موسیقی سے متعلقہSpotify اشتہارکےپاکستانی
معاشرے پرممکنہ اثرات
تحریر وتحقیق : مجاہدعلی
mujahidali125@yahoo.com,0333 457 6072
نومبر۲۰۲۲ میں شائع ہوئے حالیہ عالمی تحقیق کے اعدادوشمارکے مطابق پوری دنیا میں ایک ارب پینتس کروڑسے ذائد نوجوانوں کے سماعت سے محروم ہونے کاخطرہ !ابھی اس میں وہ بوڑھے افرادشمارنہیں ہیں جوطبعی طورپرثقل سماعت کاشکارہیں!
بہرحال بات ہورہی ہے سماعت کی ،جب سماعت کی بات ہوتوایک لفظ اورسوچ موسیقی بھی ذہن میں ابھرتاہے۔جی ہاں موسیقی اورآوازکے حوالے سے پاکستان میں اس حوالے سےپچھلے دوماہ سےمیڈیا پرایک اشتہار سپوٹی فائی ایڈدکھائی جاری ہے۔اس کابُنیادی مقصدپاکستانی عوام میں موسیقی کے ذوق وشوق کوبڑھاناہے۔آئیں زرااب اس اشتہارکےمناظرپرسیرحاصل تبصرہ کرتے ہیں۔
ویڈیو اشتہارکے کچھ مناظرکی عکس بندی
اشتہار میں دکھایاگیا ہے کہ گھرمیں ایک بہوساس کےسامنے کچن میں ناچ گارہی ہوتی ہے۔جبکہ دوسرے اشتہارمیں وہی ساس خودگانے سماعت کررہی ہوتی ہے
ادھیڑعمراوربوڑھے عمرکے افرادکوموسیقی سے لطف اندوزہوتے ہوئے دکھایاجارہاہوتاہے،جبکہ پس منظرمیں مشہورومعروف گانےکی دھن بج رہی ہوتی ہے
ایک منظرمیں سکول وکالج یایونیورسٹی کی بس میں بچے موسیقی سے لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں
فیملی کےسب افرادگروپ کی شکل میں ناچتے گاتے اورہلہ گُلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ادھیڑعمروربوڑھےتنہائی میں گانوں کوسُن کرجھوم رہے ہوتے ہیں
جوڑے بھی محوڈانس ہوتےہیں
ایک منظرمیں نوجوان مردوزن مخلوط اندازمیں جھومتے دکھائی دیتے ہیں ۔
ایک منظرمٰیں شلوارقمیض میں ملبوس نوجوان کوجھومتے ناچتےہوئے دکھاتے ہیں
دولھادلہن اورنوجوان بوڑھوں کے سب مل جل کرخوشی کے موقع پرناچ گاناکرتے ہیں اوردونوں خوب رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں
ایک منظرمیں یہ بھی دیکھاجاسکتاہے کہ ایک ادھیڑعمرکی عورت اداس بیٹھی ہے،بوریت دورکرنے کے لئے موسیقی کی دھن چھیڑدیتی ہے
کچھ مناظرکی جھلکیاں صفحہ کے اخیرمیں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں!
ٹارگٹ مارکیٹ
اشتہاری مہم میں بچوں ،ٹین ایج ،نوجوانوں ،جوانوں،اُدھیڑعمر اوربوڑھی عمرکے مردوزن کوفوکس کیاگیا ہے۔ اشتہار طلباءکوخصوصی طورپرٹارگٹ کیاگیاہے۔ایسے افرادجن کی عمریں ۳۰تا ۵۰ سال تک ہیں وہ بھی مہم کاخصوصی حصہ ہیں ۔ ان سب کوہرروزایک مُسلسل پیغام دیاجارہاہے۔بہرحال کچھ مناظرکی جھلک آپ کودکھائی گئ ہے۔
اب ذرادیکھتے ہیں کہ اس طرح کے اشتہارات کے معاشرے کے افرادپرکس طرح اثراندازہوتے ہیں جوکہ نفسیاتی،معاشرتی اورجذباتی بھی ہوسکتے ہیں ۔
اشتہارات کے ممکنہ اثرات اورتنقیدی جائزہ
اس طرح کے اشتہارات کے معاشرے کے افراد پر مجموعی طورپر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں ۔اگر مشاہدہ کریں توپتہ چلتاہے کہ خصوصی طورپرنوجوانوں اورطلباءکواشتہار کاحصہ بنایاگیاہے تاکہ طالب علم ہماری سروسزکواستعمال کریں۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ طلباءکی پڑھائی کاکتناحرج اورقیمتی ضائع ہوسکتاہے
پھربوڑھے اورادھیڑعمرکے افرادکے لئے ان کے ایام شباب کے گانوں کوپلے کیاجاتاہے ۔ بوڑھے اورادھیڑعمرکورنگیلاہوتے دکھایاجاتاہے اوریوں اس طبقہ کوبھی دوبارہ موسیقی کی طرف لانے کی شعوری کوشش کی گئ ہے۔ یہ پیغام بھی ملتاہے کہ سب ہلہ گلہ ،تفریح ہی میں مصروف رہیں ۔ مثلااشتہارمیں دیکھاجاسکتاہے کہ مردوزن کی اکثریت تنہائ میں رقص کرناشروع کردیتے ہیں ۔ یعنی یہ کہ جب وہ تنہائی میں ہوں توموسیقی سے سے لطف اندوزہوں اور موج مستی کریں۔ ٹی وی کمرشل کے مناظرمیں دکھاتے ہیں کہ خاندان کے بڑے بوڑھے بھی اس کومعیوب نہیں سمجھتے اورخودرقص میں محوہوجاتے ہیں۔ جبکہ ہماری روایات کے برعکس یہاں دلنہیں سرعام محفل میں رقص کرتی ہیں۔
لوگوں کے پاوں موسیقی کی دھن پرتھرکتے دکھاتے ہیں۔ایسے لگتاہے پوری قوم کوہی نچاکے رکھنے کاپروگرام ہو۔اس اشتہارمیں ایسادکھائ دیتاہے کہ بچوں کے باپ یعنی پرانی نسل موسیقی سننے میں اپنے بیٹوں سے دوہاتھ آگے ہیں ۔
منفی اثرات کی ایک مثال اشتہارسےاس طرح سے بھی واضح ہے کہ نوجواں، جواں ادھیڑعمر،اوربوڑھے سبھی مل جل کر رقص کرتے دکھائ دیتے ہیں ۔اوریوں ہرطبقہ اورعمرکے افرادکوخرافات میں ملوث کیے جانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
زراسوچیں اورمشاہدہ کریں کہ آج کل نوجوانوں میں اچانک اموات کچھ ذیادہ ہی ہورہی ہیں جبکہ ۴۰ سال سے لیکرپچاس سال اوربچوں اورجوانوں میں بھی موت کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے، تو اللہ کے پاس کیامنہ لیکرجائیں گے۔
افسوس اس بات کاہے کہ مملکت خدادادپاکستان اورایک اسلامی جمہوری مُلک میں موادپرکنٹرول کاکوئی جامع نظام نہیں ہے۔ہمیشہ ہی ایک چھوٹی سی مثال دیاکرتاہوں اوردیتارہوں گاکہ دیکھیں میڈیاچینلزپرجب ایک تشہیری مُہم کے تحت ایک اشتہارکوایک عرصہ تک روزانہ تواترسے دکھایاجاتاہے تولامحالہ کمپنی کے منافع پرضرور اسکا اثرہوتاہے کیونکہ صارف ان کی تشہیری مہم سے متاثرہوتے ہیں اوران کاروباری اداروں کواس سے یقینامنافع بھی ہوتاہے ان کی سیل بڑھتی ہے۔یعنی سیدھاساداسادھاسامطلب ہے کہ ان کے اشتہارات کاصارفین ذہنوں پرضروراثرہوتاہے اوروہ کمپنیاں ان کے جذبات احساسات سے کھیل کر،ان کی خواہشات کوضروریات بناکرجیبوں سے نفسیاتی اصولوں کے مطابق بڑے آرام سے ان کی جیبوں سے پیسے نکال لیتی ہیں۔توذراسوچیں ان کے اثرات جب انسانی ذہنوں پرپڑیں گے توکیاہوگا۔
موسیقی اوررقص سےقیمتی وقت کازیاں ہوتاہے اوریہ جنسی ترغیب اوربیداری کابھی ایک ذریعہ ہے۔جب بزرگان دین گانے کوزنا کامنترقراردیاگیاہے۔اب یہ قارئین خودہی سمجھ جائیں کہ مسلمان بے خیالی میں کن خراب رحجانات اورخرافات کاشکارہوں گے۔اس تفریحی صنعت کے بھیانک نتائج کی ہی بس توقع ہی کی جاسکتی ہےجبکہ اخلاقی برائیاں علیحدہ سے جنم لیتی ہیں۔
جامعات کی لائبریریریاں اشتہارات ،فلم گانوں فلم ڈراموں انسانی معاشرے پرپڑنے والےاثرات، نتائج اورتحقیقات سےبھری پڑی ہیں۔
اثرات کی ایک جھلک تازہ مثال کی صورت میں !
سرراہ اوربرسبیل تذکرہ بھی کرتے چلے ہیں کہ آج کل ٹک ٹاپ اورمیڈیاپرایک ویڈیو پاکستانی عائشہ نامی ایک لڑکی کاگانامیرایہ دل یہ پُکارے بہت ذیادہ وائرل ہورہاہے۔اس ویڈیو کودیکھنے والوں کی تعدادملئن تک جاپہنچی ہے۔
عائشہ نامی لڑکی کایہ کہناتھاکہ میں نے اپنی سہیلی پرشادی پررقص کیاتھا اورمجھے اندازہ نہیں تھاکہ یہ اتنی وائرل ہوجائے گی ۔کیایہ ذندہ اورجیتاجاگتاثبوت نہیں کہ اشتہارات کاہمارے ذہنوں پرکیااثرہوتاہے اوراس وائرل ویڈیواوراشتہارمیں کتنی مماثلت جھلکتی ہے۔
یہ ویڈیوانتہائی حیاسوزہیں اوراخلاق کی کئی سطحوں سے گری ہوئی ہیں اوراورعجیب وغریب کہانیوں مناظرکے ذریعے ان مختصرویڈیوکوفلمایاجاتاہے اوریوں محض پیسے کمانے کی خاطرلوگوں کےجذبات کوگرمایاجاتاہے اوران کے جنسی جذبات کوتحریک دی جاتی ہے۔ اسی لئے تودہلی ریپ کیسے کئی واقعات رُونماہوتے ہیں اوربڑوں، بوڑھوں کے بچےبچیوں کےساتھ جنسی ذیادتی کے کیسزتواب معمول کی بات ہیں!
ویب سائیٹ پرخطرناک پیغام!
دوفقرے بہت خطرنا ک ہے ویب غروب آفتاب تک مطالعہ کریں۔ فجر تک رقص جبکہ اپنامطالعہ ساونڈٹریک کی روشنی میں کریں دوسرایہ کہ کہیں بھی ڈانس کریں ۔
Dancing Everywhere
Dance till dawn
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ارباب اختیاراورپیمراکی انتظامیہ کوہدایت دیں کہ وہ معاشرے میں بڑھتی بے راہ روی اورفحاشی کوکنٹرول کرنے میں اپناصحیح معنوں میں کرداراداکرسکے ہیں ۔
سپوٹی فائی :ویب سائیٹ
یہ ویب سائیٹ صارفین کوبتاتی ہے کہ ہماری ویب گاہ پر۸۰ ملین سے ذائدنغمات ،پلے لسٹ موڈ کے مطابق دستیاب ہیں۔ اس ویب سائیٹ پرپاکستانی اورانڈین انگلش گانے سمعیت ہرطرح کےگانے موجودہیں ۔جن کو ماہانہ مختلف پیکچ کے تحت حاصل کیاجاسکتاہے ۔ پرانے گانوں سے لیکرنئے گانوں کی ہرورائٹی، ہرعمرکے مردوزن کے لئے سبسپکرشن ی
عوض خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ روزانہ ،ہفتہ واراورماہانہ پیکج دستیاب ہیں ۔خصوصی طورپرطلباءکے لئے کم پیسوں پررعایتی پیکج بھی شامل ہے۔ موبائل لیپ ٹاپ انٹرنیٹ کے ذریعے گانے سنے جاسکتے ہیں ۔ .کمپنی کاپیغام ہے کہ اگرآپ سفرمیں ہیں گھرمیں کسی جگہ پارٹی کررہے ہیں یاتفریح ،آرام کررہے ہیں توہرگاناآپ کی انگلی کی نوک پرہے۔آپ کہیں بھی رقص کریں ہمارے گانے آپ کے ساتھ ہیں۔
کمپنی کامرکزی دفتر سویڈن میں ہے۔
https://www.spotify.com/pk-en/premium
Links to view the TVC…
https://www.youtube.com/watch?v=BprUJ64BNkk
https://www.youtube.com/watch?v=eC6JSqIX0RQ
https://www.youtube.com/watch?v=0kxGXDdEkFg
https://www.youtube.com/watch?v=tA4FIN3Tons
https://www.youtube.com/watch?v=Pz95JvdqRnQ
Viral Video of Girl(Ayesha in Nov2022)
https://www.youtube.com/watch?v=HouqiSizOtc
سپوٹی فائ ایڈ کے کچھ عکسی مناظر
| https://www.slideshare.net/MUJAHIDALI81/possible-impact-of-spotify-tvcadvertiment-on-pakistani-societypdf |
|
|
کچھ مصنف کے بارے میں :
صاحب تحریر گیلپ میں میڈیاریسرچ کے حوالے بھی کئی سال خدمات سرانجام دے چکے ہیں ۔ فلموں اوراشتہارات کے عوام الناس پر اثرات وجائزہ کے مطالعہ میں شغف رکھتے ہیں اوراس بارے میں فلمی تبصرہ اوراشتہارات کے معاشرے پرسماجی نفسیاتی معاشرتی اثرات کامطالعہ کرتے ہیں ۔اسی طرح موبائل اورسوشل میڈیا کے معاشرے پراثرات کےجائزہ میں گہراشغف رکھتے ہیں ۔معاشرے میں رونماہوئے فحاشی سے متعلق ہوئے واقعات پرمشتمل ایک ڈیجیٹل بُک کی تیاری میں بھی سرگرادں ہیں۔ جس ج
| Click the next link to view the article in PDF format |
| ||||
No comments:
Post a Comment