امیرلوگوں کے بڑے دُکھ
ازقلم:مجاہدعلی
mujahidali125@yahoo.com, 0333 457 6072
ہمارے ایک بہت پیارے دوست ہیں!وہ گھروں اوردفاتر،فیکٹریوں وغیرہ میں سیکیورٹی کیمروں کی تنصیب کےسلسلہ میں اکثران کامختلف کاروباری افرادسے ملنا جلنارہتاہے،اس ملنےجلنےکےدوران انھیں کئ افرادسے گفت وشنیدکاموقع ملتارہتا ہے۔جو بعض اوقات بڑھ کرذاتی گفتگو پرآجاتی ہے۔
اپنے دوست سے گفتگوکےدرمیان اہل فکرکےلئے قیمتی معلومات ملیں ہیں جوایک عام قاری کے لئے توشایدمفیدنہ ہولیکن اہل فکردانش افرادکےلئے قیمتی موتی ثابت ہوں ۔اپنےدوست سے گفتگواور بات چیت کے ضمن میں جومعلومات حاصل ہوئیں ان کوقارئین کےلئے ٹوٹی پھوٹے الفاظ میں شائع کیاجارہاہے۔
اکثرامیردولت مند افرادکے متعلق یہ اکثرخیال کیاجاتاہے کہ وہ بہت سُکھی ہیں ان کوتوکوئی دکھ نہیں ہوتاہے۔حالانکہ وہ سب سے ذیادہ غریب اوردکھی ہوتے ہیں۔بس ان کے دلوں اورذہنی حالت کوٹٹولنےکی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثرامیرافرادکو اولادکادکھ اورتنہائ لے ڈُوبتی ہے ۔بڑا اورخالی گھر ان کامقدرہوتاہے۔ہمارے معاشرے میں مادیت پسندی سے بھرپورواقعات بکھرے پڑے ہیں ان میں چند کی جھلک ذیل کے واقعات میں دیکھی جاسکتی ہے۔
ہال روڈکے ایک تاجرکاکہنا
ہال روڈکے ایک بہت کامیاب اورکاروباری شخص جوصدربھی رہے ہیں ۔ان کاکہنا ہے میرےپاس پیسہ دولت عزت صحت سب کچھ ہے لیکن اولادمیرے پاس نہیں ہے ۔ان کے بچے پڑھ لکھ کرانگلینڈچلے گئےا وروہاں کی رنگینیوں میں کھوگئے ۔بچوں کاباپ سے بھی کم رابطہ رہتاہے
۔انھوں نے بڑی عجیب وغریب بات شئیرکی کہ ہم ساری ذندگی اس لئے محنت کرتے ہیں کہ انھیں اپنے آپ سے جُداکرسکیں۔اس فقرے میں جوکرب چُھپاہواہے وہ اہل نظروفکرہی جان سکتے ہیں۔
ایک جج کی کہانی
ایک بہت کامیاب اورمشہورجج نے کہاکہ ہم اپنے بچوں کواعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے باہرکے ممالک میں بھیج دیتے ہیں ۔یہاں ہم والدین تہی دامن رہ جاتےہیں۔ان کاکہناتھاکہ ہمارے ہاں بھی اعلیٰ تعلیم اوراچھی جاب کےمواقع ہونےچاہئیں ،تاکہ بچے کم ازکم ہماری نظروں کے سامنے تو ہوں ۔بچوں کےبغیرذندگی میں بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔
فیصل آبادکے کاروباری شیخ کی کہانی
فیصل آبادکے ایک شیخ فیملی سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخص کے متعلق پتہ چلاکہ
انھوں نے اپنے ساتوں کے ساتوں بچوں کوعلیحدہ علیحدہ کاروبارکرواکے دے دیا اوراپنی ساری جائیداداپنی اولاد میں بھی بانٹ دی اورعقلمندی یہ کی کہ اپنے لئے بھی رہنےکامکان علیحدہ رکھا اس کےساتھ اپنے ذاتی جیب خرچ کے لئے بینک بیلنس بھی قائم رکھا تاکہ گزراوقات ہوتی رہے اور اپنےبچوں پرانحصارنہ کرناپڑے ۔ان کاگمان تھاکہ اگرسب کچھ بانٹ دیتاتو آج میں بھی کہیں دربدرہوتا۔
ماں باپ بچوں کی محبت کے لئے ترستےہیں۔ بڑھاپے میں ان کوجذباتی سہارے ،محبت شفقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔سب کچُھ ہوکربھی وہ تہی دامن ہوتے ہیں۔
فیصل آبادکے ہی ایک اورشیخ جی کاواقعہ
شیخ صاحب نے بڑے کرب کے ساتھ بتایاکہ ان کے تین بیٹے اور۱یک بیٹی ہے۔سب بیٹے باہر کے ممالک گئے ہوئے ہیں ۔کہا کہ میں ساری عمران کے لئے کماتارہا اورآج وہ مجھے پوچھنے تک نہیں آتے ہیں ۔ شادی شدہ بیٹی میری ہرماہ امریکہ سے چنددنوں کے لئے آتی ہے اور وہ نوکروں کوہدایات دے کران کےرحم وکرم پرچھوڑجاتی ہے اورپھرواپس چلی جاتی ہے۔
لگتے ہاتھ اسلام آبادکابھی ایک سچاواقعہ سن لیں کہ اسلام آباد میں ایک شخص کے تین بیٹے تھے۔باپ رات کوفوت ہوگیاتوبیٹوں نےاپنے نوکرکوکہاکہ ہم سونے جارہے ہیں ۔ابھی کسی کومطلع نہیں کرناہے۔رشتہ داروں دوست احباب کوصبح مطلع کریں گے ،ابھی تونیندپوری کرلیں۔
ان سب واقعات میں اولاداوران کادکھ کرب جھلکتاہے۔انسان کے لئے خالی دولت ہی سب کچھ نہیں، انسان پیارشفقت اورجذباتی تعلق کابہت بھوکا ہوتاہے اوراس کی طلب دولت سے بڑھ کرہے۔انسان ساری زندگی دولت کے پیچھےبھاگتاچلاجاتاہے لیکن وہ اپنی اولاد پرتوجہ نہیں دیتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ بڑھاپے میں اولادکی کمی بہت محسوس ہوتی ہے۔
ان سب کہانیوں میں بہت عبرت کاسامان ہے۔دعاکرنی چاہئے کہ اللہ اولادکوماں باپ کی نظروں کی ٹھنڈک بنائیں۔والدین اولادکودولت پیسے اوراعلی سٹیٹس کی تعلیم تودیتےہیں لیکن اسلامی تربیت فراہم نہیں کرتے جس کی وجہ سے اولادبوڑھے ماں باپ کی خدمت کرے گی اوران کوسنبھالے گی ۔ بچوں کواعلیٰ مستقبل اورکامیاب انسان بننے کے لئے باہر توبھیج دیاجاتاہے تاکہ وہ دولت کماسکیں ۔ لیکن بڑھاپے میں خُود تہی دامن رہ جاتے ہیں۔اللہ ہراولادکوماں باپ کی خدمت کرنے کی توفیق عطافرمائے!آمین
ہروہ نوجوان باپ جن کےبچے چھوٹے ہیں وہ ضرورسوچیں اوراس بات کی ہرممکن کوشش کریں کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اس نہج پرکرسکیں کہ کل وہ آپ کے بڑھاپے کاسہارابن سکیں ۔اس کے لئے راھنما اسلامی تربیتی اصولوں کواپنایاجائے۔اس ضمن میں علمائے اکرام بہتررھنمائی بھی کرسکتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment