|
بسلسلہ : پولیس لااینڈآرڈر
|
جعلی پولیس مقابلے انسانی حقوق اورقانون کی حکمرانی کی کھلم کُھلا خلاف ورزی
ازقلم:مجاہدعلی
یہ۴ مارچ ۲۰۲۳کی بات ہے کہ انٹرنیٹ پرایک اخبارکی ویب سائیٹ پرخبرسُننےکوملی کہ ۳ڈاکوپولیس مقابلے میں مارے گئے۔ ان پرالزام تھاکہ ان تینوں افرادنےڈکیتی کےدوران ماں بیٹی سے جنسی ذیادتی کی تھی۔ایک دودن پہلے پڑھنے کوملاکہ ملزمان گرفتارکرلئے گئے ہیں ۔جب صبح اُٹھاتوپتہ چلاکہ تینوں ملزمان پولیس مقابلے میں پارکردئے گئے! جرم توبہرحال بہت بڑاتھالیکن اس میں سے جعلی پولیس مقابلے کی بُومحسوس ہوتی ہوئ دکھائ دے رہی تھی(واللہ اعلم)۔ جب اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں توپولیس والوں کے شہیدہونے پربھی خدشات لاحق ہوتے ہیں ۔
پاکستان میں جعلی پولیس مقابلے پولیس کے محکمہ اور انصاف کےنظام پرایک سیاہ دھبہ بن چکے ہیں۔
جعلی پولیس مقابلے
جعلی پولیس مقابلے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالہ سے تشویش کاباعث بن چکے ہیں، گزشتہ برسوں کے دوران ماورائے عدالت ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان مقابلوں میں پولیس اہلکار حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اکثر مبینہ مشتبہ افراد بغیر کسی مناسب تفتیش یا مقدمے کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس رجحان کو اکثر پولیس فورس کے اندر استثنیٰ اور احتساب کی کمی کے کلچر کے ساتھ ساتھ جرائم پر قابو پانے میں کامیابی کا مظاہرہ کرنے کے دباؤ سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق۲۰۲۲ کے پہلے ۸ماہ کے دوران ہی ۲۶۰ پولیس مقابلے ہوئے ،جس میں صرف ۵۰ واقعات لاہورمیں ہوئے!
اکثردیکھا گیا ہے کہ جہاں لفظ پولیس مقابلہ آجائے تو ان مقابلوں کواکثرمشکوک نظروں ہی سے دیکھاجاتاہے ۔ان کے نہ کوئی گواہ ہوتے ہیں اورنہ کوئی ثبوت !بس جیساپولیس والوں نے کہ دیا ویساتسلیم کرلیاگیا اوریوں کیس ختم اورداخل دفتر۔اگرمیڈیامیں شورمچ جائے اوراعلیٰ حُکام نوٹس لے لیں توفائل اورکیس کھل جاتے ہیں ہیں ،جسکاسراسرمطلب ہوتاہےکہ دال میں کچھ کالا ہے۔جس کی وجہ سے نوٹس لیاجارہاہے۔
جعلی پولیس مقابلے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتے ہیں بلکہ استثنیٰ کے کلچر کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ جعلی پولیس مقابلوں کا نشانہ بننے والے اکثر بے گناہ افراد ہوتے ہیں جنہیں ان کی نسل، نسل، مذہب یا سماجی و اقتصادی حیثیت کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے پولیس کے نظام میں اصلاحات کی کوششوں کے باوجود، بشمول پولیس آرڈر 2002، جس کا مقصد پولیس فورس کے احتساب اور کارکردگی کو بہتر بنانا تھا، جعلی پولیس مقابلوں کا مسئلہ بدستور برقرار ہے۔ عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد کی کمی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے، بہت سے لوگ پولیس کے ساتھ مقابلوں میں اپنی حفاظت اور جانوں کے خوف سے دوچار ہیں۔
یہ مسئلہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، اور بنیادی وجوہات کو دور کرنے اور مستقبل میں اس طرح کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے.
عمومی طورپریہی خیال کیاجاتاہے کہ پاکستان میں ہی جعلی پولیس مقابلے ہوتے ہیں۔ یہ وبا پورے ساوتھ ایشیاء میں پائی جاتی ہے، جس میں بنگلہ دیش ،انڈیااورسری لنکاجیسے ممالک شامل ہیں۔اس حوالے سے بالی وڈمیں اس موضوع پرخصوصی فلمیں تک بن چکی ہیں، جن میں جعلی پولیس مقابلوں کے مناظرکو خصوصی طور پرفلمایاجاتاہے۔
ہمارے ہاں تواس موضوع پر اخبارات میں خصوصی آرٹیکل لکھے گئے ہیں ۔اس پرخصوصی کتاب تک منظرعام آچکی ہے۔ان سے اندازہ ہوتاہےکہ ہمارے ہاں شاید ۹۰فیصدپولیس مقابلے جعلی ہی ہوتے ہیں۔ جبکہ ایک مجرم کوپکڑنے اوراس کامقابلہ کرنے کےلئے کئی گاڑیاں بسااوقات کئی گاڑیاں تک منگوالی لی جاتی ہیں۔
ہمارے ہاں توسیدھاسیدھااصول اورحل یہی ہے کہ بس ملزم کوپارکردیاجائے۔
پنجاب پولیس کے ظلم کی داستانیں بکھری پڑی ہیں جن سے انکارنہیں ،عابدباکسرجیسے سابق انسپکٹرکےانٹرویو زاس اس بات کی گواہی بھی دیتے ہیں ۔اس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے کہ پاکستان اورپنجاب میں پولیس مقابلوں کی تاریخ رہی ہے، جہاں پولیس افسران پر حد سے زیادہ طاقت کے استعمال، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ سب سے زیادہ قابل ذکرواقعات ذیل میں پیش کئے جارہےہیں۔
میڈیامیں رپورٹ ہونے والے کچھ کیسز!
لاہور:۱۹۹۰ سبزہ زار کیس
لاہور: جون ۲۰۱۴ ماڈل بربریت کیس،
کراچی: نقیب اللہ محسود ۲۰۱۸ کیس
ساہیوال: ۲۰۱۹ شُوٹنگ کیس
ان سب واقعات میں ایک قدرمشترک یہ رہی ہے کہ ان کی وجہ سےعوامی، قومی اوربین الاقوامی سطح پرشدید غم وغصہ پایاگیا۔ان کی بازگشت اورگونج سنائی دیتی رہتی ہے۔
یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پولیس کےشعبہ میں اصلاحات متعارف کرواکران کاعملی نفاذکروایاجائے۔ان کوبہترین تربت فراہم کی جائے اوربہترین ذرائع فراہم کئے جائیں۔اوران کی تادیب کابھی موثرنظام اپنایاجائے کیونکہ ورنہ توجنگل کاقانون نفاذکیاجاتاہے تاکہ وہ اپنے اختیارات کاناجائزاستعمال نہ کرسکیں۔
پولیس کاطریقہ واردات
پولیس کاطریقہ واردات بھی یہ ہوتاہے کہ مُلزمان کوتفتیش یاریکوری کے بہانے تھانے سےباہرلے جایاجاتاہے اور پھرمقابلے کے نام پرٹھکانے لگادیاجاتاہے۔اوریوں کاغذی کاروائیوں میں کیس کودفن کردیاجاتاہے۔تفتیش کی جھنجھٹ سے بھی آذادی حاصل ہوجاتی ہے ۔اکثررات کے اندھیرے یاسنسان جگہوں پرجعلی پولیس کاڈرامہ رچادیاجاتاہے اوریوں بہت کم ثبوت مل پاتے ہیں۔
اکثر دیکھاگیا ہے کہ اکثرجنسی ذیادتی کے ملزمان کوجعلی پولیس مقابلوں میں ہی پارکردیاجاتاہےجبکہ اکثریہ سننےمیں بھی آتاہےکہ ڈاکووں کے ساتھیوں نے اپنے ساتھی کوچھڑانے کے لئے پولیس پرفائرکھول دیا اورملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ مجال ہے کہ پولیس والوں کوخراش آتی ہو۔
یہ کیسزاوراس طرح کے ہزاروں کیسزہیں جن پرمٹی ڈال دی گئی ۔کیونکہ ان کوپوچھنے والاکوئی ہوتانہیں۔پتہ نہیں جعلی پولیس مقابلوں پرذمہ داران کے کیوں نہیں دہلتے ہیں۔ جعلی پولیس مقابلےانسانی حقوق،ناانصافی کی خلاف ورزی کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہےجن کی وجہ سے عوام کاپولیس پراعتمادختم ہوکررہ گیاہے۔
پاکستان میں جعلی پولیس مقابلوں کی کچھ بنیادی وجوہات وتلخ حقائق
ہمارے ہاں چونکہ سائنسی بنیادوں پرکام نہیں کیاجاتاہے مثلا ان سے تحقیق ہی کرلی جاتی کہ وہ آخرکیوں اس طرح کےبھیانک جرم کاارتکاب کرتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ طرف ملزمان قانونی کاروائی اور ناقص تفتیش کےضمن میں صاف بچ کرنکل جاتےہیں
پولیس والوں کی اکثریت خودکوقانون سے بالاترسمجھتی ہے۔وہ شایدیہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اس فعل کی وجہ سے ان پرکوئی قانونی کاروائی نہیں ہوگی لہذاوہ اس طرح کےغیرقانونی کام بھی کرتے ہیں۔یہ طرزعمل ذمہ داری کے فقدان کوظاہرکرتا ہے۔
جرائم کی تعداداتنی بڑھ چکی ہے کہ پولیس والے والے شایداسی کوجرائم کرنےکاایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پولیس والوں پر ان کے افسران اورعوام اورحکومت کاپریشرہوتاہے کہ وہ جرائم کوکنٹرول کرنے کے حوالےسے مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کررہے ہیں تووہ پھرجعلی پولیس مقابلوں کاسہارالیتے ہیں۔
پولیس آفیسرزاورتفتیشی افسران میں ناقص تفتیش کرتےہیں۔ان کے پاس جرائم کی تہ تک پہنچنے کے لئے شاید مطلوبہ صلاحیت نہیں ہوتی ہے اس لئے وہ اس کاسہارابھی لیتے ہیں۔
جعلی پولیس مقابلوں کی کئی وجوہات اور وجوہات ہوسکتی ہیں۔ سب سے عام وجوہات میں سے ایک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر بدعنوانی بھی ہے. کچھ معاملات میں ، پولیس افسران ذاتی فائدے سے متاثر ہوسکتے ہیں یا طاقتور افراد یا مجرمانہ تنظیموں کی طرف سے کام کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے حریفوں کو ختم کرنے یا معصوم لوگوں سے پیسہ نکالنے کے لئے جعلی مقابلوں کا استعمال کرسکتے ہیں۔
جعلی پولیس مقابلوں کی ایک اور وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں احتساب اور نگرانی کا فقدان ہے۔ جب پولیس افسران کو ان کے اعمال کے لئے جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا ہے تو ، وہ جعلی مقابلوں سمیت غیر قانونی اور غیر اخلاقی طرز عمل میں ملوث ہونے کے لئے حوصلہ افزائی محسوس کرسکتے ہیں۔
کچھ معاملات میں، جعلی پولیس مقابلے تعصب اور امتیازی سلوک سے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اقلیتی گروہوں، جیسے مسلمانوں، دلتوں اور مقامی لوگوں کو اکثر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پولیس افسران اپنے امتیازی سلوک کا جواز پیش کرنے یا رائے عامہ کو خوش کرنے کے لئے جعلی مقابلوں کا استعمال کرتے ہیں۔
جعلی پولیس مقابلے ناکافی تربیت اور وسائل کا نتیجہ بھی ہوسکتے ہیں۔ پولیس افسران کے پاس مناسب تحقیقات کرنے کے لئے ضروری تربیت اور سازوسامان کی کمی ہوسکتی ہے ، اور وہ ایک پیچیدہ مسئلے کے فوری اور آسان حل کے طور پر جعلی مقابلوں کا سہارا لے سکتے ہیں
حرف آخر
بہرحال مجموعی طورپرجعلی پولیس مقابلے ایک پیچیدہ موضوع اورمسلہ ہےجس کے حل کی طرف کئ جہتوں پرکام کرنے کی ضرورت ہے۔ا س کوکنٹرول کرنے کے پولیس والوں کوقانون کے کٹہرے میں لانے کے مظبوط احتساب کی ضرورت ہے اورقانون کے موثرنفاذکی بھی اشدضرورت ہے۔
مجرموں کوقرارواقعی سزادینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ دوسروں کے لئےعبرت کی مثال بنیں۔
حکومت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام اور تحقیقات کے لئے فوری کارروائی کریں اور مجرموں کا احتساب کریں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تربیت دی جائے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مناسب طریقہ کار پر عمل کریں اوراپنی ناقص تفتیش کے نظام کوبہتربنائیں اور انسانی حقوق کا احترام کریں۔
انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو ہمیشہ کسی بھی دوسری چیز پر فوقیت دی جانی چاہئے۔ورنہ معاشرے میں جنگل کے قانون کانفاذہوسکتاہے۔مجموعی طور پر جعلی پولیس مقابلے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے جامع حل کی ضرورت ہے۔

No comments:
Post a Comment