پی ایم ایل ن لیگ نئے بیانیہ کی تلاش میں
ایک سیاسی تجزیہ
مجاہدعلی
mujahidali125@yahoo.com
رجیم چینج کےبعدن لیگ نے اپریل ۲۰۲۲ عنان حکومت سنبھالی تو پی ڈٰ ی ایم کوجہاں سازش کرنےکاطعنہ ملاتووہیں عوام کوروز بروز بڑھتی مہنگائی کاتحفہ ملا ،جس کاسلسہ ابھی تک جاری وساری ہے۔پھرپی ٹی آئی ۔عمران خان کی طرف سے بھی رجیم چینج کابیانیہ سامنے آیا ۔بہرحال دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کومُوردالزام ٹھہراتے رہے۔ن لیگ کو حکومت سنبھالنےکے بعد سب سے بڑامسلہ بڑھتی مہنگائی کاتھا ۔اس لئےاُس کےپاس عوام کےسامنے پیش کرنےکےلئے کوئی بیانیہ نہ رہا۔
ن لیگ کےپاس چونکہ کوئی بیانیہ نہ تھا ۔لہذاانھوں نے توشہ خانہ کی صورت میں نیابیانیہ گھڑھا اورپیش کیا لیکن چند ماہ میڈیاپرغلغلہ ہوالیکن یہ بیانیہ ذیادہ پروان نہ چڑھ سکا ۔ن لیگ نے کئ ماہ صرف اسی توشہ خانہ کوایک بیانیہ بنانےصرف کردیالیکن جب ہائ کورٹ کی طرف ماضی کی حکومتوں کےحوالہ سے توشہ خانہ کی تفصیلات سامنے آئیں تویہ تب اس بیانیہ میں کچھ جان محسوس نہ ہوئ۔ پورے سوشل میڈیااورٹی وی ٹالک میں اس مسلے پردن رات بحث ہوتی رہی ۔بہرحال اپوزیشن اس کوبیانیہ بنانےمیں کامیاب نہ ہوسکی!
پی ڈی ایم ۔ن لیگ کےپاس ایک نیابیانیہ ۹ مئی کےسانحہ کی صورت میں سامنے آیا۔اس بیانیہ نے خُوب کام کیاوراب تک کام کررہاہے۔حکومت اس پرجلتی پرتیل کاکام کررہی ہے ۔دیکھتے ہیں کہ اگلے الیکشن میں اس کےکیا رزلٹ سامنے آتے ہیں ۔لیکن حالیہ جائزوں کے مطابق عوام کی اکثریت نے اس بیانیہ کودل سے قبول نہیں کیا۔عوام کی اکثریت عمران خان کی طرف جھکاورکھتی ہے۔روزبروزسازشوں کے نئے نئے شوشے سامنے آرہے ہیں۔
ن لیگ محض اس بیانیہ کےتحت حکومت میں آ ئی کہ ہم مہنگائی کوختم کریں گے ۔لیکن وہ یہ سب کچھ توبھول گئے اورمہنگائی ڈبل ہوگئ ۔الٹایہ ہورہاہے کہ وہ اپنے ہرمخالف کوختم کرنے کی تگ دومیں لگ ہوئے ہیں۔کہتے ہیں کہ محبت اورجنگ میں سب جائزہے یہ قول ن لیگ پرفٹ آتاہے۔ایک طرف توہم دیکھتے ہیں اخیرایک سال اورتین چارماہ میں عمران خان پرتواترسے اتنے حملے ہوئے ہیں اور۱۷۰ پرچے درج ہوئے ہیں کہ ن لیگ حکومت کانام گینیزبک آف ورلڈمیں آناچاہئے ۔
اصل میں اتنے ڈھیرسارے مقدمات کامقصدیہی تھاکہ جال بچھاکرعمران کومقدمات میں الجھادیاجائے اگروہ ایک مقدمے میں بچ جائیں گے توشاید اگلے کسی مقدمے میں پھنس جائیں ۔لیکن فی الحال عمران خان کوعدالتوں کی طرف سے ریلیف مل رہاہے۔اصل میں ن لیگ کوحکومت کوخطرہ ہے کہ پنجاب ا ن کےہاتھوں سے نکل رہاہے ۔یہ ساری چیزیں اسی تناظرمیں چل رہی ہیں ۔
پور ے ملک بلخصوص پنجاب میں نفرت اورفرعونیت ظلم وستم کی تمام حدودپارکرچکی ہیں ۔
اندازہ کریں کہ الیکشن کےلئےمحض ۲۱ارب الیکشن کمشن کونہ دیئے گئے لیکن دوسری طرف مُلک کواربوں کھربوں کاٹیکہ لگ رہاہے۔غیرملکی دورے اورچئیرمن سینٹ کومراعات اورسپریم کورٹ کے عملہ کےلئے خصوصی مراعات ۔۹ مئ کے پس منظرمیں
یوٹیوب اورسوشل میڈیاکی بندش کی صورت پوراملک ہی جام ہوکررہ گیا۔آن لائن کاروبار اورنظام پوراٹھپ ہوکررہ گیا۔
ذرااندازہ لگائیں کہ توشہ خانہ پرکتنی میڈیامہم چلی اوراس پرحکومت کااشتہار،لفافوں کی صورت میں اربوں روپے خرچ ہوگئے ۔
اوردوسری طرف پراسی کیوشن کی صورت میں حکومت کے وکیلوں کی فیس میں مدد میں کروڑوں اربوں کاخرچ علیحدہ سےکیونکہ حکومت ہمیشہ تکڑاوکیل ہی کھڑاکرتی ہے۔
اب یہ سب کچھ عوام پرمنحصرہے کہ وہ کسی جماعت کے متعلق کیاسوچتے اورخیال کرتےہیں۔لیکن تمام سوشل میڈیاپردیکھاجارہاہے کہ اوراندازلگایاجارہاہے اوراس کاایک ہی تجزیہ نکلاہے وہ یہ کہ لوگوں کے دل میں ن لیگ یعنی نوازشہبازمریم کی عزت دل سے نکل گئی ہے اس کااظہارعوام الناس مختلف ضمنی انتخابات میں کرچکے ہیں اورروزبروزعوامی رائے بھی یہی چیزیں ظاہرکرتی ہیں۔
ن لیگ نے توشہ خانہ کیس کی صورت میں بیانیہ بنانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکی پھر۹ مئی ۲۰۲۳ کاسانحہ رُونما ہواجب نیب یعنی حکومت وقت نے فوج کواستعمال کرتے ہوئے عمران خان کوگرفتارکیا ،جس سے فوج منی بدنام ہوئی گانے کی طرح شکل اختیارکرگئ۔فوج کوعوام الناس کے غیض وغضب کاسامناکرپڑااوراس کانتیجہ شرپسندوں کی صورت میں نکلا۔کچھ شرپسندجوگُلوبٹ کی شکل میں واردہوئے اوردیکھتے ہی دیکھتے فوجی تنصیبات کوتہ وبالاکردیااوریہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کےتحت انتہائی منظم اندازسے ہوا۔یہ بات یقینی تھی کہ اس کے نتیجے میں عمران خان پردوتین ایف آئ آرتوایویں ایویں کٹ جائیں گی اوریہ بات سچ ہوئ ۔اس کے علاوہ خفیہ مقدمات کی لسٹ ہے جن کی وجہ سے حکومت نے عمران خان کوگرفتارکرناتھالیکن عدالت عالیہ نے ن لیگ کے منصوبوں پرپانی پھیرکررکھ دیا۔حکومت کرویامروکی کیفیت یاموڈ میں ہے جبکہ عوام الناس کاکوئی پرسان حال نہیں ۔۔ جبکہ مہنگائی ساتویں آسمان پرپہنچ گئی ہے اورعوام کی روزچیخوں کی آوازسے ملک ہل کررہ گیاہے لیکن حکمرانوں کے کانوں پرجُوں تک نہ رینگی۔انھیں عوام الناس کامطلق خیال نہیں ہے۔بہرحال ن لیگ ۹ مئی کی صورت میں ایک نئے بیانیہ کوحاصل کرچکی ہے۔
