روشن روشن اجلے اجلے لوگ
دیدہ وبینامخلوق
تحریر:مجاہدعلی
mujahidali125@yahoo.com,0333 457 6072
۱۵ اکتوبر ۲۰۲۲کی بات ہے، میں انٹرنیٹ پر آنکھ اوربصارت کے حوالہ سے معلومات اور تحقیق اکٹھی کررہاتھا تواچانک لیپ ٹاپ کی سکرین پرسفیدچھڑی کے حوالے سےعالمی دن کی ٹیگ لائن نمودارہوئ ۔جبکہ کل رات کوٹیلی ویژن پرایک بصارت سے محروم افراد پروگرام دیکھا۔میری توجہ تحقیق سے ہٹی توفوراذہن میں اس حوالے سےیادوں کے دریچے کھلنے لگے۔ مجھے پنجاب ویلفئیرانسٹی ٹرسٹ برائے معذور کےساتھ کئی دنوں پر محیط تحقیق کے دوران مختلف این جی اوکے ساتھ کام کرنے کاموقع ملا۔جس سے اس نظرانداز طبقہ کی صلاحیتوں ،کام ،فن اورمہارتوں کوجاننے کاقریب سے موقع ملا۔
معاشرہ میں ان افرادکےحوالے سے حقوق متعین شدہ ہیں ۔ ذہن کے نہاں خانوں سے تحقیق کےکچھ تجربات اوراحساسات قارئین کے لئے شئیرکررہاہوں۔
نابیناحضرات میں سے ذیادہ تر افراد پیدائشی طورپرآنکھوں کے مسائل سے دوچارہوتے ہیں ۔جبکہ کچھ حادثاتی طورپرآنکھوں کے حوالہ سے نابیناپن کاشکارہوئے۔ایک غیرسرکاری اعدادوشمارکے مطابق ان کی تعداد۲۰ لاکھ سے ذائد ہے جس میں بچے بوڑھے جوان مردوزن سبھی شامل ہیں ۔
یہ افرادبھی معاشرے کااہم حصہ ہیں اوران کی اہمیت اوران کے حوالے سے شعورکواُجاگرکرنے کے حوالے سے ہرسال۱۵اکتوبرکونابیناحضرات کے حوالے سے سفیدچھڑی کاعالمی دن منایاجاتاہے۔
معاشرے کے ان افرادکے متعلق یہ خیال کیاجاتاہے کہ یہ اپنےگھروالوں اور دھرتی پرشاید بوجھ ہیں۔جب کہ تحقیق کے دوران اندازہ ہواکہ اس طرح کا تاثرکچھ مناسب نہیں ۔ کچھ ناعاقبت اندیش لوگ طنز یامذاق کے طوپر ان کے لئےاندھے کالفظ استعمال کرتےہیں جوکہ انتہائ نامناسب بات ہے ، بلکہ ان کےلئے ہمیشہ اچھے الفاظ کاچناوکریں ۔جیساکہ خصوصی فردیانابیناتاکہ ان کے دلوں پرچوٹ کااحساس نہ ہو۔
ایک چیزیہ بھی جاننے کوملی تھی یہ افرادبہت ذبردست اشیاء یاپراڈکٹ تیارکرتے تھے اورلوگ ان کی یہ چیزیں خریدتے تھے!بہرحال اصل چیزیہ تھی کہ ان کے دماغ اورصلاحیتوں کوبروئے کارلایاجاتاتھا۔پاکستان میں سماعت سے محروم شخص نے اکیلے تن تنہا۲۷۰ کتب بھی تحریرکررکھی ہیں۔
پوری دنیامیں اندھے پن پرتحقیقات ہوتی رہتی ہیں اوران کے ساتھ ساتھ ان کے لئے مفیدٹیکنالوجی بھی متعارف ہوتی رہتی ہیں۔سائینسدانوں کوکامیابیاں بھی مل رہی ہیں، تاکہ ان کی ذندگی میں بھی آسانیاں لائی جاسکیں تاکہ وہ ذندگی کے دھارےمیں شامل ہوکرگھراورمعاشرےکاایک مفیدرُکن بن سکیں!
نابیناحضرات کن کاموں،شعبہ جات میں کام کررہے ہیں
ذہنی طورپرمعذوراوربصارت سے محروم کئی شعبہ جات میں کام کررہے تھے۔کچھ نجی اداروں اورکچھ اپنے کوٹہ سسٹم کے تحت سرکاری اداروں میں جاب کررہے تھے!
اداروں میں ان کےکام کودیکھ کرحیران گیاتھا،کئی جگہ تویہ محسوس ہواکہ یہ ہم جیسے عام افرادسے کئی گُناآگے ہیں بلکہ یہ خیال ہواکہ عام نارمل انسان نابینا افردکے مقابلہ میں کچھ ذیادہ ذہنی معذورہیں۔پاکستان میں اگردیکھاجائے تونابنیاافرادنے ۲دفعہ کرکٹ ورلڈ کپ جیت کرپاکستان کانام روشن کیا!
یہ عام انسانوں کی بنسبت ذیادہ تعلیم یافتہ بھی ہیں کچھ نے ماسٹرتوکوئ ایم فل اورچندایک نے پی ایچ ڈی بھی کررکھی تھی!مشاہدات اورتجربہ کے دوران نابیناحضرات درج ذیل چندشعبوں میں کام کرتے دکھائی دئے۔
سنگر
رائٹر
ڈپلومہ ہولڈر
نعت خواں
کال سینٹر
الیکٹریشن
استاد(ٹیچنگ)
انسٹرکٹر
سکرین ریڈر
رائٹر
کمپیوٹرآپریٹر
اوربھی کئی شعبہ جاتے ہیں جن میں یہ افرادکام کرتے پائے جاتے ہیں۔
معذروافراد: نمایاں خصوصیات اورباتیں
معذورافرادمیں کوئی نہ کوئ نُمایاں بات ضرورپائ پائی جاتی ہے۔اللہ اپنی حکمت ومصحلت کے تحت ایک نعمت سے محروم رکھ کر ان کی کوئ نہ کوئ دوسری حس بیداکردیتاہے۔یہ اہل بصیرت ،غووفکرکے لئے بہت سوچنے کامقام ہوتاہے۔ایسے افرادکال سینٹرمیں بہت اچھی طرح کام کرتے ہیں کیونکہ سننے اورسونگھنےکی حس بہت ذیادہ تیزہوجاتی ہے۔اللہ اگرایک حس سے محروم کرتاہے تودوسری میں برکت ڈال دیتاہے۔یعنی ان افرادمیں اللہ تعالیٰ بصیرت کی کوئی اہم صلاحیت کوبیدارکردیتاہے۔
معاشرے کے خصوصی افرادعام افراد کی طرح لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتے دکھائی دیتےہیں۔ دوران سفرسینکڑوں نابیناوں کودیکھاہے کہ وہ معاشرےکے عام افرادکی طرح اپنے کام کاج پرآجارہے ہوتے ہیں۔
بھلے چنگے صحت مندافرادکے لئے ان سے سیکھنےاور عبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ افراد جدیدٹیکنالوجی کے استعمال میں بالکل پیچھے نہیں ہیں جن کودیکھ کرعام شخص بھی شرمائیں۔
معذوروں اورنابیناحضرات سے کیاسیکھا؟
یہ افراد یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ دنیاان کے لئے ختم ہوگئی ہے بلکہ یہ حالات کاڈٹ کرمقابلہ کرتے ہیں ، ان سے اللہ کاشکراورنعمتوں کی ادائگی کے حوالےسے سیکھاہے ۔ان سب میں قدرمشترک تھی کہ یہ عام انسانوں کی بنسبت ذیادہ پرجوش،پرامید تھے اوران کااللہ سے قوی تعلق پایاگیا۔
ایک نابینانے بہت خوبصورت بات کی کم ازکم ایک بہت بڑے گُناہ غض بصرسے توبچے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ ان سے سیکھاکہ ایسے افرادکس طرح اپنے لئے ظلمت کے اندھیرے میں کامیابی سے کامیابی کاراستہ تلاش کیاجاتاہے۔ ان سے یہ سبق بھی سیکھنے کوملاکہ انسان کواپنے اندرچھپی ہوئی دیگرپوشیدہ صلاحیتوں اورہُنرکو بھی سامنے لاناچاہئے! یہ انتہائی ذبردست لوگ ہیں جواندھیرے اورمشکلات میں سے اپنے لئے کامیابی کاراستہ اختیارکرتے ہیں اصل میں یہی دیدہ اوربینا ہیں ۔
یہ افرادمشکلات افراداورحالات کے کے سامنے ہارمانتے دکھائی نہیں دیتے اوراپنی ہمت سے کچھ واقعی کچھ کرگزرتے ہیں ۔معاشرے میں جابجاان کی مثالیں بکھری پڑی ہیں ۔
سماعت سے محروم ایک باصلاحیت شخص نےتن تنہا۲۷۰ کتب تحریرکرلیں ۔
اس طرح عام افرادکے لئے اخلاقی سبق دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے لوگوں کوکچھ نجی اورسرکاری تربیتی ادارے یہ تعلیم بھی دیتےہیں کہ وہ معاشرے کے دیگرافرادسمعیت گھروالوں پرہرگزبوجھ نہ بنیں ۔اوردوسروں پرانحصارکم سے کم ہو۔
نابیناکاپیغام عوام الناس کے لئے کچھ نابیناکو
وہ یہ کہتے ہیں کہ صبرکریں شکرکریں ۔اللہ سے سرگوشی کیاکریں اللہ سے باتیں کیاکریں۔اوراللہ والوں سے دوستی کیاکریں۔نابیناہونا عیب نہیں ہے ۔نیزمعذورہونے کواپنی کمزوری نہ سمجھیں بلکہ کمزوری کواپنی طاقت بنائیں ۔باقی اللہ خودراستے کی مشکلات ختم کرتاجائے گا۔
ہرمعذوریانابیناکے پیچھے ایک کہانی ہے ان کہی کہانی(سرگزشت ہے) جوذندگی ناہمورایوں اورتلخیوں اورحقائق کوبیان کرتی ہے۔ہربلائنڈکمزورہے لیکن کسی کمزوری کواپنی خامی نہ سمجھیں تبھی آپ ذندگی میں کامیاب ہوں گے۔
کئی سال پہلے مطالعہ کے دوران ایک حدیث کے متعلق جاننے کاموقع ملا، جس کامفہوم کچھ یوں تھاکہ اگرکسی نابیناکواس کی منزل پرچالیس قدم چل کرچھوڑکرآئیں توایک مسلمان جنت کاحقدارہوجاتاہے ۔ لہذاذندگی میں جب بھی کبھی بس سٹاپ پر، راہ چلتے یامیٹروبس جاتے موقع ملاتودرجنوں نابیناوں کے ساتھ ۴۰قدم چل کراللہ کے نبی ﷺکے ایک حکم کوپورارکرنے کی شعوری کوشش کی اورکبھی ان کوسوارکروادیا سیٹ خالی کروادی یاسٹاپ تک چھوڑدیاراستہ پارکروادیا۔اس کے ساتھ ان سے سیکھنے کاموقع بھی ملا۔
عوام الناس کے کچھ ہدایات وتجاویز
اگریہ افرادسڑک جارہے ہوں توان کوکم ازکم سڑک ہی پارکروادیں
کبھی کبھارایک مخصوص وقت طے کرکے اپنے اللہ کی سجدہ کرکے اس کی ہرنعمت کاشکراداکیاکریں۔
مصبت ذدہ لوگوں کودیکھنے کے وقت کی دعا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا
ترجمہ:سب تعریفیں اللہ کے لئےجس نے مجھے اس حال سے بچایاجس میں تجھے مبتلافرمایااوراس نے اپنی بہت سی مخلوق پرمجھے فضیلت دی!
بحوالہ:ترمذی،دعوات،مایقول اذارائی مبتلی ۲:۱۸۱
واضح ہو کہ ترمذی میں مذکورہ بالا دعاروایت کرنے بعد اس حدیث اس حدیث کے راوی حضرت ابوجعفرؒسےیہ نقل کیا ہے کہ یہ الفظ اپنے دل میں کہے اورمصیبت ذدہ کونہ سُنائے!
اس لئے جب بھی کسی بیمار،ذخمی،یاکسی بھی مصیبت ذدہ کودیکھیں تویہ دعاپڑھیں تواللہ آپ کواس تکلیف اورمرض میں مُبتلانہیں کرے گا اوریہ کیسے ہوسکتاہے کہ اللہ اوراس کے رسولﷺکی بات سچ ثابت نہ ہو!
اس لئے اپنےاللہ سے ہروقت عافیت اورصحت کی دعاطلب کرنی چاہئے!اوراللہ کی موجودہ نعمتوں پرشُکرگزاری کرنے کی روش کواختیارکرناچاہئے!
یادرکھیں کہ جسم اوراُسکاہرعضوبہت بڑی نعمت ہیں۔دانشورحضرات توآنکھوں کوبہت بڑی نعمت قراردیتے ہیں۔کیونکہ اگریہ نہیں توساری دنیامیں اندھیرہے۔
آخرمیں اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کوبھی آزمائش میں نہ ڈالے ،دوسرایہ کہ ہرشخص کوچاہئے کہ وہ اپنے اللہ کی عطاکردہ نعمت پرشکرگزاری کااحساس بیدارکریں ۔اللہ تعالٰی کے پیارے نبیﷺنے امت کے افرادکے لئے آزمائش،تکالیف سے بچنےکی اوربھی دعائیں کی ہیں تاکہ مسلمان اللہ کی مضبوط حصارمیں رہیں !اللہ سب مسلمانوں کوپڑھنے کی توفیق عطافرمائیں!
واللہ اعلم!
###
No comments:
Post a Comment