|
بسلسلہ :کیرئیرکونسلنگ وتعلیم وتربیت |
ازقلم:مجاہدعلی
mujahidali125@yahoo.com
+92333 457 072
|
نوٹ:اس تحریرکامقصدبنیادی مقصدبچوں میں کم عمری میں کمانے کی فکر،احساس اورشعورکوبیداکرناہے ناکہ ان کوکام پر لگانامقصودہے،اصل مقصدتربیت ہے |
عصرحاضر میں پاکستانیوں کی اکثریت تاریخ کےجس معاشی بحران اورکرب سے سے گزررہی ہے، اس کااندازہ صرف غریب اورمتوسط افرادہی لگاسکتے ہیں۔روزبروز بڑھتے گھریلواخراجات اور مہنگائ نے ہرکسی کوچکراکررکھ دیاہے۔ہرانسان کم وقت میں زیادہ کمانےاورمتبادل ذرائع سے کمانے پر سوچنے پرمجبورہوگیاہے۔ہمارے بڑے بزرگوں کاکہناہےکہ کسی زمانے میں گھرکاایک فردکماتاتھاتوبقیہ افرادکھاتے تھے۔لیکن اب سب کماتے ہیں توپھربھی روٹی پوری نہیں ہوتی ہے، جبکہ بچے اس سے مُبراہوتے ہیں۔لیکن عصری رحجانات اس با ت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب توبچوں کو بھی کمانے کی دوڑ میں شامل کردیاہے ، بلکہ اس حوالے سے ا ن کے لئے نت نئے پروگرام تشکیل دئے جارہے ہیں۔جن کی تفصیل ذیل میں دی جائے گی۔
والدین کے ذمہ جہاں بچوں کے حوالہ سے تربیت کے کئی امورپیش نظرہوتے ہیں، وہیں پراب ان کے ذمہ معاشی تربیت کی ذمہ داری بھی شامل ہوگئی ہے۔آئیں ذیل میں انھیں دونوں امورپرکچھ سیرحاصل تبصرہ کرتے ہیں ۔
بچے اورتربیتی امور
ہروالدین اپنے بچوں کی تربیت مختلف اطوار اوراصولوں کے تحت کررہے ہوتے ہیں ۔مثلا والدین بچوں کو کھانے پینے کے آداب ،اٹھنے بیٹھنے کاسلیقہ،صحت کاخیال رکھنا،کپڑوں کی ترتیب، صفائ وحفظان صحت ،اپنے بسترکی چادرکی کودرست کرنا،بکھری چیزوں کوایک ترتیب سے رکھنا،کپڑوں کوخوداستری کرنےو غیرہ جیسی عادت سکھارہے ہوتے ہیں جوکہ عملی تربیت کاحصہ ہیں۔یہ سب مثبت عادات ہیں جن کوسکھاناویسے بھی ہربچے کےلئے ضروری ہے۔پھروالدین اپنے بچوں کوسماجی مہارتوں کی تربیت دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اجنبی لوگوں سے ملنے جلنے اوربات چیت کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔والدین بچوں کوبجلی ودیگریوٹیلٹی بلوں کوجمع کروانے کی تربیت بھی فراہم کرتے ہیں ۔ والدین بچوں کو بینک یااے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے کی تربیت بھی سکھاتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی تربیتی مشق سے سے بچوں کو اعتمادکی دولت ملتی ہے۔کچھ والدین
کردارسازی کےحوالے سے بچوں کوسچ بولنا،ایمانداری،بہتراخلاق کی بھی تربیت فراہم کرتے نظرآتے ہیں تاکہ ان کی شخصیت میں کچھ نکھارآسکے۔
کیونکہ عملی ذندگی میں یہ چیزیں بہت کام آتی ہیں۔والدین کوچاہئے کہ کبھی کبھاربچوں کو احتیاط کے دائرے میں اکیلاسفرکرنےکی بھی اجازت دیں تاکہ وہ کچھ سکیں ۔بچوں کواپنے متعلق چھوٹے چھوٹے فیصلے خودکرنے دیں تاکہ ان میں خوداعتمادی کاعُنصرپیداہوسکے۔
غرض تربیت کی مختلف جہات ہیں اورہرمعاشرے میں والدین اپنے ماحول ،روایات اصول اورمذہبی ،سماجی اقدارکےتحت اپنے بچو کی تربیت کرتے ہیں۔
بچے اورمعاشی امورکی تربیت
اسرائیل جسے کاروباری قوم کہاجاتاہے وہ اپنے اپنے تیسری اورچوتھی کلاس کے بچوں کوکاروبارکرناسکھاتے ہیں اوریہ بات ان کے دل ودماغ میں ڈال دی جاتی ہے کہ انھوں نے بڑے ہوکرکاروباری بنناہے۔حیرت کی بات ہے کہ ان کے نظام تعلیم میں کاروباری تربیت اورتعلیم متوازی طورپرچل رہی ہوتی ہے۔اگرہم پاکستانی معاشرے کی بات کریں تو بچوں کے متعلق یہ بات کہ دی جاتی ہےکہ ابھی توبچہ ہے!اس کوکام پرکیوں لگایاجائے۔
لیکن بات یہ نہیں کم عمری میں بچوں کوکام پرلگایاجائے اصل بات تربیت کی ہے۔ تاکہ بچوں میں فکراوراحساس ذمہ داری پیداکی جاسکے۔اس سلسلے میں والدین مختلف طریقوں سے بچوں کومعاشی امورکے حوالےسے آگاہی فراہم کرسکتے ہیں۔مثلاوالدین یہ کرسکتے ہی کہ وہ بچوں کوبتائیں، سکھائیں کہ وہ تعلیمی اخراجات کوپوراکرنے کے ساتھ اپنے چھوٹے موٹے دیگر اخراجات کوکیسے پورے کرسکتے ہیں ۔ان اخراجات کوپوراکرنے کے لئے مختلف ذرائع سے محنت کرکے کمانے کی عادت کوکیسے پروان چڑھاسکتے ہیں کیونکہ ایک طالب علم کو دوران تعلیم اخراجات کے لئے اپنے والدین کی طرف دیکھناپڑتاہے۔
والدین اپنے معاش کی تربیت میں جہاں کئی اُمورکوپیش نظررکھتے ہیں وہیں پریہ اموربھی شامل کرلیں کہ وہ اپنے بچوں کی مختلف طریقوں سے ذہن سازی کریں کہ بچے کےاندر اپنی روزی روٹی ،کمانےکی فکر اوراحساس پیداہوسکے،جس سے وہ اپنے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے اخراجات کوبھی پوراکرسکیں ۔اس طرزعمل سے ان میں ایک ذمہ دارانسان بننے کی تربیت ملتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں کئی لاتعداد واقعات اورمثالیں کہ بچے انتہائی چھوٹی عمرمیں کام بھی کررہے ہوتے ہیں ساتھ میں تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔آپ اپنے اردگرد نظردوڑائیں اورماضی کے واقعات کویادکریں جن میں آپ نے دیکھاہوگاکہ کچھ چھوٹی عمرکے بچے دوران تعلیم اپنے تعلیمی وگھریلو اخراجات کوپوراکرنے کے لئے ٹیوشن پڑھاتے رہے ہوتے ہوں گے، کچھ سنڈے جاب کرتے ہوں گے اورپارٹ ٹائم جاب کرکے اپنااوراپنے گھروالوں کاپیٹ پالتے رہے ہوں گے ۔یہ وہ طریقے ہیں جس سے والدین اپنےبچوں کواپنی دیکھ بھال خودکرنےکےقابل بناتےہیں۔
بچے کے اندرکبھی خودبھی کمانے کی فکرپنپتی ہے۔اکثردیکھاگیاہے کہ کئی انتہائی چھوٹی عمرکے بچے چھوٹے شہروں میں ۱۴اگست اورجشن عیدمیلادالنبیﷺکے موقع پرجھنڈیاں،بیجز اوردوسری چیزیں بیچ رہے ہوتے ہیں۔گلی محلے میں ایک میزلگالیااوریوں اپناچھوٹاموٹاکاروبارشروع کرلیتے ہیں اورخودہی اپنی ذہنی سطح کے مطابق کاروباری حکمت عملی طے کرتے ہیں ۔بہرحال اس میں اہل فکرودانش کے لئے بہت سبق پنہاں ہوتے ہیں ۔بس ضرورت اس امرکی ہے کہ ان کی مزیدحوصلہ افزائی کی جائے۔اس حوالے سے کئی عملی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔
۲عملی مثالیں
۱۔امیراپنے بچوں کی معاشی امورکےحوالےسے مختلف حوالے سے تربیت کرتے ہیں ۔مثلا مشہورومعروف موٹیویشنل سپیکرقاسم علی شاہ نےبتایاکہ ایک دفعہ ایک امیرآدمی نے مجھے اپنے بلایااورکہاکہ میں اپنے بچے کی معاشی اورکاروباری تربیت کرناچاہتاہوں ۔میں اپنےبچے کو ۱کروڑدے رہاہوں وہ اس سے کاروبارکرے۔ کوئی بات نہیں اگرنقصان ہو بھی جائے توبھی بچے کوفائدہ ہی حاصل ہوگا ۔کیونکہ وہ کم ازکم یہ تو سیکھ جائے گاکہ نقصان سے کیسےبچناہےاورمنافع کیسے کمانا ہے۔بہرحال اس حوالے نے انھوں نے اس بچے کی تربیت ےکے لئے کچھ قیمتی مشورے بھی دئے ۔
امیرافرادکی اکثریت یہی کہتے نظرآتے ہیں کہ آخر ہمارے بچوں کوکمانے کی کیاضرورت ہے ۔ ہمارے پاس اللہ کادیاسب کچھ ہے۔ماں بھی لقمہ دیتی ہے کہ ہم آخرکس کےلئے کماتے ہیں ۔یہ سوچ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کونقصان پہنچاتی ہے اورانھیں ذہنی طورپرکُند بھی بنا سکتی ہے۔ بعض امیرتویہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ بچے کوکہتے ہیں کہ تمھیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ طرزعمل بچوں کی عملی قوتوں کوکچل دینے کے مترادف ہے ۔اس طرزعمل اوررحجان کی حوصلہ کرناشکنی کرنابہرحال ضروری ہے۔
۲۔غریب اورمتوسط حضرات اپنے بچوں کی تربیت کے اس پہلوکوبھی اختیارکرسکتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کوایک مخصوص رقم دیں ۔اوران کویہ بتائیں کہ کچھ پیسے دیکرمیں نے آپ کوسپورٹ کیاہے۔اب باقی رقم کو وہ خود پوراکرنےکے لئے کسی طریقے سے کمائیں کریں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگاکہ بچے اپنادماغ خوداستعمال کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اس مشق سے ان کے اندرسوچنے کی مثبت عادت پروان چڑھ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں آپ ان کی رھنمائی کرسکتے ہیں کہ فلاں طریقہ استعمال کرکے تھوڑی سی رقم کمائی جاسکتی ہے۔اصل میں بچوں کوایک آغاز،پلیٹ فارم اورحوصلہ افزائی چاہئے ہوتی ہے ۔باقی وہ خود اس رستہ پرچل پڑیں گے اوراصل میں مقصدبھی یہی ہوتاہے کہ ان کی تربیت ہوجائے۔
یہ بات یادرکھیں کہ آخرکارہربچے نے اپنے پاوں پراکیلاہی چلناہے۔ سہارے کب تک ساتھ دیں گے،لہذاسرپرست اوروالدین بچوں کو اپنے پاوں پرخودکھڑاہوناسکھائیں ۔ کیونکہ بچے کوباہرنکل کر دنیا کےظالم نظام میں چیلنجنگ ماحول کاسامناکرنا پڑے گا!زمینی حقائق اسکے اعتماداورشخصیت کوخودسنواریں گے۔
لہذاآپ اپنے بچوں کوچھوٹی سی عمرمیں معاشی طورپرعقلمندہونے کی ترغیب دیں ۔ان کوعملی تربیت فراہم کریں ۔اپنےبچوں کواردگرد کے واقعات ،ذاتی تجربات اورچھوٹی چھوٹی مثالوں سے سمجھائیں ۔لیکن یہ بات سمجھنے کی اوربڑے نکتے کی حامل ہے وہ یہ کہ ان کے دل وذہن میں پیسے کی محبت ڈالے بغیرپیسے کی اہمیت راسخ کرنا سکھائیں کہ وہ عملی ذندگی میں کسی کے محتاج نہ ہوں اورخوداپنی ہمت اوروسائل سے پیسہ اکٹھاکرسکیں۔
عہدحاضرمیں اب تو آن لائن رہ کرگھربیٹھ کرکمایابھی جاسکتاہے ۔مڈل کلاس کے بچے انٹرنیٹ سے کمارہے ہوتےہیں۔
بچوں کوکام کی اہمیت سمجھائیں اورصرف کام کرنے کی طرف راغب کریں۔مثلا یہ کہ فری میں کام کریں تاکہ کچھ قیمتی تجربہ حاصل ہوسکے۔ اس کے لئے وہ کچھ عرصہ کہیں کام کریں ۔ان کوباورکروائیں کہ کوئی کام چھوٹا یابڑانہیں ہوتاہے۔بچوں کو کام کی طرف راغب کرنے کاایک طریقہ تویہ بھی ہے کہ ان کوکہاجائے کہ وہ کسی سنڈے کو کہیں پورادن کام کریں ۔اسی طرح چھٹیوں میں کہیں کام کریں اورکچھ سیکھیں۔انھیں پارٹ ٹائم میں کام کرناسکھائیں۔ بچے کسی پراجیکٹ بیسڈپربھی کام کرسکتے ہیں ۔اگربچے کے اندرکوئی خاص ہنرمہارت ہے توانھیں بتائیں کہ وہ اپنے ہُنر سے کیسے کماسکتےہیں۔
بچوں کو باشعوراورعقلمند بنانے کے لئے ان کی ہرسطح پرراہنمائی کریں ۔کیونکہ آپ زمانے کی اونچ نیچ جانتے ہیں ،آپ کے پاس زمانے ،لوگوں کاوسیع عملی تجربہ ہوتاہے۔بچوں کی اس طریقے سے لازمی تربیت کریں کہ وہ دوران تعلیم کیسے اورکن طریقوں سے کچھ پیسے کماسکتے ہیں ۔ بچوں کواس مرحلہ پرکسی جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ باپ سے بڑھ کرکوئی فراہم نہیں کرسکتاہے۔
معاشی تربیت کے ضمنی فوائد
اس طرح کے تربیت کےچھوٹے چھوٹے تجربات سے بچے بہت کچھ سیکھ سکیں گے ۔نیزان کوکئی قسم کے ضمنی فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔جیساکہ
جب بچے پبلک ڈیلنگ یا کسٹمرڈیلنگ کریں گے تویقینااس سے کافی کچھ سیکھیں گے۔ انھیں مارکیٹ کاپتہ چلے گااورمستقبل میں جاب وکاروبارکےحوالے سے بھی اوائل عمری سے مشکلات کاادراک بھی ہوجائے گا۔
وہ معاشی طورپرخودکفیل ہوسکتےہیں
عملی ذندگی میں ذمہ داریوں سے عہدہ برآہونے صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں
جاب مارکیٹ کوسمجھنے میں مددمل سکتی ہے وہ ملٹی ٹاسک ہوکر بیک وقت کئی کام کرسکتے ہیں
جاب مارکیٹ، کاروبار کی اونچ نیچ اورلوگوں کی نفسیات کاپتہ چلے گا
بچے عقلمندی سے پیسوں کے خرچنےکاسلیقہ سیکھ سکیں گے
ان سب امورسے بچے کی عملی تربیت میں مددملے گی اس کے علاوہ ان میں ایک طرح کا عجیب اعتمادبھی حاصل ہوگا۔
ماحاصل
بہرحال ہمارے ہاں یہ موضوع تو نیاہے لیکن ترقی یافتہ ممالک اپنے ہاں بچوں کواوائل عمری سے کمانے کی فکر اورشعورفراہم کرتے ہیں ۔ ان تمام باتوں کامقصد یہ ہے کہ بچے معاشی طورپرخُودمختاربن سکیں ۔
###
۲۰ مئی ۲۰۲۰
No comments:
Post a Comment