Sunday, 8 January 2023

UseFullness of Miswak(Twig) in the light of Modern Science and Research

 

بسلسلہ،صحت،دین اسلام

مسواک کی افادیت جدیدسائینس کی روشنی میں

لاجواب معلومات وتحقیقات کے ساتھ

مصنف،تحقیق کار:مجاہدعلی

0333 457 6072,mujahidali125@yahoo.com

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس ایک فقرے میں دریاکوگویاکُوزے میں بندکردیاہو۔اسی ضابطہ حیات میں صفائ بھی ایک اہم عُنصرہے۔ صفائ کاایک اہم جُزو انسانی جسم کاایک اہم حصہ منہ بھی  ہے۔غذاسے ہٹ کراس کاایک تعلق صفائی سےبھی ہے۔قرآن وحدیث میں صفائی کے حوالہ سے مسواک کوایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔صفائی باطن کی ہویاظاہرکی دونوں اہمیت کی حامل ہیں ۔خدااوررسولﷺدونوں کوصفائی انتہائ محبوب  ہے!

 

 

 

 

 

 


اس تحقیقاتی مضمون  میں  مُنہ کی صفائی کے حوالے سے مسواک پرسیرحاصل بحث کی جائے گی!

ایک نفیس انسان اورمومن کی کی نشانی ہے کہ وہ پاک صاف رہتاہے۔پاک صاف سُتھرے کپڑے پہنتاہے اوراپنے جسم کی صفائی رکھتاہے جوسرسےلیکرپاوں کی جاتی ہے۔اورخودکواوردوسروں کواچھادکھنے کےلئے اچھی عُمدہ خوشبوکااستعال کرتاہے اوراگراس کی گفتگوشیریں اوراعلیٰ کردارہوتوسونے پرسہاگے کاکام دیتی ہے۔

 

بیماریاں اورصحت

انسانی جسم کی صحت کاسارے کاسارادارومدارمنہ دانت اوراس کی صفائی پرمنحصرکرتاہے۔ہم جوکچھ کھاتے ہیں سب کچھ پہلے منہ سے ہوکرگزرتاہے اوردانت اس میں اہم کرداراداکرتےہیں۔کھاناکھانے کے بعدکھانے کےبعداگران ذرات ومادوں کی صفائی نہ کی جائے تویہ ذرات گل سڑکرجراثیم اوربدبوکاباعث بنتےہیں۔جس سے دانتوں اورکئی جسمانی عوارض لاحق ہوتےہیں۔جس پرایک علیحدہ سے تفصیل سے درجنوں آرٹیکل لکھے جاسکتے ہیں۔

گلوبل ہیلتھ اشوزکے حوالے سے ادارہ عالمی صحت کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیامیں تقریباپانچ بلئن افرادکودانتوں کوکیڑالگنے کامرض لاحق ہے اوراسی میں مسوڑھوں کی بیماریاں بھی شامل ہیں۔

۔ماہرین کے تجربات سے یہ بات تحقیق شدہ ہے کہ تقریباً 80 فیصد امراض کی وجہ معدہ اور دانتوں کے نقائص اور بیماریاں ہوتی ہیں ۔ بالخصوص آج کل ہر تیسرا شخص معدے کے امراض میں مبتلا ہے۔تحقیقات تویہی کہتی ہیں کہ بیماریوں کی اکثریت منہ سے داخل ہوتی ہیں ۔انسان کی ۹۰ فیصدبیماریاں منہ کے صاف نہ رکھنے  سےپیداہوتی ہیں۔ اوراسکاعلاج کرنا مسواک  بھی ہے۔

لہذاان عوارض کی بناپرسنت نبویﷺپرعمل درآمدکرنااوربھی ضروی ہوجاتاہے۔

 

 بیماری وخرابی کی کئی وجوہات ہیں جیساکہ روزمرہ کی بنیادوں پردانتوں کی صفائی نہ کرنا،میٹھی چیزوں مٹھائی کیک وغیرہ اورمیدے سے بنی اشیاءجیساکہ ڈبل روٹی اوردیگرکئی بیکری آئٹم وغیرہ بھی ہیں۔اوراسلامی طریقہ کے تحت حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری نہ کرناہے۔

آئیں ذیل میں دیکھتے ہیں مسواک  ان بیماریوں اورمسائل سے نبردآزماہونے میں کیسے ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔

مسواک اوراسلام

اسلام میں طہارت وپاکیزگی نماز،تلاوت قرآن پاک اورکعبہ کے طواف جیسی عبادات کے لئے لازمی شرط ہےاسی طرح طہارت ونظافت کےضمن میں جناب رسول اکرمﷺنے جن چیزوں پر خاص زوروتاکیدفرمائ ہے ان میں سے ایک جزومسواک بھی ہے،جسکا تعلق مُنہ کی صفائی سے بلخصوص ہے۔جس کے  وسیع فوائد ہیں ۔صفائ بذات خودایک بہت بڑاموضوع ہے،اس لئے مفہوم حدیث ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔

اگرمسواک کودیکھاجائے تومعلوم ہوگاکہ بظاہردیکھنے میں ایک معمولی لکڑکی طرح ہے لیکناللہ تعالی نے دنیا میں کوئی چیز بے کار پیدا نہیں کی، مسواک بھی بظاہر بےقدر و قیمت نظر آتی ہے، لیکن یہ چھوٹی سی چیز افادیت کے اعتبار سے بڑی بڑی چیزوں پر بھاری ہے۔مسواک کی فضیلت میں عورت اورمرددونوں شامل ہیں۔

شیخ محمدعلیہ الرحمہ فرماتےہیں کہ مسواک کے فضائل میں ایک ۱۰۰ سے ذائداحادیث منقول ہیں۔کتب احادیث میں ایسی احادیث کی تعداد۷۰سےذیادہ ہے جن کاتعلق کسی نہ کسی طرح دانتوں کی صفائ سے ہے۔سُنت نبویﷺ کے مطابق دانتوں کی صفائ مسواک سے کی جائے۔

مسواک کی فضیلت پرسب کااتفاق ہے کسی کوانکارنہیں ،مسواک کرکے نمازپڑھنابلامسواک کی نمازسے افضل ہے آپﷺباہرسےگھرتشریف

 لاتے تومسواک فرماتےتھے۔اورجب آپ دنیاسے پردہ فرماکرجارہے تھے تو اس وقت بھی آپ کے ہاتھ مبارک میں مسواک موجودتھی۔لیکن امت کی اکثریت نے اس مسواک کی سنت کوترک کیاہواہے۔ مسواک انبیاءکی سُنت اورفطری خصائل میں سے ہے۔

سیدناخبیبؓ کوجب کافرسولی دینے لگے توآپ کے منہ میں اس وقت بھی مسواک موجودتھی۔

اس دورمیں بے شمارسُنتیں مٹتی جارہی ہیں۔ترک سُنت سے دین ودنیامیں نقصان اٹھاناپڑتاہے ،جس کے نتائج ہم ہرشعبہ ذندگی میں  بخوبی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔یوں تولاتعدادسُنتوں کوپس پشت ڈالاہے لیکن اس وقت موضوع بحث مسواک اوراسکانبوی استعمال ہے۔

 

سُنت اختیارکرنےیانہ کرنے پروعیدیں وخوشبریاں

مختلف احادیث میں سُنت پرعمل کرنے کے جہاں دنیاوی اوراُخروی فوائد ہیں۔وہیں پرسُنت پرعمل نہ کرنے پروعیدیں پرہیں۔

ترک سُنت پروعیدیں

۱۔جومیری سُنت پرعمل نہ کرے وہ میرانہیں ۔

۲۔جودوسروں کے طریقے پرچلے وہ ہم میں سے نہیں ہے

۳۔جومیرے طریقے سے منہ پھیرلے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے

۴۔جس  نےمیری سُنت بربادکی اس پرمیری شفاعت حرام ہے

 (فتاوٰی رحیمیہ ،ج ۲،ص ۴۰۴،۴۰۵)

ص ۱۵

ترک سُنت کرنے پراللہ اوراس کےرسولﷺکی لعنت

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا:

۶آدمیوں پرمیں بھی لعنت کرتاہوں اوراللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتاہےاورہرنبی مستجاب الدعوات ہوتاہے ،پھرآپﷺنے ان ۶آدمیوں کے بارے میں میں فرمایا،جن میں سے ایک تارک سنت بھی ہے یعنی ان چھ قسم کے افرادمیں سُنت کاچھوڑنے والابھی ہے۔ (اطاعت رسولﷺ،ص۴۹ )  ص ۱۷

سنت اختیارپرخوش خبری

رحمت کائناتﷺنے یہ مژدہ جانفزاسنایاتھاکہ مِنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عَنْدَ فَسَادِ اُمَّتِی فَلَہُ اَجْرُ مِائَۃِ شَھِیْدِ

یعنی جس زمانے میں لوگ میری سنتوں کوپامال کررہے ہوں توایسے حالات میں میری کسی سُنت پرعمل کرنے والوںکو۱۰۰ شہیدوں کااجرملےگا

ص ۱۴

جس نے میری سُنتوں میں سے کسی سُنت کوجومُردہ ہوچکی تھی، ذندہ کیاتواس کوان سب لوگوں کے برابرثواب ملے گاجواس پر

عمل کریں گے اوران عمل کرنے والوں کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی (اطاعت رسولﷺ،ص۱۲۶)

ص ۱۶

حدیث شریف میں آتاہے کہ حضورﷺنے فرمایاکہ  میں تم میں ۲چیزیں چھوڑکرجاتاہوں جب تک تُم ان دونوں کومضبوطی سے پکڑے رہوگے گُمراہ نہ ہوگے،ایک اللہ کی کتاب یعنی قرآن مجیداورایک اللہ کے رسولﷺ کی سنت

ص ۱۶

ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں ترکت فیکم ثقلین ،میں تم میں ۲ بوجھل(بھاری) چیزیں چھوڑکرجاتاہوں ،جب تک تم ان دونوں کومضبوطی سے پکڑے رہوگے گُمراہ نہ ہوگے،ایک اللہ کی کتاب،دوسرے میری سُنت

ص ۱۶

حدیث

نبی اکرم حضرت محمدمصطفیٰﷺنے فرمایا: جس نے میری سنت سے اس وقت محبت کی جب کہ لوگ میری سنت کوچھوڑچکے ہوں یہ لوگ میری جنت میں میرے ساتھ ہوں گے۔

ص ۱۰۸

آئیں ذرااحادیث کی روشنی میں جائزہ لیتےہیں کہ احادیث کی روشنی میں اس کی کتنی فضلیت ہے اورکس طرح اس کے حوالے سے احادیث واردہوئی ہیں۔

 

مسواک کی اہمیت احادیث  ِرسول اللہ  ﷺ کی روشنی میں

معانی الآثارکی شرح میں پچاس سے ذائد صحابہؓ سےمسواک اس کے فضائل کونقل کیاہے

احادیث

شیخ محمدعلیہ الرحمہ فرماتےہیں کہ مسواک کے فضائل میں ۱۰۰سے زائداحادیث منقول ہیں

مسواک کاحکم کیوں نازل ہوا

حدیث شریف میں ہے کہ ابتداءاسلام میں نبی کریمﷺکوہرنمازکے لئے نیاوضوکرنے کاحکم تھا خواہ آپ پہلے سے باوضوہوں یابغیروضوکے لیکن جب ہرنمازکے لئے وضوکرناآپ کےلئے تکلیف دہ ہونے لگاتواللہ تعالیٰنے اس حکم کومنسوخ فرماکرہرنمازکے لئےمسواک کرنے کاحُکم دے دیا

ابوداودشریف،ج ۱،ص،باب السواک

ص ۳۰

حدیث

مبارک درخت

نبی کریمﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین مسواک زیتون کے مُبارک درخت کی ہے یہ منہ کوخُوشبودار کرتی ہے اوردانتوں کی زردی کودُورکرتی ہے یہ میرااورمجھ سے پہلے انبیاءعلیہ السّلام کامسواک ہے۔

کتاب:محنت اورکسب معاش کی اہمیت اوربرکت ص ۵۴،۵۵

حدیث

ام المومنین سیدہ عائشہؓ سےروایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:روزہ دارکی بہترین عادات میں سے مسواک کرنابھی ہے  (کنزالعمال،ج ۸،ص ۳۱۵، ابن ماجہ ص ۱۲۱)

ص ۵۰

 

حدیث

جمعہ کے دن ہربالغ مسلمان کوچاہئے کہ غسل کرے،مسواک کرے اورخوشبولگائے (مسلم شریف ،ج ۱،ص ۲۸۰)

ص۵۲

حدیث

سیدناعلی المرتضٰی سے روایت ہے:لوگو!تمھارے منہ قرآن مجیدکےراستے ہیں،اس لئے انہیں مسواک سے اچھی طرح صاف کرو(ابن ماجہ،ص ۴۵،باب السواک)

ص ۵۳

 

حدیث

حضرت ابی حنیرہ الصباحیؓ فرماتےہیں کہ نبی کریمﷺنےمجھے پیلوکی شاخ مرحمت فرمائی اورفرمایاکہ اس سے مسواک کیاکرو

ص ۲۱

حدیث

اُم المومنین سیّدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺنے فرمایا:۱۰ چیزیں فطرت میں داخل ہیں

مونچھیں کاٹنا

داڑھی بڑھانا

مسواک کرنا

ناک میں پانی ڈالنا

ناخن کاٹنا

جوڑوں کادھونا

بغل کے بال لینا

موئے زیرناف مونڈنا

استنجاکرنا

حضرت صہیبؓ کہتے ہیں کہ دسویں چیزمیں بھول گیاہوں ،یادپڑتاہے کہ وہ کُلی کرناہے(مسلم شریف،ج ۱،ص ۱۲۹،۔ ابودادوشریف ،ج۷)

ص ۳۱

 

حدیث

امام ابونعیم علیہ الرحمہ نے عبداللہ بن حدادسے نبی کریم ﷺکایہ ارشادنقل فرمایاہے کہ: السواک افطرۃ:یعنی مسواک کرنافطرت ہے

ص ۳۱

حدیث

سیدناابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺنے ارشادفرمایا:

۴ چیزیں انبیاءکی سنتوں میں سے ہیں۔

ختنہ کرنا

عطرلگانا

مسواک کرنا

نکاح کرنا

 (ابن ابی شیبہ،ج ۱،ص ۱۷۰)

ص ۳۱

 

حدیث

ام المُومنین سیّدہ عائشہؓ سےروایت ہے کہ رسولﷺنے فرمایا:مسواک منہ کی پاکیزگی اوراللہ تعالٰی کی رضاجُوئ کامُوجب ہے(ابن ابی شیبہ،ج۱،ص ۱۲۹)

ص ۳۱،۳۲

 

حدیث

حضرت ابی امامہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:مسواک کیاکروکیونکہ اس سے منہ پاک وصاف ہوجاتاہے اورحق تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے

جبرائیل  علیہ السلام مجھے مسواک کی ہمیشہ وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے خوف ہواکہ کہیں مجھ پراورمیری اُمت پرفرض نہ ہوجائے۔اگرمجھے اپنی امت کی تکلیف کااندیشہ نہ ہوتاتومیں ان پرمسواک کرنافرض قراردے دیتاجب کہ میں خوداس کثرت سےمسواک کرتاہوں کہ اپنے منہ کےاگلے حصہ کے چھل جانے کاخوف ہے

(ابن ماجہ،باب السواک)

ص ۳۲،۳۳)

 

حدیث

حضرت ابوہُریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:اگرمجھے اپنی امت کی مشقت اوردشواری کاخطرہ نہ ہوتاتومیں انہیں ہرنمازکے ساتھ مسواک کرنے کاحُکم دیتا۔ (مسلم،ج ۱،ص ۱۲۸)

ص ۳۳

حدیث

حضورﷺکاارشادہے:اگرمجھےامت کی تکلیف کافکرنہ ہوتاتومیں ان پرمسواک بھی اسی طرح فرض قراردیتاجس طرح نمازکے لئے وضوفرض ہے(ترمذی ،باب السواک،ج ۱،ص ۲۵)

ص ۳۳

 

حدیث

اُم المومنین سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:مسواک میں موت کے سواہربیماری کی شفاموجودہے(کنزالعمال،ج۸،ص ۳۱۱)

ایک اورروایت میں ہے

مسواک جذام اوربرص جیسے مُوذی امراض کاقلع قمع کردیتاہےاورموت کے سواتمام امراض کی شفاہے(ردالمختار،ج۱،ص ۸۵)

 

حدیث

ایک اورحدیث جس کامفہوم اس طرح کہ حضورﷺایک بارصحابہ رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ،آپ ﷺنے صحابہ سے فرمایا:مسواک کیاکرو،اگرچھوڑدوگے توزناپھیل جائے گا

 صحابہ کرامؓ نے عرض کیایارسولﷺ!مسواک کازناسے کیاتعلق (سوالیہ نشان)آپﷺنے فرمایا:

مردوزن(میاں بیوی) کوجنسی تعلق ہے اسکاآغازبوس وکنارسے ہوتاہے،اگردونوں میں سے کسی ایک کے منہ سے تعفّن محسوس ہورہاہوتووہ عورت یامردچاہے کتنےبھی حسین ہو،تعفن نفرت کاباعث ہوگا اوروہ جنسی تسکین کے لئے دوسراراستہ ڈھونڈیں گے

ص ۴۱

حدیث

حضرت حسان بن عطیہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایا:

جونمازمسواک کے ساتھ پڑھی جائے وہ بغیرمسواک کے پڑھی جانے والی ۷۰ نمازوں سےبہترہے(ابن ابی شیبہ،ج۱،ص ۱۷۰)

ص ۴۲

 

حدیث

حضرت علیؓ،حضرت عبداللہ بن عباس اورحضرت عطاءؓسےروایت ہے کہ مسواک کرنےمیں غفلت نہ کرو،اسے ہمیشہ کے لئے معمول بنالو،اس میں رب کی رضاہے اورنمازمیں اجروثواب ۹۹ گُنابڑھادیتاہے(مراقی الفلاح،ص۳۸ )

ص ۴۲

 

حدیث

ایک روایت میں ہے کہ جوآدمی مسواک کرکے گھرسے نمازکے لئے نکلتاہے توملائکہ اسکے کےلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں

ص۴۲

حدیث

ابونعیم میں ہے کہ نبی کریمﷺجب سفرپرتشریف لے جاتے تومسواک کنگھا،سرمہ دانی،اورآئینہ ساتھ لے جاتے تھے

ص ۴۸

 

حدیث

حضرت ابن سباقؓ عنہ فرماتے ہیں :ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی کریمﷺنےارشادفرمایاکہ اے مسلمانو!اللہ رب العزت نے اس دن کوتمھارے لئے عیدبنایاہے۔لہذااس دن غسل بھی کرواورخوشبومیسرہوتولگااورجمعہ کے دن مسواک ضرورکرنا(موطاامام محمد،ص ۳۸)

ص۵۳

حدیث

حضرت ابُوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺنے فرمایا:جس آدمی نے جمعہ کے دن غسل کیا۔مسواک کیااورخوشبولگائ اورعمدہ کپڑے پہن کرمسجدمیں آیااورلوگوں کی گردنوں کونہیں پھاندا،بلکہ نمازپڑھی اورامام کے آنے کے بعدخاموش رہاتوحق تعالیٰ سبحانہ اس کے ان تمام گُناہوں کوجواس نے پورے ہفتہ میں کئے تھے معاف فرمادیتے ہیں (شرح معانی الآثارث،ج ۱،ص ۱۷۵)

ص۵۳

 

حدیث

رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن غسل اورمسواک کرناہرمسلمان پرفرض ہے

(کنزالعمال ،ج ۸،ص ۳۰۰

ص۵۳

حدیث

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے نبی کریمﷺسے عرض کیاکہ آپ نے ہمیں مسواک کرنے کی ترغیب دی ہے ،لہذاآپ یہ بھی ارشادفرمائیں کہ جس وقت مسواک موجودنہ ہوتوکسی دوسری چیزکے استعمال سے بھی یہ ثواب مل سکتاہے یانہیں؟حضورﷺنے ارشادفرمایا:تیری انگلی تیرامسواک ہے،اگرتونے مسواک کی نیت سے انگلی دانتوں پرمارلی تواس سے بھی مسواک کااجرمل جائے گا۔

ص ۵۷

 

حدیث

حضورﷺنے مسواک موجودنہ ہونے یادانت گرجانے کی صورت میں اُنگلی کومسواک کے قائم مقام قراردیاہے چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺنے فرمایا:انگلی مسواک کے قائم مقام ہے (سنن کبریٰ،ج ۱،ص۴۱)

ص۵۶،۵۷

 

 

حدیث

اُم المومنین سیدہ عائشہؓ نے نبی کریمﷺسےدریافت کیاکہ جس آدمی کے دانت نہ رہے ہوں کیاوہ بھی مسواک کرے گا،آپ ﷺنےارشادفرمایا:اسے بھی مسواک کرناہوگا۔ ام المومنین نے عرض کیاوہ کس طرح مسواک کرسکتاہے؟

حضورﷺنے فرمایا:وہ اپنی انگلی سے مسواک کرے (سنن کبریٰ،ج ۱،ص۴۱)

ص۵۷

حدیث

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:اگرمجھے امت کے مشقت میں پڑنے کاڈرنہ ہوتاتومیں انہیں ہرنمازکے ساتھ مسواک کاحُکم دیتا

ص۶۸

امام شافعیؒ فرماتےہیں کہ اگرمسواک واجب ہوتی توحضورﷺاس کاحُکم دے دیتے مشقت ہوتی یانہ ہوتی

ص ۷۰

حدیث

السواک مطھرۃ للفم مرضاۃ للرب

مسواک دانتوں کی صفائ اوررب کی رضاجوئ  کاسبب ہے

(مجمع الزوائد،ض ا،ص ۲۲۰۔ نیل الاوطار،ج ا،ص ۱۲۴)

ص ۷۰

 

حدیث

حضرت علیؓ سے عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایاکہ جب بندہ مسواک کرکے نمازپڑھتاہے توفرشتے اس کی قرات سننے کےلئے اس کے پیچھے یااس سے بھی قریب کھڑے ہوتےہیں یہاں تک کہ اس کے منہ پراپنامنہ رکھ دیتےہیں اورجوبھی اس کے منہ سے نکلتاہے محفوظ کرلیتےہیں اس لئے قرآن پڑھتےوقت اپنےمنہ کوصاف کیاکرو

ص ۷۶ ،۷۷

حدیث

حضرت جابربن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنےفرمایاکہ:

رکعتان بالسواک افضل من سبعین رکعۃ بغیرسواک

مسواک کرکے ۲رکعت پڑھنا بغیرمسواک کئے ۷۰رکعت پڑھنے سے بہترہے(الترغیب والترہیب،ج ۱،ص ۱۶۷)

ص ۷۷

حدیث

حضرت عبداللہ بن عمرؓفرماتے ہیں کہ رسولﷺنےارشادفرمایا:میں نے ایک مرتبہ خواب دیکھاکہ میں مسواک کررہوں،اتنےمیں دوآدمی میرے پاس آئے جن میں ایک چھوٹااوردوسرابڑا،میں نے ان میں سے چھوٹے کومسواک دیاتومجھے کہاگیاکہ بڑےکودیجئے،چنانچہ میں نے ان میں سے بڑے کودے دیا (بخاری،ج،۱ باب السواک)   ص ۳۳ ،۳۴

حدیث

آپ ﷺ نے فرمایا:عن رسولﷺانی لاستاک حتی لقدخشیت ان یکتب علی (المغنی لابن قدامہ،ج۱،ص ۹۵)

بے شک میں اتنی کثرت سے مسواک کرتاہوں کہ مجھے خوف ہے کہ یہ مجھ پرفرض  ہی نہ ہوجائے۔

ص ۷۰

حدیث

مسواک سرانہ توذیادہ سخت ہواورنہ ہی ذیادہ نرم بلکہ درمیاںی حالت میں ہو(ردالمختار،ج۱،۸۵)

ص۴۰

 

 

حدیث

سیدنامعاذبن جبلؓ سے روایت ہے:زیتون کی مسواک بہت اچھی ہے اورمُبارک درخت کی ہے،اس سے منہ پاک اوربدبودُورہوتی ہے

اورنبی کریمﷺنے فرمایا:

یہ میرااوراورمجھ سے پہلے انبیاءعلیہم السلام کامسواک ہے(کنزالعمال،ج ۸،ص ۳۲۱

امام حلبی لکھتے ہیں

پیلوکامسواک افضل ہے اوراس کےبعدزیتون کادرجہ ہے(مراقی الفلاح،ص ۳۳)

ص ۲۴

حدیث

بعض درخت ایسے ہیں جن سے مسواک بنانامستحب یاسُنت ہے،

چنانچہ زیتون کے درخت سے مسواک بنانے میں ایک حدیث بھی واردہوئ ہےجیساکہ علامہ طحطاوی نے حاشیہ الدرالمختارمیں طبرانی سے نقل کی ہے

نعم السواک الزیتون من شجرۃمبارکۃ وھو سواکی وسواک النبیاء من قبلی

زیتون کے درخت کامسواک بہترین مسواک ہے،وہ میرامسواک ہے اوران انبیاءکامسواک ہے جومجھ سے پہلے تھے۔(ص۲۶)

حدیث

اشعۃ اللمعات باب السواک میں کہاگیاہے کہ پیلوکے متعلق چنداحادیث بھی آتی ہیں

وفی عالمگیریہ وینبغی ان یکون السواک من اشجار

مّرہ لانّہ یطیب نکھہ الفم ویشدّالاسنان ویقوّی المعدۃ

ولیکون رطباوفی شرح امدادالفتاح وینبغی ان یکون

السواک لیّنا فی غلظ الاصبح طول شبرمستویاقلیل

العقدمن الشجارالمعروفۃ وھو الارک لیکون اقطع

للبلغم وانقی للصدرواھنی للطعام وی غنیۃ المسملی

والصغیری ثم الستحب ان یکون من شجرۃ مرّۃ لزیادۃ

ازالہّ تغیّر الفمّ وفیہھاایضاوافضل الاراک ثم الزیتون و

فی جامع الرّموزواصلہ من الزیتون فان منہ سواک

الانبیاءکمافی الینابیع وفی المرقاۃ قال النووی و

یستحب الایساک بعد من اراک وی شرح المسلم

للنووی والمستحب ان یستاک بعود متوسط لاشدید الیبس لیحرج ولارطب لاتنزیل

اورعالمگیری میں ہے کہ مناسب ہے کہ ہومسواک کڑوے درختوں میں سے کیونکہ اس سے منہ کی بواچھی ہوتی ہے اوردانت سخت ہوتے ہیں اورمعدہ مضبوط ہوتاہے اورچاہئے کہ ہوتر

اورامدادالفتاح کی شرح میں ہے کہ مناسب ہے کہ مسواک نرم ہواورانگلی کی مقدارمیں موٹاہو،ایک بالشت لمبابرابرہواورگرہیں اس میں کم ہوں،معروف درختوں میں سے ہواوروہ پیلو کادرخت ہےتاکہ بلغم کوقطع کرے اورسینے کوصاف کرے اورغنیۃ المستملی اورصغیری میں ہے کہ پھرمستحب یہ ہے کہ کڑوے درخت سے ہو کیونکہ وہ منہ کی کی بدبوکوبہت زائل کرتاہے اوراسی میں ہے اورافضل پیلوکادرخت ہے ،پھرزیتون کا۔اورجامع الرموزمیں ہے اوراصل یہ ہے کہ زیتون کاہوکیونکہ اس  سےانبیاءکامسواک ہوتاتھا جیساکہ ینابیع میں لکھاہے اورمرقاۃ میں ہے۔

اورنووی نے کہاکہ مستحب ہے کہ مسواک کرے ایک لکڑی سے

جوپیلوکے درخت سے ہواورشرح مسلم میں ہےاورمستحب یہ ہے کہ مسواک کرے ایک لکڑی سے جومتوسط ہو،نہ بہت ذیادہ خشک ہوکہ حرج پیداکرے اورنہ اتناترکہ زائل نہ کرے۔

ص ۲۷،۲۸

حدیث

خواب میں مسواک کاحکم

حضرت عبداللہ بن عمرؓفرماتے ہیں کہ رسولﷺنے ارشادفرمایا:میں نے ایک مرتبہ خواب دیکھاکہ میں مسواک کررہاہوں،اتنے میں دوآدمی میرے پاس ہوئے جن میں سے ایک چھوٹااوردوسرابڑا،میں نے ان میں سے چھوٹے کومسواک دیاتومجھے کہاگیاکہ بڑے کودیجئے،چنانچہ میں نے ان میں سے بڑے کودے دیا

بخاری،ج۱،باب السواک

 

امام ابوداودنے اسی طرح کاواقعہ بیداری کابھی بیان کیاہے،ام المومنین سّیدہ عائشؓہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضورانورﷺمسواک کررہے تھے۔اوران کے پاس ۲آدمی تھےجن میں سے ایک بڑااوردوسراچھوٹاتھا،اللہ تعالیٰ نےآپ کی طرف وحی بھیجی کہ بڑےکومسواک عنایت کریں۔

ابوداود،ص ۶،باب الرجل یستاک بسواک بغیریہ

 

حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ میں نےایک مرتبہ رسول کریمﷺکومسواک کرتے دیکھاجب آپ فارغ ہوئے توقوم کے ایک بڑے آدمی کومسواک دے دیااورفرمایاکہ مجھے جبرائیل علیہ السلام نے حُکم دیاہے کہ بڑے آدمی کودیں

سنن کبریٰ ،ج ۱،ص ۴۰

 

علامہ ابن حجرعسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالاروایات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ ۲دفعہ پیش آیاہے،پہلے خواب میں اورپھربیداری میں بھی۔چنانچہ بیداری میں پیش آنے کے بعدآپ نے خواب کاواقعہ بھی بیان فرمایا۔

فتح الباری،ج ۱،ص ۳۵۷

علّامہ خلیل احمدسہارنپوری اس حدیث کونقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں کہ حضورﷺکے دائیں حضرت صدیقؓاوربائیں فاروقؓ تھے،اورعمرمیں بڑے آدمی یعنی صدیقؓ کومسواک دینے کاحکم ملاتھا

بذل المجہود،ج ۱،ص ۳۲

ص ۳۳،۳۴

 

حدیث

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مسواک پکڑنے کامسنون طریقہ اس

طرح مروی ہے:مسواک دائیں ہاتھ میں اس طرح پکڑیں کہ انگوٹھااورچھنگلی مسواک کے نیچے اورباقی اُنگلیاں اوپرہوں

ص ۳۹

حدیث

حضرت ابووائلؓ ،حضرت حزیفہؓ سےروایت کرتےہیں کہ

عن ابی وائل عن حذیفۃ ان الرسولﷺکان اذاقام من اللیل یشوص فاہ  بالسواک

نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام جب رات کواٹھتے تواپنی منہ کومسواک سے صاف کرتے

ص ۶۸

 

حدیث

ان السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنھا سئلت بائ شئ کان الرسولﷺیبدااذادخل بیۃ قالت کان اذادخل بیتہ بدا بالسواک

صحیح مسلم،ج ۱،ص ۲۶۴

امام مسلم حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سے سوال کیاگیاحضورعلیہ الصلوۃ والسلام گھرمیں داخل ہوتے توکس چیزسے ابتداکرتے،آپ نے جواب دیاکہ جب حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام گھرمیں داخل ہوتے تومسواک سے ابتداکرتے۔

ص ۷۸،۷۹

 

حدیث

ابتدااستعمال کے وقت (مسواک) ایک بالشت کاہوناچاہئے بعدمیں چھوٹا ہوجانے میں کچھ مضائقہ نہیں،ایک روایت میں ہے کہ اناراورریحان کی لکڑی کامسواک کرنامکرہ ہے(ردالمُختار،ج ۱،ص ۸۵)

ص۲۵

 

حدیث

ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آخری وقت میں حضورﷺنے فرمایا:لاومیری مسواک کہاں ہے،آپﷺنے پہلے مسواک نرم کی اورپھرمسواک سے دانتوں کوصاف کیا

ص ۱۰۸

 

 

 

حدیث

حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپ سے کسی نے پُوچھاکہ حضورﷺرات کوسونےسےپہلےاورصبح اٹھنے کےبعدپہلےکیاکام کرتےتھے؟

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ مسواک کرتےتھے

ص ۱۰۹

 

فضائل مسواک

حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ حضورﷺنے فرمایاکہ میرے نزدیک ۲ رکعت مسواک کرکے پڑھنابغیرمسواک ۷۰رکعتوں سے ذیادہ  محبوب ہے۔حضرت ابن عمرؓسے ۷۵نمازوں سے بہترہونامنقول ہے۔ثواب کی یہ کمی بیشی اخلاص کے بقدرہوتی ہے

بحوالہ اشاعت: ماھنامہ محاسن اسلام،اگست ۲۰۱۷، شمارہ ۲۱۵۔جلد۱۸،ص ۵۳

جھاڑی کی جڑنکال کربھی اس سے انسان دانت صاف کرسکتاہے ،نبی کریمﷺکی مرغوب مسواک ایک جھاڑی (راک) کی جڑہی ہوتی تھی

ص ۹۵، ۹۶

 

لہذایہ یادرکھاجائےکہ مسواک کی سُنت صرف  اُسی صورت میں اداہوسکتی ہے جب وہ صرف زیتون پیلواورنیم وغیرہ سے کی جائے!

 

مسواک:ہدایات  اورانتخاب میں  احتیاطی تدابیر

 

بعض درخت ایسے ہیں جن سے مسواک بنانافائدے سے خالی نہیں،نیزچندباتیں ایسی ہیں جن کاخیال رکھنا مسواک میں ضروری ہے۔مثلاجیساکہ:

۱۔زہریلادرخت نہ ہو 

۲۔سخت لکڑی نہ ہو

۳۔کانٹے دارنہ ہو

۴۔تلخ درخت نہ ہو

۵۔نرم لکڑی ہو

۶ ۔ترلکڑی ہو

۷۔ سیدھی لکڑی ہو

۸۔ ایک انگلی کی موٹائ ہو

۹۔ایک بالشت لمبائی ہو

۱۰۔ اس کابرش باریک اورنرم کیاگیاہو

۱۱۔دائیں ہاتھ می پکڑے

۱۲۔ دائیں طرف سے شروع کرے

۱۳۔ مسواک کرنے سے پہلے مسواک دھوئے

۱۴۔مسواک کرنے کے بعداسے صاف کرے

۱۵۔اس کوچُوسے نہ

سولہ۔ عام چیزوں کی طرح اسے نہ پھینک ڈالیں

۱۷۔ مسواک کرتے وقت خاص دعاپڑھی جائے

۱۸۔جب کم ہوتے ہوتے چاراُنگلیوں کی مقدارسےبھی کم ہونے لگے تواس سے مسواک نہ کرناچاہئے

ص ۲۶، ۲۷

ہدایات

۱۔لیٹ کرمسواک نہ کرے اس لئے کہ اس سے تلی بڑھ جاتی ہے

۲۔مٹھی بندکرکے مسواک  نہ کرے  اس لئے اس سے پھنسی پھوڑے پیداہوتےہیں

۳۔مسواک کونہ چُوسے اس سے اندھاپن پیداہوتاہے

۴۔مسواک کواستعمال کے بعدنیچے نہ گرادے اس لئے کہ اس سے جنون پیداہوتاہے

۵۔ شامی میں ہے کہ موت کے سواباقی تمام بیماریوںکی شفا مسواک ہے

۶۔مرتے وقت کلمہ شہادت یادآجاتاہے

۷۔صفراکودفع کرتاہے

۸۔مسواک کی پہلی بار تھوک نگلنے سےجذام ،برص نہیں ہوتا،اگرہوتودفعہ ہوجاتاہے اس کے بعد نگلنے سےوسوسہ کی بیماری پیداہوتی ہے (حکیم ترمذی)

۹،خوشبو دارپھل کی لکڑی کی مسواک جذام کی آگ کوجلادیتی ہے جس سےبیماری بڑھ کرموجب ہلاکت بنتی ہے

۱۰۔زیتون کے درخت کی مسواک حضورسروعالمﷺ اورانبیاءعلیہم السلام کی سنت ہے اوراس سے بے شماربیماریاں دورہوجاتی ہیں

۱۱۔مسواک کی مواظبت پربڑھاپادیرسے آتاہے یعنی سیاہ بال دیرسے سفیدہوتےہیں

۱۲۔بینائی تیزہوتی ہے

۱۳۔پُل صراط پرتیزی  نصیب ہوگی

۱۴۔بغلوں اورمنہ کی گندی بُوسے نجات نصیب ہوگی

۱۵۔ دانتوں کوچمکیلابناتی ہے

۱۶ ۔مسوڑھےمضبوط ہوتے ہیں

۱۷۔طعام(کھانے) کوہضم کرتاہے

۱۸۔بلغم کواکھاڑپھینکتاہے

۱۹۔نمازکےثواب کااضافہ مقصودہوتوحدیث شریف میں بیان ہےکہ ۷۰گُنازائدثواب نصیب ہوگا

۲۰۔قرآن پاک کی تلاوت منہ سے ہوتی ہے لہذااس کی صفائ ضروری ہے کہ قرآن پاک کی تلاوت منہ سے ہوتی ہے لہذااسکی صفائی ضروری ہے۔کہ قرآن پاک کی تلاوت گویااحکم الحاکمین سےگفتگوہورہی ہے ،ہم کسی معمولی آدمی کےساتھ بدبوکی وجہ سے شرماتےہیں توپھرکائنات کے خالق سے کیوں نہ شرمائیں

۲۱۔سواک کی عادت سے فصاحت لسانی میں اضافہ ہوتاہے

۲۲۔مسواک شیطان کوناراض کرتی ہے

۲۳۔سواک کے استعمال سے تمام صفرائ بیماریوں کاخاتمہ ہوجاتاہے

۲۴۔سرکی رگوں کی حرارت کوسکون ملتاہے

۲۵۔دانتوں کادردختم

ص ۱۰۲تا۱۰۶

 مسواک :ادب وآداب وطریقہ مُبارک

مسواک کالُغوی منی رگڑنے یاملنے کے ہیں۔علماءکی اصلاح میں مسواک اس لکڑی کوکہتے ہیں جدانتوں پرملی یارگڑی جائے جس سے دانتوں کی زردی وغیرہ دُورہوجائے(حاشیہ مسلم شریف،ج ۱،ص ۱۲۷)

مفتاح الجنان اوراسی طرح  صلوۃ الطیّین میں لکھاہےکہ مسواک کرتے وقت نیت خالص کرنی چاہئے،اللہ پاک کی رضاکی اوریہ کہ اپنےدانت صاف کرتاہوں۔سنت رسولﷺ کے مطابق ،کیونکہ نیت پرہی ثواب کادارومدارہے۔اگراس کی یہ نیت ٹھیک ہوگی تواسے ثواب بھی ملے گااورکام بھی ہوجائے گا،اگرنیت ٹھیک نہیں ہے صرف صفائ مقصود ہوتوآخرت کاثواب نہیں مل سکتا

ص۳۵

 

مسواک کے آداب

مسواک کرنے سے پہلے مسواک دھوئے

مسواک کرنے کے بعد اسے صاف کرے

اس کوچُوسے نہ

عام چیزوں کی طرح اسے نہ پھیک ڈالیں

مسواک کرتے وقت خاص دعاپڑھی جائے

مسواک کےآداب

۱۔مسواک سنت رسولﷺ ہے،ہمارے نبی کریمﷺ اورتمام انبیاءکرم جوآپ سے پہلے گزرےہیں ان کی سنت اورپاکیزہ عادات میں سے ہے ،علامہ شامی نےوضومیں مسواک کرناسنت موکدہ قراردیاہے(شامی،ج ۲،ص ۱۶۸) اورجمہورنے سنت کہاہے۔

۲۔مسواک سے عبادتوں کاثواب بڑھ جاتاہے ،نمازکاثواب ۷۰یا۷۵گُناہوجاتاہے (حدیث)

۳۔نیندسے بیدارہونےکے بعد مسواک کرنے کی خصوصیت سے کرنے کی تاکیدہے۔حدیث

مسواک  صرف نمازاوروضوہی کے لئے سنت نہیں بلکہ جب بھی منہ  میں گندگی اوربوُمحسوس کرے

۴۔جمعہ عیدین اورمجالس میں شرکت کے لئے کرنامستحب ہے

۵۔ذکراورتلاوت قرآن سے قبل مسواک کرنامستحب ہے

۶۔مسواک دائیں جانب یعنی منہ کے دائیں رخ سے کرے(مرقات،ص ۳۰۰)

۷۔امام نووی نے لکھاہے کہ چھوٹے بچوں کوبھی مسواک کی تعلیم دے تاکہ وہ بھی اس سنت کے عادی ہوں (شرح مسلم،ص ۳۷)

۸۔ مسواک کومٹھی میں پکڑکرنہ کرے کہ اس سے مرض بواسیرپیداہوتاہے (اسعایہ،ص ۱۹۹)

۹۔مسواک لیٹ کر نہ کرے اس سے تلی بڑھتی ہے(طحطاوی ،ص۳۸ )

۱۰۔مسواک کوچوسے نہیں کہ اس سے نابینائ اندھاپن آتاہے ۔ہاں مگرمسواک نیاہوتوپہلی مرتبہ چُوساجاسکتاہےالسعایہ،ص ۱۹۹)

۱۱۔اگرمسواک خُشک ہوتواسے نرم کرلیناپانی سے بگھاکرترکرلینامستحب ہے(طحطاوی ،ص ۳۷،عمدۃ،ص ۱۸۵)

۱۲۔پہلی مرتبہ نئےمسواک کوچُوسناجذام اوربرص کودفع کرتاہے ،موت کے علاوہ تمام بیماریوں سے شفاہے اسکے بعدچُوسنا نسیان پیداکرتاہے (اتحاف السادۃ،ص ۵۳۱،۔ شامی،ج ۱ ،ص۱۱۵ )

۱۳۔مجمع عام ،جہاں مسلمانوں کااجتماع ہومسواک کرکے شریک ہونامستحب ہے(بحرمنحتہ الخالق،ص ۲۱)

۱۴۔مسواک اس وقت تک کرےجب تک کہ دانتوں کی بدبواورزردی زائل نہ ہوجائے اورمیل وگندگی کے ختم ہونے کایقین نہ ہوجائے (شامی،ص۱۱۴ )

عمدۃ القاری میں ہے اس وقت تک کرے جب تک کہ منہ کی بدبوزائل نہ ہوجائے اورپیلاپن ختم نہ ہوجائے(ج ۶،ص ۱۸۱

۱۵۔مسواک ۳مرتبہ۳پانی سے کرنامستحب ہے (شامی ،ص ۱۱۴)

۱۶۔ہرمرتبہ مسواک کوپانی سے ترکرے اوربھگادے (شامی،ص ۱۱۴)

۱۷۔مسواک کے ریشے بہت سخت اورکڑے نہ ہوں بلکہ نرم ہوں ڈھیلے بھی نہ ہوں

۱۸۔مسواک دائیں ہاتھ سے کرنامستحب ہے(شامی،ص ۱۱۴)

۱۹۔مسواک شروع میں ایک بالشت ہوبعد میں کرتے کرتے چھوٹاہوجائے تواس میں کوئی حرج نہیں ،اگراتفاق سےمسواک نہ ہوتواانگلی سے کرے،نہ ہونے کی صورت میں یہ قائم مقام ہے(السعایہ)

۲۰۔انگلی سے مسواک کرے توہاتھ کی انگشت شہادت سے کرے(شامی)

۲۱۔انگوٹھے سے بھی دانت کاملنادرست ہے (شامی،ص۱)

۲۲۔کسی سخت اورکُھردرے کپڑے کے ٹکڑے سے بھی دانت کومل کرصاف کیاجاسکتاہے

۲۳۔جس طرح وضو میں مسواک مسنون ہے اسی طرح غسل میں بھی  مسواک سنت ہے (الاذکار)

۲۴۔ دوسرے کی مسواک بلااجازت مکروہ ہے (السعایہ،ص۱۱۹ )

۲۵۔دوسرے کی مسواک کرنے سے قبل دھولیناچاہئے (حدیث)

۲۶:مسواک کم ازکم ۳مرتبہ کرنامسنون ہے(شامی،ص۱۴ ۱)

۲۷۔مسواک کرنے سے قبل بھی دھوئے اورکرنے کے بعد دھوکررکھے ورنہ شیطان مسواک کرنے لگتاہے (طحطاوی،ص۳۷ )

۲۸۔عین مسجدیاصحن مسجدمیں مسواک نہ کرے کہ اس سے منہ کی بدبومسجد میں پھیلے گی اورتھوک وغیرہ یامسواک کے ریزے مسجد میں گریں گے (مرقات،ج ۱،ص۳۰۲)

۲۹۔سونے سے قبل بھی مسواک کرنامسنون ہے (حدیث)

۳۰۔ازراہ تبرک وعقیدت محبت کسی کے مسواک کواس  کی اجازت سے استعمال کیاجاسکتاہے (حدیث)

۳۱۔مرض الموت اورنزع کی حالت طاری ہونے سے قبل مسواک کرنامسنون اوربڑی فضیلت کی بات ہے(حدیث)

۳۲۔مسواک کوہمیشہ اپنے پاس جیب وغیرہ میں رکھنابہترہے تاکہ جب جہاں نمازوضوکاموقع ہومسوا ک کی فضیلت ساتھ ہو(حدیث)

۳۳۔سفرمیں بھی مسواک ساتھ رکھنامسنو ن ہے (حدیث)

۳۴۔رات میں سونے سے قبل بسترپریااورکسی طرح سے مسواک کااہتمام رکھنامسنون ہے(حدیث)

۳۵۔مسواک ذرااہتمام اورمبالغہ کے ساتھ کرے،صرف ایک دومرتبہ دانت پرمل کرنہ چھوڑے (حدیث)

۳۶۔ مردوں کی طرح عورتوں کوبھی مسواک مسنون ہے (حدیث)

۳۷۔رمضان المُبارک میں ہروقت خواہ صبح ہویاشام مسواک کرنادُرست اورباعث ثواب ہے،احرام کی حالت میں بھی مسواک کرنامشروع ہے

۳۸۔تہجدکی نمازسے قبل مسواک کرنااورتہجدکی رکعتوں کے درمیان بھی مسواک کرنامستحب ہے(عمدۃ القاری)

۳۹۔ مسواک کی لکڑی سیدھی ہونی چاہئے اس میں گرہ وغیرہ  نہ ہو،ہاں ایک آدھ گرہ ہوتومضائقہ نہیں ہے

۴۰۔چت لیٹ کرمسواک کرنامکروہ ہے ،اس  سے تلی بڑھ جاتی ہے

۴۱۔مسواک کھڑی کرکے رکھنی چاہئے۔زمین پرنہ ڈالی جائے ورنہ جنون کاخطرہ ہے،حضرت سعیدبن جبیرؓسے نقل کیاگیاہے کہ جوشخص مسواک کوزمین پررکھنے کی وجہ سے مجنون ہوجائے تووہ اپنے نفس کے علاوہ کسی کوملامنت نہ کرے کہ یہ خوداس کی غلطی ہے

۴۲۔اگرمسواک خشک ہے تواسے پانی سے نرم کرنامستحب ہے

۴۳۔کم ازکم ۳مرتبہ مسواک کرنی چاہئے اورہرمرتبہ پانی میں بھگونی چاہئے

۴۴۔وضو کے پانی میں مسواک داخل کرنااگراس میں میل کُچیل ہے مکروہ ہے

۴۵۔بیت الخلامیں مسواک کرنامکروہ ہے

۴۶۔ مسواک دونوں طرف سے استعمال نہ کی جائے

۴۷۔مسجدمیں مسواک کرناجائزہےلیکن بذل المجہودمیں لکھاہے کہ مسواک کااستعمال مسجدمیں مناسب نہیں ہے ،کیونکہ اس کے ذریعے منہ کی گندگی دورکی جاتی ہے اورگندگی کے ازالہ کے لئے مسجدمحل نہیں ہے

۴۸۔ مسواک پُوری مٹھی میں پکڑکرنہ کی جائے اس سے بواسیرپیداہوجاتی ہے

۴۹۔مسواک زمین یامیزپرپڑی رکھی نہ جائے بلکہ کھڑی رکھی جائے،پڑی رہنے سے جنون کاخوف ہے

۵۰۔ مسواک ایک بالشت سے لمبی نہ ہوورنہ شیطان اس پرسوارہوتاہے(غا یۃ الاوطار،ج ۱،ص۵۳

۵۱۔ جب تہجدکی نمازکے لئے اُٹھیں توپہلے مسواک کریں پھروُضو کریں (بخاری ومسلم)

۵۲۔ جب سوکراٹھیں دن کویارات کوتومسواک کریں (مسنداحمد،سنن ابوداود)

۵۳:مسواک ایک بالشت سے ذیادہ لمبی نہ ہواورانگلی سے ذیادہ موٹی نہ ہو(بحرالرائق)

۵۴۔مسواک پکڑنے کاسنت طریقہ یہ ہے کہ چھنگلی مسواک کے نیچے کی طرف اورانگوٹھامسواک کے سرے کے نیچے اورباقی انگلیاں مسواک کے اوپرہوناچاہئے(شامی)

۵۵:مسواک دانتوں میں عرضا اورزبان پرطولاکرنی چاہئے۔دانتوں کے ظاہروباطن اوراطراف کوبھی مسواک سے صاف کیاجائے اوراسی طرح منہ کے اپوراورنیچے کے حصہ اورجبڑے وغیرہ میں بھی مسواک کرنی چاہئے(طحاوی)

۵۶۔کہیں مجلس میں اس طرح مسواک کرناکہ مُنہ کی رال ٹپک رہی ہے مکروہ ہے

۵۷۔جب نمازکے لئے وُضوکریں توپہلے مسواک کریں (بخاری مسلم)

۵۸۔مسواک نہ ہونے کی صُورت میں اگرانگلی سے مسواک کرنامقصودہوتواسکا طریقہ یہ ہےکہ مُنہ کی دائیں جانب اوپرنیچےانگوٹھے سے صاف کرے اوراسی طرح بائیں جانب شہادت کی انگلی سے کرے

۵۹۔ اگردانت نہ ہوں تواس صورت میں مسوڑھوں کوصاف کرے چاہےنرم مسواک سے یااُنگلی سے

۶۰۔موت کے آثارپیداہوجانے سے پہلے مسواک کرنامسنون ہے(بُخاری)

۶۱۔مسواک ۳مرتبہ سے کم کرنابھی مکروہ ہے

۶۲۔بائیں ہاتھ سے مسواک کرنامکروہ ہے

۶۳۔ قیام کی حالت میں مسواک کرناکہ دردزانوپیداکرتاہے

۶۴۔ چلتے ہوئے مسواک کرنااس لئے مکروہ ہے کہ اس سے دردکمرہوتاہے(مفتاح الجنان فی غایۃ الادراک)

۶۵ ۔ مجلسوں اورمحفلوں میں مسواک کرنامکروہ ہے (اشعۃ اللمعات)

۶۶۔ حمام میں مسواک کرنابھی مکروہ ہے منہ کی بدبواس سے پیداہوئی ہے (مفتاح الجنان)

۶۷۔ کوڑاکرکٹ کی جگہ مسواک کرنا،نزدخدامبغوض میشور۔ اللہ کے ہاں مبغوض  بن جاتاہے(مفتاح الجنان)

۶۸۔مسواک کرنے کے بعدمسواک کوبلااہتمام عام لکڑی کی طرح پھینک دینا

۶۹ ۔مسواک سے کوئی اورکام لینامکروہ ہے

۷۰۔۱ورمسواک کھڑاکرناچاہئے ویسے نہیں رکھناچاہئے۔ورنہ مجنون ہونے کاخطرہ ہے(کذا فی الدرالمنتھارولایضعہ بل  ینصبہ والافخطرالجنون))

۱۲۱تا۱۲۶

 

دانت کی صفائ کانبوی طریقہ

آپ ﷺنے دانتوں کوصاف کرنےکے طریقے بھی وضع فرمائے،آپ ﷺنے فرمایاکہ مسواک  کا رُخ مسوڑھوں سے دانتوں کی طرف ہویعنی اُوپروالے جبڑے سے نیچے والے جبڑے کی طرف اورنیچے جبڑے سے اوپروالے جبڑے کی طرف پہلے مسواک کے ریشوں کونرم کریں اورجس طرح حضورپاکﷺنے طریقہ بتایااس پرعمل کیاجائے یہ بھی مقام فکرہے کہ حضورپاکﷺ نے جوطریقے بتائے ہیں وہی آج سائنس کاترقی یافتہ دوربھی بتارہاہے

 

مسواک پکڑنے کامسنُون طریقہ

جہاں نبی کریمﷺنے مسواک کی فضیلت اوراہمیت کوبیان فرمایاہے وہاں اس کے کرنے کاطریقہ ،اسے پکڑنےکااندازاوراس کی لمبائ موٹائل کاتذکرہ بھی متعددروایات میں پایاجاتاہے،چنانچہ حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:ابتدامیں مسواک کی لمبائ ایک بالشت ہونی چاہئے،لیکن بعد میں کم ہوجانے میں کُچھ مضائقہ نہیں ہے

سنن کبریٰ،ج ۱ص پینتالیس۔ ردالمختار ،ج ۱،ص ۸۵

ص ۱۰۸

ویسےاس کے استعمال کابہترین اوردرست طریقہ یہ ہے کہ اس کی اوپروالی چھال دورکرنےکے بعد ریشے دارسرے کوآہستہ آہستہ چباکرنرم کیاجائے یہاں تک کہ یہ برش جیساریشہ داربن جائے،اس سرے کومسوڑھے پررکھ کردانتوں کی چبانے والی سطح کی طرف ہلکی رگڑکے ساتھ لایاجائے تاکہ دانتوں کادرمیانی خلاصاف ہوجائے ،مسواک اگرخشک ہوتواسےتھوڑی دیرپانی میں بھگونے سے وہ نرم ہوجائے گی،مسواک دانتوں کے اندرونی حصوں میں بھی پھیرنی چاہئے تاکہ دانتوں کی مکمل صفائ ہوجائے،اس کےتلخ ذائقے سے نہ کترائیے،یہی ذائقہ آپ کومیٹھاپھل دیے گایعنی آپ کے دانت مضبوط مسوڑھے صحت منداورمسکراہٹ دلرباہوجائےگی۔

یادرکھیں کہ مسواک کااستعمال سنت رسولﷺہے اوراسکااختیارکرنااجرکثیر

حجۃ اللّٰہ البالغہ‘‘ میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے تحریرفرمایا ہے کہ آدمی کے لیے مناسب ہے کہ مسواک کو منہ کے انتہائی اور آخری حصوں تک پہنچائے؛ تاکہ سینہ اور حلق کا بلغم ختم ہوجائے۔ اور خوب اچھی طرح مسواک کرنے سے قلاح جو منہ کی ایک بیماری ہے دو رہوجاتی ہے، آواز صاف اور منہ کی بو عمدہ ہوجاتی ہے۔(1/310)

 

مسواک اورطریقہ استعمال

سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ مسواک ایک آئیڈیل ٹوتھ برش ہے مگرکچھ لوگ مسواک کے استعمال کے بعدمسوڑھوں

سے خون آنے کی شکایت کرتےہیں۔اکثراوقات اس کی اصل وجہ مسواک کواستعمال کرنے کاغلط طریقہ ہوتاہے ،مسواک میں مندرجہ ذیل چیزوں کاہوناضروری ہے

۔۱۔مسواک کی ذیادہ سے ذیادہ لمبائی پانچ سےچھ انچ تک ہونی چاہئے

۲۔مسواک کابرش ایریا پوائنٹ فائیو سینٹی میٹرسے ذیادہ نہیں ہوناچاہئے

۳۔اسکے ریشے باہرکی طرف نہ پھیلے ہوں تاکہ مسوڑھوں کی زخمی کرنے کاباعث نہ بنیں

۴۔اس کواستعمال سے پہلے گیلانہیں کرناچاہئے

۵ ۔ مسواک کوہمیشہ اوپراورنیچے کی سمتوں سے استعمال کرناچاہئے۔سب سے پہلے دائیں طرف سے آخری دودانت اورسب سے آخرمیں جبڑے کے اوپروالے درمیانی دانت اورنیچے والے درمیانی دانت صاف کرناچاہئیں

۶۔مسواک کا سرانہ توذیادہ سخت ہواورنہ ہی ذیادہ نرم بلکہ درمیانی حالت میں ہو

لہذاکوئی بھی شخص اگرمسواک کررہاہے تواسے چاہئے کہ  اچھی طرح سے منہ کے اندرمسواک کرے اور حلق اور سینہ کا بلغم نکالے اور منہ میں خوب اندرتک مسواک کرنے سے مرض قلاع دور ہو جاتا ہے اور آواز صاف ہو جاتی ہے اورمنہ خوشبو دار ہو جاتا ہے

نبی کریمﷺنے دانتوں کی صفائی کاجوطریقہ دیاوہ اس قدرقابل عمل ہے کہ امیرہویاغریب ،پہاڑوں پرہویاجنگلوں میں ہرفردہرجگہ اس پرعمل کرسکتاہے ۔نبی کریمﷺ نے مسواک کاحکم دیااوریہ ایک  ایسی چیزہے جوپہاڑوں اورصحراوں تک میں پائ جاتی ہے۔جہاں کہیں بھی انسان ہے وہاں نہ کوئ نہ کوئ درخت یاجھاڑی ضروررہوگی۔

اگرساری دنیاکاسروے کیاجائے تو۸۰تا۹۰فیصدلوگ ایسے ہیں جوٹوتھ پیسٹ اوربرش خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔

 

کن اوقات میں مسواک کرنامستحب ہے

 


غایتہ الادراک میں یہ دعٰوی کیاگیاہے کہ جن جن مقامات میں مسواک کرنا مستحب ہے وہ اتنے ذیادہ ہیں کہ ان کاصحیح احاطہ کرنااوربیان کرنا مُشکل ہے لیکن یہ کہناتقریبامبالغے سے خالی نہں ،اتنامبالغہ بھی غیرمستحب ہے

۱۔وضوکے دوران مسواک سُنت ہے

۲۔منہ کے بدبودارہونے کے وقت مسواک سُنت ہے

،۳۔نیندسے اٹھنے کے بعدکیونکہ منہ میں بدبوہوتی ہے

۴۔گھرمیں داخل ہوتے وقت

۵۔لوگوں سے ملاقات کے دوران

۶۔قرآن مجیدکی تلاوت کے دوران

۷۔حدیث پاک پڑھنے کے دوران

۸۔جب دانت زردپڑجائیں

۹۔بات شروع کرنے کے دوران خصوصا جب  طویل سکوت کے بعدکلام شروع کررہاہو

۱۰۔تہجدکے لئے کھڑے ہونے کے دوران

۱۱۔دانتوں کے بیچ سے جب بدبوآنے لگے

۱۲۔غسل سے پہلے

۱۳۔رات کی نمازکے شفعوں کے درمیان

۱۴۔جمعہ کے دن کثرت سےمسواک

۱۵۔نیندسے پہلے

۱۶۔نمازوترکے بعد

۱۷۔وقت سحر

۱۸۔نمازکے لئے کھڑے ہونے کے وقت

ص  ۳۷ ،۳۸

 

مختصریہ کہ ویسے توہرحال میں مسواک کرنامستحب مگربعض حالتوں میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔مثلا وضوکرتے وقت،قرآن مجدیدتلاوت کرنے سے پہلے،دانتوں پرزردی اورمیل چڑھ جانے کے وقت اورسونےسے پہلے،بھوک لگنے یا بدبودارچیزکھانے کے سبب منہ کاذائقہ بگڑجانے کی حالت میں مسواک کرناذیادہ مستحب ہے

مسواک کی برکات


علامہ سیّداحمد طحاوی حنفی علیہ الرحمہ حاشیۃ الطحطاوی میں فرماتے ہیں :مسواک شریف کے وہ فضائل جن کوآئمہ کرام نے حضرت علی کرم اللہ وجہ،حضرت عبداللہ بن عبداللہؓ،اورحضرت عطاعلیہ الرحمہ سے نقل کیاہے وہ یہ ہیں:

۱۔مسواک شریف کولازم کرلو اس سے غفلت نہ کرو،اسے ہمیشہ کرتے رہو،کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی خُوشنودی ہے

۲۔اس سے نماز کاثواب ۹۹ یا۴۰۰ گنابڑھ جاتاہے

۳۔ہمیشہ مسواک کرتے رہنے سے روزی میں آسانی اوربرکت رہتی ہے

۴۔دردسردُورہوتاہے اورسرکی تمام رگوں کوسکون ملتاہے ،یہاں تک کہ کوئی ساکن رگ حرکت نہیں کرتی اورکوئی حرکت کرنے والی رگ ساکن نہیں نہیں ہوتی

۵۔بلغم کودورکرتی ہے

۶۔نظرکوتیزکرتی ہے

۷۔معدہ کودرست رکھتی ہے

۸۔انسان کوفضاحت(خوش بیانی) عطاکرتی ہے

۹۔جسم کوتوانائ بخشتی ہے

۱۰۔حافظہ(قوت یاداشت) کوتیزکرتی ہے اورعقل کوبڑھاتی ہے

۱۱۔دل کوپاک کرتی ہے

۱۲۔نیکیوں میں اضافہ ہوجاتاہے

۱۳۔فرشتے خوش ہوتےہیں اوراس کےچہرے کے نُورکی وجہ سے اس سے مصافحہ کرتےہیں

۱۴۔۱ورجب وہ مسجدسے نکلتاہےتوفرشتے اسکے پیچھے چلتے ہیں

۱۵۔۱نبیاءاوررسل علیہم الصلوۃ والسلام اس کے لئے دُعائے مغفرت کرتےہیں

۱۶۔مسواک شیطان کوناراض کردیتی ہے اوراس کودھتکاردیتی ہے

۱۷۔کھاناہضم کرتی ہے

۱۸۔بچوں کی پیدائش بڑھاتی ہے

۱۹۔بڑھاپادیرسے آتاہے

۲۰۔حرارت کوبدن سے دورکرتی ہے

۲۱۔پیٹھ کومضبوط کرتی ہے

۲۲۔بدن کواللہ تعالیٰ کی اطاعت کےلئے قوت دیتی ہے

۲۳۔نزع میں آسانی اورکلمہ شہادت یاددلاتی ہے

۲۴۔قیامت میں نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دلاتی ہے

۲۵۔پُل صراط سے بجلی کی طرح تیزی سے گزاردےگی

۲۶۔اس کی قبرکوفراخ کیاجاتاہے

۲۷۔قبرمیں آرام وسکون پاتاہے

۲۸۔مسواک کاعادی کبھی مسواک کرنابھول بھی جائے جب بھی اجرلکھ دیاجاتاہے

۲۹۔اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئےجاتے ہیں

۳۰۔فرشتےکہتے ہیں ،یہ انبیاءعلیہم السلام کی پیروی کرنے والاہے

۳۱۔۱نبیاءالسلام کے طریقے پرچلنے والاہے

۳۲۔اورہردن ان کی رھنمائی مانگنے والاہے

۳۳۔مسواک کرنے والے کے لئے جہنم کے دروازے بندہوجاتےہیں

۳۴۔دنیاسے پاک صاف ہوکررخصت ہوتاہے

۳۵۔ملک الموت اس کی روح قبض کرنےکے لئے اس کے دوستوں کی شکل میں ،بلکہ روایات کے مطابق ایسی شکل میں آتے ہیں جس شکل میں انبیاءعلیہ السلام کی روح قبض کرتے رہے ہیں

۳۶۔سب سے بڑھ کرفائدہ یہ ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضااورمنہ کی بھی صفائی ہے(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح)

ص ۶۳تا۶۵

 

 

مسواک کے فوائدوفضائل

قُدرتی طورمسواک بہت سے طبی فوائدکی حامل اوربے شمارامراض کی شافی دواہے اس سےاندازہ لگائیں کہ کتنی بیماریاں محض مسواک کے استعمال سے ہی قابومیں آجاتی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ مسواک سراپا شفاہے

امام علی بن سلطان المعروف  مُلّاقاری ؒ فرماتےہیں :مسواک کے۷۰فوائد ہیں، ان میں معمولی فائدہ ہے کہ اس کی برکت سے موت کے وقت کلمہ شریف یادآجاتاہے،اوراس کے برعکس افیون میں ۷۰ نقصانات ہیں ان میں سے کمترنقصان موت کے وقت کلمہ شریف کایادنہ آناہے(مرقاۃ المفاتیح،ج ۲،ص ۳)

 نہرالفائق میں ہے کہ مسواک کے ۳۶ فوائد ہیں جن میں کمتردرجہ منہ کی بدبودورہونااوراعلیٰ درجہ موت کےوقت کلمہ پاک یادآناہے۔

ابوسعودمیں ہے کہ مسواک بصارت کوتیزاورمسوڑھوں کومضبوط کرتاہے۔بڑھاپے میں تاخیراورپل صراط پرچلنے میں تیزی بخشتاہے۔

منہ کی پاکیزگی کاموجب اوراللہ تعالی کی خوشنودی کاباعث ہے ،دانتوں کوچمکداربناتاہے۔بلغم کوقطع کرتاہے ،معدہ کے لئے مقوّی اورمنہ کے گندہ پانی اورزردی کوزائل کرناے والاہے۔قرآن کے راستے یعنی منہ کوپاک کرتاہے،شیطان کوغصہ دلاتا،نیکیوں کوبڑھاتا،فصاحت میں اضافہ کرتا،منہ کی کڑواہٹ کادافع،سراوردانتوں کے درد میں مفیداوراخراج ریاح میں سہولت پیداکرتاہے(ردالمختار،ج ۱،ص ۸۵)

بعض روایات میں ہے :مسواک شیطان کوغصہ دلانے والا،ملائکہ کی خوشی کاموجب ،گُناہوں کی بخشش کاباعث اورنیکیوں میں زیادتی کرنے والاہے(کبیر،ص ۳۳)

مسواک  ہمیشہ کرنے سے رزق میں زیادتی،مال میں وُسعت ،منہ کی پاکیزگی،مسوڑھوں کی مضبوطی،سردردمیں تسکین،قاطع بلغم ،دانتوں کی مضبوطی،بصارت میں اضافہ ،معدہ کی اصلاح،بدن کی تقویت ،فصاحت وبلاغت میں اضافہ ،عقل وفہم اورحفظ یاداشت میں فراوانی،قلب کی صفائ ،نیکیوں میں اضافہ ،ملائکہ کی خوشی اورمصافحہ کاموجب ہے۔

پُل صراط پربرق رفتاری سے گزارنے کاضامن،میدان حشرمیں نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دلانے کاضامن،موت کےوقت کلمہ شریف یاددلانےوالا،موت کی سختی کوآسان کرنے والا،قبرکی کشادگی کاموجب اورلحدمیں مونس وغمگسارہے(مراقی الفلاح،ص ۳۸)

ص ۱۲۸،۱۲۹

مسواک کے فوائدکامختصرآئینہ

مسواک کے فوائدکاپورااحاطہ توبہت مشکل ہے لیکن موٹے موٹے فوائدبیان کئےجاتے ہیں۔

۱۔انہ شفاء لمادون الموت:موت کے علاوہ تمام امراض کے لئے شفاہے

۲۔ومذکرللشہادتین عندالموت ،موت کےوقت کلمہ شہادت یاددلاتاہے

۳۔یبطی بالشیب ،جلدی بڑھاپاطاری نہیں ہوتاہے

۴۔ویحدّ البصر اورنظرتیزکرتاہے

۵۔ یسرع فلی المشی علی الصراط ،صراط مستقیم پرچلناآسان ہوجاتاہے

۶۔مطھرۃ للفم ،منہ کوصاف کرتاہے

۷۔ مرضاۃ  للربّ،اللہ پاک کی خوشنودی کاسبب ہے

۸۔مفرحۃ للملئکۃ،ملائکہ کوخوش کرتاہے

۹۔مجلاۃ للبصر،آنکھوں کوجلابخشتاہے

۱۰۔یذھب البخر،منہ کی بدبوختم کردیتاہے

۱۱۔وینفی الحفر،دانتوں کی زردی دورکرتاہے

۱۲۔ وبیض الاسنان،دانت سفیدکرتاہے

۱۳۔ویشدّاللثہ،مسوڑھے مضبوط بناتاہے

۱۴۔ویھضم الطعام،کھاناہضم کرتاہے

۱۵۔ ویقطع البلغم ،بلغم ختم کردیتاہے

۱۶۔ ویضاعف الصلوۃ ،نمازکااجردگناکرتاہے

۱۷۔ویطھر طریق القرآن،قرآن کی راہ پاک کرتاہے

۱۸۔ویزید فی الفصاحہ،بات کرنے  میں فصاحت وبلاغت پیداکرتاہے

۱۹۔ویقوی المعدہ،معدہ مضبوط بناتاہے

۲۰۔ویسخط الشیطان ،شیطان کوغصہ دلاتاہے

۲۱۔ویزیدفی الحسنات،نیکیاں بڑھادیتاہے

۲۲۔ویقطع المرۃ،معدے سے جوکڑواپانی آتاہے وہ ختم کردیتاہے

۲۳۔ویسکن عروق الراس،سرکی رگوں کوبرقراراورمعتدل کردیتاہے

۲۴۔ویندفع بہ وجہ الاسنان،دانتوں کے امراض اس سے ختم ہوجاتےہیں

۲۵۔ویطیب النکھۃ، نیک فطرت

۲۶۔ویسھل خروج الریح،اورہواکانکلناآسان بناتاہے

۲۷۔اماطۃ الاذی،تکلیف دہ چیزاس سے دورہوجاتی ہے

۲۸۔والصلوٰۃ التی صلیت مع السواک افضل من التی لم تصلی بہ بسبعین درجۃ،وہ نمازجومسواک سے پڑھی گئی ہو۷۰گُنا ذیادہ فضیلت والی ہے اس نمازسے جوبغیرمسواک کے اداکی گئی ہو

۲۹۔اتباع جمعی الانبیاءعلیھم السلام،تمام انبیاءکی سنت ہے

۳۰۔سنۃ سیدالمرسلین،آنحضرت کی سُنت ہے

۳۱۔یذھب السّیات ،گناہوں کودورکرتاہے

۳۲۔ویزیدالحسنات نیکیاں بڑھادیتاہے

۳۳۔یبعدالشیطان ،شیطان دُورکردیتاہے

۳۴۔ ینجی من اثنین وسبعین بلاء ،۷۲بلاوں سے محفوظ بناتاہے

۳۵۔ یورث الغناء، غناعطاکرتاہے

۳۶۔ یدفع رجع الشقیقہ،آدھےسرکادرد دُورکردیتاہے

۳۷۔ یزید حسن حورحین،جنت میں حوروں کے حُسن کودگناکرتاہے

۳۸۔ یقوی الاسنان،دانتوں کومضبوط بناتاہے

۳۹۔ یدفع عذاب القبر،عذاب قبردُورکرتاہے

۴۰۔ینّورالقبر۔ قبرروشن کرتاہے

۴۱۔ یزدادبہ المحبۃ بین الخلق،لوگوں کے درمیان محبت بڑھاتاہے

۴۲۔ بہ یطمن القلب،دل کومطمن کردیتاہے

ص ۱۳۴تا۱۳۶

مسواک :فضائل اورفوائد

علامہ سیّداحمدرضابجنوری نے مسواک کے فضائل اورفوائدکویکجاجمع کردیاہے،چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ مسواک :

۱۔رب کی خوشنودی کاذریعہ

۲۔منہ کی پاکیزگی

۳۔موت کے سواہرمرض کی شفاء

۴۔پیٹ میں پانی پڑجانے کودُورکرتاہے

۵۔نگاہ کی روشنی بڑھاتاہے

۶۔مسوڑھوں کومضبوط کرتاہے

۷۔بلغم کوصاف کرتاہے

۸۔فرشتے اس سے خوش ہوتے ہیں

۹۔اتباع سنت نبویﷺ

۱۰۔نمازکےثواب کوبڑھاتاہے

۱۱۔جسم کوتندرست رکھتاہے

۱۲۔حافظہ کی قوت بڑھاتاہے

۱۳۔بال اگاتاہے

۱۴۔جسم کارنگ نکھارتاہے

۱۵۔اس پرمدوامت پرغربت دورہوجاتی ہے

۱۶۔شیطانی وسوسے دورہوتے ہیں

۱۷۔زبان کی فصاحت بڑھتی ہے

۱۸۔کھاناہضم ہوتاہے

۱۹۔منی کی افزائش ہوتی ہے

۲۰۔بڑھاپا جلدنہیں آنے دیتا

۲۱۔کمرکوقوی کرتاہے

۲۲۔قبرمیں مونس

۲۳۔اس کی برکت سے قبروسیع ہوجاتی ہے

۲۴۔عقل ذیادہ ہوجاتی ہے

۲۵،موت کے وقت کلمہ یاددلاتاہے

۲۶۔جسم سے روح سہولت سے نکلتی ہے

۲۷۔بھوک کودرورکرتاہے

۲۸۔چہرہ کوبارونق بناتاہے

۲۹۔دردسرکودورکرتاہے

۳۰۔فاضل رطوبتوں کاازالہ اوراخراج کرتاہے

۳۱۔داڑھ کے دردکودفع کرتاہے

۳۲۔دانتوں کوچمکداربناتاہے

۳۳۔فرشتے مصافحہ کرتےہیں

۳۴۔فصاحت ودانش کوبڑھاتاہے

۳۵۔اس کی برکت سے حصول رزق میں آسانی ہوتی ہے

۳۶۔دماغ کی رگیں پرسکون رہتی ہیں

۳۷۔قلب کی پاکیزگی ہوتی ہے

۳۸۔جب آدمی مسواک کے ساتھ وضوکرکے نمازسے جاتاہے توفرشتے اسکے کے پیچھے پیچھے چلتےہیں

۳۹۔مسواک کے ساتھ وضوکرکرکے نمازپڑھنے والاآدمی جب مسجدسے نکلتاہے توحاملین عرش فرشتے اس کےلئے استغفارکرتےہیں

۴۰۔مسواک کرنے والے کے لئے انبیاءالسلام بھی استغفارکرتے ہیں

۴۱۔شیطان اس کی وجہ سے دورناخوش ہوتاہے

۴۲۔کھانااچھی طرح ہضم ہوتاہے

۴۳۔کثرت اولادکاباعث ہے

۴۴۔مسواک کی پابندی کرنے والاپل صراط پربجلی کی طرح گزرجائے گا

۴۵۔اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا

۴۶۔اطاعت خداوندی پرہمت اورقوت نصیب ہوتی ہے

۴۷۔مضرحرارت کاازالہ کرتاہے

۴۸۔نزع میں جلدی ہوتی ہے

۴۹۔قضاوحوائج میں سہولت اورمددملتی ہے

۵۰۔اس شخص کااجربھی لکھاجاتاہے جس نے اس روزمسواک نہیں کی

۵۱۔جنت کے دروازے اس کےلئے کھل جاتےہیں

۵۲۔اورفرشتے اس کے متعلق اعلان کرتے ہیں کہ یہ انبیاءعلیہم السلام کی پیروری کرنے والااوران کے طریقے پرچلنے والاہے

۵۳۔دوزخ کے دروزاے اس پربندکردئے جاتےہیں

۵۴۔اس کی قبض روح کے لئے ملک الموت اسی صورت میں آتے ہیں جس میں اولیاءوانبیاءعلیہم السلام کے پاس آتے ہیں

۵۵۔دُنیاسے رخصت ہوتے وقت نبی کریمﷺ کےحوض کوثرکی رحیق مختوم پینے کاشرف حاصل ہوتاہے(انوارالباری،جلدچھ،ص ۱۸۹،۱۹۰)

۵۶۔موت کے وقت کلمہ پڑھنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے

۵۷۔ہمیشہ مسواک کرنے سے کشادگی اورمالداری پیداہوتی ہےروزی آسان ہوجاتی ہے

۵۸۔دردسرکواورسرکی رگوں کوسکون ہوجاتاہے۔حتیٰ کہ کوئی ساکن رگ حرکت نہیں کرتی اورنہ ہی کوئی حرکت کرنے والی رگ ساکن ہوتی ہے

۵۹۔بلغم کودورکرتی ہے

۶۰۔دانتوں کومضبوط کرتی ہے

۶۱۔بینائی کوصاف کرتی ہے

۶۲۔معدہ کودرست رکھتاہے

۶۳۔بدن کوقوی بناتی ہے

۶۴۔انسان کی فصاحت وحافظہ وعقل کوبڑھاتی ہے

۶۵۔دل کوپاک کرتی ہے

۶۶۔نیکیوں میں اضافہ ہوجاتاہے

۶۷۔ملائکہ خوش ہوتے ہیں

۶۸۔ملائکہ چہرے کے نورکی وجہ سے مصافحہ کرتے ہیں

۶۹۔اورجب مسجدسے نکلتاہےتوفرشتے اس کےپیچھے پیچھے چلتےہیں اوراس کے لئے مغفرت طلب کرتےہیں

۷۰۔مسواک شیطان کوناراض کردیتی ہے اوراس کودُھتکاردیتی ہے

۷۱۔ذہن کوصاف کرتی ہے

۷۲۔کھانے کوہضم کرتی ہے

۷۳۔نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دلاتی ہے

۷۴۔بدن کواللہ کی اطاعت کے لئے قوت دیتی ہے

۷۵۔حرارت کوبدن سے دورکرتی ہے

۷۶۔پیٹھ کومضبوط بناتی ہے

۷۷۔حاجتوں کوپورا ہونےمیں مدددیتی ہے

۷۸۔قبرکوکشادہ بناتی ہے

۷۹۔اوراس کےلئے جنت کے دروزے کھول دئے جاتےہیں

۸۰۔۱ورفرشتے اس کے بارے میں ہردن میں کہتے ہیں کہ یہ (شخص) انبیاءکااقتداکرنے والاہے،ان کے نشان قدم پرچلتاہے ، ان کی سیرت کامتلاشی ہے،اس کی طرف دوزخ کے دروازے بندکردئے جاتےہیں

۸۱۔مسواک کرنے والا شخص دنیامیں(گناہوں سے) پاک صاف ہوکرجاتاہے

۸۲۔اورموت کافرشتہ روح نکالنے کے لئے اس کے پاس اس صورت میں آتاہے کہ جس صورت میں اولیاءکے پاس آتاہے اسی صورت میں آتاہے

۸۳۔نمازکے ثواب کوبڑھاتی ہے

۸۴۔جسم کوتندرست رکھتی ہے

۸۵۔بال اُگاتی ہے

۸۶۔جسم کارنگ نکھارتی ہے

۸۷۔اس پرمدامت سے غربت دورہوجاتی ہے

۸۸۔شیطانی وسوسے دورہوجاتےہیں

۸۹۔مسواک کرنے والے کے لئے انبیاءعلیہم السلام بھی استغفارکرتے ہیں

ص ۱۲۹تا۱۳۲

 

مسواک :اقوال  کی نظرمیں

امام حلبی لکھتے ہیں ،پیلوکامسواک افضل ہے اوراس کے بعدزیتون کادرجہ ہے(مراقی الفلاح،ص۳۳ )

مسواک منہ کی صفائ اورآنکھوں کی بینائ کے لئے مجرب ہے(ابن ابی شیبہ)،ج ا،ص ۱۷۰

 

حضرت حسان بن ؓ سے منقول ہے فرماتے ہیں کہ مسواک کرنا نصف  ایمان ہے اوروضوبھی نصف ایمان ہے(شرح احیاء)

 

حضرت ابوہریرہؓ فرماتےہیں کہ مسواک انسان کی فصاحت میں اضافہ  کرتی ہے

 

حضرت علی ؓ فرماتےہیں کہ مسواک(قوت) حافظہ کوبڑھاتی ہے اوربلغم کودورکرتی ہے

 

مسواک موت کے سواہرمرض کی شفاہے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ

حضرت ابوالدرداءؓ فرماتے ہیں کہ مسواک کولازم کرلواس میں غفلت نہ کروکیونکہ مسواک میں ۲۴ خوبیاں ہیں ان میں سب سے خوبی یہ ہے اللہ راضی ہوجاتاہے،مالداری اورکُشادگی پیداہوتی ہے،منہ میں خوشبوپیداہوتی ہے،مسوڑھے مضبوط ہوتےہیں،دردکوسکون ہوتاہے،داڑھ کادرددورہوجاتاہے،اورچہرے کے نوراوردانتوں کی چمک کی وجہ سے فرشتے مصافحہ کرتےہیں

حضرت ابن عباسؓ فرماتےہیں کہ مسواک کی۱۰ خصلتیں ہیں (دانتوں کی ) سبزی دورکرتی ہے۔بینائی کوتیزاورمسوڑھے کومضبوط بناتی ہے،منہ کوصاف کرتی ہے،ملائکہ خوش ہوتےہیں ،اللہ کی رضا،سنت کااتباع،نمازکے ثواب میں اضافہ،جسم کی تندرستی یہ سب امورحاصل ہوتےہیں،نیزمسواک کی مدامت سے روزی آسان ہوجاتی ہے،عقل وفراست میں اضافہ ہوجاتاہے

مسواک منہ کی صفائ اورآنکھوں کی بینائ کے لئے مجرب ہے(ابن ابی شیبہ)،ج ا،ص ۱۷۰

جوآدمی ہمیشہ مسواک کرتاہے اسکی برکت سے دردسرسےنجات مل جاتی ہے(مراقی الفلاح،ص۳۸ )

دانتوں کی صفائی ہزاروں امراض کی شفاکےعلاوہ حسن وجمال کوبڑھاتی ہے

مسواک پیٹ کے لیے شفاہے

مسواک سے منسک  ، منسوب اور وابستہ واقعات

آپﷺ ،غیرملکی معالج اورمسواک

ایک غیرملکی معالج  نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضرہواکہ میں یہاں علاج معالجہ کاکام کرناچاہتاہو آپ نے اجازت دے دی،چھ ماہ تک کوئی مریض نہ آیا،معالج صاحب ہاتھ پرہاتھ رکھے بیٹھے رہے کچھ عرصہ کے بعدحضورﷺکی خدمت میں حاضرہوکرعرض کی کہ یارسولﷺ میرے پاس توچھ ماہ سے کوئی مریض ہی نہیں آیا،آپ ﷺنے تبسم فرمایااورکہایہاں کے لوگ مسواک کرتے ہیں ،حکیم خاموش ہوگیا۔

ص ۱۰۹

 

مسواک اورجنگ

تاریخ میں جنگ کے حوالہ سے ایک واقعہ ہے کہ دونوں فوجیں آمنے سامنے بیٹھی تھیں مسلمان سپاہیوں نے درختوں کی ٹہنیوں کوتوڑکرمسواک کرناشروع کردی،جب دشمن کی افواج نے دیکھاکہ یہ درختوں کوبھی کھاجاتے ہیں توانسانوں کاکیاحال کریں گے اوروہ خوف ذدہ ہوکربھاگ کھڑے ہوئے۔

 

مسواک اورگاندھی

ایک عجیب وغریب تاریخی واقعہ ہے کہ جب پولیس افسران نے گاندھی جی کو گرفتارکیا توگاندھی جی  نے مسواک کرنے کے لئے ایک گھنٹہ کی اجازت مانگی!

تہذیب نسواں ۱۹۳۰

 

 

مسواک کےبارے میں عبرت ناک واقعہ

ایک شخص ابوسلامہ نامی جوبصریٰ مقام کاباشندہ اورنہایت بے باک اوربے غیرتھا۔ اس کے سامنےمسواک کے سامنےمسواک کے فضائل ،مناقب اورمحاسن کاذکرآیاتواس نے ازراہ  غیظ وغضب قسم کھاکرکہاکہ میں مسواک کواپنی سرین میں استعمال کروں گا۔چنانچہ اس نے اپنی سرین میں مسواک گھماکراپنی  قسم کوپُوراکردکھایا۔اوراس طرح مسواک کے ساتھ سخت بےحُرمتی اوربےادبی کامعاملہ کیا ،جس کی پاداش میں قُدرتی طورپرٹھیک ۹ ماہ ماہ بعد اس کے پیٹ میں تکلیف  شروع ہوئ۔اورپھرایک (بدشکل) جانور جنگلی چُوہے۔جیسااس کے پیٹ سے پیداہواجس کے ایک بالشت چاراُنگلی کی دُم ،۴پیر(پاوں)،مچھلی جیساسراور۴دانت باہرکی جانب نکلے ہوئے تھے،پیداہوتے ہی یہ جانور۳مرتبہ چِلّایا،جس پراس کی بچی آگے بڑھی اورسرکُچل کراس نے جانورکوہلاک کردیاورتیسرےدن یہ شخص بھی مرگیا۔(البدایہ والنہایہ)

بحوالہ اشاعت :ماہنامہ محاسن اسلام ،مقام اشاعت مُلتان،اکتوبر ۲۰۱۴،شُمارہ  نمبر۱۸۱،جلد۱۶ ،ص ۶۰،واقعہ نمبر ۱۴۲

 

پیلوکی مسواک پرمزاحیہ واقعہ

 

پیلوکی مسواک کاذکراحادیث میں متعددمقامات پرمختلف صورتوں میں آیاہے۔لیکن  اجتماعی ضرورت کے لئے تمام ساتھیوں کے لئے پیلوکی مسواکیں مہیّاکرنے کاایک دلچسپ واقعہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ آپ بیتی کے طورپربیان کرتےہیں۔وہ مسواک اتارنے کے لئے پیلوکے درخت پرچڑھے،ان کی پنڈلیاں بڑی کمزوراوردُبلی تھیں ،جب ہواکاجھونکاآیااوروہ ننگی ہوگئیں توسارے ساتھی ہنسنے لگے،رسول اللہ(ﷺ) بھی موجودتھے،انھوں نے پُوچھاکہ تُم لوگ کس بات پرہنس رہے ہو؟

انہوں نے عرض کیا:یارسول اللہ (ﷺ) !ہم اُن کی دُبلی ٹانگوں پرہنس رہے ہیں،حضورﷺنےفرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے،روزحشریہ ترازو میں کسی سے بھی وزنی ہوں گی۔

ص ۲۱

 

 

 

 

ٹوتھ برش وٹُوٹھ پیسٹ پرتحقیقات وحقائق

 

ٹُوتھ برش کے استعمال کی تاریخ

ٹوتھ  پیسٹ اوربرش انگریزکاعطیہ ہے۔ٹوتھ برش کااستعمال سب سے پہلے چین میں ۱۴۹۰ میں شروع ہوا،چینیوں کی دیکھادیکھی انگریزوں نے سولہ سوساٹھ میں دانتوں کی صفائی میں  ٹوتھ برش کااستعمال شروع کردیا اوریوں صرف ڈھائ سوسال میں ٹوتھ برش کااستعمال ساری دنیامیں ہونے لگا۔۱۸۸۵میں اسکاٹ نامی ایک امریکی کمپنی نے بجلی کے ذریعے چلنے والاپہلاٹوتھ برش ایجادکیالیکن وہ بہت بھاری بھرکم اوربڑاتھا۔اس لئے کامیاب نہ ہوسکا۔

 

ٹوتھ برش پرتحقیق

اوکلاہامایونیورسٹی کے طبی تحقیق کےشعبہ کے مطابق منہ کے آبلوں(نملہ) کی شکایت کی ایک وجہ ٹوتھ برش بھی ہوسکتے ہیں ،نم اورگیلے ٹوتھ بر اس مرض کے جراثیم کے گڑھ ثابت ہوتےہیں،ایسے برشوں میں اس مرض(ہریس) کاوائرس ۷روز تک موجود رہتاہے،ان کے استعمال سے یہ وائرس ہونٹوں اورپورے منہ میں سرایت کرجاتاہے۔اگرچہ انہیں صاف اورخُشک رکھناضروری ہے۔لیکن یہ اس مرض سے بچاوکایقینی طریقہ نہیں ہے۔مناسب یہی ہے کہ ٹوتھ برش ذیادہ عرصے تک استعمال نہ کیاجائے اورجب منہ میں ایساکوئ آبلہ پھوٹ جائے تواس کے ٹھیک ہوتے ہی نیابرش لے لیناچاہئے

 

ٹوتھ پیسٹ کارواج اورنقصانات

مسواک کوچھوڑکراب ٹوتھ پیسٹ کارواج چل نکلاہے ،اس سے منہ میں خراش پیداہوتاہے کیونکہ ٹوتھ پیسٹ میں بھی چاک اوردوسرےچُونے کے مرکبات ڈالے جاتےہیں،ٹوتھ پیسٹ کے لئے جوبرش استعمال کئے جاتے ہیں ان سےحساسیت پیداہوتی ہے۔اوران کی سختی کے باعث مسوڑھے متورم ہوجاتے ہیں ،لعاب دہن وہ قدرتی سیال مادہ ہے جوواپس معدہ میں جاکراس کے فعل کوبہتربناتاہے لیکن جب ہم ٹوتھ پیسٹ کے ذریعے دانت صاف کرتے ہیں تولعاب کے تمام اجزاءضائع ہوجاتےہیں

۔یہی وجہ ہے کہ ٹوتھ پیسٹ کے فورابعدغذاکھانے والے سوء ہضم کاشکارہوگئے۔

 

 

مسواک بمقابلہ ٹوتھ پیسٹ

ٹوتھ برش کے مقابلے میں مسواک اس اعتبارسے بھی برتراوربہترہے کہ اسے نرم اورحساس مسوڑھوں پربھی پھیراجاسکتاہے۔جبکہ نرم سے نرم ٹوتھ برش سے یہ کام نہیں ہوسکتا،ایک امریکی پروفیسرکے مطابق مسواک بالکل ٹوتھ پیسٹ جیسی ہی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ٹوتھ برش پراس کے ریشے آڑے لگے ہوتےہیں،جبکہ مسواک میں یہ سیدھے ہوتےہیں اوراس کے ریشے ہراس جگہ پہنچ جاتےہیں جہاں ٹوتھ برش کے ریشے نہیں پہنچ پاتے ہیں ،اسی طرح مسواک دانتوں کی درمیانی جگہ کی بہتراورمکمل صفائی کرتی ہے۔جبکہ دوسری طرف مسلسل برش کرنے کی وجہ  سےدانتوں کے اوپر والی چمکیلی اور سفید تہہ اترجاتی ہے۔

مغربی ممالک میں توبعض بیمہ کمپنیوں نے اپنے گاہکوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے معالج اور ڈاکٹروں کو مقرر کر رکھا ہے تاکہ ان کے گاہکوں کی موت دانتوں کی خرابی کی وجہ سے واقع نہ ہو۔

منہ میں جراثیم کی وجہ

طویل تحقیق کے بعدیہ بات طے ہوگئ ہے کہ منہ میں جراثیم کی پیدائش کی اصل وجہ وہ گاڑے لعابی تہہ ہے جودانتوں سے چمٹی رہتی ہے، اس میں بیکٹیریا جنم لیتے ہیں اورمسوڑھوں کوچاٹنے رہتے ہیں،اس کی وجہ سے مسوڑھے پھولتے رستے اورپکتےہیں،اسی کی وجہ سے سے دانتوں میں گڑھے پڑتے ہیں اوروہ کھوکھلے ہوجاتےہیں ،بتدریج جاری رہنے والایہ سلسلہ ادھیڑعمرمیں دانتوں کی بوسیدگی اوران کے گرجانے کی صورت میں رُونماہوتاہے ،ویسےبے تحاشا مٹھاس کھانے والے نوعمربھی دانتوں سےاس کی وجہ سے محروم ہوتے رہتےہیں ،آج کل نئی نسل میں یہ شکایت بہت عام ہے

اسکے علاوہ اطباء قدیم اور جدید اور پر متفق ہیں کہ اکثر امراض دانتوں کی خرابی یا مسوڑھوں کی خرابی کے سبب پیدا ہوتے ہیں جو انسان کو ختم کر دیتے ہیں۔

دانتوں کی صفائی کا اثر جسمانی صحت پر پڑتا ہے ۔ڈاکٹروں اور حکماء نے بھی تسلیم کیا ہے کہ دانتوں کی صفائی امراض پھیپھڑوں کے لیے اکسیر اعظم ہے اس لیے دانتوں کی حفاظت کے لیےاسلام نے ایک ایسا بہترین بُرش تعلیم فرمایا ہے جو کہ ہر جگہ ہر وقت حاصل ہو سکے پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی تاثیر چُھپارکھی ہے جو کہ تمام امراض کے لیے شفا ہے۔

لہذایہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہے کہ مصنوعی ٹوتھ پیسٹ مسواک کے متبادل نہیں اوراسی طرح  دنیاکاکوئی بھی بہترین سے بہترین ٹوتھ برش مسواک کامقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ مسواک انسانوں کے لئے ایک قدرتی تحفہ ہے

 

مسواک بمقابلہ برش:تقابلی جائزہ

آپ مسواک کے ریشوں کواپنے ہاتھ کی پُشت پرپھیرکردیکھیں آپ کوان کالمس بہت نرم اورملائم محسوس ہوگا اوران سے کسی طرح کی خراش پیدانہ ہوگی ،اس کے مقابلے میں نرم سے نرم ٹوتھ برش بھی چبھن اورخراش کاباعث بنتاہے۔

مسواک جس درخت سے حاصل کی جاتی ہے اس درخت کے مفیدخواص اس میں موجود ہوں گے اوردانتوں مسوڑھوں منہ اورحلق کے لئے یہ مسواک فائدہ مندبھی ہوگی جبکہ دوسری طرف ٹوتھ برش پہلے مصنوعی طورپرجانوروں کے بالوں سے بنائے جاتے ہیں اب ذیادہ مصنوعی اورکیمیائ اشیاء سے بنائے جاتےہیں برش کسی قسم کے طبی خواص سے قاصرہیں۔لہذادونوں کاتقابلی جائزہ کسی صورت میں ممکن بھی نہیں ہے۔

تحقیق وتجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی  ہے کہ جو ٹوتھ برش ایک دفعہ استعمال ہو جائے اس میں جراثیم کی تہہ جم جانے کے باعث دوبارہ استعمال کرنے سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے۔

مسواک انسانی اعضاءکے لئے اجنبیت پیدانہیں کرتی اورجسم پراس کامضرردعمل ظاہرنہیں ہوتا جب کہ ٹوتھ برش کی صورت میں ایساممکن ہے۔قیمت کے لحاظ سےبھی مسواک بہت سستی ہے۔

عصر حاضر میں اگرچہ مسواک کے متبادل کے طور پر متعدد قسم کے ٹوتھ پیسٹ مارکیٹ میں آ چکے ہیں، لیکن یہ سب مسواک کا متبادل کبھی نہیں ہو سکتے۔مسواک میں وہ تُمام خُوبیاں موجودہیں جوکسی ٹوتھ پیسٹ میں موجودہونی چاہئیں۔باربارمنہ سے نکلنے والاجھاگ ایک کریہ منظرپیش کرتاہے

پیسٹ کرنے کے نقصانات

امریکہ  کے ڈاکٹرہاورڈل کک نے سینکڑوں مریضوں کے کوائف جمع کرکے اس بات کااعتراف کیاہے کہ نزلہ زکام اورضعف ہضم کی پیدائش میں رائج الوقت ٹوتھ پیسٹوں اورغراروں کابڑادخل ہے ان میں شامل دانتوں اورمسوڑھوں کوصاف کرنے والی جراثیم کش زہریلی دواں سے منہ اورگلے کااسترکرنے والی غشائے مخاطی(جھلی) ناکارہ اوربے حس ہوجاتی ہے۔صابن سے بنے ہوئے پیسٹ نیزکیمیائ دواوں کے غرارے ہمارے منہ کی لعاب دارجھلی کواس قدرخراب کردیتے ہیں کہ اس میں جراثیم سے مقابلہ کرنے کی قوت ختم ہوجاتی ہے جیساکہ الکحل اورشراب کے استعمال سے منہ کے اندروالی جھلی جل جاتی ہے اوراس کے اندربچاواوردفاع کی قدرتی استعداد بہت حد تک زائل ہوجاتی ہے۔یہ چیزیں بلاشبہ جراثیم کوہلاک کرتی ہیں مگرساتھ ہی منہ کی جھلی کی قدرتی مدافعت کوناکارہ اورکمزورکردتی ہے ،چندمنٹ بعد جب نئے لاکھوں جراثیم کی فوج دوبارہ حملہ کرتی ہے تومنہ کی کمزورجھلی اس کے مقابلے کی تاب نہیں رکھتی آخرکارہم مدت العمرقائم رہنے والے دانتوں سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔

مسواک بمقابلہ ٹوتھ پیسٹ اورامریکی پروفیسرکی تحقیق

ٹوتھ برش کے مقابلے میں مسواک اس اعتبارسے بھی برتراوربہترہے کہ اسے نرم اورحساس مسوڑھوں پربھی پھیراجاسکتاہے۔جب کہ نرم سے نرم ٹوتھ برش سے یہ کام نہیں ہوسکتا،ایک امریکی پروفیسرکےمطابق مسواک بالکل ٹوتھ برش جیسی ہی ہے،فرق صرف یہ ہے کہ ٹوتھ برش پراس کے ریشے آڑے لگے ہوتےہیں جبکہ مسواک میں یہ سیدھے ہوتےہیں اوراس کے ریشے ہراس جگہ پہنچ جاتےہیں جہاں ٹوتھ برش کے ریشے نہیں پہنچ پاتے اس طرح مسواک دانتوں کی درمیانی جگہ کی بہتراورمکمل  صفائی کرتی ہے۔

 

مسواک :طبی وسائینسی  تحقیقات اورفوائد

دانتوں کی گندگی کی وجہ

طویل تحقیق کے بعدیہ بات طے ہوگئ ہے کہ منہ میں جراثیم کی پیدائش اصل وجہ وہ گاڑھی لعابی تہ ہے جودانتوں سے چمٹی رہتی ہے اس میں بیکٹیریا جنم لیتےہیں۔اورمسوڑھوں کوچاٹتےرہتےہیں ،اس کی وجہ سے مسوڑھے پھولتے رستےاورپکتے ہیں ، اسی کی وجہ سے دانتوں میں گڑھے پڑتے ہیں اوروہ کھوکھلے ہوجاتےہیں ،بتدریج جاری رہنے والایہ سلسلہ ادھیڑعمرمیں دانتوں کی بوسیدگی اوران کے گرجانےکی صورت میں رونماہوتاہے ،ویسے بے تحاشا مٹھاس کھانے والے نوعمربھی دانتوں سے اس کی وجہ سے محروم ہوتے رہتےہیں ،آج کل نئی نسل میں یہ شکایت بہت عام ہے۔لہذااس سے ثابت ہواکہ کہ دراصل معدہ ہی انسانی جسم کی صحت ومرکزکامرکزہے اگرمعدہ مضبوط توانسان تندرست  ورنہ بیماری آجاتی ہے۔ لہذا مسواک قدرتی طورپر قاتلِ جراثیم ہے

 

مسواک یادانتوں کی صفائ  نہ کرنےکے  طبّی نقصانات

مسواک سے دانتوں کوصاف نہ رکھاجائے تودانتوں کے ریخوں اورجوڑوں میں غذاداخل ہوکررفتہ رفتہ ان کی جڑوں پرزردرنگ کامیل جم جاتاہے جس سے تعفن پیداہوکرمسوڑھوں کے کنارےزخمی ہوجاتے ہیں اورپھرپیپ پیداہوجاتاہے،بعض اوقات گھنٹھیاجیسانامراد اورموذی بیماری بھی دانتوں کی خرابی کے باعث پیداہوجاتی ہے ،اس میں شک نہیں کہ دانتوں کی خرابی کے باعث نہ صرف منہ مسوڑھے اورگلامتاثرہوتےہیں بلکہ معدہ بھی متاثرہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔دانتوں کی خرابی سے معدے پربرے اثرات  پیداہوتے ہیں جس سے  کئی بیماریاں پیداہونے کااحتمال ہواہے

مسواک چھوڑنےکے طبی نقصان

ماہرین کے تمام تجربات اورتحقیق کے مطابق ۸۰فیصدامراض معدہ صرف دانتوں کے نقص کی وجہ سے ہوتےہیں ۔مسواک کی سُنت چھوڑنے کی وجہ سے معدہ کی بیماریاں آپ کے سامنے ہیں۔کیونکہ دانتوں کامیل غذاکے ساتھ یابغیرغذاکے لعاب دہن کے ساتھ مل کرمعدے میں جاتاہے جس کے نتیجہ میں غذامتعفن ہوکرمرض کاسبب بنتی ہے۔یہ  بات حقیقت پرمبنی  ہے کہ کہ جوں جوں زمانہ سنتوں سے دورہوتاگیا اسی قدرمعاشرے میں بیماریاں زورپکڑتی گئیں۔

طبی وسائنسی جدیدتحقیقات سےیہ توثابت ہوچکاہے کہ ہربیماری منہ سے داخل ہوتی ہے۔انسان کی ۹۰ فیصدبیماریاں منہ کے صاف نہ رکھنے نہ رہنے سے پیداہوتی ہے۔ اوراسکاعلاج کرنا مسواک ہے۔

جب ہم غذاکھاتےہیں توغذاکے چھوٹے چھوٹے ذرات دانتوں کی داڑھوں میں پھنس جاتےہیں ،ان ذروں کی وجہ سے بیکٹیریا پیداہوجاتےہیں۔منہ سے بدبوآنے لگتی ہے،دانت پیلے اورخراب ہوناشروع ہوجاتےہیں۔مسواک کےاستعمال سے بیکٹیریاکی تہ دانتوں سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔دانتوں کی زردی اورمنہ کی بدبوختم ہوجاتی ہے۔۔مسواک منہ سے تعفن کو دور کرتی ہے۔ مسواک سے دانتوں میں اٹکے ہوئے غذاکے ذرات نکل جاتےہیں، متواترمسواک کرنے سے دانتوں کے اوپرمیل کی تہہ جسے طرطر(ٹارٹاراورکریڑہ) کہاجاتاہے اکھڑتی رہتی ہے اورمیل کی ہری پیلی اورکالی تہیں جمنے نہیں پاتی ہیں۔

دندان سازکاکہناہے کہ میٹھی اشیاءکے استعمال سے پانچ منٹ بعددانتوں کےگردجراثیم جمع ہوکردانتوں کے ساتھ لپٹ جاتے ہیں اورایک تہ سی بن جاتی ہے،اس لئے ضروری ہے کہ میٹھی اشیاءکے استعمال کے فورابعد مسواک کااہتمام کیاجائے۔لہذامُنہ کی صفائ ضروری ہے

سونے کی حالت میں پیٹ میں بننے والے بخارات معدہ سےمنہ کی طرف اٹھتے ہیں جس کی وجہ سے منہ میں بدبواورذائقہ میں تبدیلی پیداہوجاتی ہے۔ لہذاجب بھی سوکراٹھیں مسواک کریں کیونکہ نیندمیں انسان کے معدہ سے بخارات اٹھتےہیں جواسکی منہ کی بُوکوبدل دیتے ہیں مسواک سےیہ رفع ہوجاتی ہے۔مسواک کے استعمال سےمنہ کی صفائ ہوجاتی ہےاوریوں دانت موتیوں کی مانندچمکدارہوجاتےہیں لہذا اورمنہ کی صفائ مسواک سے بہتراورکوئ شے نہیں کرسکتی ۔

 

 

 

 

مسواک تحقیق کےآئینے میں 

مسواک پر ہوئیں طبی وسائینسی تحقیقات کے نتائج

نبی کریمﷺ نے مسواک کے استعمال پر بہت ت تاکید اس لیے فرمائی کیونکہ اس میں کئی  روحانی ،طبی اور سائنسی،دینی اوراُخروی فوائد پنہاں ہیں ۔اورآپ نے اپنے قول وفعل سے ثابت کردیا۔آپ باہرسے گھرسے تشریف لاتے تواس کااستعمال کرتے ،ہرنمازمیں اسکااہتمام فرماتے اورتہجدمیں بھی ۔

 اب قارئین مسواک کے طبی اور سائنسی فوائد اوردوسرےفوائد ملاحظہ فرمائیں۔

آئے روزمسواک کی افادیت پرطبی تحقیقات منظرعام  پرآتی رہی ہیں ۔جس سےاس کی اہمیت کاپتہ چلتاہے۔ذیل میں دنیامیں مسواک پرہوئی مختلف تحقیقات اوران کے مختلف نتائج کاسرسری جائزہ لیتے ہیں جس سے معلوم ہوتاہے کہ مسواک سراپا شفاہےکیونکہ کئی بیماریوں میں اس نے شفاکادرجہ حاصل کرلیاہے۔

 

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق کچھ ایسے جراثیم بھی ہوتے ہیں جو مروجہ برش اور پیسٹ سے دور نہیں ہوتے بلکہ ان کو صر ف مسواک سے ہی دور کیا جاسکتا ہے۔

 

جدید ریسرچ کیا کہتی ہے؟

احادیث مبارکہ کے بعد اب ہم دور جدید کی ریسرچ کی طرف آتے ہیں۔ 2003ء کی ایک سائنسی تحقیق جس کا موضوع ’’مسواک اور ٹوتھ برش کی افادیت‘‘ تھا اور یہ تحقیق ایک تقابلی جائزہ وتحقیق تھی۔ نتائج واضح طور پر مسواک استعمال کرنے والوں کے حق میں تھے۔

 

ڈاکٹر عتیبی نے سعودی عرب میں ایک طبی تحقیق کی جس میں انہوں نے مسواک کا اثر سارے جسم پر نوٹ کیا۔ انہوں نے مسواک کی انسان کے دفاعی نظام پر ایک مثبت اثر اندازی نوٹ کی۔ ڈاکٹر رامی محمد دیبی جنہوں نے 17 سال مسواک پر ریسرچ میں گذارے۔ انہوں نے اس کے ہزار ہا فوائد نوٹ کئے اور حیرت انگیز انکشافات کئے حتی کہ انہوں نے ایک پوری تھیوری پیش کر دی جسے Miswak Medical Theory کا نام دیا گیا۔

اسی طرح حال ہی میں ایک تحقیق جو King Saud University سعودی عرب کے ڈاکٹروں نے کی جس کی سربراہی ڈاکٹر خالد الماس نے کی انہوں نے بھی مسواک اور ٹوتھ برش استعمال کرنے والوں میں افادیت کے لحاظ سے فرق نوٹ کیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ بار بار مسواک کرنا تازہ سییلیکا پیدا کرتا ہے جو دانتوں کی چمک میں اضافہ کرتا ہے یہ بھی بتایا گیا کہ مسواک کرنے سے ایک ایسا عنصر خون میں شامل ہوتا ہے جس سے دانت کے درد کو آرام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دانتوں اور مسوڑھوں میں سوزش دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کم وزن بچوں کا پیدا ہونا بھی دوران حمل منہ میں مسوڑھوں کی سوزش کی وجہ سے ہے۔

 

پیتھالوجسٹ حضرات کے تجربے اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دائمی نزلہ کے لیے مسواک تریاق سے کم نہیں ۔

 

مسواک کے درختوں میں جراثیم کشی کی خاصیت

جدیدطب نے تویہ بات پایہ تحقیق تک پہنچادی ہے کہ جن جن درختوں سے مسواک بنایاجاتاہے اس میں جراثیم کش (انٹی بائیوٹک) خاصیت موجودہے۔

 

مسواک اورامریکی تحقیق

واشنگٹن(امریکہ) کاڈاکٹرپاکستانی واعظ انجنئر نقشبندی کوکہتاہے کہ آپ سوتے وقت بھی مسواک کریں ۔ تومیں نے کہاکیوں!وہ کہنے لگاکہ اس وجہ سے کہ آج کی تحقیق یہ ہےکہ انسان جوکھاناکھاتاہے جوچیزیں کھاتاہے تومنہ کے اندرپلازماعام کُلی کرنے سے صاف نہیں ہوتا وہ کہنے لگاکہ سونے کے وقت سب سے ذیادہ دانت خراب ہوتے ہیں

کہنے لگاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان سوجاتاہے تواس کامنہ بالکل بندہوجاتاہے اوربندمنہ کے اندراسکاکام آسان ہوجاتاہے یوں نہ تومنہ متحرک ہوتاہے اورپلازما اپناکام پوراکررہاہے۔کہنے لگاکہ آپ دیکھیں گے کہ دن کے وقت کبھی کوئی بندہ بول رہاہے کبھی زبان چل رہی ہےکبھی کھارہاہے کبھی  پی  رہاہے ۔دن کے وقت حرکت کی وجہ سے پلازمے کوکام کرنے کاموقع نہیں ملتااوررات کے وقت جب منہ بندہوجاتاہہے تواسے کام کرنے کاموقع مل جاتاہے اس لئے دانت ذیادہ خراب رات کے وقت ہوتےہیں۔پھرکہنے لگاکہ صبح ٹوتھ پیسٹ کریں یانہ کریں مرضی ہےلیکن رات کوسوتے وقت مسواک ضرورکریں

 

 

جدیدتحقیقات

جدیدتحقیقات کے مطابق مسواک سے بصارت میں تقویت ،منہ میں خوشبوکے پیداہونے ،گندہ دہنی یعنی بدبوکے ختم ہونے اورمسوڑھوں کی تقویت جیسے ظاہرفوائد کے علاوہ پیٹ کی کئی بیماریوں سے انسان کامحفوظ رہناشامل ہے، سب سےاہم یہ کہ مسواک کے ریشے (برش کے ریشے نہیں) دانتوں کوبہترصاف کرنے کے ساتھ ساتھ منہ کے سرطان سے بھی انسان کومحفوظ رکھتے ہیں۔جدیدسائنسی تحقیق کے مطابق مسواک کرنے سے انسان کی نظرکمزورنہیں ہوتی اسکاذہن تروتازہ رہتاہے اورسب سے بڑھ کر

یہ کہ مسواک کرنے سے انسان پیٹ کی بیماریوں سے محفوظ رہتاہے اورسب سے بڑھ کریہ کہ مسواک کرنےسے انسان پیٹ کی بیماریوں سے محفوظ رہتاہے، آج مسلمان اس سے انحراف کررہے ہیں اورعیسائ اوریہودی اس کاستعمال جان کرفائدہ اٹھارہے ہیں اوریہ بات سائنس نے آج ثابت کی ہے اوراسلام نے ۱۴۰۰سال پہلے اس کےفوائدبتادئے تھے۔لہذامسواک استعمال کرنے والے دانتوں کی شکایت سے محفوظ رہتےہیں

 

مسواک بطورقُدرتی ٹوتھ برش

سائینسی تحقیق بتاتی ہے کہ مسواک ایک آئیڈیل ٹوتھ برش ہے مگرکچھ لوگ مسواک کے استعمال کے بعدمسوڑھوں سے خُون آنے کی شکایت کرتےہیں ،اکثراوقات اس کی اصل وجہ مسواک کواستعمال کرنےکاغلط طریقہ ہوتاہے۔مسواک میں مندرجہ ذیل چیزوں کوہوناضروری ہے

مسواک میں پائے جانے والے قدرتی اجزاء

کچھ مسواک یاداتن استعمال کرتے وقت جومنہ میں ذائقہ آتاہے،ان میں مختلف اجزاءہوتے ہیں ،ہرایک درخت میں قدرتی رطوبتیں مثلاٹرائ میتھائلین،سلواڈررین،کلورائیڈاورفلورائیڈکی کافی مقدارہوتی ہے۔اسی طرح سلیکا،سلفراوروٹامن سی کے علاوہ تھوڑی سی مقدارٹینس،ساپونس،فیلوپونائیڈورسڑول جیسے قیمتی اجزا؍ہیں ،گویافلورائیڈسے دانتوں میں کیڑاروکنے کی خاصیت ہے،سیلیکامیں صفائ کے اجزاءہیں ،کئی ایک ایک شاخوں میں الکلائیڈہوتےہین جن کی تاثیرجراثیم کُش کی سی ہوتی ہے،کچھ

ٹہنیوں میں مسوڑھوں کوسکڑیک مادہ ٹینس ہوتاہے ،لہذاصبح کے وقت پرمسواک یاداتن استعمال کی جائے تودانتوں کی حفاظت سستے طریقے سے ہوجاتی ہے

 

 

عرب ممالک میں مسواک پرہوئی سائینسی تحقیقات کے نتائج

 

ریاض دمشق اورجرمنی کے محققین نے مسواک پرتحقیقات کی ،ان محققین نے مسواک کے مسلسل دوائی تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذکیاکہ مسواک میں قدرتی اجزاء موجودہیں جودانتوں اورمسوڑھوں کی نہ صرف صفائ بلکہ ان کی مضبوطی کے لئے بھی نہایت ضروری ہیں۔اس کاپہلافائدہ یہ ہے کہ وہ قدرت جراثیم کش ٹوتھ پیسٹ ہے جومنہ کوصاف رکھنے کے ساتھ ساتھ سانس کوخوشگواررکھتاہے،اسکادوسرایہ فائدہ یہ ہے کہ اسے استعمال کرنےسے پہلے صاف کرنےکی

چنداں ضرورت نہیں اورنہ ہی کوئی ٹوتھ پیسٹ لگانے کی ضرورت ہےکیونکہ اس میں ٹینک ایسڈاورسوڈیم کاربونیٹ قدرتی طورپرپہلے سے ہی موجودہیں۔لہذامسواک برش سے کئی گُنابہترہے

مصری  محقق اورمسواک

شکاگو میں ایک مصری  محقق  جنھوں نے مائکروبائیالوجی  میں پی ایچ ڈی کی  ۔ان کی ابتدائی تحقیق کے مطابق آپ ﷺمسواک کواستعمال کرتے تھے ،اس میں فلورائیڈ ،کلوروفل اورسلفرکی اچھی خاصی مقداراوردیگرتمام اجزاءموجودہیں جوکسی آئیڈیل ٹوتھ پیسٹ میں ہونے چاہئیں۔اگرراک کی یہ جڑتازہ ہواوراسے اچھے طریقے سے چبالیاجائے تویہ ایک بہترین برش بھی بن جاتاہے۔اسکے اندرکی جوچیزیں ہیں وہ ٹوتھ پیست کاکام دیتی ہیں،تازہ مسواک کرنے سے انسان منہ میں جوتازگی محسوس کرتاہےوہ کسی ٹوتھ پیسٹ سے محسوس نہیں ہوتی ۔

مسواک اورجدیدتحقیقات

جدیدتحقیقات کے مطابق مسواک سے بصارت میں تقویت ،منہ میں خُوشبوکے پیداہونے،گندہ دہنی یعنی بدبوکے ختم ہونے اورمسوڑھوں کی تقویت جیسے ظاہرفوائد کے علاوہ پیٹ کی کئی بیماریوں سے انسان کامحفوظ رہناشامل ہے،سب سے اہم یہ کہ مسواک کے ریشے (برش کے ریشے نہیں) دانتوں کوبہترصاف کرنے کے ساتھ ساتھ

مُنہ کے سرطان سےانسان کومحفوظ رکھتےہیں۔

جدیدسائینسی تحقیق کے مطابق مسواک کرنے سے انسان کی نظرکمزورنہیں ہوتی۔اس کاذہن تروتازہ رہتاہے اورسب سے بڑھ کریہ کہ مسواک کرنے سے انسان پیٹ کی بیماریوں سے محفوظ رہتاہے۔مسواک کے استعمال کرنےوالے دانتوں کی شکایت سے محفوظ رہتےہیں۔امریکہ میں مسواک پرہونے والی تحقیق کہتی ہے یہ دانتوں کے علاوہ پیٹ کے تمام امراض کے لئے بھی شفاہے

مسواک پرتحقیق

مسواک کے ۱۹ اجزاء پرتحقیق کرنے والے ڈاکٹرعبداللہ  کی تحقیق کے مطابق اس میں ۱۹ قدرتی اجزاء موجودہیں۔یہ تمام اجزاءدانتوں اورمسوڑھوں کی صفائی اورمضبوطی کے لئے نہایت ضروری ہیں۔

مسواک ایک قدرتی جراثیم کش ٹوتھ پیسٹ ہے جومنہ صاف رکھنےکے ساتھ ساتھ سانسوں کومعطررکھتاہے۔مسواک کادوسرافائدہ یہ ہے کہ اسے استعمال سےپہلے صاف کرنے کی ضرورت بہیں نہیں ہے اورنہ ہی کسی اورپیسٹ کولگانے کی کیونکہ یہ قدرتی طورپراس میں ٹینک ایسڈاورسوڈیم کاربونیٹ موجودہیں۔ان اجزاءکی قدرتی موجودگی کی وجہ سے مسواک کودیگرتجارتی ٹوتھ پیسٹوں پربرتری حاصل ہوگئ ہے اس کےبارے میں دہران پٹرولیم اینڈمنرل یونیورسٹی کے ایک پروفیسرڈاکٹرجیمس میکومبرکہتے ہیں کہ مسواک میں وہ تمام خوبیاں موجودہیں جودانتوں اورمسوڑھوں کوجراثیم سے پاک کرنے کے لئے ضروری ہیں کہ یہ جراثیم کسی بھی ٹوتھ برش سے صاف نہیں کئے جاسکتے

مسوڑھوں کی بیماری دراصل بہت سی بیماریوں کاپیش خیمہ ہوتی ہے اورجب مسوڑھے کمزورہوجائں تودانت بھی گرنے لگ جاتےہیں لہذادانتوں کی حفاظت کے لئے مسوڑھوں کی حفاظت ضرری ہے۔چونکہ ٹینک ایسڈکودانتوں اورمسوڑھوں کی حفاظت کےلئے موثرقراردیاگیاہے،نیزپائیوریا جیسی بیماریوں کاخاتمہ بھی اسی ایسڈکے ذریعےعمل میں لائاجاتاہے، کسی ایسے ٹوتھ پیسٹ کی ضرورت ہےجس میں ٹینک ایسڈہواوریہ ایسڈمسواک میں قدرتی طورموجودہے،اس اعتبارسے جوں جوں مسواک کی افادیت کاعلم ہورہاہے اس کااستعمال بھی بڑھ رہاہے

 

مسواک اورجدیدتحقیق

جدید سائنس نے بھی مسواک کی افادیت کا اعتراف کیا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مسواک کے استعمال سے نہ صرف دماغ اور آنکھیں تیز ہوتی ہیں بلکہ اطمینانِ قلب، مسوڑھوں کی مضبوطی اور کھانا ہضم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ڈینٹل اسپیشلسٹ ڈاکٹر فہیم انورکا کہنا ہے کہ آپ بار بار اس کو صاف کرتے ہیں تو منہ کی بد بو ختم ہوجاتی ہے منہ کے اندر جو جراثیم ہوتے ہیں وہ ختم ہوجاتے ہیں انضائمز ہوتے ہیں،مسواک کرنے سے ایک اور چیز جو سامنے آئی ہے اس سے دماغ اور آنکھیں دونوں تیز ہوتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق مسواک میں کیلشیم اور فاسفورس سمیت 32 اقسام کے صحت بخش اجزاء ہوتے ہیں۔ مسوا ک نہ صرف قوت حافظہ کو بڑھاتی ہے بلکہ منہ کو کینسر سمیت کئی خطرناک بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔جبکہ مسواک سے دانتوں کی چمک باقی رہتی ہے

 

مسواک کے فوائد

 

مسواک کے طبی فوائد

پُرانےاطباءنے مسواک کیکرنیم اورپیلوکی ذیادہ پسندکی ہے ، ہماری سوسائیٹی میں مسواک کرنے والے کومولوی سمجھاجاتاہے۔ ے درخت چرچراجسے سکھ چین بھی کہاجاتاہے،مسواک بنانے کے لئے نہایت عمدہ ہے،یہ منہ کاپانی نکالنے اورپھولے ہوئے مسوڑھوں کونرم کرنے لئےنہایت اکسیرہے۔

پانی میں مسواک کوبھگوکراستعمال کرنے سے آکسیجن ہمارےدانتوں اورمسوڑھوں میں جذب ہوکران بیماریوں کامقابلہ کرنے کی قوت کوذیادہ کرتی ہے اورمسوڑھے مضبوط ہوتےہیں لعابی گلٹیوں سے ذیادہ رطوبت ترواش پاکرغذاکےہضم کوآسان بنادیتی ہے ،بلغم اوردانتوں کی بدبوسے ذہنی قوت میں کمزوری پیداہوجاتی ہے ان کے صاف کرنے سے ذہنی قوت میں بالیدگی پیداہوتی ہے اورحافظہ تیزہوتاہے ،مسامات زبان کھلتے ہیں قاتل جراثیم ہے ،منہ کی رطوبت کوبہنے سے روکتی ہے ،مسوڑھوں کے زخموں کوخشک کرتی ہے ،دانتوں کی جڑوں کومضبوط اورچمک داربناتی ہے۔

ایک قدرتی جراثیم کُش ٹوتھ پیسٹ ہے جومنہ کوصاف رکھنے کے ساتھ ساتھ سانس کوخوشگواررکھتاہے۔اسے پہلے صاف کرنے کی چنداں ضرورت نہیں اورنہ ہی کوٹی ٹوتھ پیسٹ لگانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں ٹینک ایسڈاورسوڈیم کاربونٹ قدرتی طورموجودہیں۔

مسواک کے کیمیائ اورمیکانی فوائد

مصنوعی ٹوتھ برش کے مقابلےمیں مسواک کے فوائدذیادہ ہیں

۱۔میکانی فوائد

۲۔کیمیائ فوائد

میکانی فوائداورکیمیائی فوائد

۱۔ بہت ذیادہ نرم ہونے کے باعث مسواک کے ریشے مسوڑھوں کوزخمی نہیں  کرتے

۲۔ اپنے نرم ریشوں کی وجہ سے مسواک دانتوں کوزردہونے سے بچاتی ہے

بعدان کی قدرتی چمک دمک براقراررکھتی ہے

۳۔ مسواک مصنوعی ٹوتھ برش کے مقابلے میں لمبائ اورچوڑائ میں چھوٹی ہوتی ہے،لہزااگراسے زوردارطریقے یاتیزی سے استعمال کیاجائے تویہ مسوڑھوں کونقصان نہیں پہنچاتی،بلکہ اس کوتیزترکرنے سے مسوڑھے اوردانت ذیادہ سے ذیادہ حرکت میں آتے ہیں۔

۴۔مسواک استعمال کرنےسے ٹوتھ برش کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ازڈاکٹرزبیرخاں

پیلوودیگرمسواکیں :تحقیقات وطبّی فوائد

پیلومسواک :چندحقائق

اسلام کے آغازسے ہی پیلوکی مسواک دانتوں کی صفائ اورمسوڑھوں کی حفاظت کے لئےمستعمل ہے۔پیلوکااصل وطن عدن کاعلاقہ ہے اورعرب کے کافی حصوں میں پائی جاتی ہے۔پیلو  کوعربی میں الارک کے علاوہ خردل بھی کہنے لگے ہیں کیونکہ اس کے پھل کی بُورائ کے تیل سے کافی ملتی جُلتی ہے اوررائ کوعربی میں خردل کہتے ہیں ،اس طرح رائ کوانگریزی میں مسٹرڈ کہتے ہیں اورپیلوکومسٹرڈٹری(رائ کادرخت)کانام دیتے ہیں۔ پیلوکامشہورترین استعمال  مسواک ہے۔

پیلوکے متعلق چنداحادیث بھی واردہوئی ہیں۔یہ بات یادرہے کہ  مفہوم حدیث ہے کہ مسواک کے حوالے سے افضل درخت پیلوکاہے پھرزیتون کا۔مغربی تحقیقات بھی روزبروزمسواک کی افادیت کے قائل ہوتے جارہے ہیں۔اوراس سلسلےمیں پیلوکی مسواک کوبہترین قراردیاجارہاہے۔ پیلوکواس کی صفات کی بناپرٹوتھ برش ٹری کہاجاتاہے۔اس  کےسائنٹفک فوائدکے علاوہ طبی فوائد بھی ہیں جن کاتذکرہ ذیل میں دیاجارہاہے۔

 

پیلوکی مسواک:سائینسی تحقیقات کے نتائج اورمخفی سائینسی راز

 

پیلوکے درخت (مسواک) کاکیمیائی تجزیہ وفوائد

پیلوکےدرخت کے کیمیائ تجزیہ سے معلوم ہواہے کہ اس میں بڑی مقدارمیں کلورین پائی جاتی ہے جودافع تعفن(اینٹی سپیٹک) اثرات کی حامل ہے اورپانی کوصاف کرنے کے ئے بڑے پیمانےپراستعمال کی جاتی ہے۔ اس میں بیروزہ بھی موجودہے جودافع تعفن اثرات رکھنے کے ساتھ ساتھ جراثیم کوہلاک کردیتاہے۔زخموں کوبھرنے میں بھی مددگارہے۔اوردانتوں کوپالش کرنے کابھی فریضہ سرانجام دیتاہے

پیلو کی مسواک میں  میں ٹینگ ایسڈپایاجاتاہے جوبہت ہوئے خون کوبندکرنے،زخموں کوبھرنے اورمسوڑھوں میں سکڑن پیداکرکے ان میں بھری ہوئی خراب رطوبت کوخارج کرنے میں مددگارثابت ہوتاہے۔مسوڑھوں میں سکڑن پیداہونےسے ہلتے ہوئے دانت بھی مضبوط ہوجاتےہیں۔

پیلوکی مسواک میں بڑی مقدارمیں نمکیات موجودہوتے ہیں جوجراثیم کوہلاک کرنےاورمنہ کے تعفن کودورکرنےکے ساتھ ساتھ مسوڑھوں اورمنہ سے لعاب خارج کرتے ہیں ، اسی طرح گندی رطوبتیں بھی خارج ہوجاتی ہیں۔ پیلو میں گندھک بھی پائ جاتی ہے اوراس کی جراثیم کوہلاک کرنے اورزخموں کوبھرنے کی صفت سے کون انکارکرسکتاہے۔

اس کے علاوہ کچھ ایسے اجزاء پائے گئے ہیں جورنگوں کوکاٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،یہ اجزاء دانتوں پرلگے داغ اورپیلاہٹ کودورکردیتےہیں،ایک جزو ایسابھی ہے جودانتوں کی جڑوں میں جمے ہوئے سخت میل کوکھینچ کرباہرنکال دیتاہے

پیلوکے ریتیلے اجزاء بھی موجودہیں جودانتوں کومانجھنے اورچمکانےکاکامانجام دیتے ہیں ۔حیاتین ج (وٹامن سی) کافی مقدارمیں موجودہے جودانتوں کومضبوط بناتاہے

پیلوکی لکڑی(شاخوں اورجڑوں) میں نمک اورایک خاص قسم کاریزن پایاجاتاہے جودانتوں میں چمک پیداکرتاہےاورمسواک کرنے سے جب اسکی ایک تہ دانتوں پرجم جاتی ہے توکیڑوں وغیرہ سے دانت محفوظ رہتےہیں ۔اس طرح کیمیاوی اعتبارسے پیلوکی مسواک دانتوں کے لئے نہایت مفیدوموزوں ہے۔

پیلوکی مسواک  کے کئی فوائد ہیں مثلاجیساکہ مسواک کاعمل دانتوں کومضبوط بنانےاورچمکانے کے علاوہ مسوڑھوں کوطاقت دیتاہے ،حافظہ کوبہتربناتاہے،بلغم خارج کرتاہے،آنکھوں کی روشنی کوتیزکرتاہے ،بھوک بڑھاتاہے،اورقبض رفع کرتاہے

پیلو کی مسواک سے منہ کی بدبوخوب جاتی رہتی ہے ۔

پیلو کا مسواک نرم ریشوں والا ہوتا ہے ۔ اس میں کیلشیم اور فاسفورس ہوتی ہے ۔ اکثر کلرزدہ اور ویران وبیابان مقامات پر ہوتا ہے ۔ جدید سائنسی اور طبی تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ مختلف اشیاء جو دماغ کی خوراک و معاون ہیں ،ان میں ایک فاسفورس بھی ہے ۔ پیلو کی مسواک میں موجود فاسفورس لعاب اور مساموں کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے جس کے ذریعے دماغ کو قوت حاصل ہوتی ہے۔

 

پیلوکی مسواک کاکیمیائی تجزیہ

ابوظہبی کے ایک مشہورریسرچ سینٹرمیں  مسواک(پیلو) پرتحقیق ہوئ ۔جس کے مطابق پیلوکی چھال میں کلورائیڈذیادہ ہوتاہے،اس میں ٹرائ میتھلامین کے علاوہ لاکھ ،سلیکا،گندھک اورحیاتین جی (وٹامن سی) بھی ہوتاہے،ان کمییاوی اجزاء کی وجہ سےاسکا استعمال دانتوں کے لئے بے حدمفید ثابت ہوتاہے، اس مین ٹینن،سیپونن(صابونی اجزاء)،فلیونائئڈذ،گلائ کوسائیڈزاوراسٹرائڈذبھی پائے جاتےہیں۔اسکے پتے زمانہ قدیم سےگٹھیا،پیٹ کے در،دردناک رسولیوں ،بواسیر،اورایام کی باقاعدگی کے لئے استعمال ہوتےہیں،یہ سانپ کےکاٹے،سرکےدر،ورم زخموں ،پیٹ کے کیڑوں،جذام،اورسوزاک کےعلاج کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں ،اس کے پتوں کوجوشاندہ دافع قبض ہے،ان کے پتوں کا۱۰فیصدایتھانول جوہرمعدےکےزخم کے لئے مفیدہونے کے علاوہ دافع ورم بھی ثابت ہوا ہے۔دوران تحقیق اس میں کلورین سوڈیم پوٹاشیم،کیلشیم،میگنیزیم،فولاد ،مینگنیز،جست تانبا کرومیم ایلومینیم کیڈمیم سیسہ نکل اسٹرونیم اوربیرئم دھاتیں بھی مختلف مقدارمیں پائی گئی ہیں

 

پیلواورانڈین تحقیق

بھارت میں سائنسدانوں نے مذکورہ بالافوائد کی تصدیق کرنے کے ساتھ پیلوکوتلی کےامراض میں مفیدبتایاہے اورحیض کوجاری کرنےمیں مددگارگرداناہے ان کے خیال میں پیلومیں مقوی باہ تاثیربھی ہے اوریہ سانپ کے زہرکاتریاق بھی ہے اس کے علاوہ رسولیوں کوگھلانے اورسانس کی نالیوں کی سوزش رفع کرنےمیں بھی پیلومفیدہے

 

پیلو کی مسواک پرتحقیقات

محققین معترف ہیں کہ پیلوکی لکڑکی نرم اورلچکدارہوتی ہے اسے آسانی سےچبایاجاسکتاہے اوریہ پانی بھیگ کرپھول جاتی ہے،اس کی چھال بھی نرم ہوتی ہے، طبی تحقیق کے مطابق یورپ کی دواسازوں نے اب پیلومیں دلچسپی لینی شروع کردی ہے کیونکہ اس لکڑی کے اندرکیموتھرپیوٹک اجزاء ہوتے ہیں جومنہ میں گاڑھی لعابی تہ کاخاتمہ کردیتےہیں۔بعض افریقی محققین کے مطابق اس کے استعمال سے منہ میں جراثیم اوربیکٹیریا کی پیدائش کاسلسلہ رُک جاتاہے۔پاکستان میں ہمدردوالوں نے پیلوٹوتھ پیسٹ کابرانڈمتعارف کروایا

 

پیلوکی مسواک اورتجربات

تجربات سے ثابت ہوگیاہے کہ جولوگ پیلوکی مسواک استعما ل کرتےہیں ان کے مسوڑھے اوردانت ان جراثیم سے محفوظ رہتے ہیں ،مسوڑھوں کی گرفت مضبوط رہتی ہے ،کیونکہ اس مسواک میں موجودٹینک ایسڈمسوڑھوں کےریشوں کوسکیڑکرمضبوط رکھتاہے ان میں جراثیم اورصدمات کے برداشت کرنے کی صلاحیت موجودہوتی ہے،جن لوگوں کے مسوڑھے نرم پلپلے اورکمزورہوں انہیں خون کے رساوسے حفاظت کے لئے پیلوکی مسواک چباکراسکےنرم ریشے مسوڑھوں پرپھیرنے چاہئیں

پیلودرخت کی مسواک کے کیمیائ اجزاءلعاب دہن میں مل کرایک موثردافع عفونت وجراثیم کش محلول تیارکردیں گے ،اس کی موجودگی میں مسواک کے چبانےسے مسوڑھوں میں دوران خون بڑھ جائے گاجس سے دانتوں کی جڑیں مستحکم ہوں گی اوران کے ریشوں کے دیواروں مین خون روکنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی،اس طرح مسوڑھوں سےخون بہنے کی شکایت رفتہ رفتہ دورہوجائے گی اورریشوں سے دانتوں کے درمیانی شگاف مضرذرات سے صاف ہوتے رہیں گے ،یوں دانتوںاورمسوڑھوں کی صحت اورتوانائ میں روزبروزاضافہ ہوتاچلاجائےگا،منہ صاف ،سانس خوشبودار،دانت چکمداکراورہونٹ صاف سھترے اورنکھرجائیں گے مسواک ہمارے گھروں میں اب بھی خاص عام ہے ،کم ازکم ہمارے بڑے بوڑھے اسے اب  بھی استعمال کرتےہیں۔انہیں دیکھ کراسکا استعمال آسانی سے سیکھاجاسکتاہے

 

پیلوکی مسواک: دیگرفوائد

پیلوکی مسواک کے طبی فوائد

دانتوں کوجِلادیتی ہے

مسوڑھوں سے گندے موادکونکالتی ہے

دانتوں کومضبوط کرتی ہے

مسوڑھوں کوڈھیلاکرنے والی رطوبت نس کونکال کران کو تندرست  بناتی ہے

گلے کی بیماریوں میں مفید ہے

پیلو کی جڑمیں نرم ریشے،ٹینک ایسڈ،جزدعامل الکلائیڈاوردُوسرے کیمیائ  عنصرکثرت سے ملتے ہیں۔اس کی جڑاورچھال  میں پائے جانے والے اجزاءجراثیم کُش اثرات کے ساتھ دافع تعفّن بھی ہے لہذا بطوراسکابطورمسواک استعمال نہایت مفید ہے

 پیلوکی مسواک جراثیم کُش اورمسوڑھوں کوسڈول بنانے کے حوالے سےصدیوں سے مانی جاتی ہے

پیلوبلغم خارج کرتی ہےاورگلےکےامراض میں بھی مُفیدہے

پیلو مقوی باہ بھی ہے

پیلو کی مسواک تپ دق خونی بواسیراورالسرکے مریضوں کے لئے ایک موثرعلاج ہے

 

 

پیلوکی مسواک کے فوائد

اطباءکہتے ہیں کہ  پیلوکی مسواک دانتوں کامیل کچیل صاف کرکے انہیں چمکاتی ہے،جلابخشتی ہے رطوبات کواپنے اندرجذب کرتی ہے، اس طرح مسوڑھوں کےاندرموجودگندی رطوبت پیلو میں جذب ہوجاتی ہیں اورمسوڑھے صاف اورتندرست رہتےہیں چنانچہ دانت بھی مضبوطی سے جمے رہتےہیں ،مسواک منہ کی بدبودورکرکےاسے خوشبوداربنادیتی ہے جس کے نتیجے میں سانس بھی خوشگوارہوجاتی ہیں ،پیلو خشکی پیداکرتی ہے یعنی منہ میں رطوبت اورلعاب کی جوکثرت ہوتی ہے اسے کم کردیتی ہےاوربلغم کوخارج کرتی ہے۔پیلو گلےکےامراض میں بھی  یکساںمفیدہے۔

غوروفکرکریں  کہ قدرت نے پیلومیں کتنی ساری خوبیاں یکجاکرکے ایک جگہ سمودی ہیں۔

دیگرمسواکیں

بادام اوراخروٹ کی مسواک

نظرکی کمزوری اوردانتوں کی کمزوری کے لئے بادام اوراخروٹ کی مسواک بے حدمفیدہے

 

نیم کی مسواک پرتحقیق

۱۸۵۶ میں ڈاکٹرکارلش نے کیمیائی تجزئےکے بعدبتایاکہ اس میں ایک تلخ جوہرپایاجاتاہے جسے انھوں نے مارگوسائین کہا۔ ۱۸۷۳میں ڈاکٹربرافشن نے نیم پرتحقیقات کے بعدبتایاکہ نیم کی چھال میں ایک تلخ جوہرموثرہ موجودہے۔جس میں ایک قسم کاگوندپایاجاتاہے،پاکستان کے ایک مایہ نازقومی سائنسدان ڈاکٹرسلیم الزماں صدیقی نے بھی نیم پرتحقیق کی ہے،زردرنگ کاروغن نیم نہایت عمدہ قاتل جراثیم ہوتاہے۔دادخارش چھاچن اورداءالفقاع میں اس کوموثرتسلیم کیاگیاہے۔

نیم  کی مسواک

آتشک میں بھی نیم کے تجربات کئے ،انھوں نے سوڈیم مارگریٹ کے زیرجلدٹیکے لگائے جوبے حد مفیدثابت ہوئے،اس کے پانی سے کان کے زخم بھی پچکاری کے ذریعے صاف کئےجاسکتےہیں ۔غرض اس کے علاوہ کئ اوربیماریاں بھی اس سے رفع ہوجاتی ہیں

دانت سارےجسم سے منسلک ہوتےہیں سارانظام انظہامان کےساتھ منسلک ہوتی ہیں۔

نیم کی ٹہنی

نیم کی ٹہنی ذہریلے مادے کومارتی ہے۔تو منہ کے خطرناک امراض سے اختتام عمرتک نجات مل جاتی ہے

 

نیم کی مسواک سےحاصل کردہ اجزاء

نیم کی مسواک سے کاربالک ایسڈگیس اورگندھک کے اجزاءہمیں حاصل ہوجاتے ہیں،یہ اجزاءگندگی اورخارش کے جراثیم ہمارے منہ سے ختم کردیتےہیں

کیکرکی مسواک

کیکرکی مسواک سے ہمیں ایسڈاورگیلک ایسڈکے اجزاءحاصل ہوتے  ہیں جومنہ کے چھالوں اورمسوڑھوں کے ورم کودورکرتےہیں

سُکھ چین کی مسواک

درخت چرچرا جسے سُکھ چین بھی کہاجاتاہے ،اسکی مسواک منہ کے پانی کونکالنے اورپھولے ہوئے مسوڑھوں کونرم کرنے کے لئے اکثیرہے

اسگندھ کی مسواک

اسگندھک کی مسواک اگرروزانہ کی جائے تودانت جملہ امراض سے ہمیشہ محفوظ رہتےہیں ۔دانتوں کامیل کچیل دُورہوجاتاہے ،دانت موتیوں کی طرح چمکنے لگتے ہیں ۔مسوڑھوں کاورم اورزائدگوشت زائل ہوجاتاہے۔

نوٹ :انار،بانس، ریحان اورچنبیلی کی مسواک کرنامکروہ ہے

درج بالا تحقیقات اوراس کے ضمن میں حاصل ہونے والے فوائدنےمسواک کی اہمیت سائنس نے واضح کردی ہے

مسواک کے مزیدفوائد

دُشمن پررعب کاسبب ہے

اولادکی کثرت کاسبب ہے

سینےکےدردکوختم کرتی ہے

صفراکودُورکرتی ہے

منی (مادہ تولید) ذیادہ پیداہوتی ہے

مسواک سےجبڑے مضبوط ہوجاتے ہیں ۔

رُوح سہولت(آسانی) سے نکلتی ہے

نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا

کثرت اولاد کا باعث ہے۔

قبرمیں وُسعت ہوگی

قلب کی پاکیزگی ہوتی ہے۔
عقل کو تیز کرتی ہے۔

مسواک کرنےوالادُنیاسے پاک صاف ہوکرجاتاہے

موت سے پہلے حوض کوثرکاپانی پلایاجائے گا

حالت نزع کوبہت جلد ختم کردیتی ہیں

اس کی برکت سے حصول رضا میں آسانی ہوتی ہے

مسواک کرنے والے کی ہر حاجت پوری ہوگی

مسواک کرنے والے کے لیے انبیا علیہم السلام  ورُسل بھی  اس کے لئے دعاکرتے ہیں

دماغ مسواک کرنے سے تیز ہوتا ہے اور طویل عرصہ تک تندرست رہ سکتا ہے

اللہ تعالیٰ مسواک کرنے والے کے دل میں حکمت ودانائی کی باتیں القا فرما دیتا ہے

اللہ تعالیٰ کی رحمت وبرکت مسواک کرنے والے کے گھر میں نازل ہوتی ہے

زمین کے کیڑے مکوڑے اور موذی جانور مسواک کرنے والے کو تکلیف نہ دیں گے۔

اوقات:بیوی کے ساتھ ہم بستری سے پہلے مسواک کرنامسنون اورمستحب ہے

قول :مسواک کرنانصف ایمان ہے اوروضوبھی نصف ایمان ہے۔ حضرت حسان بن عطیہ

آدمی کی قوتِ ذائقہ میں اضافہ ہوجاتا ہے اور آدمی گلے وغیرہ کی بیماریوں سے بچا رہتا ہے۔ مسواک کرنے والے کے لیے حاملین عرش استغفار کرتے ہیں

اگر مسواک اورپانی سے منہ کو اچھی طرح صاف کیا جائے تو منہ میں ایسی شعاعیں بن جاتی ہیں جن کے باعث تلاوتِ قرآن اور حمد وتسبیح میں حلاوت و سرور پیدا ہوتا ہے یعنی اس سے نُورانیت و روحانیت پیداہوتی ہے

 

لہذاخودبھی مسواک کااستعمال کریں اوردوسروں کوبھی مسواک بطورتحفہ دیں تاکہ سُنت کی ادائگی ہو۔اوردنیاسے ایک مٹتی سنت کوفروغ ہواوروہ متروک نہ ہواورایک سنت کوزندہ کریں تاکہ دنیاوی اوراُخروی فوائدثمرات  سمیٹ سکیں

 

حاصل نتیجہ:

درج بالا بحث سے کچھ نکات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔اس سے یہ نتیجہ نکالاجاسکتاہے کہ سُنت کوترک کرنے سے انسان کتنانقصان اٹھاتاہے۔اگرہم حدیث کے اس مفہوم کوجان لیں اورمان لیں کہ صفائی واقعی نصف ایمان ہے توانسان کی کتنی بیماریاں محض اس حدیث پرعمل پردرآمدکرنے سے ختم ہوجائیں گی اوریہ کوئی مشکل بات اورراکٹ سائینس بھی نہیں ہے۔

دوسرانکتہ جواس پوری تحریرسے سمجھ میں آتاہے وہ سب کاسب ایک حدیث میں سمٹ کرآجاتاہے ،یعنی وہ حدیث جودرج بالابیان کی گئی ہے جب ایک  بین الاقوامی معالجﷺآپ کے پاس لوگوں کے علاج کی غرض سے آیااورجب کئی ماہ اس کومریض نہ ملے سکے تواس نے آپﷺسے دریافت فرمایاتوآپ نے کیاجواب دیاتھایعنی میرے ساتھی صحابہ مسواک کرتے ہیں ۔اب  آپ ساراکچھ ایک حدیث سے اندازہ لگاسکتے ہیں۔

تیسرانکتہ یہ ہے کہ منجن ٹوتھ پیسٹ کے طبی فوائدتوہوسکتے ہیں لیکن ثواب نہیں،کیونکہ مسواک کرناایک سنت ہے جس کے بے انتہاطبی اورروحانی فوائدہوسکتے ہیں۔ کیونکہ مسواک کرناآپ ﷺکامحبوب عمل رہاہے ،اسی طرح باقی انبیاءکی بھی یہی سُنت رہی ہے۔لہذامسواک کی بطور سنت اورطبّی حوالوں سے  افادیت و اہمیت پہلے بھی  تھی  آج بھی مسلمہ ہے اورہمیشہ ہی رہے گی۔

 چوتھانُکتہ یہ ہے کہ انسان صبح سے لیکرشام تک کچھ نہ کچھ کھاتارہتاہے لیکن چندمنٹ اپنے دانتوں کی صفائ کودیتاہے۔نیزیہ کہ وہ ماہانہ  ۳۰یا۴۰ روپے مسواک پرخرچ نہ کرسکتاتاکہ اس کے ہزاروں لاکھوں روپے خدانخواستہ بیماری پرنہ کہیں لگ جائیں ۔سوچیں محض اس سے ایمان پرخاتمہ ہوگا اوردنیاوی واخروی فوائداسکے علاوہ ہیں۔

دعاہے کہ الله تعالیٰ امت مسلمہ کو دیگر سنتوں کے ساتھ مسواک کی سنت کو بھی زندہ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
        الله سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

یہ بات ہمیشہ  مرتے دم تک ذہن نشین رہے کہ

صفائی نصف ایمان ہے

# # #

 

 

 

مصنف:صحت اوراسلام سمعیت معاشرتی مسائل پرکچھ نہ کچھ تحریرکرتے رہتے ہیں۔اورجوسوشل میڈیااوررسائل میں بھی شائع ہوجاتےہیں ۔ماضی میں مشہورومعروف اداروں گیلپ،اوایسس اورادارہ فروغ تحقیق  سے بھی مُنسلک رہے ہی اورتحقیقی مضامین میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اوران کاتراجم کرکے افادہ عامہ کے لئے شئیر کرتےرہتے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مضمون کوامت مسلمہ کے لئے نافع بنائے ۔آمین ثم آمین

حوالہ جات  وماخذ

نوٹ ووضاحت  :عوام الناس اورافادہ عامہ کے لئے اس آرٹیکل میں درج ذیل کتاب سے بہت ذیادہ مددلی گئ ہےاوراستفادہ حاصل کیاگیا۔تقریبا۹۰فیصدآرٹیکل اسی کتاب کی مرہون منت ہے۔اورکافی ساراموادجہاں ہے جیساکی بُنیادپرنقل کیاگیاہے اورانتہائی اختصارکےساتھ لکھاگیاہے کہ تاکہ تحریرمیں روانی محسوس ہواورہرکام کی چیزواضح ہوکرسامنے آجائے اوریہ ذیادہ اسی کتاب سے تحقیق وتیاری کرکے لکھاگیاہے

ماخوذاز: کتاب فضیلت مسواک اورحقیقت ٹوتھ پیسٹ

تالیف:مولاناروح اللہ نقشبندی غفوری

سال اشاعت  ۲۰۰۸

پبلشر:داراالاشاعت کراچی پاکستان

 

پتہ وفُون: اُردوبازار،ایم اے جناح روڈ،کراچی 22137 68

گاندھی اورمسواک:بحوالہ:ج ۳۳ ،۱۳ ستمبر ۱۹۳۰،نمبر  ۳۷،تہذیب نسواں

ماہنامہ محاسن اسلام،ملتان،اگست ۲۰۱۷، شمارہ ۲۱۵۔جلد۱۸،ص ۵۳

ماہنامہ محاسن اسلام ،ملتان،اکتوبر۲۰۱۴،ص ۶۰،شمارہ نمبر۱۸۱،جلد نمبر ۱۶

ویب گاہیں

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D9%85%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%A9-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81/04-04-2019

https://kitabosunnat.com/kutub-library/fazelat-e-maswak

https://scienceinquran.paknovels.com/2012/02/blog-post_19.html

https://www.enews.pk/use-of-miswak-is-increased-in-ramadan_n10883/

http://raahedaleel.blogspot.com/2013/04/blog-post.html

https://www.trt.net.tr/urdu/sht-sy-ns-w-ttykhnlwjy/2015/08/05/mswkh-snt-nbwy-bhy-mnh-khy-sht-yby-bhy-315658

https://www.facebook.com/AntiMunkireHadith/photos/a.379044548829578/493923810674984/?type=3

https://www.yakareem.org/?p=1313

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...