Tuesday, 27 June 2023

پی ایم ایل ن لیگ نئے بیانیہ کی تلاش میں

 

پی ایم ایل ن لیگ نئے بیانیہ کی تلاش میں

ایک سیاسی تجزیہ

مجاہدعلی

 

mujahidali125@yahoo.com

 

رجیم چینج کےبعدن لیگ نے اپریل ۲۰۲۲ عنان حکومت سنبھالی تو پی ڈٰ ی ایم کوجہاں سازش کرنےکاطعنہ ملاتووہیں  عوام کوروز بروز بڑھتی مہنگائی کاتحفہ ملا ،جس  کاسلسہ ابھی تک جاری وساری ہے۔پھرپی ٹی آئی ۔عمران  خان کی طرف سے بھی   رجیم چینج کابیانیہ سامنے آیا ۔بہرحال دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کومُوردالزام ٹھہراتے رہے۔ن لیگ کو حکومت سنبھالنےکے بعد سب سے بڑامسلہ بڑھتی مہنگائی کاتھا ۔اس لئےاُس  کےپاس عوام کےسامنے پیش کرنےکےلئے کوئی بیانیہ نہ رہا۔

ن لیگ   کےپاس چونکہ کوئی بیانیہ نہ تھا ۔لہذاانھوں نے توشہ خانہ کی صورت میں نیابیانیہ گھڑھا اورپیش کیا  لیکن چند ماہ میڈیاپرغلغلہ ہوالیکن یہ بیانیہ ذیادہ پروان نہ چڑھ سکا  ۔ن لیگ نے کئ ماہ صرف اسی توشہ خانہ کوایک بیانیہ بنانےصرف کردیالیکن جب ہائ کورٹ کی طرف ماضی کی حکومتوں کےحوالہ سے توشہ خانہ کی تفصیلات سامنے آئیں تویہ تب اس بیانیہ میں کچھ جان   محسوس نہ ہوئ۔ پورے سوشل میڈیااورٹی وی ٹالک میں اس مسلے پردن رات بحث ہوتی رہی ۔بہرحال اپوزیشن اس کوبیانیہ بنانےمیں کامیاب نہ ہوسکی!

پی ڈی ایم ۔ن لیگ کےپاس ایک نیابیانیہ ۹ مئی کےسانحہ کی صورت میں سامنے آیا۔اس بیانیہ نے خُوب کام کیاوراب تک کام کررہاہے۔حکومت اس پرجلتی پرتیل کاکام کررہی ہے ۔دیکھتے ہیں کہ اگلے الیکشن  میں اس کےکیا رزلٹ سامنے  آتے ہیں ۔لیکن حالیہ جائزوں کے مطابق عوام کی اکثریت نے اس بیانیہ کودل سے قبول نہیں کیا۔عوام کی اکثریت عمران خان کی طرف جھکاورکھتی ہے۔روزبروزسازشوں کے نئے نئے شوشے سامنے آرہے ہیں۔

 ن لیگ محض اس بیانیہ کےتحت حکومت میں آ  ئی کہ ہم مہنگائی  کوختم کریں گے ۔لیکن وہ یہ سب کچھ توبھول گئے اورمہنگائی ڈبل ہوگئ ۔الٹایہ ہورہاہے کہ وہ اپنے ہرمخالف کوختم کرنے کی تگ دومیں  لگ ہوئے ہیں۔کہتے ہیں کہ محبت اورجنگ میں سب جائزہے یہ قول ن لیگ پرفٹ آتاہے۔ایک طرف توہم دیکھتے ہیں اخیرایک سال اورتین چارماہ میں عمران خان پرتواترسے اتنے حملے ہوئے ہیں  اور۱۷۰ پرچے درج ہوئے ہیں کہ ن لیگ حکومت کانام گینیزبک آف ورلڈمیں آناچاہئے ۔

 

اصل میں اتنے ڈھیرسارے مقدمات کامقصدیہی تھاکہ  جال بچھاکرعمران کومقدمات میں الجھادیاجائے اگروہ ایک مقدمے میں بچ جائیں گے توشاید اگلے کسی مقدمے میں پھنس جائیں ۔لیکن فی الحال عمران خان کوعدالتوں کی طرف سے ریلیف مل رہاہے۔اصل میں  ن لیگ کوحکومت کوخطرہ ہے کہ پنجاب ا ن کےہاتھوں سے نکل رہاہے ۔یہ ساری چیزیں اسی تناظرمیں چل رہی ہیں ۔

پور ے ملک بلخصوص پنجاب میں نفرت اورفرعونیت ظلم وستم کی تمام حدودپارکرچکی ہیں ۔

اندازہ کریں کہ  الیکشن کےلئےمحض ۲۱ارب الیکشن کمشن کونہ دیئے گئے لیکن دوسری طرف مُلک کواربوں کھربوں کاٹیکہ لگ  رہاہے۔غیرملکی دورے اورچئیرمن سینٹ کومراعات اورسپریم کورٹ کے عملہ کےلئے خصوصی مراعات ۔۹ مئ کے پس منظرمیں

یوٹیوب اورسوشل میڈیاکی بندش کی صورت پوراملک ہی جام ہوکررہ گیا۔آن لائن  کاروبار اورنظام پوراٹھپ ہوکررہ گیا۔

ذرااندازہ لگائیں کہ توشہ خانہ پرکتنی میڈیامہم چلی اوراس پرحکومت کااشتہار،لفافوں کی صورت میں اربوں روپے خرچ ہوگئے ۔

اوردوسری طرف پراسی کیوشن کی صورت میں حکومت کے وکیلوں کی فیس میں مدد میں کروڑوں اربوں کاخرچ علیحدہ سےکیونکہ حکومت ہمیشہ تکڑاوکیل ہی کھڑاکرتی ہے۔

اب یہ سب کچھ عوام پرمنحصرہے کہ وہ کسی جماعت کے متعلق کیاسوچتے اورخیال کرتےہیں۔لیکن تمام سوشل میڈیاپردیکھاجارہاہے کہ اوراندازلگایاجارہاہے اوراس کاایک  ہی تجزیہ نکلاہے  وہ یہ کہ لوگوں کے دل میں ن لیگ یعنی نوازشہبازمریم کی عزت دل سے نکل گئی ہے اس کااظہارعوام الناس مختلف ضمنی انتخابات میں کرچکے ہیں اورروزبروزعوامی رائے بھی یہی چیزیں ظاہرکرتی ہیں۔

ن لیگ نے توشہ خانہ کیس کی صورت میں بیانیہ بنانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکی پھر۹ مئی ۲۰۲۳ کاسانحہ رُونما ہواجب نیب یعنی حکومت وقت نے فوج کواستعمال کرتے ہوئے عمران خان کوگرفتارکیا ،جس سے فوج منی بدنام ہوئی  گانے کی طرح شکل اختیارکرگئ۔فوج کوعوام الناس کے غیض وغضب کاسامناکرپڑااوراس کانتیجہ شرپسندوں کی صورت میں نکلا۔کچھ شرپسندجوگُلوبٹ کی شکل میں واردہوئے اوردیکھتے ہی دیکھتے فوجی تنصیبات کوتہ وبالاکردیااوریہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کےتحت انتہائی منظم اندازسے ہوا۔یہ بات یقینی تھی کہ اس کے نتیجے میں عمران خان پردوتین ایف آئ آرتوایویں ایویں کٹ جائیں گی اوریہ بات سچ ہوئ ۔اس کے علاوہ خفیہ مقدمات کی لسٹ ہے جن کی وجہ سے حکومت نے عمران خان کوگرفتارکرناتھالیکن عدالت عالیہ نے ن لیگ کے منصوبوں پرپانی پھیرکررکھ دیا۔حکومت کرویامروکی کیفیت یاموڈ میں ہے جبکہ عوام الناس کاکوئی پرسان حال نہیں ۔۔ جبکہ مہنگائی ساتویں آسمان پرپہنچ گئی ہے اورعوام کی روزچیخوں کی آوازسے ملک ہل کررہ گیاہے لیکن حکمرانوں کے کانوں پرجُوں تک نہ رینگی۔انھیں عوام الناس کامطلق خیال نہیں ہے۔بہرحال ن لیگ  ۹ مئی کی صورت میں ایک نئے بیانیہ کوحاصل کرچکی ہے۔

Sunday, 18 June 2023

The Journey of Parenting: Discovering Yourself Along the Way

 

The Journey of Parenting: Discovering Yourself Along the

Way

 

Mujahid Ali

mujahidali125@yahoo.com

 

Everyone aspires to have the greatest parenting possible . Every parent has different ideas when they first become parents. For both ourselves as parents and for our children, we have hopes and dreams. But, there are instances when circumstances prevent us from being the parents we would like to be. Without really knowing why it occurs, we can occasionally feel locked in responses to our kids that we don't enjoy.Our life events mound who we are, just like how our children do. Our opinions on raising kids and parenting come from a variety of sources, including our own parents, relatives, friends, daycare facilities, educational institutions, trained professionals, and the media.

The attitudes and views we have about children, parenting, and families are significantly influenced by the experiences we had growing up in our families of origin.

 

Every parent experiences moments when they act or speak to their children in ways that go against their better judgement.I don't want to yell at my kids, but when they press my buttons, I can't help but lose control of myself.Parents frequently feel like they are failing their children, their partner, and themselves during these times.Sometimes parents' emotions can overpower them and make them fail. We can alter how we react to our children by realising the source of these feelings.

 

Our ability to be adaptable and in control of our emotions and behavior is tested by children. If we are anxious, exhausted, furious, or frustrated, we may lose the flexibility in our responses.A "knee-jerk" reaction brought on by our own needs or emotions may occur instead of one that is appropriate for the circumstance. Both the parent and the child may feel alienated from one another as a result, leaving them both feeling hurt, angry, or misunderstood.

 

As parents, we must be conscious of what "pushes our buttons" or acts as a trigger for us. The emotions and behaviours of our children frequently cause us to experience feelings and act in ways that are inappropriate or unhelpful for the circumstances in which you and your child are now involved. In order to respond effectively, we must make an effort to remove our own wants and needs from the child's condition.

 

We can better understand why we think, feel, and behave the way we do by engaging in self-reflection. We can become flexible and adaptive parents by reflecting on ourselves and being more self-aware.

کے فوائد،ثمرات اوربرکات

 

Text Box: بسلسلہ: معاشرتایک جگہ مل جل کر کھانےپینے کے فوائد،ثمرات اوربرکات

مجاہدعلی

mujahidali125@yahoo.com

 

میر ی والدہ اکثرایک بات کرتی ہیں کہ  مل کرکھائیں کھنڈ(میٹھا) کھائیں ،وکھ کھاوگندکھاو یعنی اگرعلیحدہ ہوکرکھائیں توغلاظت کھائیں۔اس کے تناظرمیں ایک تحقیق پڑھنےکوملی جواس تاثرکومضطبوط کرتی ہےکہ واقعی مل جل کرکھانےمیں برکت ہے،آئیں تھوڑاسااس کےمتعلق جانتے ہیں۔

گھرمیں مل جل کرایک جگہ کھانے پینے سے خاندان والوں کوکئی اقسام کے فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔جن میں سے کچھ کی تفصیل دی جارہی ہے۔

مسائل اورپریشانیوں کو حل کرنے میں مددملتی ہے

مل کربیٹھنے سے کئی  مسلے حل  ہوجاتے ہیں

ادب وآداب سیکھنے کاموقع ملتاہے

بچوں کی شخصیت مزاج نفسیات کا پتہ چلتاہے

سٹریس کم ہوتاہے

کھانے کے ۴۰ فیصداخراجات کم ہوتے ہیں

بچے ذیادہ کھا پی لیتے ہیں جس سےکی جسمانی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں

نفرت دور دوریاں ختم ہوجاتی ہیں

قربت اورمحبت جنم لیتی ہے

کھانے میں برکت ہوتی ہے کیونکہ ذیادہ ہاتھ شامل ہوجاتےہیں

۳جنوری ،۲۰۲۰

 

 
ماخذ:بحوالہ اشاعت  چراغ اسلام ستمبر ۲۰۱۹، ص ۴۳  ، ج ۲۵، ش ۳

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...