بسلسلہ
:تعلیم وتربیت ،کیرئیرگائیڈنس وکونسلنگ
پاکستان میں
نویں دسویں کلاس کےطلباءکے لئے کیرئیرآگاہی پروگرام
وقت کی اشد ضرورت!
والدین، طلبا اورپالیسی سازاداروں کے لئے ایک اہم اورقابل غورتحریر
تحریروتحقیق:مجاہدعلی
mujahidali12 5 @yahoo.com, 0333 457
6072
خُلاصہ:بنیادی طوریہ تحریر انڈیامیں ہوئے
ایک کیرئیر آگاہی پروگرام کے نتائج پرمشتمل ہے۔جس میں تین سوتریپن سرکاری سکولوں کے تئیس ہزارنوپینتیس
طلباءوطالبات نے حصہ لیا جس کی تفصیل آپ آگے چل کرپڑھیں گے
بچے کسی بھی قوم وملک کاقیمتی اثاثہ اورمستقبل ہوتے ہیں اس حوالے سے ریاست
،والدین سکول اوراساتذہ ان کی تعلیم وتربیت کے ذمہ دارہوتے ہیں۔تعلیم وتربیت کے
ساتھ کیرئیرکونسلنگ اوررھنمائی بھی ایک اہم تعلیمی ضرورت ہے کیونکہ اسکاتعلق بچوں
کی مستقبل کے حوالے سےکیرئیرپلاننگ کرنا بھی
ہوتاہے کیونکہ اس عمرمیں بچوں کواتناشعوراورمعلومات نہیں ہوتی ہیں ۔یہ
والدین سکول، استاداورمنصوبہ سازاداروں اورریاست کابھی فرض ہے کہ وہ بچوں کی اس حوالے
سے بچوں کوضروری رھنمائی فراہم کریں تاکہ وہ اپنے مستقبل ، منزل اورسمت کاایک واضح
تعین کرسکیں۔
ہم جس دورمیں
سکول میں پڑھتے تھے توہمیں پتہ نہ تھاکہ آخرکیرئیرکونسلنگ آخرکس بلاکانام ہے لیکن
آج کی نئی نسل اس حوالے سے انتہائی خوش قسمت ہے کہ انھیں بہت جدیدذرائع ووسائل
دستیاب ہیں اورانکی رھنمائی کے لئے تعلیمیافتہ والدین اورذمہ داراساتذہ دستیاب
ہیں۔
ثانوی تعلیمی
بورڈ کے نتائج سے پتہ چلتاہے کہ طُلباءکی اکثریت ۱۰ویں اوربارہویں کے امتحانات میں
ناکام ہوجاتے ہیں جس سے انکے سکول اورکالج سے خارج ہونے کاخطرہ بڑھ جاتاہے۔ایک بار
جب ایسا ہوجاتاہے تو ان کے لیے صرف ایک ہی راستہ کھلا رہ جاتا ہے، وہ ہے غیر منظم شعبے میں معمولی نوکریاں کرنا!
آئیں انڈیامیں
ہوئے سکول کے بچوں کے لئے کیرئیرآگاہی
پروگرام کے متعلق کچھ مختصرطوپرجانتے ہیں ۔ذیل میں سروے کے کچھ چنیدہ نکات
کوزیربحث لایاگیاہے۔
کیرئیرآگاہی پروگرام: پروگرام کا مختصر تعارف واجمالی جائزہ
کیرئیرآگاہی
پروگرام (سی اے) کے تحت سکول کے بچوں کو کیرئیرکے حوالے سے ایک خاص
پروگرام میں شامل کیاجاتاہے جسکا بُنیادی مقصد بچی یابچے کااپنی ذات کے بارے میں
آگاہی اورشعورکےعمل کو آسان بنانا ہے اوراس کے بعد ان کے لئے غیر استحصالی شعبے میں کیریئر کے بہت سارے آپشنزکے
بارے میں آگاہی اورشعورکو پیدا کرنا ہے۔اس پروگرام کے تحت طلباء کومختلف سرگرمیوں اورمراحل سے گُزاراجاتاہےتاکہ ان
کواپنی انفرادی صلاحیتوں اور ترجیحات کے
مطابق بہترین کیریئر کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔یہ پروگرام طالب علموں کو احتیاط سے
خود کی جانچ پڑتال کرنا سکھاتاہے اور اس
سیکھنے کی بنیاد پر مستقبل کے لئے
ان کے لئے ایک کورس چارٹ پیش کیا جاتاہے۔
تحقیقی پروگرام
کےنتائج
انڈیامیں تین
شہروں پرمشتمل تقریبا تین سوتریپن سکولوں میں زیرتعلیم طلبہ وطالبات اس پروگرام کاعملی
طورپرحصہ بنے۔ جنکا تعلق ممبئی،پُونا اوراُوددے پورسے تھا۔ اس تحقیق یا پروگرام
میں تئیس ہزارنوسوپینتیس طلباءنے حصہ لیا اوراس پروگرام میں تین سوتریپن سکولوں
کواس پروگرام میں شامل کیاگیا ۔
اس پروگرام کے
سروے نتائج کے مطابق ۷۱فیصدطلباء وطالبات کوسائیکومیٹرک ٹیسٹ کے بعد اپنے کیرئیرآپشنزکی
نشاندہی کے متعلق مذید آگہی ہوئ۔ ان کویہ پتہ چلا کہ ہمارے پاس اپنی پسندکے مطابق دیگر
فیلڈمیں کئی آپشنزکی بھی دستیابی موجودہے۔
اس پروگرام کے اختتام پر ساٹھ فیصدطباءنے دوبارہ واضح طورپر اپنےاپنےکیرئیرپلان کے
متعلق بتایا۔ کیونکہ پروگرام کے طریقہ کارکے مطابق ہرطالب علم سے آغازمیں انفرادی سطح پرپوچھاگیاتھاکہ وہ مستقبل میں
کیابنناچاہتے ہیں ۔ اس پروگرام کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد طلباء نے دوبارہ
اپنے کیرئیرپلان کے حوالے سے نئی ترجیحات کوتشکیل کیا!
![]()
اپنی ذات کے
بارے میں آگاہی اورکیرئیرآپشنز
![]()
موزوں کیرئیرکے
انتخاب کے حوالے سے فیصلہ سازی

اپنے
کیرئیرپلان کی تشکیل اورمستقبل کالائحہ عمل
کیرئیربیداری
یا آگاہی پروگرام پرایک طائرانہ نظر:کچھ
نُمایاں خصوصیات
کیریئر کے انتخاب کے حوالہ سے فیصلہ سازی اورمنصوبہ بندی ایک 15 سالہ نوجوان
کی زندگی میں ایک بہت ہی الجھن کاباعث ہواکرتاہے حالانکہ یہی کوشش کرنے کا اصل وقت
بھی ہوتاہے۔مارکیٹ میں مختلف
کیریئر کے آپشنزکے حوالے سےبہت محدود
مواقع ہوتے ہیں اورپھران وجوہات کی بنیاد پراگلے اقدامات پرعمل درآمد ایک مشکل سوال بن جاتا ہے. اس کے علاوہ، اگر
نوعمر کم آمدنی والے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، تو اسے اس مشکل مرحلے میں اس کی
رہنمائی کرنے کے لئے معلومات کے مناسب ذرائع یا رول ماڈل تک رسائی حاصل نہیں
ہوسکتی ہے. اعداد و شمار کے اندازے کے مطابق
86 فیصد ہندوستانی طالب علموں کو اس بات کی بہت
فکر ہے کہ اعلی تعلیم کے لئے کس طرح کے
آپشنزکواختیارکرناچاہئے۔اندازےکے مطابق ہی
تقریبا ۹۲ فیصدسکول کے طلباء کو اپنے اسکولوں (بمطابق انڈیا ٹوڈے ۲۰۱۷) سے کیریئر سے متعلق کوئی رہنمائی نہیں ملتی ہے۔جبکہ اس
سے ملتی جُلتی صورت حال پاکستان میں بھی ہے۔
پروگرام
درج ذیل عمل کے ذریعے طلباء کی کیریئر کے انتخاب میں رہنمائی کرتا ہے
یہ پروگرام نیویگیٹ (رھنمائی) کرنے کے لیے ایک
آسان ٹول استعمال کرتا ہے جو اپنی مرضی کے مطابق سائیکو میٹرک ٹیسٹ کے ذریعے
نوجوانوں کو خود کو، ان کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو سمجھنے کی طرف رہنمائی کرتا
ہے۔
اگلے مرحلے میں کئی کیرئیرآپشنزکوان
پرظاہرآشکارکیا جاتاہے کہ ان کے لئے کس طرح کے مواقع موجودہیں اوراسکے لئے کس طرح کی تعلیم کی ضرورت ہوگی نیزاس کے لئے کس طرح کے رحجان کی
ضرورت ہوگی۔
اس
پروگرام کے تحت پروگرام سے پہلے بچوں سے پوچھا گیاکہ وہ ذندگی میں کس شعبے میں
جاناچاہتے ہیں پھر مذیدآپشنزان کے سامنے
لائے جاتے ہیں اوربچوں کوکہا جاتا ہے کہ اب ذراوہ فیصلہ کرکے بتائیں کہ ان مذیدآپشنزکی
بُنیادپراب اُن کاکس پروگرام میں جانے
کاپلان ہے۔تمام نتائج کوایک بنے بنائے فارمیٹ پرمرتب کئے جاتے ہیں۔بہرحال اس حوالے سےایک جامع پروگرام تشکیل دیاگیا جس میں ان کی مددکے لئے سہولت کارموجودتھا اس میں مختلف اقسام کی سرگرمیاں اورتجربا ت شامل
تھے۔جب ٹول پرکام کرلیاگیاتودوہفتے بعد ہرطالب علم کوانفرادی طورپرکونسلنگ فراہم
کی گئی اورہرطالب علم کی کونسلنگ رپورٹ مرتب گئی ۔طلباءکے سوالات کا تسلی بخش
طریقے سے جواب دیکر ان کومطمن کیاگیا اورپھران کواگلے مرحلے کے متعلق راھنمائ
فراہم کی گئی۔
انڈیا میں سکول کے بچوں پرکیرئیرآگاہی پروگرام کے اثرات
کیرئیرآگاہی پروگرام : مختصر اعداوشمار
اورنتائج تحقیق نتائج
یہ مطالعاتی
تحقیق ۲۰۱۸تا۲۰۱۹ کے دوران کی گئ۔اس
تحقیق میں باون فیصدلڑکیاں شامل تھیں اورتئیس ہزارنوسوپینتس طلباءکواس پروگرام میں
شامل کیاگیا۔اس میں تین شہروں کوشامل کیاگیا۔
۹۱فیصدطلبانے اپنی دلچسپیوں صلاحیتوں اوررحجانات کے متعلق
جانا اورتسلیم کیا
۷۱ فیصدطلباءنے سائیکومیٹرک پروفائل کی بناپرکیرئیرآپشنزکی
نشاندہی کی
ساٹھ فیصد
طلباءنے اس پروگرام کے اختتام پر دوبارہ اپنے
واضح کیرئیرپلان کی نشاندہی ظاہرکی
اس پروگرام کے حوالے سےتیرہ
ہزارتین سواڑتالیس گھنٹے موادکی فراہمی میں صرف ہوئے
کیرئیرکے حوالے
سے طلباکی پسند
درج ذیل میں
طُلباء نے کیرئیرکی پسندیدگی کے حوالے سے
اپنی خواہش کااظہارکیا۔ جس سے ان کی کیرئیرکی ترجیحات کاصاف طورپرپتہ چلتاہے۔اس
سروے کے مطابق طلباء کی اکثریت نے سرفہرست اکاونٹس کےشعبہ کوپسندکیاجبکہ نچلی سطح
پرتعلیم کے شعبے میں جانے کوپسندکیا!
اکاونٹینٹ
پولیس یا
فائرفائٹر
آرکیٹیکٹ
جم ٹرینر
آرٹسٹ(گلوکار،ڈانسر،موسیقار،اداکاری)
بنکریامائکروفنانس
ڈاکٹریامیڈیکل
ٹیکنیشن
ٹریول ایجنٹ
یاٹورگائیڈ
آفس
ایڈمنسٹریشن
تعلیمی خدمات(استاد،نصاب
تیاری ،سکول)
اس پروگرام کے
بعد ۹۳فیصدطلباء نے پروگرام
کی بنیادپ اپنے حوالے سے مرتب کی گئی سفارشات
پرآمادگی کااظہارکیا ،یعنی ان کوکس فیلڈکاانتخاب کرناچاہئے یامستقبل میں ان کے لئے
کون سے شعبے موزوں رہیں گے۔
نتائج
اس پروگرام میں
۱۰۰فیصدہیڈماسٹرنے شرکت
کی۔ابتدائی طورپر اس پروگرام میں سکول کے سربراہ ،ہیڈماسٹریاپرنسپل شامل
کرناانتہائی ضروری ہے کیونکہ انھیں کے تعاون سے طلباءکے ذیادہ سے ذیادہ سے جوابات حاصل کرناممکن
ہوجاتاہے۔
انڈیامیں
وارڈکی سطح ایونٹ کاانعقادکروایاگیاجن میں متعلقہ شعبہ کے ماہرین کومدعوکیاگیا
اورساتھ ہی طلباء کوبھی شرکت کاموقع فراہم کیاگیا۔ان کومیڈیااوربینکنگ سیکٹر
وغیرہ میں کیرئیرکے مواقع کے متعلق بتایاگیا ۔ان تقریبات کا خاص بُنیادی
مقصد مختلف شعبوں میں کام کے حالات کے متعلق
بتانااور ان کو عملی معلومات کی فرا ہمی بھی تھا۔اسکے علاوہ مستقبل کے حوالے سے
مختلف تعلیمی آپشنز کا فیصلہ کرنے کے لیے
طلباء میں کیرئیر آپشنزکے بارے میں بیداری پیدا کرنا، نیز پروگرام کی پیشرفت سے
سرکاری افسران اورفیصلہ سازاداروں کو بھی
آگاہ کرنا تھا۔
اس کے علاوہ اس جامع پروگرام کے تحت ۱۹ سکولوں کے پرنسپل صاحبان سے بھی سروے کیاگیا ۔اس سے یہ بھی
پتہ چلاکہ تقریبا۱۰۰فیصدہیڈماسٹراس بات پریقین رکھتے تھے کہ کیرئیررھنمائی
تعلیم کاایک بہت لازم وملزوم حصہ ہے۔تقریبا۳۷فیصدہیڈماسٹرزنے کہاکہ سکول کے اندر بچوں کے لئے سال میں ۲دفعہ اس طرح کے
پروگراموں کاانعقادکروانابہت ضروری ہے ۔
دو
مختصر کیس سٹڈی
ایک
کیس سٹڈی
ایک بچی جوسرکاری
سکول میں ۹ویں
جماعت کی طالبہ تھی ۔اس کو کیرئیرآگاہی پروگرام
کے مختلف مراحل سے گزاراگیا ۔جس سے اس کوآگاہی وشعورملا۔اس پروگرام سے پہلے
اسکاخیال اورسوچ تھی کہ اسے کسی این جی اوکے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔لیکن جب
اس نے کیرئیرآگاہی پروگرام کومکمل کیاا
یعنی اس میں حصہ لیا ۔اس میں شرکت کرنے پرپراسے محسوس اورمعلوم ہواکہ اسکے ذہنی
رحجان،شوق دلچپسیوں کے مطابق تواسکے لئے کئی دیگرآپشنزبھی موجود ہیں۔اسے یہ بھی
معلوم ہواکہ اس کے اندرکئی خوابیدہ صلاحیتیں اورقابلیتیں چھپی ہوئی ہیں ۔اب وہ اس
پروگرام کے نتائج کے مطابق اب وہ خودکوایک اعلی پولیس کے لئے موزوں تصورکررہی ہے
اوروہ اب اس پیشہ میں جانے کاپلان کررہی ہے۔
دوسراکیس سٹڈی
اسی طرح ایک سرکاری سکول کے نویں کلاس کے طالب علم سے اس کے
کیرئیرسے متعلق پوچھاگیاکہ وہ
بڑاہوکرکیابنناچاہے گاتو اسکی خواہش سامنے آئی کہ وہ بڑاہوکر ایک انجنئربنناچاہتا
ہے۔لیکن اسکی غریب فیملی اس مرحلہ پراسکی فیس کی ادائگی نہیں کرسکتی تھی۔لیکن جب
اس نے کیرئیر آگاہی پروگرام کومکمل کیا
تواس کومعلوم ہواکہ انجنئرنگ سے ہٹ کر بھی دوسرے راستے اورکیرئیر آپشنزبھی موجودہیں
جواسکی صلاحیتوں ،خوبیوں اورہُنرسے تال میل کھاتے ہیں اس پروگرام کے بعد اب اس
نے فیصلہ کیاکہ دسویں کے بعد مکینیکل انجینئرنگ کا ڈپلومہ
کرے گا۔
بہرحال یہ توتھیں
دوچھوٹی عملی مثالیں تھیں جن سے صاحبان عقل دانش کئ طرح کے اسباق اخذکرسکتے ہیں ۔
نتیجہ
بچوں نے حقیقتااس پروگرام سے بھرپوراستفادہ کیا اوراس
بات کااظہارکیاکہ اس طرح کے پروگراموں کاانعقادسکول میں دوبارہ بھی ہوناچاہئے۔بچوں
نے اس طرح کے پروگراموںمیں بہت دلچسپی اورگرم جوشی کااظہارکیا!
عملی سفارشات
وتجاویز
ہمارے ہاں
یونیورسٹیوں اورمحقیقین کوچاہئے کہ وہ ۹ویں اور۱۰ویں
کلاس کے طلبہ کواس طرح کے آگاہی پروگرام کاآغازکریں
ابتدا میں این جی
او اوردیگرڈونرحضرات کے باہمی اشتراک سے اس طرح کے پروگراموں کاآغازکیاجاسکتاہے
اوروہ بھی تجرباتی طورپرمحدودسطح پر۔کم ازکم اس حوالے سے چھوٹے چھوٹے تجربات توکئے
جاسکتے ہیں!
اسکی پروگرام کی مناسب
مانیٹرنگ کی جائے اورنتائج مرتب کئے جائیں۔
پاکستان میں
بھی اس طرح کے پروگرام کاانعقاد کروانے کی وقت کی ضرورت بھی ہے،کیونکہ یہ آخربچوں اورقوم کے مستقبل
کاسوال ہے جس پرکوئی کسی کسی کاکوئ سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتاہے۔یادرہے کہ بچوں کی
استعدادیاان کی ممکنات ہی ان کوغیرمعمولی انسان بناتے ہیں
###
صاحب تحریر:
صاحب تحریر:بنیادی طور میں ایک فری لانسررائٹر کے طورپرکام کرتاہوں
اوراسکااظہاراپنے بلاگ ،سوشل میڈیاپرکرتاہوں ،تعلیم وتربیت اورکیرئیرگائیڈنس جیسے
مضامین میں دلچسپی رکھنامیرے دل کے بہت قریب ہے ۔دستیاب معلومات اورمختلف
آرٹیکلزکامطالعہ کے بعدان کوتحریرشکل دیناایک مرغوب مشغلہ بھی تاکہ اس موضوع میں
دلچسپی رکھنے کونیاموادمل سکے اوروالدین اساتذہ طالب علم کوسوچ کے نئے زاویے بھی
مل سکیں!فیصلہ کرناآپکاکام!
22&23Sep2022
No comments:
Post a Comment