|
بسلسلہ تعلیم وتربیت وکیرئیرکونسلنگ وگائیڈنس |
والدین وطلباء کے لئے انتہائ توجہ طلب نُکتہ اورایک یادگارتحریر
فکرخیال :مجاہدعلی
mujahidali125 @yahoo.com, 0333 457 6072
انسان جس جگہ اپنی ذندگی کے روزوشب بسرکرتاہے وہاں کے اردگردکاماحول انسان پر ضرورکچھ نہ کچھ اثر ہوتاہے جیساکہ اگرچیزیں بکھری پڑی ہوئی یاصفائ نہ ہوتوانسان کی طبیعت میں ایک الجھن سی پیداہوجاتی ہے۔اسی طرح ہمارے اردگرداچھے برے لوگ ہوتے ہیں ۔جن کاہماری ذندگی اوررویوں پرضرورہلکاپھلکامنفی یامثبت ضرورپڑتاہے۔
یہی حال بچوں کے ساتھ بھی ہوتاہے !
بچے جب سکول کی دنیا سے نکل کرکالج کی دنیامیں قدم رکھتے ہیں توان کونئے ماحول، نئے کلاس فیلوزسے واسطہ پڑتاہے لامحالہ ان پربھی اس ماحول کا اثرپڑتاہے۔اس طرح وہاں پر ان کے کچھ نئےگہرے دوست بھی بن جاتے ہیں ۔اچھے ،برے دوست ان کی زندگی ومستقبل پر پرمنفی یامثبت دونوں طرح سے اثرڈال سکتے ہیں !دوستوں کے متعلق عموما کہاجاتاہے کہ ہرانسان کے چاریا پانچ دوست ضرور ہوتےہیں۔اگردوست کی بات ہوتی ہے تودوستی کوسمجھناپڑے گاکہ آخروہ کیاچیزہے!اس کاسادہ سامطلب ہے،دوستی کامطلب ہے بہت سارے دوست ہونا۔ ہراچھے برے دوست کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں ۔ایک بُرےدوست کی صحبت سے ایک طالب علم کےمطالعہ اوروقت کازیاں ہوتاہے ۔وہ دوست کی ذندگی میں ملوث ہوجاتے ہیں اوران کے تمام نقائص دوسرے دوست میں آسکتے ہیں ۔لہذابرائی میں شرکت سے دین ودنیا دونوں میں نقصان ہوگا۔
جبکہ اچھے دوستوں کی وجہ سے ایک طالب علم کی صحت،مجموعی کارکردگی بہترہوسکتی ہے۔اور وہ مطمن رہتاہے۔ اسے خوشی ملتی ہےاورذہن تروتازہ رہتاہے۔جبکہ اچھے مشوروں کی بدولت دوست آگے بھی بڑھتاہے۔
کہتے ہیں انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتاہے وہی گھسی پٹی پرانی مثال اگرمچھلی فروش کے پاس بیٹھیں گے توبدن لباس سےبُوہی آئے گی اوراگر نیک اللہ والوں ،گُل فروش کے پاس بیٹھیں گے توخوشبو ہی آئے گی۔یعنی بدبواورخوشبو کی طرح اچھی بری صحبت بھی انسانی ذہن اورشخصیت پرضروراثرکرتی ہے۔اسی لئے اللہ اوران کےرسولﷺ نے نیک اوراچھے لوگوں سے وابستگی کادرس دیاہے۔
والدین اس سٹیج پر بچوں کےقریبی،گہرے دوستوں پرگہری نظررکھیں! کیونکہ یہی دوست ان کی اگلی ذندگی یامستقبل کوتباہ کرنے میں ذمہ دارہوسکتے ہیں۔یہ وہ دوست ہیں جو آپ کے بیٹے کو:
کالج کاطواف کرواتے ہیں
کینٹین کاطواف کرواتےہیں
لائبیریری لیکرجاتے ہیں
تھیٹریا سینما کاچکرلگواتے ہیں
باہرسیروتفریح کے لئےمجبورکرسکتے ہیں
تفریح کے نام پرسڑکوں پرپھرنے کاکہ سکتے ہیں
سگریٹ پینے کی دعوت دیتےہیں
دیگرسرگرمیوں میں اپنااورآپ کے بیٹے کاوقت ضائع کرسکتے ہیں
اللہ کی طرف بلاتےہیں اوریہی دوست وژن بناتے ہیں
بہرحال تربیت ایک بہت بڑاچیلنج ہے۔والدین کے لئےتربیت ایک انتہائی مشکل ترین کام اورفریضہ ہے ۔اساتذہ اس کوبخوبی اوراچھی طرح جانتے ہیں۔والدین کے لئے تربیت پہاڑکوعبورکرنے جیسا ٹاسک ہے۔آج کےوالدین اس حوالے سے بڑے پریشان ہیں جووالدین پہلے۷۰سال کی عمرمیں فوت ہواکرتےتھے آج وہ ۴۵،۵۰کی عمرمیں ہی دُنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔وہ زندہ ہوکرمرے ہوئے نظرآتے ہیں۔کیونکہ اس پریشانی ،فکر ،ٹینشن کی وجہ سےکسی کوبلڈپریشرہے توکوئی زیابیطس کاشکارہے۔کچھ اس چیزکولیکرنفسیاتی مسائل کاشکاربھی ہوسکتے ہیں۔
ماں باپ اوربچے یادرکھیں کہ ۱۵تا۲۱ سال تک کی عُمر ہی اصل ذندگی ہے۔پندرہ سال کے بعد ذندگی کااصل آغازشروع ہوجاتاہے۔ ان ۶ سالوں سے پتہ چلے گاکہ بطور طالب علم ذندگی کے اگلے چھ سال کیسے گُزرنے والے ہیں ۔یہ طالب علم نے فیصلہ کرناہے کہ اگلے چھ سال تک وہ اچھی ذندگی گزارنا چاہتا ہےیاپریشان رہناچاہتاہے۔ان ۶سالوں کے اثرات ایک طالب علم کی آئیندہ تمام ذندگی پرمحیط رہیں گے ۔بلکہ یہ اثرات اس کےخاندان پربھی پڑیں گے۔
میٹرک کے بعدکالج میں جاکرایک دم بچوں کے سرپرسینگ نکل آتے ہیں۔ذندگی کا یہی وقت بچوں اوروالدین کے لئے ٹرننگ پوائینٹ ثابت ہوتاہے۔ خاص کرایک بچے اورطالب علم کے لئے یہ وقت بہت اہمیت کاحامل ہوتاہےکیونکہ اسی عمرمیں کسی بچے کےبگڑنےکے ۹۰فیصدچانسز ہوتے ہیں ۔یہاں پر ماں باپ کارول بہت ذیادہ اہمیت اختیارکرجاتاہے۔
والدین یہ بات یادرکھیں کہ بچے کو کسی اچھے کالج میں داخل کرانے سے اسکا مستقبل اچھا نہیں ہو جاتا۔ بلکہ اس کے لئے کسی اچھے دوستوں کاہونا بھی ضروری ہے ۔کئی وجوہات اوربھی ہیں۔اس عُمرمیں یارانہ دوستانہ بڑاخطرناک ہوتاہے،والدین کونظررکھناہےکہ اس کے بیٹے کے دوست کس طرح کے ہیں ۔اسی طرح یہ بات لڑکیوں پربھی صادق آتی ہے ۔
طالب علم دیکھے کہ اُس کے ۳ بہترین دوست کون ہیں کیونکہ یہی آپ کی ذندگی بناتے ہیں جبکہ بُرے دوست آپکی ذندگی کو تباہ وبربادکرسکتے ہیں، حتی کہ آپ کابہترین مستقبل تاریک بھی کرسکتے ہیں،اس کے برعکس اچھے دوست ذندگی اورمُستقبل کوسنوارنے میں آپ کی مددکرسکتے ہیں۔
بُرے دوستوں کاانتخاب آپ کے لئے واقعی ذندگی کا ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوسکتاہے۔ اسی سے آپ کامستقبل محفوظ اورتابناک ہوسکتاہے یاپھرتاریک
جبکہ لڑکیاں بھی دیکھیں کہ کیا ان کےدوستوں کی نظر سڑکوں پرمٹرگشت کرنے والے ان چھچھورے لڑکوں پرہے جومحض اُن کوسڑکوں پرمُتاثرکرنے کے لئے عجیب وغریب حرکات وسکنات کرتے ہیں ۔یادرکھیں کہ پل بھرکی خوشی سے ذندگی بھرپچھتانا پڑسکتاہے۔
آپ لڑکیاں شاید یہ سمجھتی ہیں کسی لڑکے نے آپ کی طرف پلٹ کردیکھ لیا۔ نہیں نہیں اس ایک پلٹنےوالی نظرسے آپکی ذندگی پلٹ جاتی ہے یعنی پوری ذندگی بھی بربادہوسکتی ہے۔لیکن پھروقت اورذندگی آپ کوسدھرنے کادوسرا موقع ہرگزہرگز نہ دے گی ۔دوبارہ سے پھربات دہرارہاہوں،۱۵تا۲۱سال تک کی عمرکسی بھی طالب علم کے لئے واقعی ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔طالب علم یہ فیصلہ کرلیں کہ انھوں نے کچھ بنناہے یابگڑنا۔فیصلہ یا انتخاب آپ کااپنایعنی تخت یاتختہ والی بات!
اگرآپ نے اپنی ذندگی اورمستقبل کوواقعی اچھا بناناہے توآپ کا ساتھی بہت اچھا ہوناچاہئے۔لیکن طالب علم شایداس اہم بات ونکتے کوسمجھ ہی نہیں پاتے ہیں۔ہرانسان ایک اچھی اورخوشحال ذندگی گزارنا چاہتاہے ۔ وہ یہ بھی چاہتاہے کہ اس کے پاس رہنے کے لئے شاندار بنگلہ ہو۔
وہ یہ بھی چاہتاہےکہ میں اپنے والدین کواپنی گاڑی میں لانگ ڈرائیو پرلے کر جاوں گا ۔اپنے والدین کوحج عمرہ کرواوں گا۔ میں یتیم خانے جاکران کے ہاتھوں سے یتیموں میں شال اورکتابیں بانٹوں گا۔ایسی سوچ ایسی نیت ہمارے دماغوں میں آخرکیوں نہیں آتی ہے۔جب آپ کی نیت اچھی ہوتی ہے توبارگاہ الہی کی طرف سے آپ کے حوالے سے پروگرامنگ شرو ع ہوجاتی ہے۔
لہذاہر وقت اپنی نیت اورسوچ اچھی رکھیں۔
لہذاطلباءاس تحریرکابُنیادی مقصدجان لیں ۔وہ یہ ہےکہ آپ نے سکلز(مُہارتیں ) سیکھنا ہیں۔آپ نےاپنی کمیونی کیشن کو بہترکرنا ہے۔نظم وضبط کوبھی سیکھناہے۔یہ ارادہ کرلیں کہ میں نے تخلیقی اوراختراع پسند ذہن کامالک بنناہے۔ مثبت سوچ رکھنی ہے ۔میں نےزندگی میں ہمیشہ آگے ہی بڑھناہے۔ میں ذندگی میں سخت محنت کروں گااورمجھے دنیامیں سب سے بہترشخص بنناہے۔ میں نےاپنے تابناک مستقبل اورآگے بڑھنے کی فکرکرنی ہےاوراس کے ساتھ اپنے بچوں کی پرورش ،تعلیم وتربیت بھی کرنی ہے
طلبااپنی ذات سے عہدکرلیں کہ میں نے جی جان سے محنت کرنی ہے ۔
ماں کاکردار
مائیں یادرکھیں کہ ایک بچے کوابتدائی عمرمیں اُسی نے ہی توگرُوم کرناہوتاہے ۔یہ بھی کہاجاتاہے کہ مائیں اپنے بچوں کی تربیت اول روزیعنی اپنے زمانہ حمل سے ہی کرناشروع کردیں۔
بے شمارسائینسی تحقیقات اس بات کی غمازی کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ ماں کے افعال وحرکات بچے پراثرانداز ہوتی ہیں۔سائینسی تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ ایک بچہ حمل کے دوران اپنے اردگردکی آوازیں سُن رہاہوتاہے۔ایک ماں ٹی وی پرجوکچھ دیکھ سن رہی ہوتی ہے وہ آوازیں بچے کے کان میں جارہی ہوتی ہیں ۔اسی طرح اگرماں قرآن پاک کی تلاوت اونچی آوازسے کرتی ہے توبھی بچہ اس سماعت سے مستفید ہوتاہے۔میاں بیوی کے خانگی جھگڑوں اورگالی گلوچ کی آوازبھی بچے سن پارہے ہوتے ہیں ۔ماں کوچاہئے کہ وہ ان دنوں میں پرسکون رویہ کامظاہرہ کرے ۔وہ اچھی اچھی کتابیں پڑھے اوراچھی غذاکھائے۔پیدائش کے بعد ضروراپنےبچے کواپنادودھ پلائے تاکہ بچے کے اندرروحانی ،جسمانی اورذہنی طاقت بڑھے ۔اس دودھ کے ذریعے ماں کی محبت بھی بچے کے اندرسرایت کرجاتی ہے۔
اس کے علاوہ بچے کی تربیت حلال روزی سے کریں ۔جب ایک بچے کی اندرسے تربیت ہورہی ہوگی، توجب بچہ دنیامیں اپناقدم رکھے گاتووہ کل ایک بہترین لیڈرکے طورپرابھرے گا۔ کیونکہ اصل چیزتوبچپن سےتربیت کرنامقصود ہوتی ہے۔
تاریخ ڈھیرسارے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ ایک ماں اپنے بچے کی پرورش حمل سے لیکرجواں ہونے تک کیسے احسن اندازسے کرتی تھی
حرف آخر
والدین اپنی اولاد کے مستقبل کوبنانے نکھارنے میں اس عمر(پندرہ تا۲۱) کے بچوں اورنوجوانوں پرخصوصی توجہ مرکوزرکھیں ۔ یادرہے کہ آپ کے بچوں کے مستقبل کی بنیادہی انھیں چھ سات سالوں پرمنحصرہوتی ہے جسے گولڈن پیرئیڈ(سنہری دور) بھی کہاجاتاہے
لہذاماں باپ خودبھی عہدکریں کہ وہ اپنے بچوں کی خصوصی تربیت کے لئے مناسب وقت نکالیں گے۔
طُلباء یہ بات یادرکھیں!جوطالب علم ان چندسالوں میں بھرپورمحنت نہیں کرتا تووہ پھرساری ذندگی بس محنت کرتاہے اوراپنے ان ۶ سات سالوں کی سُستی اورلاپرواہی کاقرض ساری عمر چُکاتا ہی رہے گا ۔اس کے علاوہ آپ کے والدین علیحدہ سے پریشان رہیں گے اورآپ کے فکراورغم میں دن رات گھل کرآدھے رہ جائیں گے ۔لہذاخوداپنی بھی فکرکریں اوراپنے والدین کی بھی !
وقت برباد کرنے والوں کو
وقت برباد کر کے چھوڑے گا
شاعر:دواکر راہی
والدین بچوں کی حرکت پرنظررکھیں ۔یہ بھی دیکھیں کیا ان کی سرگرمیوں اورویوں میں اچانک بڑی بڑی تبدیلیاں تورونما تونہیں ہورہی ہیں۔اس چیز کومستقل بنیادوں پر نگرانی کریں۔
والدین اپنے بچوں سے ان کے دوستوں کے متعلق ضروربات کیاکریں۔
والدین یہ بھی دیکھیں کیابچہ دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کے لئے آپ کو مطلع کرکے جاتا ہے یا آپ کوکوئی دھوکہ دیتاہے
والدین اپنے بچوں کوکنٹرول کرنے کی بجائے ان کی ذمہ داری لیں
طلبا یہ بات اچھی طرح پلے باندھ لیں کہ کالج کی تعلیم کے اس مرحلہ پربُرے اورفضول دوستوں کی دوستی بہت خطرناک ثابت ہوکر آپ کومہنگی پڑسکتی ہے۔ جس سے بہرحال اجتناب کرنابہت ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کاحامی وناصرہو۔آمین
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں
###
صاحب قلم:وقتافوقتا تعلیم وتربیت اورکیرئیرکونسلنگ وگائیڈنس پرکچھ نہ کچھ جدید معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اور ان سے کچھ مفید نتائج اخذ کرکے مفاد عامہ کے لئے تحریر کرتے رہتے ہیں ۔یہ اہم آرٹیکل بھی اسی مطالعہ کانچوڑہے ۔جس سے والدین طلباء بھرپورفائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
13, 14 Nov 2022
No comments:
Post a Comment