درددل!
حج عمرہ کے موقع پراسلامی احکامات کی کُھلم کُھلاخلاف ورزی
ایک فکردلاتی تحریر
ازقلم !مجاہدعلی
0333 457 072,mujahidali125@yahoo.com
رمضان کاماہ قریب آرہاہے۔اس کےآنےسے پہلے پاکستان سے کئی مومنین ومومنات عمرہ کےلئے مقدس فریضہ کےلئے انتہائ دینی جوش وجذبہ سے جاتے ہیں ۔عہدرفتہ میں عمرہ اورحج کے موقع پرجانے والے افرادمیں ایک موبائل سے تصاویراورمووی بنانےکارحجان بہت تقویت پاتاجارہاہے۔یہ خرافات بہت حدتک تقویت پاچکی ہیں۔کیامولوی،کیادیندارطبقہ سب اب اس رنگ میں رنگتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔عام شخص کی توبات ہی نہ کریں۔
زائرین خانہ کعبہ اورمسجدنبوی جائیں گے توپہلے تواللہ کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کرتے ہیں اوراسی مسجدکے صحن میں کھلم کھلاپیارے نبیﷺکےاحکامات کی کُھلم کھلاخلاف وزری کرتے ہیں بلکہ دھجیاں اڑاتے ہیں بلکہ یوں کہناذیادہ بہترہےکہ انتہائ سخت بے ادبی کے مرتکب ہوتے ہیں۔جوکہ مقام مقدسہ کی شایدبےحرمتی بھی ہو(واللہ اعلم)۔
وہ جگہ جہاں انسان کاایک ایک پل قیمتی ہوتاہے۔ انسان کوڈرخوف ہوناچاہئے کہ کہیں کوئی جانے انجانے میں بے ادبی نہ ہوجائے لیکن مسلمان ہیں کہ گستاخی پرگستاخی کئے جاتے ہیں۔وہ جگہ جہاں ہمارے اسلاف اپنے گناہوں کےاحساس کی وجہ سے خانہ کعبہ پرنظرتک ڈالنے پرشرمندہ ہوتاتھے کہ ہم اپنے اللہ کوکیامنہ دکھارہےہیں۔
آپ کے روضہ مبارک اورمدینہ کے مقام وادب کےحوالہ سے بےشمارواقعات ہیں کہ خانہ کعبہ اورآپ ﷺکے مزاراقدس کاکتنااحترام کیاجاتاہے اوراب مسلمان کتنادیدہ دلیری سے پہلے سیلفی اورتصاویراورمووی بناتے ہیں ۔گویا اللہ کوباورکرواتے ہیں اے اللہ یادرکھنایہ ہماری یہ تصویرگواہی اورشہادت دیتی ہے کہ تیرے گھربھی کبھی آئے تھے۔
بزرگان دین اپنے گناہوں کی وجہ سے خانہ کعبہ اورنبی کریمﷺ کے روضہ مبارک پرنظرڈالناپسندنہ کرتاتھاانھیں اپنے گناہوں کاقوی احساس ہوتاتھا۔لیکن آج کے اکثرمسلمانوں کواس کااکثراحساس نہیں ہوتاہے کہ ہم کسی ہستی کے ہاں پیش ہوکرکس طرح کی حرکات کررہےہیں۔۔ بعض یہ مناظر دیکھ کرروناآاجاتاہے کہ مسلمان کن خرافات میں کھوئے ہیں یہ کس رنگ میں رنگ گئے ہیں۔یہ توعام انسان کےلئے شرمندگی اورڈوب مرنے کی بات ہے کہ وہ شرمندہ تک بھی نہیں ہوتے نہ احساس خیال کرتے ہیں کہ آپﷺ کیاکہیں گے۔بس جھٹ سے سوشل میڈیاپرتصاویرویڈیوشئیرکردی جاتی ہے۔کیایہ دکھاوااورریاکاری نہیں ہے۔کیاان کومطلق خوف محسوس نہیں ہوتاکہ ان کاعمرہ وحج بارگاہ الہی میں قبول ہوا بھی ہے کہ نہیں ۔وہ جوعشق مصطفیٰ اوراپنے رسولﷺ سےمحبت کا کادعوی کرتےہیں۔ وہ سراسربےادبی کے مرتکب ہوتےہیں ۔
عمرہ وحج کے موقع پرپہلے مذہی فریضہ کی ادائگی کرتے ہیں پھرمنظرکشی اورویڈیوبنائی جاتی ہے ۔پردہ داربیببیاں بھی اس کام میں پیچھے نہیں رہتی ہیں ۔وہ کھڑے ہوکراللہ رسولﷺکےگھراورروضہ مبارک پرکھڑے ہوکرکھلے عام اسلامی احکامات کی کھلم کھلادھجیاں اڑاتےہیں اوریہ کام سرعام کچھ علمائے اکرام ،باریش، بھی سرعام کررہے ہوتے ہیں ۔وہاں پرمسلمان کی حاضری ایک ایک سیکنڈمعنے رکھتی ہے اورہمارے زائرین ان چیزوں اورگناہ میں اپناوقت صرف کررہےہوتےہیں۔
اللہ کےگھرمیں سب سےپہلے یہی نافرمانی ہوتی ہے اوروہ بھی انتہائی دیدہ دلیری سے ۔کیاان کادل نہیں کانپتا کیاکوئ شرم ہرگزمحسوس نہیں ہوتی ہے۔زائرین ہرنیک عمل اورعمرہ ،حج کے تمام لوازمات توپورے کرلیں گے لیکن تصویرکشی کی حرمت کوبھول جاتے ہیں آخرکیوں!وہ اسلام میں کیوں پورے پورے داخل نہیں ہوتے ہیں۔عمرہ وحج پرجانے والے حضرات لہذااس فعل سے بازرہاکریں ۔کم ازکم اس سلسلے میں مستندعلماءاورعلمائے حق ومتقی مفتیان کرام سے مشورہ ہی کرلیاکریں!
نوٹ:اس تحریرکامطلب کسی کی تضحیک کرنانہیں بلکہ متنبیٰ کرناہے اورحْق کی بات کرناہے لہذاناراض نہ ہوں بلکہ مسلمان کی طرح اس پرغوروخوص کریں آخرہم کسی جگہ غلطی کررہےہیں کیااللہ سے معافی مانگی!
No comments:
Post a Comment