررہنےوالے جوڑے شادی شُدہ جوڑوں کے ہرگزبرابرنہیں ہوسکتے

۵۔بغیرشادی کےپیداہونے ہونےوالےبچوں میں اس بات کے امکانات بڑھ جاتےہیں کہ وہ یاتوخودکوطلاق دیں گے یاپھرپھروہ بغیرشادی کئے بچوں کےباپ بن جائیں گے

۶۔شادی بُنیادی طورپرخداکاتخلیق کردہ نظام اورعملی طور پر ایک عالمگیر انسانی ادارہ ہے

۷۔شادی، اور شادی کے لیے ایک معیاری وابستگی، نوجوانوں کے ساتھ ساتھ والدین اور بچوں کے درمیان اعلیٰ معیار کے تعلقات کو فروغ دیتی ہے

۸۔بالغوں اور بچوں کے لیے شادی کے اہم حیاتیاتی نتائج(اثرات) مرتب ہوتے ہیں

۹۔طلاق کےنتیجہ میں اوربغیرشادی کےبچے پیداکرنے سےماں اوربچوں، دونوں کی غربت میں اضافہ ہوتاہے۔اور شادی کے مقابلے میں بغیرشادی کے جنسی تعلقات  کی صورت میں (بغیرشادی کےایک جگہ رہنا) غربت میں کمی کا امکان کم ہوتا ہے

۱۰۔ایسا دکھائی دیتاہے کہ شادی شدہ جوڑے کُنواروں یا شادی کئے بغیرایک ساتھ رہنے والے جوڑوں کے مقابلے اوسطاً زیادہ دولت حاصل کرتےہیں

۱۱۔شادی غریب خواتین اور ان کے بچوں کے لیے غربت اور مادی ومالی مشکلات کو کم کرتی ہے

۱۲۔شادی سے اقلیتوں کوبھی  معاشی طور پر بھی فائدہ ہوتا ہے۔اقلیتیں بھی شادی کے فوائدسےمحروم نہیں رہتی ہیں۔ وہ بھی ایک جیسے معاشی فوائد حاصل کرتی ہیں

۱۳۔شادی شدہ مردُکنواروں کی بہ نسبت ذیادہ کماتے ہیں۔چاہے دونوں کی تعلیم اورنوکری کاعرصہ  ایک جیساکیوں نہ ہو۔

۱۴۔شادی شدہ جوڑوں میں طلاق (یا شادی میں ناکامی)  کی وجہ سےبچوں کے اسکول میں ناکامی کے خطرے کو بڑھاتی نظر آتی ہے

۱۵۔جوڑوں کے درمیان طلاق کی صورت میں بچوں کےگریجوائشن کرنےکے امکانات کم ہوجاتےہیں جس کی وجہ سے اچھی نوکریوں کاحصول ممکن نہیں ہوتا

۱۶۔وہ بچے جو اپنے شادی شدہ والدین کے ساتھ رہتے ہیں، اوسطاً، دوسرے خاندان کے بچوں کی نسبت بہتر جسمانی صحت سے لطف اندوز ہوتے ہیں

۱۷۔والدین کی قانونی ومذہبی شادی بچوں کی تیزی سے اموات کے خطرے کوکم کرتی ہے

۱۸۔شادی بالغوں اور نوعمروں دونوں کے لئے شراب اور نشے کے استعمال کی کم شرح سے وابستہ ہے

۱۹۔شادی شدہ افرادبالخصوص مردوں کی عمریں کُنواروں کی نسبت ذیادطویل ہوجاتی ہیں

۲۰۔شادی کاتعلق اچھی صحت سے بھی ہوتاہے۔شادی کے نتیجہ میں مردوزن میں زخمی ہونے،بیماری اورمعذوری کی شرح کم ہوجاتی ہے۔

۲۱۔اقلیتوں کوبھی شادی کے یکساں فوائدحاصل ہوتےہیں۔ایسا لگتا ہے کہ شادی کا تعلق اقلیتوں اور غریبوں میں بہتر صحت سے ہے

۲۲۔جن بچوں کے والدین کے مابین طلاق ہوجاتی ہے۔ان بچوں میں نفسیاتی ،ذہنی پریشانی اور ذہنی بیماری کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

۲۳۔بغیرشادی کئے جوڑوں کے ہاں جنم لینے والے بچوں میں نفسیاتی مسائل کی شرح قدرے بُلندہوتی ہے

 ۲۴۔خاندانی  نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے خودکشی جیسے خطرات میں بظاہرنمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔

۲۵۔شادی شدہ ماؤں میں ڈپریشن کی شرح ،غیرشادی عورت یا شادی کےبغیرایک جگہ رہنے والی ماؤں کی نسبت کم ہوتی ہے

۲۶۔غیر برقرار خاندانوں میں پرورش پانے والے لڑکے مجرمانہ اور مجرمانہ رویے میں ملوث ہونے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں

۲۷۔ایسا ظاہرہوتا ہے کہ شادی اس خطرے کےامکان کو کم کرتی ہے کہ بالغ افراد یا تو مجرم ہوں گے یا پھر جرم کا شکار ہوں گے

۲۸۔بظاہر دکھائی دیتاہے کہ شادی شدی خواتین کم گھریلو تشدد کاشکارہوتی ہیں بنسبت ان خواتین کےجوشادی کے بغیرمردوں کےساتھ رہتی ہیں یایاڈیٹ پرجاتی ہیں

۲۹۔ایک بچہ جو اپنے شادی شدہ والدین کے ساتھ نہیں رہ رہا ہے،توایسے بچے کے ساتھ بدسلوکی ہونے کازیادہ خطرہ ہوتا ہے

۳۰۔کالج سے تعلیمیافتہ اورکم تعلییافتہ افرادکےمابین شادی کافرق بڑھ جاتاہے اوریہ فرق امریکہ میں ذیادہ پایاجارہاہے

 

حرف آخر

یہ خُلاصہ ( شادی کیوں اہمیت رکھتی ہے) نامی کتاب سے اخذکیا گیا ہے۔اس کتاب  کےتیسرے ایڈیشن سے ۳۰ اہم نکات و نتائج اخذکئے گئے ہیں ۔یہ کتاب ادارہ برائے امریکی اقدارکے مرکزبرائے شادی اورخاندان کی شائع کردہ ہے۔یہ ایک غیرنجی سرکاری ادارہ ہے۔یہ  تنظیم  ۱۰۰ افرادپرمشتمل ہے،جوکہ امریکہ  کے سرکردہ شعبوں   سے انتہائی  قابل سکالرحضرات پرمشتمل ہے جن کاتعلق سیاست،تحقیق اورسول سوسائیٹی سے ہوتاہے

 

ان ۳۰نکات  کی تیاری میں امریکہ کی انتہائ  مشہورومعروف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنےوالے مختلف مصنفین نے بھی مددکی ہے ۔جن کی تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے

 

W. Bradford Wilcox, University of Virginia Jared R.

Anderson, Kansas State University William J. Doherty, University of Minnesota David Eggebeen, Pennsylvania State University

Christopher G. Ellison, University of Texas at San Antonio

William A. Galston, Brookings Institution

Neil Gilbert, University of California at Berkeley John Gottman, University of Washington (Emeritus) Ron Haskins, Brookings Institution

Robert I. Lerman, American University Linda Malone-Colón, Hampton University Loren Marks, Louisiana State University Rob Palkovitz, University of Delaware

David Popenoe, Rutgers University (Emeritus) Mark D. Regnerus, University of Texas at Austin Scott M. Stanley, University of Denver

Linda J. Waite, University of Chicago

Judith Wallerstein, University of California at Berkeley (Emerita)

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...