Thursday, 24 November 2022

پاکستان میں اکیڈیمیا انڈسٹری لنکجز کافروغ ،اہمیت اورضرورت

 

پاکستان میں اکیڈیمیا انڈسٹری لنکجز کافروغ  ،اہمیت  اورضرورت

 تحریر مجاہدعلی:مینجریوآئی پی پروگرام،ایڈیٹرمیگزین

 کُچھ عملی  تجاویز وسفارشات

رحمت اللہ : چیف  کوارڈی نیٹر، ادارہ فروغ  تحقیق (آئی آرپی)

حامد ملک :سی ای اوانڈس پاک کارپوریشن ،اعزازی مشیر ساتھا  یوایم ٹی  لاہور


 

 عصر حاضر میں پوری دنیا میں انڈسٹری اکیڈیمیا لنکجز ایک اہم موضوع بن کر سامنے آرہا ہے ۔ پچھلے کئی سالوں سے پاکستانی  جامعات میں  ریسرچ سکالر،سائنسدانوں انڈسٹری اوردیگرفریقین اس پرمسلسل بحث جاری ہے۔پاکستان میں اب یہ موضوع نیا نہیں ہے ۔آج سے دس بارہ سال پہلے پاکستان میں اس موضوع پر کہیں کہیں غیرمربوط انداذمیں بحث اورکام ہوتارہا ہے۔لیکن آج الحمداللہ ادارہ فروغ تحقیق (آئی آرپی) کے تحت یہ موضوع نیا نہیں ہے کیونہ پچھلے سات آٹھ سالوں یی پیغام پورے پاکستان کی جامعات اورایوان صنعت وتجارت ،تحقیقاتی اداروں اورمتعلقہ فریقین کا محبوب ٹاپک بن گیا ہے اب یہ ٹاپک ہم سب کا مشترکہ اثاثہ بن چکاہے۔

 

پاکستانی منظرنامہ

مغربی اقوام نے صنعتی انقلاب کے حوالے سے بہت ترقی کی ہے اوریہ سب انڈسٹری اکیڈیمیا کی مرہوں منت تھی

کہا جاتاہے کہ پاکستان ابھی بھی اس میدان میں دنیا سے  دس پندرہ سال پیچھے ہے ۔۔اب یہ کوشش کی جانی چاہئے کہ اس پاکستان  میں  اکیڈیمیا انڈسٹری  لنکجز کے خلاکو پُرکیا جائے پرکیا جائے کیونکہ پاکستان اس ضمن میں لنکجزکے حوالے سے ابھی دورہے ۔ٹیکنالوجی ٹرانسفراور کمرشلائزیشن صرف لنکجزسے ہی ممکن ہے

  پاکستان میں ابھی  بھی کسی نہ کسی طورپر اکیڈیمیا انڈسٹری کے ساتھ چھوٹے بڑے پراجیکٹ پرکام جاری وساری ہے ۔مقامی طورپر دستیاب خام مال ومیسر انسانی وسائل ے سائنسدانو ں  نے مل جل کئی دیسی و مقامی ٹیکنالوجی تخلیق کی ہے  اورتقریبا فوڈ آئی ٹی  کیمیکل زراعت  اوردیگرکئی شعبہ جات میں کام جاری ہے۔اس سے نہ صرف مقامی روزگارکے مواقع پیداہوئے ہیں بلکہ کئی چھوٹی بڑی  ٹیکنالوجی  بھی منظرعام آئی ہیں یہ سب ہمارے قابل سائنسدانوں کی مرہون منت ہیں ۔اس سے کسی حدتک مقامی انڈسٹری کو 

غیرملکی مہنگی  ٹیکنالوجی سے کسی حد تک نجات بھی ملی ہے جس سے ان کے اخراجات میں کمی بھی ہوئی ہے ۔ضروررت اس  امرکی ہے کہ  طلباء اورجامعات کی تحْقیق سے بھرپوراستفادہ حاصل کیا جائے۔پاکستان میں اس سیکٹرمیں ابھی کام کرنے کی ضروت ہے اوراس کام میں حقیقتا بہت پوٹینشل موجودہے۔اللہ تعالیٰ نے مشورے اورمل جل  کر کام کرنے میں برکت رکھی ہے کوئی بڑاکام ٹیم ورک کے بغیرنہیں ہوتا اس لئے فریقین کا ایک دوسرے کی مہارت تجربے اوروسائل سے بھرپورفائدہ اٹھانا چاہیئے

کہا جاتاہے کہ تحقیق ایک دقت طلب اورصبرآزما مرحلہ ہوتاہے جبکہ انڈسٹری بعض حالات میں جلدنتائج کی توقع رکھتی ہے ۔جہاں کام ہوتا ہے وہیں پر مسائل وشکایت بھی جنم لیتے  اسی لئے  ہیں بعض اوقات انڈسٹری اوراکیڈیمیاں ایک دوسرے کو موردالزام دکھائی دیتے ہیں ۔یونیورسٹی کی بات کی جائے تو ان کے متعلق یہ بات مشہورہے کہ یہاں کے سائنسدان ریسرچر لیب سے نکل کر فیلڈ میں جانا ذرا کم ہی پسند کرتے ہیں جبکہ دوسری اکییڈیما کو انڈسٹری سے فنڈ کی عدم فراہمی کی شکایت رہتی ہے ۔بعض پراجیکٹ کی لاگت بہت ذیادہ ہوتی ہے۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے گورنمنٹ کو آگے آنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ مشترکہ مقاصد پراکٹھا ہوکرتحقیق کی جائے۔

 

مثبت قابل عمل مفید تجاویزاورسفارشات ،مشورہ جات اوراقدامات

پاکستان میں الحمداللہ ۲۰۱۰ لاہورایوان وصنعت تجارت اورآئی آرپی کے ساتھ مل کر میں یونیورسٹی انڈسٹری پورٹل پرکام شروع ہواتھا ۔اس کے تحت پاکستان کی جامعات کی ٹیکنالوجی اورجدید تحقیقات اورانڈسٹری کی فنی تحقیقی مسائل اوردیگرضروریات کو ایک پورٹل پراکٹھاکیاگیا تھا ۔جبکہ اس کے متوازی کئی ماہ وسال کئی طرح کی ٹریننگ ورکشاپ کانفرنس میٹنگز سیمینار اوردیگرتقاریب کا اہتمام بھی کیاگیا تھا۔اس دوران اکیڈیمیا انڈسٹری گورنمنٹ کی جانب سے کئی تجاویزسمانے آئی ۔کئی افرادنے انفرادی تجاویزدیں۔سائنسدانوں ،ریسرچرزاورماہرین نے اپنی اپنی معلومات اورتجربات کی بناپرمعلومات شئیر کیں ۔

اللہ تعالیٰ ہر ذی انسان کو مخصوص صلاحیتوں اورذہانت سے نوازرکھا ہے۔ہرکسی کے پاس عقل اورشعورکے مطابق کوئی نہ کوئی حل موجودہوتاہے۔پاکستان میں مختلف  اداروں سائنسدانوں موجد محققین  ودیگر ایکسپرٹ سے کئی ماہ وسال میٹنگ سمپوزیم ورکشاپ سمٹ  کانفرنس وغیرہ  سے ملکر ان کا انعقاد ہوا دوران گفتگو کئی تجاویز بھی سامنے آتی گئیں  کہ پاکستان میں ان تینوں فریقین کے مابین تعلقات کو کیسے فروغ دیا جاسکتاہے۔اس دوران فیلڈ سے بھی اسباق سیکھے اورزمینی حقائق کی بناپرکچھ مشوروں اورسفارشات پربھی عمل کی گیا

اس دوران کئی اسباق بھی سیکھے اکیڈیمیا انڈسٹری حکومتی سطح  پر  لنکجزکے سفرکے دروان ادارہ  فروغ تحقیق کو بہت ساری تجاویز حاصل ہوئی جن سے درج ذیل  سفارشات  تجاویزآئیڈیازملے کہ ملک پاکستان میں کیسے ان  فریقین کے مابین تعلق کو فروغ دیا جاسکتاہے۔

 

یونیورسٹی کے سائنسدانوں کو اب اپنی ایجادسے بڑھ کر انڈسٹری اورسوسائٹی کے مسائل کو سائنسی طورپرحل کی طرف بڑھنا چاہئے

پاکستان میں انڈسٹری کے مسائل ہیں جن کو حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن اسکے حل کے لئے کوئی نظام اورنہ ہی ماہرموجودہیں۔جس کے لئے انڈسٹری کو بعض اوقات باہرسے ٹیکنالوجی درآمدکرنا پڑتی ہے۔کئی اشیاء ایسی ہیں جوکہ پاکستان میں بن سکتی ہیں اس کے لئے امپورٹ کا ڈاٹا دیکھا جاسکتاہے۔اس سے نہ صرف مقامی روزگارپیداہوگا بلکہ قیمتی زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔

 دنیا میں بے شمارروزمرہ کی بنیادپراس ضمن میں نئی سے نئی تحقیقات کا وجود رونما ہوتارہتاہے۔الحمداللہ ہماری پاکستانی جامعات  اورسائنسدانوں ،ریسرچرمیں  میں ذہانت ،صلاحیتوں اورپوٹینشل کی کوئی کمی نہیں۔ بس ان کو راہنمائی کی ضرورت ہے اوران سے کام لینے کا طریقہ آنا چاہئے

پوری دنیا میں انڈسٹری اکیڈیمیا لینکجزپرکام ہورہاہے ہرملک اپنے ماحول اورضروریات کے مطابق وسائل سے لیکر مفید ٹیکنالوجی پر کام کررہے ہیں لٹریچراس طرح کی معلومات اورتحقیقات  سے بھراپڑاہے کہ کیسے ان تینوں فریقین کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے نیزوہ کیسے مل جل کرم کرسکتے ہیں۔ماہرین سے بحث ومباحثے اور شرکاء کی اجتماعی د انش تجاویزکی صورت میں  آپ سب قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں ۔ ذیل میں دی گئی کچھ تجاویز کوپاکستان کے ماحول اورضروریات کے مطابق  انوویشن کے لئے ڈھالا جاسکتاہے

 

یونیورسٹی کی تمام تعلیم اورکورس مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق ہونا چاہئے خصوصی ذوراس چیزپردیا جانا چاہئے کہ طلباء وسائنسدانوں کو تکنیکی صلاحیتوں بمعہ آئی ٹی سکلزبھی سکھائی جائیں۔

پاکستان کی جامعات میں خصوصی طورپرایسے مضامین اورعلوم کو پڑھانا بہت اشدضروری ہے جن میں انڈسٹری کے مسائل اوران کے حل کی طرف توجہ ہو اورکس طرح درسگاہوں کے سائنسدان تحقیق کرکے صنعتوں اورکارباروی مسائل کا حل مقامی طوپردے سکتے ہیں اوراسکے ساتھ ساتھ وہ  انڈسٹری سے کچھ کمابھی سکیں  ۔دنیا کی کئی ایسی بے شمارجامعات ہیں جواس ماڈل پربڑے اچھے طریقے سے کام کررہی ہیں اوریوں ان کے سائنسدان کاروباری اداروں سے لاکھوں اربوں ڈالرکماکریونیورسٹی کو دیتے ہیں۔اس ضمن میں سائنسدانوں کوہمیشہ انڈسٹری کی جانب سے مالی تعاون میں عدم تعاون کی شکایت رہتی ہے

بہت ساری تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مشترکہ طوپر انڈسٹری کے ساتھ طلباء جو کام کرتے ہیں ان سے اکیڈیمیا انڈسٹری کے تعلقات کو فروغ دیا جاسکتاہے

 جامعات میں اکیڈیمیا انڈسٹری لنکجزپر علیحدہ سے خصوصی کورسزکروائے جانا ضروری ہے جن سے سائنسدان معاشی حل کی جانب اورسائنسی حل کی طرف بڑھ سکیں

انڈسٹری کے ہرسیکٹروبزنس مین کو چاہئے کہ وہ اپنے شعبے اورانڈسٹری کے سائنسی معاشرتی ودیگرسائنسی مسائل کو جامعات کے سامنے رکھے اوران سے ان کا سائنسی حل مانگیں اس ضمن میں انڈسٹری کو جامعات کی مالی تعاون کرنے کی ضرورت ہے اورجہاں کہیں اخراجات ذیادہ ہوں وہاں حکومتی سطح پر تعاون کی اپیل کی جائے

جامعات کے مختلف شعبہ جات کے سربراہوں ڈین وغیرہ کو چاہئے کہ وہ مہینے میں کچھ دن انڈسٹری کے عملی مسائل کو جاننے میں لگائیں کچھ پراجیکٹ طلباء کو دئے جائیں تاکہ وہ ابتدائی طورپرمسائل کی نشاندہی کرسکیں کئی ترقی یافتہ ممالک میں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ ڈین وغیرہ بذات خود انڈسٹری میں جاکرمسائل کا حل بتاتے ہیں اوریوں مل جل کرکام کرتے ہیں

یونیورسٹیوں میں انکیوبیشن سیںٹرزاور ٹرانسفرآف ٹیکنالوجی جیسے شعبہ جات قائم کئے جائیں۔

ہمارے ہاں اصل ذمہ داری سائنسدانوں پرہی عائد ہوتی ہے وہ اصل اپنی ساری توانائی اورتوجہ انڈسٹری کے مسائل کو سمجھنے پرلگائیں اوران کے مسائل کا ٹھوس اورپائیدارتجویزکرکے ٹیکنالوجی پرکام کریں تبھی جاکرصنعت کاروں کا ان پر اعتماد بحال ہوگا کیونکہ ایک کاروباری شخص صرف پیسے کی ذبان سمجھتاہے اگراسے اس ٹیکنالوجی یا پراسیس میں منافع کی خوشبومحسوس ہوتو وہ خودکئی قدم بڑھ کر پیسہ نچھاورکرنے کے لئے تیارہوتاہے

اکیڈیمیا کوکاروباری شخص کی زبان اوردماغ کوسمجھنے کی ضرورت ہے

جامعات کے طلباء انڈسٹری کی چھوٹی چھوٹی سائنسی  اسائمنٹس پرکام کریں بڑے پراجیکٹ میں نامی  گرامی پروفیسرز اورسائنسدانوں  کو شامل کیا جائے

کسی بھی شعبے کے ہیڈ یا ڈین کو انڈسٹری کے ساتھ بہت قریبی تعلقات رکھنا چاہئے اوران کے پاس  مسائل کو جانیں اوران کا حل نکالیں

پاکستان کی تما م یونیورسٹیوں کو عملی یونیورسٹیاں  (انٹرپرینر یونیورسٹی ) بنانے کے لئے خصوصی اقدامت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سرکاری وسائل کی بجائے خود اپنے لئے وسائل پیداکرسکیں !

انڈسٹری کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے سائنس  وٹیکنالوجی سے متعلقہ مسائل کو تمام جامعات سے شیئرکرتے رہیں اورساتھ میں اس مسلے کو حل کرنے کے حوالےسے مالی تعاون کے حوالے سے حوصلہ افزائی کرتے رہا کریں

ٹیکنالوجی ایکسپرٹ کی ڈائریکٹری بنانی چاہے جن میں مختلف شعبہ جات سے متعلق ایکسپرٹ کے متعلق معلومات ہوں

  جامعات کے مشاورتی گروپ یا اجلاس میں انڈسٹری کے نمائندوں کو بھی نمائندگی دی جائے اس سے انڈسٹری ڈویلپمنٹ کو فروغ حاصل ہوسکتاہے

ملک میں نالج بیسڈاکانومی کوفروغ دینے کی ازحدضرورت ہے

ہماری انڈسٹری کو ٹیکنالوجی کی بہت ضرورت ہے کیونکہ وہ بعض صورتوں اورحالات میں مہنگی ٹیکنالوجی کو ایفورڈ نہیں کرسکتے  ہماری انڈسٹری بھی سائنسی تحقیق کی طرف توجہ نہیں کرتی

ایگری کلچر صحت تعلیم اورسوشل ویلفئیر  توانائی ٹیکسٹال کیمکیل سیکیٹر میں بہت کام کی گنجائش ہے

طلباء کو ٹیکسٹائل فارما کمپنیز میں اپرنٹس دی جانی چاہئے

جامعات کا نصاب ازسرنوتشکیل دیا جانا ضروری ہے جس میں ٹرپل ہیلکس ماڈل  کے متعلق لازمی معلومات ہوں

پروفیسراورسائنسدانوں کو انڈسٹری کے ساتھ منسلک رہنا چاہئے تاکہ ان کو جدید معلومات اوران کے مسائل کا علم ہو اوروہ کیسے اپنے لئے انڈسٹری کے حوالے سے کام اورٹیکنالوجی کے حوالے سے کام کرسکتے ہیں

مختلف اداروں جیسا کہ ایچ ای سی ،این جی اوز وغیرہ کو چاہئے کہ تحقیقاتی پراجیکٹ کو سپانسر کریں

جامعات میں خاص مخصوص شعبہ جات قائم کئے جائیں جیسا کہ شوگرچاول آٹا فوڈپراسیسنگ وغیرہ اگرطلباء ان صنعتوں میں کام کریں گے تو ذیادہ حقیقی علم ملے گا

 جامعات میں ایڈوانس کورسز اورٹریننگ کورسز کو متعار ف کروایاجانا ازحد ضروری ہے اس میں انڈسٹری کے لوگوں کو شرکت کرنا چاہئے تاکہ وہ جدید علم اورمہارت حاص کرسکیں

حکومتوں کو چاہئے کہ وہ انڈسٹری اوراکیڈیمیا کے مابین مختلف پروگرام کا آغازکرے

گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ ہائیرایجوکیشن کی امداد کوتین گناہ بڑھا دے

یونیورسٹی کے اندرہی ٹیکنالوجی انکیوبیشن سینٹر اورسائنسی ادارے قائم کئے جانے چاہئے تاکہ آئیڈیازکو پراڈکٹ میں بدلاجاسکے

اطلاقی سائنس کو فروغ دیا جائے ملکی جامعات میں

اکیڈیمیا اورانڈسٹری کے مابین مختلف سائنیسی سرگرمیوں کوفروغ دیا جایا جوکہ کانفرنس سیمینارسپمیوزیم سمٹ ورکشاپ اورچھوٹی ٹریننگ کی شکل میں مشتمل ہوسکتی ہیں

انڈسٹری اپنے ہاں آراینڈ ڈی سینٹرسرگرمیوں کو فروغ دے

یونیورسٹی کے اندرآراینڈ ڈی یونٹ کی تشکیل کی جائے جس میں پیچیدہ آلات نصب ہوں جس سے یونیورسٹی پراڈکٹ ڈولپمنٹ کرسکے اورکچھ نئی چیزیں بھی ایجادکرے

اکیڈیمیا انڈسٹری دونوں مل جل کرماڈل انڈسٹری بنائیں

گورنمنٹ اورانڈسٹری کو چاہئے کہ وہ لیبارٹری بنائیں ٹیسٹ کی سہولیات ہوں اورتجربہ کارسٹاف ہوں

اکیڈیمیا بھی بزنس اینٹرپرائزکی طرح ترقی کرے

گورنمنٹ اکیڈیمیا انڈسٹری مل جل کرٹیکنالوجی فنڈقائم کرے تاکہ ان کے دوران پائدارتعلقات کو فروغ حاصل ہوسکے

فیکلٹی کی ٹریننگ اس طرح کی جائے ان کے اندربزنس اورمینجمنٹ سکلزپیداہوسکیں تاکہ وہ سائنس پارک اورٹیکنالوجی انکیوبیٹرکو بہتراندازمیں چلاسکیں

گورنمنٹ انڈسٹری کو چاہئے کہ وہ سائنسدانوں اورموجدکی حوصلہ افزائی کریں

یونیورسٹی کو عملی اورتحقیقی یونیورسٹی بنانا چاہئے۔ نالج بیسڈ معیشت کو فروغ دینا جانا بہت ضروری ہے تاکہ جدید معلومات اورعلم کو منتقل کیا جاسکے

یونیورسٹی کے لئے پرفارمنس کی بنیادپرفنڈنگ ہوااوراسی طرح محقق کو بھی ریوارڈ دینا ضروری ہے

یونیورسٹیاں مقامی انڈسٹری کے ساتھ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کرکام کریں تاکہ جدید علم حاصل ہو

یونیورسٹی کے اندراورک کے کردارکو فعال کرداراداکرنا چاہیئے

 

“Coming together is a beginning, keeping together is progress and working together is success” Henry Ford

 

فردملت سے

 

فردملتے سے ستعار

1 comment:

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...