اسلام آباد:شہراقتدارکے باسیوں کی نفسیات اورعجیب وغریب خصوصیات
صاحب تحریر:مجاہدعلی
mujahidali125@yahoo.com,0333 457 6072
یہ پتھروں کاپانی پی پی کرپتھردل ہوگئے ہیں،ان میں بہت بو(بدبُو) داخل ہوگئی ہے یعنی یہ بہت مغروراوراناپرست ہوگئے ہیں۔ ہمارے بڑے بوڑھوں کے تواتریہ دوالفاظ ہیں جوبچپن میں اکثرمیرے کانوں کی سماعت سے ٹکراتے رہے۔لیکن یہ اس وقت ہی ہوتاتھا۔یہ اکثراس وقت کہے جاتے جب بچپن میں راولپنڈی سے ہمارے قریبی رشتہ رہنے کے لئے لاہورآتے یاپھرکبھی کبھارگھرمیں بات چیت ہوتی تویہ الفاظ دوبارہ سننے کوملتے۔
جوں جوں بڑے ہوتے گئے اسلام آبادراولپنڈی آناجاناہواتوان الفاظ کی حقیقت بھی کھل کرسامنے آتی رہی کہ ہمارے بڑے سچ ہی کہ گئےہیں ۔
بچپن میں جب ہمارے ہاں راولپنڈی سے رشتہ داربطورمہمان آتے توان سے عجیب خوف محسوس ہوتاتھاکہ یہ پتہ نہیں کوئی عجیب سی مخلوق ہیں ۔ہمارے گھرکے بچے ان اکثر بڑوں سے توخصوصی طورپرکنی کترایاکرتے تھے۔وہ اکثرہمارے رہن سہن بول چال میں مین میخ نکالاکرتے تھے!
آج اسلام آبادکی خنک اوربھیگی رات میں نیندکی دیوی آنکھوں سے کہیں بہت دورتھی!شایدیہ رات کوچائے پینے کااثرات تھے یاپھرسخت سردی کابھی کمال تھا!!سوچ رہاتھاکیاکروں توجھٹ سے بچپن سے جڑے ان واقعات پرلکھنے کاخیال آیاتوفوراکمبل میں لیپ ٹاپ لیکربیٹھ گیااوریوں رات کی تنہائی میں ایک سے ایک واقعہ تواترسے دماغ کے نہاں خانوں سے ابلنے لگا۔یوں محسوس ہوتاتھاکہ یہ آرٹیکل ایک قرض ہے جس کوکسی دن ضروراُتارناہے۔اوریوں آج ذہن دل اوربوجھ کوقلم وقرطاس کے صفحات کومنتقل کیا۔اس آرٹیکل کولکھنے کی ایک خاص وجہ ڈی ایچ اے فیز۲میں آیاایک چھوٹاساواقعہ بھی تھاجب میرے بھتیجے کی سوزوکی مارگلہ گاڑی کوسیکیورٹی گارڈنے اندرجانے سے روک دیاکیونکہ بڑی ہنڈاگاڑی دستیاب نہ تھی!جبکہ میری بھابھی نے گیگامال میں شاپنگ کرناتھی!خیراس نے بحث وتمحیص کے بعد بھی جانے نہ دیاتومجبورابھتیجے نے اپنے دوست کے ماموں کوفون کیاجوکہ مقامی تھانے میں ایس ایچ اوتھاتب جاکراس نے اندرجانے دیا۔
میں سوچنے لگاکہ اسلام آبادمیں میں امیرغریب کی طرح چھوٹی بڑی گاڑیوں کے فرق کوملحوظ خاطررکھاجاتاہے۔ا وران کی اوقات کااندازہ لباس ،گاڑی کی حالت سے لگایاجاتاہے۔لیکن اگلے دن جب ہنڈاکی بڑی گاڑی میں دوبارہ وہیں داخل ہوئے توسیکیورٹی گارڈ والوں نے مطلق نہ روکا۔گاڑی میں اورگھرآکراس واقعہ پرہم سب کافی دیرتک ہنستے رہے!واقعی دنیامیں مادیت پسندی کی ہی قدرکی جاتی ہے۔
میں نے اپنے بھتیجے جوآئی ٹی کاطالب علم ہونے کے علاوہ نفسیات کے مضمون میں گہری دلچسپی بھی رکھتاہے ۔میں نےاس واقعہ کے حوالے سے مذیدکُریداتواس نے بتایاہاں چاچُویہاں ایساہی ہوتاہے ۔میں اپنے بھتیجے کولاہوربچہ کہتاہوں، اس کے اندرلاہوریوں کی طرح کُھلاپن اورفیصل آبادیوں کی طرح بذلہ سنجی پائی جاتی ہے۔
میں گھروالوں سے بات کررہاتھاکہ اسلام آبادوالے اکثرخُشک مزاج ہوتےہیں ان کااپناہی مزاج اوررویہ ہوتاہے تومیرے بھتیجے نے میرے اس تصوراورسوچ کی تائیدکی اورکہاکہ ہاں شہرتواچھاہے لیکن لوگ فارغ ہیں ۔تومجھے ان الفاظ پربہت حیرانی ہوئ۔ ۔میرے لئے یہ بات بھی حیران کن بات تھی کہ وہ یہاں کارہائشی ہوکراسلام آباد میں رہنے والوں کی طرح کی عادات کامالک نہیں۔ویسے بھی ہنسنے کھیلنے والےلوگ اکثرذہین ہی ہُواکرتےہیں۔
چونکہ راولپنڈی اسلام آبادکواکثرجڑواں شہروں کاخطاب دیاجاتاہے۔تولامحالہ طورپر یہاں پررہنے والوں کی نفسیات بھی کافی حدتک مماثلت ہوسکتی ہے ۔اس بات کافیصلہ توماہرنفسیات ہی کرسکتے ہیں۔جس پرمذیدتحقیق ہوسکتی ہے۔
غنیمت اورنعمت ہیں کہ میرے لاہورکے بھائی ایسے نہیں کیوں وہ لاہورکے ماحول میں پل بڑھ کرگئے ہیں !۔راقم الحروف کے بھائی جو۲۱ویں گریڈ کے افسرہیں ۔اورتین دہائیوں سے اسلام آبادکے رہائشی اورمکین بن کرباسی ہیں ۔وہ اسلام کے باسیوں کے باسیوں کی نفسیات سے خوب واقف ہیں۔کبھی کبھارہم دونوں بھائی ایک دوسرے کوتمیزکے دائرے میں جگتیں کرجاتے ہیں۔میرےبھائی اپنے رویوں سے اب بھی اندرباہرسے پکے لاہوری ہیں۔لاہوریوں کی اکثریت اپنی کھلی ڈُلی طبیعیت کے باعث دوسروں سےجلدگھل مل جاتےہیں۔
مجھے اکثر اسلام آبباد کے اکثرلوگوں کے متعلق یہ گُمان رہتا تھا کہ یہ لوگ کب ہنستے ہوں گے،اورانھوں نے آخری بار کب بھرپورقہقہ لگایاہوگا۔کیایہ قہقہ لگانے تونہیں بھول گئے۔ایک دفعہ ایک ناشتے میں چنے بیچنے والے سے اسلام آبادکے لوگوں کے متعلق پوچھا یہ کس طرح کے لوگ ہیں تواس نے کہاکہ یہ بس ایسے ہی ہیں!
اسلام آباداعدادوشماراورتاریخ کے آئینے میں
ایک روایت کےمطابق سکندراعظم اسلام آباد کے ڈی سیکٹر۱۲ سے گزرکرگیاہے۔
|
Total Area |
906.50 sq. km |
|
Islamabad Urban Area |
220.15 sq. km |
|
Islamabad Rural Area |
466.20 sq. km |
کچھ اعدادوشماروحقائق
آبادی کےلحاظ سےہرصوبے شہرکےافرادپائےجاتےہیں
شہراقتدارمیں فارن آفیسروعملہ دفاترورہائش پذیرافراد
فارن مشن ،ایمبسی اورسفارت عملہ وسفارت کار
بڑے شہروں کی سکلڈلیبرورک فورس اورکاروباری طبقہ
سیاحتی اورسرسبزشہر
پاکستان کانوویں نمبرپرآبادی کے لحاظ سےشہر
فیصل مسجددنیاکی پانچویں بڑی مسجد
پاکستان کامہنگاترین شہر
شرح خواندگی 98%
اسلام آباد میں بولی جانے والی زبانیں
(52.23%) پنجابی
(18.50%) پشتو
(12.23%) اردو
(6.40%) ہندکو
(10.64%)دیگرومتفرق
نمایاں خصوصیات اسلام آبادافراداورشہرکی نمایاں خصوصیات
یہاں اگرگُھومیں پھریں تواندازہ ہی نہیں ہوتاکہ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔پوش علاقوں میں موجود بڑے بڑے شاپنگ مالزاورسُپرسٹور،ہوٹلز،پرتعش طرزذندگی اورلگژری لائف سٹائل،جیدماڈل کی مہنگی مہنگی گاڑیاں ،دوتا۸کنال پرمحیط بنگلے کوٹھیاں،لمبی چم چم کرتی گاڑیاں،ہیروں کی انگوٹھی پہنے،خوشبوکے جھونکے اڑاتے،بہترین مہنگے بیش قیمت لباس سے مزین مردوزن ،اورپھران کے ہاں لاکھوں کے ڈنرلنچ اورپارٹیاں اوران میں رکھے کھانوں کی تعداد،کون کہ سکتاہے کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔آج جس کے پاس دوچارپیسے آجائیں تووہ اسلام آبادبھاگتاہے یاپھرلاہور
جو کہ اس جوکہ اس شہرکے اجتماعی مزاج کاپتہ دیتی ہیں!
اکثرسوچتاہوں کہ یہاں کے رہنے والے اصل لوگ کون سے ہیں
یہاں اکثرسنجیدہ اورکم گو،کم آمیزافرادپائے جاتےہیں
ان لوگوں کی باتوں میں ایک طنزاورکاٹ داررویہ پایاجاتاہے۔
یہاں گاڑی اورموٹرسائیکل کے بغیرذندگی کاتصورمحال ہے۔
میں اکثراسے احساس کمتری کے مارے لوگوں کاشہرکہتاہوں
یہ ذہین اورقابل لوگوں کاشہرہے
یہاں تقریبا۸۰تا۹۰فیصدپڑھےلکھے لوگ پائے جاتے ہیں
ایک پنجابی کہاوت کے مصداق اٹ پُٹوتے سرکاری افسرملے گا(یعنی ہردوسراتیسرے گھرمیں کوئی نہ کوئی افسرہی ملے گا)
کم آمیزی ،سنجیدگی ،سردمہری ان افرادکاطرہ امتیازہے
اس شہرکاطُرہ امتیازہے 'اقتدار اور طاقت '
افسران میں ایک خاص قسم کی رعونت پائی جاتی ہے
اکثراسلام آبادکوشہربےوفابھی کہاجاتاہے
یہاں اکثر۹ٹوفائیوذندگی چلتی ہے
کم آمیزی ،سنجیدگی،اورسردمہری ان افرادکاطُرہ امتیازہے
کہاجاتاہے کہ اسلام آباد جیسے بے وفا اور منافق شہر میں سچے کھرے اور خوبصورت دوست قسمت والوں کو ملتے ہیں
اس شہرم سندھ پنجاب بلوچستان اورکی پی کے اور آذادکشمیر کے ہرعلاقے شہر دیہاتوں سے آئےمختلف خیالات روایات سوچ کے الفاظ ایک دوسرے پراپنانقش چھوڑکرجاتےہیں!
یہاں ہرروزایک لفظ جوگونجتاہے وہ پوسٹنگ
یہ گریڈوں اورعہدوں کاماراشہرہے
ہمارے ہاں پنجابی میں کہاجاتاہے کہ اٹ پُٹوتے افسر(یعنی ہرانچ فٹ کے فاصلے پرکوئی نہ اس کی تشریح ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے!کوئی نہ کوئی افسراورامیرشخص پایاجاتاہے۔
یہ لوگ دوسروں کوان کے لباس ،گاڑی گریڈکام سے جانچ کرعزت دیتے ہیں۔
اسلام آباد برانڈ،کلاس سٹیٹس کے ماروں کاشہرہے یوں مادیت پسندکی بُوآتی ہے
ہمسائے اکثرسنڈے کے سنڈے ملاقات کرتے دکھائی دیتے ہیں یاجب کوئی گھرکادروازہ کھول کراندرداخل ہورہے ہوں۔
یہاں ذاتی سواری موٹرسائیکل،گاڑی کے بغیرذندگی کاتصورمحال ہے
راولپنڈی اوراسلام آبادکے پڑھے لکھے اکثرافراداپنی گفتگومیں اپنی اہمیت کااحساس کسی امیرشخص یاعہدہ دارسے تعلق جتاتے ہوئے اظہارکرتے ہیں ۔پہلے نام عہدہ دارکانام بتاتے ہیں پھربات چیت کرتے ہیں۔یہ عمومی نفسیات اکثرپائی جاتی ہے۔
میرے بھتیجے نے بتایاکہ اگرکسی کویہ کہ دیں کہ آئیں تھوڑی دیرپیدل چلتے ہیں سامنے ہی تومارکیٹ ہے تووہ کچھ اپنی ہتک سی محسوس کرتےہیں
دن کاوقت اوراداس شہر
مرحوم طارق عزیز(نیلام گھرفیم) ساہیوال شہرکواُداس لوگوں کوشہرکہاکرتےتھے لیکن اصل اداسی تواس شہرمیں دکھائی دیتی ہے ۔لیکن پچھلے ۱۰،۱۲سالوں سے نائٹ لائف کاآغازہوچکاہے۔لوگوں کی اکثریت اب رات گئے باہربھی انجوائے کرتے ہیں ۔چندسالوں پہلے ۱۲بجے تک چھوٹی بڑی دکانیں ،مرکزبندہوجاتے تھے!
جب دن کے وقت اس شہرکے کئی علاقوں کادورہ کیاتومحسوس ہواکہ دن کے وقت بھی کئی جگہو ں سڑکوں اورسیکٹرزمیں عجیب سی اداسی اوربے رونقی سی محسوس ہوئ ۔بعض اوقات تواس شہرپرشہرخموشاں کااحساس ہوا۔
رات کوجب بھی چکرلگایاتوہمیشہ گرمی سردمیں ہُوکاعالم ہوتاہےاس کی وجہ ان افرادکاصبح کوبچوں کاصبح کوسکول کالج جانا بھی ہے۔بعض جگہوں اوراکثرعلاقوں میں عجیب سی بے رونقی اداسی پائی جاتی ہے توگھروں کاکیاحال ہوگا۔ دن کی روشنی میں اوراوقات میں جب بھی کچھ سیکٹرزکی بات کی جائے توان علاقوں میں ایک عجیب طرح کی ویرانی اوربے رونقی سی پائ جاتی ہے مجھ جیسے کم فہم انسان کوہمیشہ ایک ہی خدشہ رہتاہے کہ یہ لوگ آخرکب خوش ہوتے ہوں گے۔ راقم کواس شہراورلوگوں میں عجیب سی نرگسیت اوراداسی سی محسوس ہوتی ہے۔ پتہ نہیں کیوں اس شہر کی فضامیں ایک عجیب طرح کی اداسی اورخاموشی اورخودغرضی پائی جاتی ہے۔ اس شہرمیں بڑے بڑے گھروں کودیکھ کرعجیب سااحساس ہوتاہے کہ شاید ان گھروں میں بھی اداسی پائی جاتی ہو ۔یہ میراحمقانہ خیال اوروااہمہ ہوی ہوسکتاہے۔لیکن کیاکریں کہ دل ودماغ کوبعض اوقات فضول سوچ سوچنے سے توروکانہیں جاسکتا۔
شایداکثربڑے بڑے گھروں غریبوں کاخُون چوس کربنائے گئے ہوں یاپھرکرپشن کرکےان کی تعمیرکی گئی ہو!
ہم میں سے اکثرکامشاہدہ ہوگاکہ بعض اوقات بڑے بڑے گھروں میں محض چارپانچ افرادہی رہتے ہیں اوران کی بھی آپس میں نہیں بنتی ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ پیسہ بھی انسان کوسچی خوشی عطانہیں کرپاتاہے۔چھوٹے گھروں میں افرادکی کثیرتعدادلیکن پھربھی خوش رہتے ہیں۔جبکہ امیروں کے بڑے بڑے گھروں میں محض چندافرادہی پائے جاتےہیں ۔ ان میں سے کافی افرادپیسہ کمانے اورمعیارذندگی بلند کرنے کے لئے باہرکے ممالک کمانے کے لئے گئے ہوئے ہیں ۔اداسی کی ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے۔کُھلے کُھلے بڑے بڑے گھرکمروں میں شاید چھوٹے دل کے افردکی ذیادہ پائی جاتی ہے۔اللہ کاعجیب سانظام اورقدرت دیکھنے کوملتی ہے
یہ طے کرنا بظاہر بہت مشکل ہو گیا ہے کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے یا امیر ملک، پاکستان کے پوش علاقوں سے گزرتے ہوئے دو، چار اور آٹھ کنالوں کی کوٹھیوں، لمبی چمچماتی اونچی بڑی گاڑیوں، سوٹڈ بوٹڈ جینٹس اور ہیروں، خوشبوﺅں، بیش قیمت ملبوسات سے مزین خواتین اور ہر ہفتہ دو ہفتہ بعد غیرملکی دوروں کا شوق، لاکھوں کی پارٹیاں ڈنر لنچ دیکھ کر کون کافر کہہ سکتا ہے کہ پاکستان غریب ملک ہے۔ پاکستان میں آج بھی چند لاکھ افراد ایسے ہیں جو ارب پتی ہیں۔ کچھ کروڑ خیر سے سے کروڑ پتی ہیں اور کئی کئی کروڑ لکھ پتی ہیں۔بڑے بڑےپلازے اورمکانات اورپوش علاقہ جات
جغرافیائی خصوصیات
ہرملک شہربراعظم قصبہ دیہات کے افرادکی نفسیات ذرامختلف ہوتی ہے۔لیکن ایک شہرملک میں جب مختلف الخیال افراد قوموں کے افرادجب مل جل کررہتے ہیں توشہروں اورملکوں کی اپنی بھی حیثیت اورجغرافیہ سوچ نفسیات بدل جاتی ہے اوریکسربدل کررہ جاتی ہے۔یہی حال اسلام آبادکابھی ہے۔
ایچ ایٹ قبرستان کادورہ اورعجیب وغریب نتائج حقائق
جب میں اسلام آباد میں رہنے کے لئے گیاتومیں دودن ایچ ایٹ کے قبرستان میں شروع سے لیکراخیرتک ایک ایک قبرکامشاہد ہ کیا۔یہ اسلام آبادکاسب سے بڑاقبرستان ہے۔دوران مشاہدہ انداز ہواکہ تمام قبریں ایک ترتیب اورنظم وضبط سے قطاردرقطاربنی ہوئی ہیں اورہرکسی کوقبرنمبرالاٹ کیاگیاہے۔اس قبرستان میں میں قبروں سےبھی ذات پات ،عہدے اورامارت کاپتہ چلتاہے۔کافی قبروں کے کتبوں پرذات پات،کمپنی،عہدے ،علاقے بھی درج تھے
۔کچھ قبروں کوقیمتی پتھروں سےمزین کیاگیاہے۔توکچھ مٹی کی بنی ہوئی اورکچی بھی۔ مرکے بھی عہدوں،ذات پات قوم کی تفریق کی بُوختم نہیں ہتی ہے۔ ان شہروں کے افرادکی نفسیات ایک جیسی رہتی ہے
!لیکن ایک قدر سب میں ہےمشترک سب ایک ساتھ زمین کے اندرمدفون!چاہے وہ غریب ہیں یاامیر۔قبروں کے کتبے توکم ازکم اس بات کی گواہی دیتےہیں!ا
انسان مرکے ذندہ رہنے دنیامیں زندہ تاریخ میں ذندہ رہنے کی تمناکرتاہے اوران کے تمناکااظہاران کے کتبوں میں نظرآتی ہے قبروں کے،جب دودن ایک ایک قبرپرجاکرتحقیق کی تومعلوم ہواکہ عہدے اورامارت بنی پختہ قبروں سے جھلکتی ہے
یہاں ہرعلاقوں سے آکرمختلف صوبوں ،شہروں قصبوں دییہاتوں سے آئے افرادآئے افراد جگہ بستے ہیں
جوگریڈایک سے لیکر۲۲ویں تک کے ہوتےہیں۔عیداورتہواروں کے دنوں میں یہ شہرخالی خالی ساہوتاہے کیونکہ اکثراپنے آبای گھروں کوچلے جاتے ہیں۔
بہرحال یہ ایک علیحدہ سے بحث ہے جوکہ ماہرنفسیات کاشعبہ ہے۔
معاشرے میں بے حسی کے چند مختصرواقعات
یہ پندرہ دسمبر۲۰۲۲کی بات ہےکہ میں گھروالوں کے ساتھ اسلام آباد گیگامال گیا۔گھرکی خواتین نے اپنے لباس وغیرہ کی شاپنگ کرناتھی ۔میں دکان سےباہردکان اوراردگردکاجائزہ رہاتھا۔دکان کے اندرخواتین کاہجوم تھا۔ شاپنگ کرتی خاتون ساتھ میں کھڑی لڑکی سے ٹکرائ ،بس خاتون کا لڑکی کےکندھے سے ہلکاساٹچ ہی ہواتھا۔تواس لڑکی نے اس خاتون کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھااوراپنے چہرے پرعجیب سے ناگوارتاثرات ظاہرکئے جیساکوئ اسے بھاری پتھرلگاہوو،مجھے اس موقع ایک جاپانی کی ویڈیوکامنظریادآگیاکہ وہ ٹکڑانے پرایک دوسرےمعذرت کرنے لگے تھے ۔مقام شکرہے اسلام نمازمیں کندھے سے کندھاملاکرحکم دیتاہے تاکہ بھائی چارہ قائم ہواوردلوں کے اندرمحبت پیداہو اورکدورت نکلے ۔ یہاں اسلام آبادمیں ایک لڑکی کے دل سےاسلام کوغائب ہوتے دیکھا!میرے ذہن پرآج بھی اس لڑکی کے چہرے پرعجیب سے ناگواراحساسات کی نقش ہے!
میں اکثرسوچتاہوں کہ ہائی فائی کلاس رہائشی سوسائیٹی اورامیرعلاقوں میں رہنے والے اکثرافرادکی سوچ ایک جیسی ہوتی ہے۔یہاں بے حسی عروج پرہوتی ہے۔
مجھے یادہے کہ ایک دفعہ ماڈل ٹاون لاہورمیں ایک دفعہ جنازہ جارہاتھا جس کو۴افراداٹھائے ہوئے جارہے تھے۔چہرے مُہرےسے دکھ رہاتھاکہ دوافرادشکل سے نوکرلگ رہے تھے۔ کئی سال پہلے کا یہ واقعہ دل وماغ میں کچھ ایسے نقش ہے کہ بھلائے نہیں بھولتا!
اسلام آباد سے ہے منسلک ایک سچاشائع شدہ واقعہ ہے کہ ایک خاتون نے مولوی صاحب کوبُلالیاکہ ہمارے گھرمیں موت ہوگئی ہے اس کونہلادہلاکردفن کردیاجائے!جب وہ مولوی وہاں پہنچاتومعلوم ہواکہ ایک نوکروں کے کوارٹرمیں ایک ضعیف شخص آخری دم پرتھا۔معلوم ہواکہ جس عورت نے فو ن کرکے مولوی کوبلایاتھاوہ عورت اسکی بیوی تھی اوراسکے گھرمیں تیزمیوزک چل رہاتھا اورلوگ ،بچے دوست ہنسی مذاق کررہے تھےاورہنسی مذاق خوش گپیوں کھانے پینے میں محوتھے۔اس سے بڑھ کراوربےحسی کیاہوگی! شایداسی طرح کی بے حسی اوررویوں کے باعث مغرب کی طرح ہمارے ہاں اولڈپیپل ہومزاوران میں رہنے والے مکینوں کی تعدادبھی دن بدن بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اس بےحسی کےعلاوہ مادیت پسندی اورجدیدیت کی وجہ سے اسلام آبا دمیں نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہ شہر آبادی کےحوال اسکی تعدادسےآہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ایک وقت تھاکہ یہاں پرآکررہنے والے سرکاری ملازمین کوخصوصی الاونس بھی دیاجاتاتھاتاکہ وہ یہاں آکررہنے کے لئے تیارہوجائیں۔
نفسیاتی کیسزاوراسلام آباد
ایک اخباری خبرکے مطابق اسلام آباد میں امراءکی ایک اچھی خاصی تعدادمغربی اورامریکن کی طرح ماہرنفسیات سے رجوع کرناشروع ہوگئی ہے۔اچھے ماہرنفسیات سے وقت حاصل کرنے کے لئے بعض اوقات دنوں ہفتوں نہیں مہینوں انتظارکرپڑتاہے۔پاکستان میں ویسےبھی پانچ لاکھ افرادکےلئے ایک ماہرنفسیات کی سہولت میسرہے
برطانوی طبی جریدہ لین سیٹ ۲۰۱۷میں شائع ہوئے ایک آرٹیکل مطابق ایک اندازہ لگایاگیاکہ میں پاکستان میں کُل آبادی میں سے ۲کروڑافرادکسی نہ کسی نفسیاتی امراض کاشکارہے ہیں ۔اس تعداکابڑاحصہ نوجوان اورٹین ایجرپرمشتمل ہے جن کی عمریں۱۳تا۳۰سال تک ہیں۔بی بی سی ہی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آبادکی ماہرنفسیات ڈاکٹرثمرہ کاکہناہے کہ ان کے پاس نفسیاتی علاج کے لئے کم عمراورنوجوان آتے ہیں جن کی شرح ۷۰فیصدسے ذائدہے۔جبکہ جدیدطرزذندگی بھی نفسیاتی امراض کی ایک ممکنہ وجہ ہے
لیکن دُنیاکااپنادستورہے جبکہ راقم ۲۱ویں صدی میں آج ابھی قدامت پسند رویوں کاشائق رہاہے اورانسانیت اوراپنائیت کو ترجیح دیتاہے ۔لیکن مادیت پسندسے بھرپوردنیابہت تیزہے۔انسان اپنےمطلب کے لئے خودغرض ہے
اس کی بنیادبچپن سے ہی پڑتی ہے۔راقم چونکہ تعلیم وتربیت سے بھی کچھ شغف رکھتاہے لہذایہ محسوس ہوتاہے کہ کافی افرادکوشروع دن سے اخلاقی اقدارانسانیت کی تربیت فراہم نہیں کی جاتی ہے جس سے معاشرہ میں بےحسی کے واقعات عروج پرہوناشروع ہوجاتےہیں ۔
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملوگے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
یہاں کے افرادشاعرمشرق کی نظم موٹرکےمصداق نظرآتے ہیں۔
اخیر
اندرسے خالی اوردوگززمین لیکن انسان آخرصرف دوگز زمین اورخالی ہاتھ وہاں کاعُہدہ متقی پرہیزگارنامہ اعمال اخالق حسن ہمدری پیارہی ہے
اختلاف :ذاتی رائے کااختلاف کاحق موجودہے
ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم
چراغ بھی نہ جلائے چراغ سے کوئی
No comments:
Post a Comment