Friday, 30 December 2022

سیالکوٹ میں پی ٹی آئ (عمران خان) کے جیتنے کے واضح امکانات! پاکستان میں متوقع الیکشن ۲۰۲۳

 

 پاکستان میں متوقع الیکشن ۲۰۲۳

بسلسلہ :پاکستان سیاسی حالات

سیالکوٹ میں پی ٹی آئ (عمران خان) کے جیتنے کے واضح امکانات!

شہراقبال کی عوام سیاسی حوالے سے کیاسوچ رہی ہے ؟

 

سیاسی تجزیہ وتبصرہ:مجاہدعلی

mujahidali125@yahoo.com,0333 457 6072

سیالکوٹ کے عوام کی اکثریت کیا کہتی ہے

گذشتہ دنوں دنیاٹی وی کے سابقہ مشہوراینکراورسنوٹی وی کے حبیب الرحمن نے سیالکوٹ کے مختلف علاقوں گلی محلوں  ،بازاروں سڑکوںاورحلقوں کا چل پھرکر دورہ کیا  اورعوامی  وسیاسی رائے کاتفصیلی جائزہ لیا  ۔ سائیکل والے ،راہ چلتے ،موٹرسائیکل گاڑی  میں افراداورفٹ پاتھ پربیٹھے افراداورکاروباری حضرات  سمعیت کئی طبقہ  فکرکی  ذاتی  رائے لی  اورعوام   کےحوالے سے اگلےالیکشن اورالیکشن ۲۰۲۳ سےرائے جاننے کی کوشش کی  ۔ اس ضمن میں لوگوں نے مختلف دلچسپ طریقوں سے اظہارخیال کیا۔اورجاناکہ اس شہرکے افرادکاسیاسی درجہ حرارت کیاہے اوروہاں کے عوام کی کیاسوچ ہے!ان مختلف سیاسی عوامل پس منظراورموجودہ حالات کی ایک تصویرکشی کی ہے جن کی بناپرپی ٹی آئ کے جیتنےکے امکانات ہیں۔ جس کے کچھ واضح  بے لاگ  نتائج سامنے  آئے ہیں ۔انکی تفصیل بغیرکسی تمہیداورسیاق سباق اعدادوشمارسے ہٹ کرپیش کی جارہی ہے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



پی ٹی آئی کی یقینی جیت

ابتداہی میں بتادیاجاتاہے کہ اس شہرمیں پی ٹی آئی کے جیتنے کے قوی اورواضح امکانات نظرہیں۔جس کوجیتناچاہئے وہ پی ٹی آئی ہے۔لوگوں کی پسندپی ٹی آئی ہے جبکہ دوسرے نمبرپرمسلم لیگ ن آتی ہے۔

اکثریت کا تعدادپی ٹی آئی کے حق میں پلڑادکھائی دیتاہے۔لوگوں نے کھل کراورواضح اندازمیں پی ٹی آئی کوووٹ دینے کی بات کی۔

اس ضمن میں سیالکوٹ کے مختلف طبقات خصوصا غریب اورمتوسط طبقے نے پی ٹی آئی کی حمایت کی ہے۔ بوڑھے، جوان مردوزن سبھی عمران خان کے حق میں بولتے نظرآتے ہیں۔اس کابرملااظہارتون لیگ کے اپنے افراداظہارکرتے دکھائی دیتے ہیں۔نوجوان طبقہ کی ایک اکثریت عمران خان کی حامی دکھائی دیتی ہے اورطرف داری کرتی نظرآتی ہے۔اس شہرمیں عمران خان کاسیاسی بیانہ مقبول ہے۔

بہرحال عوام کی موجودہ پسندتوپی ٹی آئی ہے اوریہاں سے تقریباکلین سوئیپ بھی کرتی دکھائی دیتی ہے،یعنی نظرآتاہے بلکہ دکھائی دیتاہے کہ پی ٹی آئی کی جیت یقینی ہے!یہاں سائیکل والاموٹرسائیکل والااورکاروالاعمران کاحامی دکھائی دیتاہے

عوامی رائے کے مطابق آئیندہ الیکشن میں پی ٹی آئی ہی کوذیادہ ووٹ ملتے دکھائ دے رہے ہیں اورذیادہ ترافراد پی ٹی آئ کے حق میں نظرآتے ہیں۔

جب چل پھرکراندازہ لگایاگیاتو سیاسی حالات ن لیگ کے حق میں کوئی سازگارنظرنہیں آتے بلکہ وہ پی ٹی آئی کے فیورمیں ہیں ۔تقریباہرحلقے میں پی ٹی آئی (عمران) کاہی زورنظرآتاہے ،ظاہرہے کہ پی ٹی آئی کاراج ہوگا۔عوام کی اکثریت عمران کوسپورٹ کرتی ہے۔لوگوں کی ذیادہ تعداد پی ٹی آئی کونُمائندگی دیناچاہتے ہیں۔بہرحال سیالکوٹ اکثریت کوپی ٹی  آئی سے بہت ذیادہ توقعات ہیں۔کیونکہ اس دفعہ سیالکوٹ میں لوگوں کے خیال بدل بدلےسے لگتے ہیں۔لوگ تویہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان سیالکوٹ سے کلین سویپ کرےگا۔عوامی رائے یہی ہے کہ اب کی بارعمران خان کو ایک موقع ملناچاہئے۔لہذاپی ٹی آئی آئی سب پارٹیوں سے آگے نکل جائے گی۔

ایک شخص سے جب پوچھاگیاکہ کس پارٹی کے اب آگے آنے کے واضح چانسزہیں تواس نے جواب دیاکہ میں نے سب کودیکھاہواہے پی ٹی آئی ہی  اب آئےگی اورآئیندہ الیکشن میں جیتے گی اورہمارے پاس عمران خان کے علاوہ دیگرکوئی آپشن نہیں ہے۔

عمران کی سحرانگیزاورکرشمہ ساز شخصیت

عمران خان کم ازکم ایماندارلگتاہے

عمران پرفل فلیج ٹرسٹ کرتے ہیں

بحران سے عمران ہی نکال سکتاہے

جوان کی امیدصرف عمران خان

لیڈرصرف ایک:عمران خان

ایک خاص بات جو عمران خان کے حوالہ سےخاص طورپرسیالکوٹ کے عوام میں محسوس کی گئی کہ  وہ تھی کہ عوام الناس میں انکی شخصیت کاایک کرشمہ ہے۔ان کی شخصیت میں سحرہے ۔لوگ تویہ بھی کہتےہیں کہ عمران کرپٹ نہیں ہے  وہ عوام کے پیسےکھانے والانہیں ۔نیزیہ کہ وہ گولی کھاکرمیدان اورملک سےبھاگانہیں۔بلکہ وہ توعوام میں رہ کرعوام کی سوچتاہے۔۔وہ ایک دردمندانسان ہے۔ عمران عوام کاخیال کرتے ہیں۔لوگ توبس یہی کہتے دکھائی دیتےہیں کہ عمران خان آرہاہے۔عمران خان جہاں نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہیں تووہیں پرعورتوں میں  بھی ان کی مقبولیت کچھ کم نہیں ہے۔سیاسی جلسوں میں اکثرخواتین شرکت کرتی دکھائی دیتی ہیں یعنی خواتین کی اکثریت ان کوسیاسی طورپر پسندکرتی ہیں

یہ بات بھی کسی حدتک درست ہے کہ عمران کوملکی سطح پربھی اپنی عوام میں پذیرائ حاصل ہے جب کہ بین الاقوامی سطح توپروہ بحثیت کرکٹراورعالمی رھنماپہلے سے مشہورہے اوران کاشماردنیاکی بااثرشخصیات میں ہوتاہے

عوام کیاچاہتےہیں

بہرحال جب الیکشن کی بات ہوتواصل فریق توعوام ہیں ۔جن کوووٹ لینے کے بعدپوچھتانہیں اورنہ ہی عوامی پروگرام اوراقدامات کاسوچاجاتاہے۔اس ضمن میں عوام کی رائے اورسوچ کوترجیح دی جانی چاہئے آخروہ کیاچاہتے ہیں کیاسوچتےہیں۔

جب اس سلسلے میں عوام کی رائے لی گئی توہرکسی کے ذہن ملک اورملک کے حوالے سے سی ایک حتمی رائے سامنے آئی مثلا کافی لوگوں نے کہاکہ جوبھی حکومت برسراقتدارآئے وہ عوام کے لئے کام کریں اورعوام کے حق میں اچھی ہو۔کچھ لوگوں نے تویہ بھی کہ حکومت میں آنے سے پہلے بڑے بڑے دعوے کئے جاتےہیں لیکن حقیقت میں کچھ کام نہیں ہوتاہے

لوگوں کاکہناہے کہ کوئی پارٹی عوام کے متعلق نہیں سوچتی ہے۔لہذاسیاسی پارٹیوں اورکے پالیسی سازوں کوچاہئےکہ وہ ایسی قابلی عمل پالسیاں بنائیں جن کاحصول ممکن ہواوراورجس میں عوام کی بات ہو۔لوگوں کے گوناگوں مسائل میں سےایک مسلہ روزگار،جاب اورکاروباربھی ہے۔کاروباری حالات اورمعاشی پالیساں کاروباری کے حق میں ہونی چاہئیں۔جس سے کاروباری اورکاروباری حالات اورکاروباراپنی پہلی سطح پرآجائے ۔نیزیہ کہ حکومت وقت کاروباری حضرات کےلئے کاروباری آسانیاں پیداکریں۔لوگ کہتے ہیں سیاسی جماعتیں اوران کے ممبران بڑھکیں مارتے ہیں۔عملی طورپرعوام کے لئے کچھ نہیں ہوتاہے

عمران خان کی سابقہ حکومت کے بارےمیں کچھ افرادکی ذاتی  رائے

جب لوگوں سے یہ پوچھاگیاکہ عمران خان کی حکومت کی خاص بات کیاتھی تو لوگوں کے ذہنوں میں پی ٹی آئی حکومت کے ماضی کے اقدامات کےحوالے کچھ اچھی بات نقش تھیں جیساکہ:

احساس پروگرام

صحت کارڈ

بل پررعایت کرونا

بہرحال حکومتوں کوچاہئے کہ عوام کی بہتری کے لئے متنوع اقسام کے دیرپاپروگرام تشکیل کرنے کی اشدضرورت ہے

سیالکوٹ میں ن لیگ کی مقبولیت خطرے میں

ایک دورتھاکہ سیالکوٹ میں ن لیگ کی عوام میں مقبولیت تھی۔لیکن بدلتے حالات میں عوام کی اکثریت اب پی ٹی کےحق میں ہے۔ن لیگ کے ایک نظریاتی ووٹرنے توصاف صاف کہ دیاکہ اگرن لیگ نے عوام کوکوئی ریلیف مہیانہ کیاتوآئیندہ الیکشن میں بالکل صفایاہوجائے گا۔ سیالکوٹ میں ن لیگ کوواقعی بہت فرق پڑاہے

لیکن سچی بات ہے کہ میدان میں ن لیگ کااصل سخت  مقابلہ پی ٹی آئ سے ہے۔

کہیں کہیں تونعرے یہ بھی لگتےہیں کہ شیراک واری فیریعنی ان کے متوالے اورہمنوابھی کم نہیں ہیں۔

عوام اپنے اپنے پسندیدہ کےحق اورمخالف میں رائے آزاد ہیں مثال کے طورکچھ پی ٹی آئی کے سپورٹرکاخیال ہے کہ نوازشریف توچورہے لیکن کچھ عوامی حلقوں کادعوی ہےکہ نوازشریف نے یہاں کے عوام کے لئے بہت کچھ کیاہے!لوگ یہ توان سے یہ سوال بھی کرتےہیں کہ کیاان سیاسی رھنماوں کے اپنے ذاتی کاروبارزوال پذیر(ڈاون) ہیں ۔

پہلے کی بنسبت  انتہائی باشعورعوام

سیاسی جماعتوں کے لئے یہ امرانتہائی فکرکامقام ہے کہ موبائل انٹرنیٹ اورمیڈیاکے دورمیں کافی حدتک باشعورہوچکی ہےلہذااب جوابھی کسی پارٹی کوووٹ دے گاوہ انتہائی سوچ سمجھ کردے گا۔اب کسی کوجھوٹے وعدوں سے ورغلایانہیں جاسکتا،عوام سخت ردعمل اوراحتساب کرسکتی ہے

کیونکہ اب عوام کے پاس ہرپارٹی اورامیدوارکےکہے ہوئےالفاظ کی پوری تاریخ سامنے آجاتی ہے اورفورااس پراپنے ردعمل کااظہارکردیتے ہیں۔عوام اب ہرامیدواراورپارٹی کی تاریخ اچھی جانتے ہیں ۔یہ بات بہت محسوس کرنے کی ہے کہ لوگوں کاسیاسی شعورپہلے سے کہیں ذیادہ بڑھ گیاہے

سیاسی نظام سے متنفرطبقہ اورنیوٹرل حلقے

اس سروے کے دوران جہاں ہمیں لوگوں کی اکثریت پی ٹی آئی کے حق میں دکھائی دیتی ہے تودوسری طرف ن لیگ بھی پی ٹی آئ سے ٹکرلینے پرتیاردکھائی دیتی ہے۔وہیں پرایک  لوگوں کی ایک خاموش اکثریت ایسی بھی ہے جوان دونوں سے بے زاراورمتنفربھی دکھائی دیتی ہے توکچھ نیوٹرل افرادبھی نظرآتے ہیں جوسرے سے باغی ہیں کہ وہ کسی امیدوارکواپناووٹ کاسٹ نہیں کریں گے بلکہ اپناحق رائے دہی ہرگزاستعمال نہیں کریں گے۔

سیاسی نظام سے باغی اورمتنفرافرادکاخیال ہے کہ دونوں پارٹیاں اوران کے افرادہی چوراورکرپٹ ہیں۔ جوبھی آئے گاچورآئے گا دونوں کرپٹ پارٹیاں ہیں بہت سارے افرادایسے بھی پائے جاتےہیں جویہ کہتے دکھائی دیتےہیں سب سیاست دان ڈاکوچوراورفارغ ہیں اوران کے خلاف بولتے دکھائی دیتےہیں اورکسی سے امیدنہیں ہے۔

لوگوں کاکہناہے کہ کسی بھی پارٹی کاامیدوار ووٹ لینے کے قابل نہیں ہے۔تجربہ کاراوربزرگ حضرات اپناتجربہ بتاتے ہیں کہ اصل میں کوئی جماعت کامیاب نہیں ہے۔ کسی کی بھی کارکردگی بہترنہیں رہی ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اورامیدوارالیکشن میں کئے گئے وعدوںکو پورا نہیں کرتا ہے۔ہم نے سب کوآزمالیاہے،سبھی چورہیں اورسب اندرسے آپس میں ایک ہیں۔

ان باتوں اوررائے سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ لوگوں کاسیاسی نظام اورسیاسی افرادپراعتمادکتناختم ہوگیاہے اوروہ سب جماعتوں سے تنگ آچکے ہیں ۔ایسے افرادتوسرسے الیکشن کابائیکاٹ کرتے دکھائی دیتےہیں اورکہتے ہیں کہ اس سسٹم میں توووٹ ڈالناہی وقت کازیاں ہے بلکہ اپناقیمتی ووٹ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔بہرحال اس طرح کے بھی کچھ طبقات ہیں

مہنگائ فی الوقت سب سے بڑامسلہ

یادرہے کہ دورحاضرمیں دنیااورپاکستان میں عوامی سطح پرسب سے بڑامہنگاہی ہے۔اوریہ عروج پرہے۔مہنگائی کے باعث پاکستان کے عوام دن رات مہنگائی کی چکی میں پس رہےہیں۔اس وقت مہنگائی اورفوڈانفلےمیشن ۲۰تا۴۰فیصد ہے ملک اورعوام دن بدن پیچھے ہی جاتے رہے ہیں۔حکومتوں کوعوام کااحساس نہیں عوام ہے کہ دن بدن مہنگائی اورغربت کی چکی میں پستی ہی جارہی ہے

مایوس افراد

بہرحال جہاں لوگ اپنی سوچ اوررائے کے حوالے سے اپنی اپنی پسندیدہ پارٹیوں جیساکہ  پی ٹی آئی ، مسلم لیگ ن،تحریک لبیک پاکستان اورجماعت اسلامی وغیرہ کے حق اورمخالفت میں دلائل رہے تھے تووہیں پرکچھ ایسے افرادکی بھی رائے تھی جوسب پارٹیوں کی حکومتوں سے بھی نالاں تھے ،اورکسی حد تک نالاں اورمتنفربھی نظرآتے تھے ۔وہ کسی کی پارٹی کے حْق میں ووٹ ڈالنےسے گریزاں نظرآتے ہیں۔مثلاکچھ کی رائےتھی جوکوئی بھی حکومت میں آئے گامہنگائی توضرورہوگی۔اکثرلوگ تواپنی یہ رائے بھی دیتے پائے گئےہیں کہ سب چوراورڈاکوہیں۔وہ یہ دعوی کرتےہیں ان سب نے ملکرعوام کے منہ سے روٹی کانوالہ تک چھین لیاہے۔

نیوٹرل افراد

سیالکوٹ کے مختلف حلقوں میں ایسے افرادکی اکثریت بھی پائی جاتی ہےکہ جویہ کہتی ہےکہ جو پارٹی کام کرے گی وہی جیتے گی۔ان کی اس حوالے سے کوئی  سیاسی رائے نہیں ہے۔بعض افرادکاکہناہے کہ سبھی پارٹیاں اچھی ہیں۔لوگ اپنی پسندیدہ پارٹی کانام بتانے سے بھی گریزاں تھے۔

جب کچھ افرادسے پوچھاگیاکہ آپ اگلے الیکشن میں کس پارٹی کوووٹ دیں گے کچھ نے کہاکہ میں بس اپنی پسندیدہ پارٹی ہی کوووٹ دوں گالیکن پارٹی کانام نہیں بتاوں گا ،کچھ لوگ یوں بھی کہتے ہیں آپ نے کیامشکل سوال کردیاہے لہذاکچھ افرادنے اپنی پسندیدہ پارٹی کوووٹ دینےکے حوالے سے اظہارخیال نہیں کیا،ابھی تک کچھ افرادفیصلہ کررہے ہیں کہ کس آئیندہ الیکشن میں کس پارٹی کوووٹ دیں گے۔ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ وہی پارٹی برسراقتدارآئے جوعوام اورملک سے مخلص ہوااورجوجیتے وہ عوام قوم کے حق میں اچھاہی ہو۔ہم توفی الحال اپنے کاروبارپرتوجہ دے دہے ہیں کیونکہ ہم نے توخوداپناکماکرکھاناہے کسی نے توکھانے کے لئے نہیں پوچھنانہیں ہے

مُلکی مسائل وُمشکلات

یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہماراملک بحرانوں کی ذدمیں ہے ۔مہنگائی اپنے عروج پرہے جس کی وجہ سے ایک عام انسان کی گززبسر انتہائی مشکل ہوگئی ہے ۔بعض گھرانوں میں حالات اس نہج پرآگئے ہیں کہ لوگ اپنا سوچ کریوٹیلٹی بلزتک اداکررہےہیں ۔لہذاملک میں ایک عجیب سی سیاسی افراتفری بھی چل رہی ہے۔کبھی کبھی توایسامحسوس ہوتاہےکہ جیسے غریب سے روٹی چھین لی جارہی ہو!

تجزیہ تبصرہ!

بہرحال یوں محسوس ہوتاہے بلکہ لگتاہے کہ شایدالیکشن ۲۰۲۳ میں مسلم لیگ ن کواپنی بقاکی جنگ لڑناپڑے۔کیونکہ لوگوں کی واضح اکثریت نے پی ٹی آئی کے پلڑے میں اپنابھاری وزن ڈالاہے۔لہذان لیگ کوسوچناچاہئے کہ وہ ایسے کیااقدامات کرے کہ یہاں کے عوام کادل جیت سکیں ۔

کیونکہ سیالکوٹ میں واضح تبدیلی آسکتی ہے۔کیونکہ کئی افرادن لیگ کی موجودہ کارکردگی پربھی سوالات اٹھارہے ہیں کہ انھوں نے عوام الناس کےلئے کیاکیاہے

ن لیگ کےسیاسی ورگرکابے لاگ تبصرہ تھاکہ پی ڈٰی ایک ناکام گروہ ہے اگرسیالکوٹ میں ن لیگ نے جیتناہے توبڑے میاں صاحب یعنی نوازشریف کوملک میں واپس آکرن لیگ کی باگ دوڑسنبھالناپڑگے گی۔ورنہ جماعت شایدپیچھے رہ جائے ۔لیکن پھربھی ممکنہ طوپرن لیگ کوکم کوووٹ ملنے کے کافی حدتک چانسزہیں

لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ پی ٹی آئ اورن لیگ کے مابین خوب مقابلہ ہوگا۔کیونکہ اب جوکوئی بھی جیتے گاوہ محض اپنی کارکردگی پرہی جیتے گااورعوام کےووٹ دینے کاانحصارکسی بھی پارٹی کی موجودہ کاردگی پر ہی ہوگا۔اوراگرموجودہ  وفاقی حکومت کی کاردکرگی کاجائزہ لیاجائے تومہنگائ اس وقت اپنے بام عُروج پرہے جس سے کسی کوانکارنہیں!عوام تویہ صرف دیکھتےہیں ان کے مسائل کس حدتک حل ہوئے ہیں۔اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہےکہ سیالکوٹ میں ن لیگ کےکافی سپورٹرپائے جاتےہیں۔پھربھی دونوں نی لیگ اورپی آئی کواپنے اپنے حلقوں میں بہت محنت کرناپڑے گی ۔ بہحرحال ایک بات توطے ہے۔وہ یہ کہ اصل مقابلہ پی ٹی آئی اورن لیگ کے مابین ہی ہوگا ۔جبکہ یہاں جماعت اسلامی اورتحریک لبیک پارٹی کے   ہم خیال لوگ بھی پائے جاتےہیں۔جس سےدونوں پارٹیوں کے مارجن میں کسی حدتک اثرپڑسکتاہے۔

سیالکوٹ کی سیاست کی بات کی جائے تو ایک بات تویہ طے ہے کہ سیالکوٹ میں مبصرین اورتجزیہ کاروں کی اکثریت  کی نظر خواجہ آصف اورعثمان ڈارکے حلقہ ستاسٹھ پرہی رہے گی کہ اس حلقے سے کون جیتے گا۔کیونکہ دونوں میں کانٹے دارمقابلہ ہوگا۔کیونکہ پچھلی دفعہ بھی خواجہ آصف چندووٹوں کے مارجن سے جیت پائے تھے!اورانھیں کے جیتنے سے شایدسیالکوٹ کی سیاست کی واضح سمت نظرآئے گی بہرحال دلوں کوبدلنے والااللہ ہی کی ذات ہے

۲۱دسمبر۲۰۲۲

###

 

کچھ صاحب قلم کے بارے میں :راقم پولیٹیکل سائینس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اورموجودہ صورت حال پرگہری نظررکھے ہوئے ہیں۔پولیٹیکل سائینس میں ماسٹرہیں ۔موجودہ سیاسی صورت حال پرایک ماہرانہ تجزیہ دینےکی سعی ہے۔

نوٹ :یہ تجزیہ وتبصرہ موجودہ حالات کے تناظرمیں اورعوامی رائے پرمبنی ہےاس میں مصنف کی رائے ہرگزشامل نہیں۔باقی الیکشن کے نتائج اس وقت کے حالات اورنتائج پرمبنی ہوسکتےہیں جوکسی بھی پارٹی کے حق یامخالفت میں جاسکتےہیں


 

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...