Tuesday, 15 November 2022

نماز پنجگانہ کے کُچھ روحانی،طبی اورجسمانی فوائد ثمرات وبرکات

 

 

نماز پنجگانہ  کے کُچھ روحانی،طبی اورجسمانی فوائد ثمرات وبرکات

وضو،اوقات نماز اورارکان پر تحقیقی نکتہ نظر

تحریروتحقیق : ایم علی   لاہور

0333 4576072    meritehreer786@gmail.com

 

نمازاسلام کا ایک اہم  بنیادی رکن ہے جوہرمسلمان مردوزن پرفرض ہے اوراسے پانچ اوقات میں اداکرنے کے حکم دیا ہے۔اللہ کے پیارے نبی ﷺنے نمازکواپنی آنکھوں کی ٹھنڈک اوردین کا ستون قراردیا ۔نمازواحد عمل ہے جوایک کافراورمسلمان میں واضح تعین کرتی  ہے ۔ قرآن میں تقریبا ۷۰۰ مقامات پرنمازکا تزکرہ ہےاسکے علاوہ کافی احادیث بھی موجود ہیں۔ روحانی اورطبی نکتہ نظرسے وضواور  دن رات کے مختلف اوقات اورنمازکی مختلف حرکات وسکنتا  کے  انسانی جسم  وزندگی پر  مثبت اورخوشگواراثرات مرتب کرتے ہیں۔دنیا میں ہونے والی مختلف تحقیقات آئے روزان  نتائج کے حقائق کو آشکارکرتی رہتی ہیں  جس سے خالق کائنات   کی پوشیدہ حکمتوں  کا پتہ چلتاہے ۔

نمازکاآغازہی  نیت ارادہ اذان ، صاف اچھے کپڑوں،وضو اورجسم کی صفائی ستھرائی اذان سے ہوتاہے یہ سب ملکرانسان کے جسم اورقلب پربہت گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ذیل کا مضمون ان میں سے اکثرکا احاطہ کرتاہے۔

نمازسائنسی نکتہ نظرسے  

دنیا میں نمازکے حوالے سے  سینکڑوں ہزاروں تحقیقات ہوچکی ہیں اورآج بھی جاری وساری ہیں ۔ اسلام سائینس کا محتاج نہیں بلکہ سائینس اسلام کی محتاج ہے ۔مسلمانوں سے بڑھ کر ترقی یافتہ ممالکان تحقیقات میں  مصروف عمل ہیں۔ ایک دنیا ان تحقیقات سے دن رات مستفید ہو رہی ہے۔نماز اوراسلام کے ہراحکام میں کئی حکمتیں اورسائنسی رازچھپے ہوئے جن کو آج کی جدید سائینس آشکارکرتی رہتی ہے۔ جس سے انسان کو روحانی وطبی  ثمرات حاصل ہوتے ہیں جس سے وہاسلام ، اللہ اوراسکے رسولﷺکے ذیادہ قریب ہوجاتاہے۔

نماز سراسر سراپا مجموعہ و فوائدہے سائینس ہرگزرتے دن اسکے فوائد کوروزبروزآشکارکرتی رہے گی۔

خالق کائنات نے سب مسلمانوں پرنمازپنجگانہ فرض کی ہے اوراسکاایک حصہ حضرت انسان ہے۔اللہ نے جب نمازکاحکم دیاتواس میں ساری فیوض وبرکات بھی رکھ دیں جہاں اس کے روحانی اوردینی ودنیوی فوائدہیں وہیں پرانسان کی صحت پربھی گہرے اثرات رونما ہوتے ہیں جو کہ سرسے لیکر پاوں تک ہوتے ہیں۔

ہرنمازکے اوقات مختلف ہیں اوران نمازوں میں جسم پراسکے اثرات بھی مختلف طریقے سے وارد ہوتے ہیں

اللہ کے ہرکام میں مصلحت ہے ۔سائنسی نکتہ سے مختلف نمازوں کے مختلف اوقات میں انسان پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آئیے ہم نمازکی ادائگی کو سائینسی نکتہ نظرسے دیکھتے ہیں۔

لباس : اچھا صاف ستھرا لباس انسان کی شخصیت پرمثبت اورخوشگوار اثرات چھوڑتاہے انسان اپنے آپ کوباوقارمحسوس کرتاہے۔اس کے ساتھ خوشبو کا استعمال اللہ اوررسولﷺ کی خوشنودی اورفرشتوں کا ساتھ حاصل کرنےمیں ممد ومعاون ثابت ہوتی ہے۔پانچ وقت کی نمازسے پہلے مسواک کا استعمال نمازکے تمام مراحل کومذیدپرنور بناتاہے مسواک کی تحقیق اورفوائدپرعلیحدہ آرٹیکل کا متقاضی ہے۔تاہم مسواک کے چندفوائد حاضرخدمت ہیں ۔

مسواک مضرصحت ریزوں کوصاف کرتی ہے

آنکھوں کی روشنی کوبڑھاتی ہے

کندذہنی کوصاف کرتی ہے

بلغم کاخاتمہ کرتی ہے

خاتمہ بالخیرہوتاہے

وضوکے فوائد

طبی فوائد کا آغاز وضو سے ہوتا ہے۔پانچ وقت وضو انسانی جسم کوتراوٹ ٹھنڈک اعصاب کوسکون بخشتاہے

وضوکے دوران گردن کے پچھلے حصے پرمسح کرنے سے انسان پاگل ہونے سے بچ جاتاہے!

اوقات نمازاوراسکے مضمرات

فجر:صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوامیں خالص آکسیجن ہوتی ہے جوروح اورجسم کو تروتازہ کردیتی ہے۔اس آکسیجن سے مردوں کے وائے کروموسوم میں اضافہ ہوتاہے جس سے نرینہ اولادجنم لینے میں مددملتی ہے۔صبح کی ٖفضامیں دل پرسکون ہوتاہے اورزندگی کی راہیں آسان اورکشادہ ہوتی ہیں یہی حالت عصر کے قوت بھی طاری ہوتی ہے۔فجرکی نماز دل کو اطمینان اوردل کی سختیوں کو دورکرتی ہے۔فجراورمغرب کا وقت ایساہوتاہے جس سے دل میں اطمینان اورخشوع بیدارہوتاہے یہ اوقات کائنات کے رازاسکے قانون فطرت میں غوروفکرکی راہ ہموارکرتے ہیں۔جس سے انسان میں فہم وفراست کا نورپیداہوتاہے۔

ظہر:اللہ نے فجرکی نمازکے انسان کو کام کاج کرنے میں مشغول رہنے کاحکم دیا ہے

فجرسے لیکرظہرتک کم وبیش  ۵ تا سات گھنٹے کا وقفہ ہوتاہے۔انسان اس دوران کام کاج سے تھکاہوتاہے

اس لئے ظہرکی نمازانسان کوتھوڑی دیرانسانی جسم کوسستانے کاآرام دینے کاموقع فراہم کرتی ہے۔

کئی کام اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جس میں انسان کئی گھنٹے ایک ہی جگہ پرمسلسل بیٹھا رہتا ہے یا پھرانسان کافی دیرچلنے پھرنے میں مصروف ہوتاہے اورجسم حرکت کرتارہتاہے ایسے میں وضواسے ایک عجیب طرح کا سکون مہیاکرتاہے۔جب انسان کی جبین سجدہ میں زمین سے ٹکراتی ہے تو زمین دماغ کی ساری پریشانی کی رواپنے اندرجذب کرلیتی ہے۔ظہرکی نماز ایک طرح سے ہلکی ورزش بھی ہے۔اس سے نہ صرف انسانی جسم میں تازگی آجاتی ہے بلکہ تھکن کودورکرنے میں مددملتی ہے۔اسکے ساتھ ساتھ کھانے کھانے کے بعدکچھ دیرکا قیلولہ انسان کو تازہ دم کردیتاہے اورانسان کے جسم سے کئی طرح کی بیماریوں کودورکرنے میں مددملتی ہے

عصر:حدیث کے مفہوم کے مطابق جسکی عصرکی نمازفوت ہوگئی اسکو ۱۰۰ کے برابرنقصان ہوگیا۔یہ وقت بھرپورکاروباری ہوتاہے لیکن انسان جب سارے کاروبارچھوڑکراللہ کے حضورپیش ہوتاہے تواس میں وہ قوت پیداہوتی ہے جوبہت ساری پریشانیوں سے جان چھڑانے میں معاون ہوتی ہیں

یہ نمازپڑھنے کے بعدانسان میں ایک طرح کی چستی وپھرتی عُودکرآتی ہے اوریوں وہ پھراپنے رزق کمانے کے دھندے میں مصروف ہوجاتاہے

مغرب:یہ وقت شکرانے کا ہوتاہے کہ پورادن خیرخیریت سے گزرگیا۔بیوی بچوں گھروالوں کے لئے روزی ملی وافرروزی ملی۔اللہ کاقرآن میں وعدہ ہے کہ میں شکرکرنے والوں کوا مذیدعطاکروں گا۔ شکرسے نیکیوں اوربرکت میں اضافہ ہوتاہے۔ شکرسے انسان زندگی میں مسرت آتی ہے۔

عشاء:نمازعشاء رات کا آغازہے رات کی تنہائی اوراندھیراانسان کے اعصاب پرمثبت اثرات مرتب کرتاہے

انسان جب سارے دن کے کام کاج سے تھک کرچُورہوجاتاہے اورنفس اسکو آرام کی طرف دھکیلتاہے اورنفس کو دھکیل کر رب کی طرف رجوع کرکے نفسکی غُلامی سے نکل جاتاہے۔

 

نمازکے ارکان

اب ہم آتے ہیں نمازکے دوران مختلف حرکات وسکنات جن کی وجہ سے روحانی وجسمانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں!

قیام:جب نمازی ہاتھ اٹھا کر سر کے دونوں کانوں کی لوکے قریب لے جاتا ہے تو ایک مخصوص برقی رونہایت باریک رگ اپنا کنڈنسر بنا کر دماغ میں جاتی ہے اور دماغ کے اندر اس خانے کے خلیوں کوچارج کر دیتی ہے۔ اس سے دماغ میں روشنی کا ایک جھما کا ہوتا ہے ،اس سے تمام اعصاب متاثر ہوکر اس خانے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ساتھ ہی ہاتھ کے اندر ایک تیز برقی رو دماغ میں منتقل ہو جاتی ہے۔جب کانوں سے ہاتھ ہٹا کر ناف پرلے جاتے ہیں اور پھر باندھتے ہیں توہاتھوں کے کنڈنسر سے ناف میں بجلی کا ذخیرہ ہو جاتا ہے

قیام میں انسان کا جسم بالکل بے حرکت اور ساکن ہو تا ہے یہ قیام گھٹنوں ،ٹخنوں اور پیروں سے اوپر پنڈلیوں ،پنجوں اور ہاتھ کے جوڑوں کو قوی کرتا ہے ۔گنٹھیا کے درد کو ختم کرتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جسم سیدھا رہے اور ٹانگوں میں خم واقع نہ ہو۔ مزید یہ کہ قیام میں نمازی جس حالت میں ہوتا ہے اگر روزانہ چند منٹ ایسی حالت میں کھڑے رہیں تو دماغ اور اعصاب میں زبردست قوت اور طاقت پیدا ہوتی ہے ۔اس سے قوت فیصلہ اور قوت مدافعت زیادہ ہو جاتی ہے

حالت قیام میں کھڑے ہونے سے کمر ،گھٹنے اور ایڑیوں کے درد سے افاقہ حاصل ہوتا ہے۔سیدھے کھڑے ہوکر رکوع پرموجود ہونا گھٹنوں کیلئے بہت مفید ہے،اورطبی طورپر سب سے زیادہ مفید رکوع سوکر اٹھنے کے بعد یعنی فجر کی نماز کا ہے

رکوع:جھک کر رکوع میں دونوں ہاتھ اس طرح گھٹنوں پر رکھے جائیں کہ کمر بالکل سیدھی رہے اور گھٹنے جھکے ہوئے نہ ہوں تو اس سے معدے کو قوت پہنچتی ہے۔نظام انہظام درست ہوجاتا ہے،قبض دور ہو جاتا ہے، آنتوں اور پیٹ کے عضلات کا ڈھیلا پن ختم ہو جاتا ہے،کمر اور پیٹ کی چربی کم ہو جاتی ہے

قعود:سجدہ کے بعد ٹانگیں اپنے جسم کے نیچے رکھ کر سیدھا بیٹھ جانے کو قعود کہتے ہیں۔اس حالت میں بیٹھنے سے انسانی جسم کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اس کی کمر اور گھٹنے ورزش کے بعد ایک درست آرام دہ حالت میں آجاتے ہیں جس سے درد میں افاقہ ہوتا ہے

سجدہ:دوران نماز اپنی پیشانی کو دیگرجسم سے نیچے جھکانے سے دوران خون بہتر ہوتا ہے اور دماغ کو خون کی روانی بہتر ہوتی ہے جو انسان کو فالج کے خطرے سے بچاتی ہے، انسانی پٹھوں،جوڑوں کو بھی مناسب خون کی فراہمی ہوتی ہے جو ریڑھ کی ہڈی کے درد کا خاتمہ کرتا ہے

۔رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہو کر سجدہ میں جایا جاتاہے اور سجدہ میں جانے سے پہلے ہاتھ زمین پررکھے جاتے ہیں۔خصوصاً خواتین کیلئے یہ عمل ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط اور لچکدار بناتا ہے اور اندرونی اعصاب کو تقویت بخشا ہے۔اگر رکوع کے بعد سجدے میں جانے کی حالت میں جلدی نہ کی جائے تو ایک بہترین ورزش ہے،یہ رانوں کے زائد گوشت کو گھٹاتی اور جوڑوں کو کھولتی ہے۔اگرکولہوں کے جوڑوں میں خشکی آ جائے یا چکنائی کم ہو جائے تو اس عمل سے کمی پوری ہو جا تی ہے اور بڑھا ہوا پیٹ کم ہو جا تا ہے۔سجدہ کی حالت میں خون دماغ کی شریانوں کی طرف زیادہ ہو جا تا ہے ۔اس سے دماغی اعصاب ،آنکھوں اور سر کے دیگر حصوں کی طرف خون کی متوازن (circulation)ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دماغ اور نگاہ بہت تیز ہو جاتی ،مزید یہ کہ خشوع وخضوع کے ساتھ دیر تک سجدہ کرنا دماغی امراض کا علاج ہے۔اس سے رخساروں پر سے جھریاں ختم ہو جاتی ہیں ،یادداشت صحیح طور پر کام کرتی ہے ۔فہم وفراست میں اضافہ ہو جاتا ہے۔آدمی کے اندر تدبر کی عادت پڑ جاتی ہے۔صحیح سجدہ کرنے سے بند نزلہ ،ثقل سماعت اور سر دور جیسی تکلیفوں سے نجات ملتی ہے۔
ایک امریکن ڈاکٹر کے بقول کہ عورتوں کو اگر پتہ چل جائے کہ نماز میں لمبے سجدے کی وجہ سے چہرہ خوبصورت ہوتا ہے اور نور آتا ہے تووہ سجدے سے سر ہی نہ اٹھائیں

سلام:سر کو دائیں اور بائیں گھمانا گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے لے ایک بہترین ورزش ہوتی ہے۔ یوگا کے ماہرین کے مطابق اس سے انسانی گردن مضبوط ہوتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ گردن کے جوڑ کے دوران خون میں بہتری آتی ہے

رکوع قیام سجود قعدہ وغیرہ یہ سب مل کر انسان کے پٹھوں کو تقویت بخشتے ہیں۔

 

نمازپنجگانہ اوراوقات کے کچھ   روحانی طبی  جسمانی فوائد

اللہ کے ہرکام میں مصلحت اورحکمت پنہاں ہوتی ہے

روحانی فوائد

نمازعبادت ہے پریشانیوں کا حل اورنفسیاتی اورجسمانی عوارض کا حل پیش کرتی ہے۔اس سے تعلق مع اللہ اورپیارے نبیﷺسے قربت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

یورپین تحقیق کےمطابق نماز جسمانی تناو اور بے چینی کا خاتمہ کرتی ہے۔

پانچ وقت کی باقاعدہ ورزش یعنی نماز انسانی اعضاءکے پرسکون ہونے کا سبب بنتا ہے۔

ڈیپریشن سے نجات ملتی ہے

دنیا وآخرت میں بھلائی ملتی ہے  اورخاتمہ بالایمان ہوتاہے

رزق میں اضافہ ہوتاہے اوراللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے

جسمانی فوائد

اگرطب کی کتب اورروزمرہ کی تحقیقات پرغورکریں تواس میں ورزش کونمایاں حیثیت حاصل ہے اورنمازایک بہترین ورزش ہے

نماز کی ادائگی سے انسان کو کئی جسمانی عوارض سے نجات ملتی ہے۔

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی، امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی اور پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے دوان اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی نماز یا عبادت کے طریقہ کار اور جسمانی صحت کے فوائد کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اگر پانچ وقت کی نماز کو عادت بنالیا جائے اور درست انداز سے ادا کی جائے تو یہ کمردرد کے مسائل سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تجربات سے معلوم ہوا کہ دوران نماز رکوع اور سجدے کی حالت میں کمر کا زاویہ ایسا ہوتا ہے جو کمر درد میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے

جسمانی اعضاء مثلا دل ،پھیپھڑے،دماغ،آنتیں ،معدہ ریڑھ کی ہڈی ،گردن ،سینہ اور تمام قسم کے گلینڈز کی نشوونما کرتی ہے

نماز سے انسان جوڑکے دردکاشکارنہیں ہوتا ۔نمازسے نظرتیز ہوتی ہے ۔لمبے سجدوں سے انسان کے زیرناف مسائل حل ہوتے ہیں

طبی فوائد

علاج بالغذکرنے والے حکماءکا بھی کہنا ہے کہ گوناگوں پریشانیوں اورکئی نامعلوم بیماریوں کا واحدحل نمازہی ہے

ایک مسلمان نمازکے ان روحانی طبی جسمانی  فوائدوثمرات ،فیوض وبرکات سے اسی وقت مستفیدہوسکتاہے جب وہ کامل ایمان ویقین سے نمازکی طرف متوجہ ہو۔ انسان حلال

روزی کمائے  اورخضوع اورخشوع سے نمازکی ادائیگی کا حکم بجالائے اورگناہوں سے بچتارہے اوراتباع سنت پرپوری طرح کاربندرہے۔اللہ ہم سب کونمازکی فیوض وبرکات سمیٹنے کی توفیق عطافرمائےنیز  مسجد میں پانچ وقت پہلی صف میں تکبیر اولیٰ سے نمازپڑھنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین

 

حوالہ جات

اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل آرٹیکلز موادسے استفادہ حاصل کیا گیا

ہفت روزہ تکبیر  ،عبدالتواب شیخ  ،۱۱ اکتوبر ۲۰۱۷  ،ص ۱۱

پانچ وقت کی نماز کمردرد سمیت صحت کیلئے انتہائی فائدہ مند ۹ مارچ ۲۰۱۷ ڈیلی پاکستان آن لائن ایڈیشن

نماز پڑھنے کے وہ فائدہ جو مسلمانوں کو بھی شاید معلوم نہ ہو،۱۹ جون ۲۰۱۷ ڈیلی پاکستان آن لائن ایڈیشن

نماز اورسائنس ،محمدذوالفقارعلی ،۲۳ جون ۲۰۱۷ ڈیلی پاکستان آن لائن ایڈیشین

حکیم طارق مجذوبی ،ادارہ عبقری  میگزین ، درس VOL_0455_DT_12_10_17

عبقری ویب سائیٹ بحوالہ بیان حکیم طارق  فائل حوالہ

نمازفجرکی اہمیت وٖفضیلت ،حافظ عثمان یوسف ،ص ۱۸ ۔۲۴تا۳۰ نومبر ۲۰۱۷ ،ج ۴۸،شمارہ ۴۵

 جنگ میگزین

ماھنامہ محاسن اسلام

 

No comments:

Post a Comment

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...