اسلامیہ کالج میراکالج میری تحقیق
اسلامیہ کالج ریلوے روڈلاہور
مخزن
لاہور کے اسلامیہ کالج کے سالانہ جلسے میں جو نظمیں پڑھی گئیں ان میں مرزا ارشد گوگانی کی ایک نظم بلحاظ سلاست زبان اورسادگی کے لاجواب تھی اسکا ایک بند جس میں انہوں نے کالج کے سازوسامان بڑھانے کی ترغیب ایک عجیب پیرائیہ میں دی ہے ہم نقل کرتے ہیں
یہ جو اسلامیہ ہے تم نے بنایا کالج
دل سے ہرساکن پنجاب کو بھایا کالج
ہم کو اک بات میں کچھ شک ہے کہ ہم شکّی ہیں
سچ کہو ہے یہ تمھارا کہ پرایا کالج
بات اک پوچھتے ہیں تم سے دھرم سے کہ دو
کیا سڑک پرسے پڑاآپ نے پایاکالج
جاتے ہودیکھنے ہرسال جو تم کانفرنس
بھائیو کیا یہ علیگڈہ سے اڑایاکالج
اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اسے کھاوقسم
یا کہیں اورسے مانگے کامنگایا کالج
کسی ذیشان مسلمان کے چہلم میں ملا
یاکسی بیاہ کے حصے میں آیا کالج
دھوکے بازی کے تمھاری ہوئے ہم بھی قائل
کہ بنایا تو مکاں اوربتایا کالج
ہم بہت دن سے سناکرتے تھے شہرت اسکی
دل میں کہتے تھے کہ کیا ہوگا خدایا کالج
آج دیکھا تو یہ کالج بھی مسلماں نکلا
جب برے حالوں میں ہم کو نظرآیا کالج
ہم سے پوچھاجوکسی نے تویہی کہ دینگے
یارلوگوں نے ہے کوٹھے پہ بٹھایا کالج
کوئی سامان میسرنہیں جس کالج کو
دورسے اپنی تو ڈنڈوت ہے اس کالج کو
کالج کی جماعت بالاخانہ کے کمروں میں بیٹھتی ہیں اسکی اشارہ ہے محاورہ سے جومذید لطافت پیداہوگئی ہے وہ ظاہرہے
ص ۲۸۲
جلد مخزن ۱۹۰۲ یا ۱۹۰۶
محنت
اے مردجری !خنجروصمصام ہے محنت
اے عیش طلب!راحت وآرام ہے محنت
اے یارکے طالب!صنم ویارہے محنت
اے عاشق دل گم شدہ!دلدارہے محنت
اے اہل خدامقصداسلام ہے محنت
اے مے کشو ساقی ومے وجام ہے محنت
اے اہل ہوس!سیم وزرومال ہے محنت
اے شاہ جہاں!شوکت واقبال ہے محنت
اے طالب تحصیل ہُنر!کام ہے محنت
اے نام کے خواہاں!سبب نام ہے محنت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درزی کو سوئی اہل شجاعت کو ہے ہتھیار
ہے کاریگروں کے لئے ہروقت یہ اوزار
بیمار کے حق میں یہ مسیحا سے سواہے
اعجاز میں یہ عیسٰے اعجازنما ہے
کوئی بھی اس انسان کو انساں نہ کہے گا
جسکو نہیں محنت کی کبھی نام کوپروا
سب بیش بہاچیزوں کی قیمت ہے یہ محنت
آغازمصیبت ہے تو انجام ہے راحت
جوکام کیاکرتا ہے کم کرتا ہے عصیاں
بہکا نہیں سکتا کبھی ہرگزاسے شیطاں


No comments:
Post a Comment