|
بسلسلہ !تعلیم وتربیت |
ترجمہ: تلخیص:تحریر مجاہدعلی
حقیقی دنیامیں بچوں کوکئی مسائل کاسامناکرناپڑتاہے جوکہ پیچیدہ بھی ہوتے ہیں بعض اوقات ان کی وضاحت بھی نہیں ہوسکتی اورنہ کوئ واضح حل مذیدیہ کہ نکتہ نظرکے حوالے سے بھی فقدان ہوتاہے.اساتذہ جہاں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں وہیں وہ طلباء کی تربیت اس نہج پرکریں کہ وہ باہرکی دنیا میں بھی اسی طرح کامیاب ہوں جس طرح وہ سکول ،کلاس کے اندرکامیاب ہوتے ہیں ۔کلاس کے اندر طلباء کےلئے ایسی سرگرمیوں کوفروغ دیں جن سے ان کی مشکلات کوحل کرنے کاکلچرفروغ پائے !
اس سسلسلے میں نفسیاتی نکتہ نظرسے ایک تکنیک میٹاکوگنیشن کوبھی اپنایاجاسکتاہے ۔تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اس مہارت کی وجہ سے طلباء کواپنے مسائل حل کرنے میں بہت ذیادہ مددملتی ہے
۔بچوں کواس بات کی تربیت دیناضروری ہے کہ وہ مسائل کوقبول کرناسیکھیں کہ یہ حقیقت ہے اورناکامی بھی ذندگی کاحصہ ہے اس سے آنکھیں نہ چُرائیں بلکہ مسائل توذندگی وشخصیت کوبہترکرنےمیں مدددیتی ہے۔ اورآپ ذندگی میں آگے بڑھتے ہیں اورہرچیزاس سے بہترہوتی ہے۔
اس تکینیک سے مرادطُلباء کے سمجھنے اور کارکردگی کی منصوبہ بندی ، مانیٹرنگ اور تشخیص کرنے کے لئے استعمال ہونے والے عمل ہیں ۔طلُباء کیا سوچتے ہیں اورکیاسیکھتے ہیں اوراساتذہ کا تنقیدی جائزہ پرمشتمل ہوتاہے
اساتذہ طلباء کوروزمرہ ذندگی میں ہوئے واقعات کوبیان کرکے عملی مثالوں سے سمجھاسکتےہیں ۔تاکہ ان کوپتہ چل سکے کہ کس طرح اپنے مسائل کوحل کرنا ہےاوران پرکام کرناہے۔ اس طریقے سے بچوں کی صحیح طریقے سے راہنمائی ہوسکتی ہے! اس ضمن میں بچے آزادہوں کہ وہ خودمسائل کوحل کرسکیں اس عملی طریقہ کار سے وہ خود اپنے دماغ سے سوچ سمجھ کرمسقتبل کے مشکل کاموں کوسرانجام دے سکتےہیں ۔جب اساتذہ اس طریقہ کار کےتحت طلباء کی تربیت کریں گے کہ وہ خودسوچ سمجھ کرمسائل کاحل نکال سکیں تواس کے بڑے بہتراورمفیدنتائج نکلیں گے۔ لیکن یہ عمل مسلسل ہو،کچھ عرصہ کے آپ دیکھیں گے کہ طلباء اس بات کوجان جائیں گے کہ حقیقی ذندگی میں استادہی طلباء کے مسائل حل نہیں کرتاہے بلکہ ہمیں خودہی مسائل کوحل کرناپڑے گا۔
کلاس روم کے اندراس کلچرکوفروغ دینے کی ضرورت ہے اس ضمن میں ان حکمت عملیوں کی تشکیل کرنے کی ضرورت ہے جن کی طُلباء کواشدضرورت ہوتی ہے۔
بچوں کوذیادہ سے ذیادہ روزمرہ ذندگی سے عملی امثال سے سمجھائیں۔بچوں کومسائل سے نبردآزماہونے کے طریقے بتائے جائیں اورمسائل کوحل کرنے کے نئے طریقوں سے روشناس کروایا جائے! بچوں کواس حوالے سے ذیادہ ومواقع فراہم کریں کہ وہ مسائل کے حل کے حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کواپنائیں !مثلایہ کہ کیسے کب اورکیوں ان حکمت عملیوں پرموثرطریقے سے عمل کرنے کی ضرورت ہےتاکہ خودہی سیکھ کرایک سمت میں آگے بڑھ سکیں!بطور اُستادآپ پراخلاقی طورپربھاری یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کلاس کے اندردوستانہ ماحول پیداکریں کہ بچوں کواپنے مسائل خودحل کرنے کی ترغیب ہو اور وہ خودہی ان مسائل کوحل کرنے والے ہوں۔ تاکہ وہ آگے کی ذندگی اور روزمرہ کے مسائل مشکلات سے بہترطورپرنبردآزماہوسکیں۔
نوٹ!صاحب قلم بچوں کی تعلیم وتربیت میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اوراس موضوع پروقتافوقتااپنے بلاگ کے لئے کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں!
###
20-Sep-2020