Wednesday, 7 December 2022

والدین اوراساتذہ بچوں کو ۵ لازمی مہارتیں سکھائیں ؟

 

بسلسلہ تعلیم وتربیت


والدین اوراساتذہ بچوں کو ۵ لازمی مہارتیں سکھائیں ؟

 

تحریر:مجاہدعلی

meritehreer786@gmail.com

+ 92 333 45 76072

 

بچے کائنات کی خوبصورت تخلیق ہیں ۔ بچے جوں جوں بڑے ہوتے جاتے ہیں ان کے عقل وشعورکی منزلیں طے کرتے جاتے ہیں !لیکن چونکہ عمرہرعمرکے اپنے تقاضے ہوتے ہیں !بچوں نے چونکہ اسی معاشرے میں رہناہوتاہے وہ اپنے اردگراپنے ماں باپ بہن بھائیوں رشتہ دارمحلہ داراورمعاشرے کے افرادسے میل جول اوررابطہ رکھتاہے ! اس کے لئے اسے بات چیت کی ضرورت ہوتی ہے اوراسی طرح دوسرے معاملات بھی دیکھناہوتے ہیں !بچوں کوچونکہ کچی عمرمیں اتناتجربہ نہیں ہوتا کہ

اس عمرمیں ان میں کچھ صلاحیتوں کے حوالے سے کچھ خامیاں ہوتی ہیں یہ والدین اوراساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کودرج ذیل صلاحیتوں اورمہارتوں کے حوالے سے تربیت کی جائے!تاکہ وہ معاشرے میں رہ کراچھی طرح ذندگی گزارسکیں اوردھوکہ نہ کھاسکیں تاکہ زمانے کے ساتھ ساتھ چل سکیں !

عمومی طورپردیکھاگیا ہے بچوں میں درج ذیل مہارتوں یاخصوصیات کی کمی ہوتی ہے جن کوسکھلانا واقعی ضروری ہے!

 

مثبت سوچ اوررویہ اخلاقی برتاو

 

بچوں میں اس مثبت سوچ کوپروان چڑھائیں !منفی سوچ نہ صرف بُرائی کی طرف لے جاتی ہے اس سے بچوں ذہنی پستی کابھی شکارہوجاتے ہیں !مثبت سوچ سے بچوں میں مسائل کوحل کرنے میں مددملتی ہے اگرذہن میں منفی سوچ چل رہی ہوگی تونتیجتا اسکاردعمل برے رویے کی صورت میں نکلتاہے۔اس لئے والدین واساتذہ کوچاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے اندرمثبت سوچ کے حوالے سے تربیت فرمائیں اس سے فائدہ یہ ہوگاکہ بچوں کے رویوں میں بھی نرمی اورشائستگی آجائے گی

 

خوداعتمادی اورخودانحصاری

 

بچوں کے اندرایک چیزدیکھی گئی ہے کہ وہ یہ کہ ان کے اندرخوداعتمادی کی بھی کمی ہوتی ہے!عمومی طورپردیکھاگیاہے کہ جن گھروں میں گھٹن کاماحول ہوتاہے ان بچوں کی شخصیت عمومی طوردبی دبی سی ہوتی ہے!وہ جوکرناچاہتے ہیں انھیں اسکے کرنے میں کچھ جھجھک اورتذبذب ہوتاہے !وہ اگرکسی کے سامنے بھی جاتے ہیں یابات چیت کاموقع ملتاہے توشرمائے گھبرائے سے رہتے ہیں !وہ اگرکچھ نیاتجربہ کرتے ہیں یاکام کرتے ہیں تواس میں کبھی  کبھارناکامی ہوجاتی ہے تودوسرے لوگ ان کی حوصلہ افزائ کی بجائے ناامیدی کادرس دیتے ہیں جس سے ان کاحوصلہ پست ہوجاتاہے

لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ بچوں کی اکثریت کے ساتھ ایساہی ہوتاہے

اس لئے ان کوتربیت دی جائے کہ ذندگی میں غلطیاں توہوتی ہیں ناکامی کاسامناہوسکتاہے اس صورت وہ گبھرائیں نہ بللہ دوبارہ سے کمرکس کے ہمت وحوصلہ کریں !والدین اوراساتذہ کی تھوڑی سی حوصلہ افزائی سے بچے اپنی اس کمی پرقابو پاسکتے ہیں

 

انسانیت کی فلاح بہبود

 

اس دنیامیں انسان کامقصدیہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے کام آئے خدمت خلق کاکام کرے !بچوں کی وبہت سارے معاملات میں ترب اس حوالے سے تربیت کی بھی ضروت ہوتی ہے مثلابچہ کواپنے ہاتھ سے غریبوں کوپیسہ دلوانے کی عادت ڈالنا !کسی غریب کوکھانا کھلانا ہوتووہ کیسے غریب کی مددکریں !معاشرے کے کمترافرادکے ساتھ کیسارویہ رکھناہے !اگرکوئی بوڑھاشخص ہے تواسکی کیسے مددکرناہے !غریب نادارکی فلاح وبہبودکے لئے اورکیاکچھ کیاجاسکتاہے اس ضمن میں انسانیت کی فلاح وبہبودکے کئی زرائع اورجہتیں ہیں جن کوسکھانے کی ضرورت ہے !اس طرزعمل سے ان کے اندرمعاشرے کے پسے ہوئے طبقے کے لئے احساس اورہمدری پیداہوگی !اوریہی فلاح انسانیت ہے اسی سے معاشرے چلتے ہیں

 

وقت کاصحیح استعمال

 

بچوں کووقت کامثبت اوردرست استعمال کے حوالے تربیت دیناوقت کی اولین ضرورت ہے !آج کل کے بچوں میں کھیل کودکی بجائے سوشل میڈیاکابے جا اورغیرضروری  استعمال بہت بڑھتاجارہاہے وہ گانوں فلموں ٹک ٹاک کلچرمیں محوہوجاتے ہیں اوریوں اپنی ذندگی کاقیمتی ضائع کررہے ہیں اسکے اثرات ان کے تعلیم اورمستقبل پرپڑتے ہیں !بچوں کواس حوالے سے والدین اوراساتذہ وقت کی اہمیت کے بارے میں بتائیں کہ اللہ نے ہمیں فضول کاموں کے لئے نہیں پیداکیا۔ بچوں کوان کی ذندگی  اورمْقصد کی اہمیت کے متعلق بتایاجائے !اورعملی مثالوں سے اس کوواضح بھی کیاجائے!

 

معاشی سمجھ بوجھ اورپیسوں کادرست استعمال

 

عصرحاضر میں انسانی خواہشات اتنی بے لگام ہوچکی ہیں کہ بلکہ بچوں سمعیت ہرکوئی یہ چاہتاہے کہ اس کے دنیاکی ہرآسائش اورسہولت موجودہوجوکہ پیسوں کے بغیرممکن نہیں!جن کے پاس کچھ دوچارپیسے ہوں تووہ فضول خرچی بھی کرتے ہیں !بچے بھی ہرچیزکی خواہش کرتے ہیں !بچوں کے اندراس بات کااحساس دلایاجائے کہ حلال کمائی کس طرح کمائی جاتی ہے محنت کے پیسوں کویوں فضول چیزوں میں ضائع کرنامناسب نہیں !بچوں کی تربیت دی جانی چاہئے کہ پیسوں کاانتہائی ضروری استعمال کہاں سوچ سمجھ کرناہے!خون پسینے کی کمائی کوحرام اورفضول کاموں میں خرچ کرناگناہ ہے !اگروالدین اوراساتذہ بچوں کی تربیت اس نہج پرکریں گے توبچوں میں پیسوں کامثبت استعمال کرنے کی عادت پروان چڑھے گی اوریوں وہ پیسوں کوضروری اورمفیدکاموں میں لگاسکیں گے !بلکہ بہترین صورت تویہ ہے کہ ان کوچھوٹے اورمنافع بخش کاروبارکی طرف راغب کیاجائے !

اللہ تعالیٰ ہم سب کوعقل وفہم سے لینے کی صلاحیت عطافرمائے!

 

25 August(Tuesday) ,2020 :06:24pm

###

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...