Thursday, 30 July 2020

پاکستان میں ٹیلی ہیلتھ کا جدید نظام متعارف کرانے کے خواہش مند ڈاکٹرز

 

پاکستان میں ٹیلی ہیلتھ کا جدید نظام متعارف کرانے کے خواہش مند ڈاکٹرز

 

جولائی 22, 2020

·       یاسمین جمیل


Description: فائل فوٹو

امریکہ میں دو پاکستانی نژاد امریکیوں نے اپنی ٹیلی میڈیسن کمپنی 'وی میڈ' کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسا سسٹم تیار کیا ہے جو ایمرجنسی کے مریض کے اسپتال پہنچتے ہی صرف پانچ منٹ میں اس کا متعلقہ شعبے کے ایک ایسے ڈاکٹر سے ٹیلی ہیلتھ اسکرین پر رابطہ کراتا ہے جو اس کے معائنے اور علاج کے لیے پہلے سے موجود اور تیار ہوتا ہے۔

یہ سسٹم اس وقت امریکہ کی مختلف ریاستوں کے لگ بھگ 60 اسپتالوں میں
استعمال ہو رہا ہے۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں کام کرنے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹر ارشد علی اور اعجاز عارف ٹیلی میڈیسن کی امریکی کمپنی وی میڈ کے بالترتیب سی ای او اور پریذیڈنٹ ہیں۔

سال 2016 میں شروع ہونے والی اس کمپنی کے قیام سے ایک سال قبل سائنس اور ٹیکنالوجی میں جدید اور انوکھے امکانات متعارف کرانے کے لیے ان کی خدمات کو سابق امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے سراہا بھی گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کے استعمال سے اسپتالوں کے اخراجات میں کمی واقع ہو رہی ہے جس کا فائدہ مریضوں کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ارشد کے مطابق وہ اس سسٹم کو پاکستان کے اسپتالوں میں بھی متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

Description: اعجاز عارفاعجاز عارف

ادارے کے سربراہ اور اس سروس کے آئیڈیا کو عملی جامہ پہنانے والے اعجاز عارف نے کہا کہ فخر کی بات یہ ہے کہ یہ سارا کام ان کی پاکستان میں موجود ٹیم نے کیا جب کہ اس کا آئیڈیا ہماری کمپنی کے سلیکون ویلی میں موجود انجینئرز نے دیا اور عملی جامہ پہنایا۔

ڈاکٹر ارشد علی نے بتایا کہ ان کا زیادہ تر واسطہ انتہائی نگہداشت کے مریضوں سے پڑتا تھا۔ ان کے مشاہدے میں آیا ہے کہ ایمرجنسی میں آنے والے انتہائی بیمار مریضوں کو ڈاکٹروں تک جلد رسائی میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر چھوٹے اسپتالوں میں ڈاکٹرز بھی موجود نہیں ہوتے۔ اس لئے انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ایسی سروس شروع کی جائے، جو مریض کی ڈاکٹر تک جلد رسائی کو ممکن اور آسان بنا دے۔

انہوں نے کہا کہ 2016ء میں ٹیلی ہیلتھ کا ایک ابتدائی پراجیکٹ شمالی کیلی فورنیا کے اسپتالوں میں شروع کیا گیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ اس جدید سروس کے ذریعے مریضوں اور ڈاکٹرز کا آپس میں جلد رابطہ ممکن بنایا جائے اور ڈاکٹر مریض کا معائنہ دوردراز ملکوں اور علاقے میں اسی طرح کر سکیں جیسے وہ اپنے کلینک میں موجود مریض کا کرتےہیں۔

ڈاکٹر ارشد نے بتایا کہ اگرچہ کرونا کی وبا کے دوران ٹیلی ہیلتھ اور ٹیلی میڈیسن کی سروس کا استعمال دنیا بھر میں خاص طور پر امریکہ میں بہت بڑھ گیا ہے، جس سے کرونا ہی نہیں بلکہ دوسری خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہزاروں مریض بھی جلد اور بہترین علاج کی سہولت حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن، ہسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اب بھی کم کم ہی دیکھنے میں آرہا ہے اور صرف ہیلتھ کئیر کے بڑے بڑے گروپس کے ہسپتالوں میں ہی یہ سسٹم استعمال ہو رہے ہیں۔

Description: ڈاکٹر ارشد علی

ڈاکٹر ارشد علی

انہوں نے بتایا کہ ٹیلی ہیلتھ سروس جن اسپتالوں میں انسٹال ہوتی ہے وہ پرائمری اسٹروک سینٹر کہلاتے ہیں۔ یہ ٹیلی ہیلتھ سروس کیسے کام کرتی ہےاس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی مریض کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ ایمرجنسی ہیلپ لائن پر کال کرتا ہے جو اسے قریبی ایسے اسپتال میں بھیجتی ہے جہاں یہ سروس موجود ہوتی ہے۔ ان اسپتالوں میں مریضوں کےکمروں میں ہماری ٹیلی ہیلتھ ڈویلپڈ اسکرین موجود ہوتی ہے۔ مریض کے داخل ہوتے ہی اس سروس کا سسٹم متحرک ہو جاتا ہے اور وہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔

جیسے ہی مریض ایمرجنسی روم میں پہنچتا ہے ڈاکٹر 5 منٹ میں سسٹم پر لاگ آن ہو کر اسے اسی طرح دیکھتا ہے جیسے وہ سامنے بیٹھا ہو۔ انہوں نےبتایا کہ ٹیلی ہیلتھ کا یہ سسٹم آئی سی یو، ایمرجنسی روم اور فلور پر ڈویلپ ہوتا ہے۔

اس سروس کا زیادہ تر استعمال آئی سی یو میں ہوتا ہے، جبکہ سائیکاٹری، نیورولوجی اور کارڈیالوجی سمیت مختلف شعبوں میں بھی اس سروس کا بہترین استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اب اس سروس میں یہ اضافہ بھی کر رہے ہیں کہ ایک وقت میں تین یا زیادہ ڈاکٹرز بھی مریض کو دیکھ سکیں جب کہ اس میں یہ آپشن بھی موجود ہے کہ مریض کے گھر والے لاگ آن ہو کر مریض کو دیکھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ارشد کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو اس وقت پورے امریکہ اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں پذیرائی مل رہی ہے۔ امریکہ میں اس سروس سے ہیلتھ کیئر کے بڑےگروپوں کے بڑے بڑے اسپتال فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں ٹیلی ہیلتھ کی اس سہولت سے 50 فیصد اسپتال
فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کلینک کے مریضوں کے لئے ان کی وی
کلینک سروس کے علاوہ گھر پر بیٹھے مریضوں کیلئے ان کی براہ راست رابطےکی
سروس بھی ہے جس کے ذریعے مریضوں کو گھروں پر دیکھا اور ٹیلی سسٹم کے ذریعے مانیٹر بھی کیا جا سکتا ہے۔

اعجاز عارف نے مزید بتایا کہ ہم نے کرونا سے متاثرہ ریاست ایریزونا میں سب سے
بڑے ہیلتھ کیئر سسٹم بینر ہیلتھ کو کرونا کے حوالے سے ٹیلی ہیلتھ سسٹم ڈویلپ کرکے دیا ہے اور اب ٹیکنالوجی کی دنیا کی ایک بڑی کمپنی انٹیل نے ہم سے پارنٹرشپ کر لی ہے اور اب ہم اس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان میں بھی اس سروس کو متعارف کرایا جائے۔ بقول ان کے، اس سلسلے میں ان کی انڈس اسپتال سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے اس کے لئے ایک پراڈکٹ بھی ڈویلپ کی ہے، جس کے جلد شروع ہونے کی امید ہے۔ کچھ این جی او کو ساتھ ملا کر دیہی علاقوں میں اس سسٹم کو پہنچانے پر بھی کام ہو رہا ہے۔

اعجاز عارف کے بقول، حکومت پاکستان سے بھی اس بارے میں بات چیت آگے بڑھ رہی تھی، لیکن کرونا بحران آڑے آگیا۔ تاہم، انہیں امید ہے کہ جلد ہی پاکستان میں بھی اس سروس سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پینل میں امریکہ کے علاوہ پاکستان سے بھی ڈاکٹروں کی ٹیم موجود ہے۔

https://www.urduvoa.com/a/telemedicine-veemed/5512467.html http://www.maximagri.com/?fbclid=IwAR2QMDuPu9q7928hrYqvoib-Hw1S6lkucOvUS-xL80yTMPFKuaGXWHB-O8U

چھوٹے بچوں کا ٹی وی دیکھنا کتنا خطرناک: اقوام متحدہ کی تنبیہ

 

چھوٹے بچوں کا ٹی وی دیکھنا کتنا خطرناک: اقوام متحدہ کی تنبیہ

 

 

عالمی ادارہ صحت نے چھوٹے بچوں کے ٹی وی دیکھنے کے بارے میں پہلی بار دنیا بھر کے لیے اپنی تنبیہ اور رہنما ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق ویڈیو چیٹ کے علاوہ کوئی بھی ویڈیو اسکرین بچوں کے لیے اچھی نہیں ہوتی۔

    

Description: default

اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یا ڈبلیو ایچ او کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ اولین ہدایات بدھ چوبیس اپریل کو جاری کی گئیں۔ یہ اپنی نوعیت اور مقصدیت میں اسی طرح کی وارننگ ہے، جیسی امریکا میں بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی قومی اکیڈمی پہلے ہی جاری کر چکی ہے۔

Description: Kleines staunendes glucksendes Baby unter einer Decke

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایک سال سے کم عمر کے شیر خوار بچوں کو ٹیلی وژن بالکل نہیں دیکھنا چاہیے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے اس کا دورانیہ کسی بھی طرح ایک گھنٹہ روزانہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کے مطابق شیر خوار یا بہت چھوٹے بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنا وقت اسکرین کے سامنے نہیں گزارنا چاہیے اور یہ وقت پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے بھی جتنا کم ہو گا، اتنا ہی یہ ان کی آنکھوں کے علاوہ ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لیے بہتر ہو گا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ موبائل ٹیلی فون وغیرہ پر اہل خانہ کے ساتھ ویڈیو چیٹ کو چھوڑ کر 18 ماہ سے کم عمر کے بچوں کے لیے کوئی بھی الیکٹرانک اسکرین اچھی نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ اگر دو سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین یہ چاہیں کہ ان کے بچے ٹیلی وژن یا کسی کمپیوٹر اسکرین پر کوئی معیاری تعلیمی پروگرام دیکھیں، تو اول تو اس کا دورانیہ بھی زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور دوسرے یہ کہ والدین میں سے کسی نہ کسی کو اس وقت بچے کے ساتھ بیٹھا ہونا چاہیے تاکہ بچے کی بہتر سمجھ کے لیے اس بات کی وضاحت بھی کی جا سکے کہ وہ کیا اور کیوں دیکھ رہا ہے۔

Description: Baby Kleinkind spielen

عالمی ادارہ صحت نے اپنی ان ہدایات میں اس امر کی کھل کر وضاحت نہیں کی کہ ٹی وی یا کسی دوسری اسکرین کو بہت زیادہ دیکھنے سے کسی کم سن بچے کی صحت پر کیا کیا برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم ڈبلیو ایچ او نے ساتھ ہی یہ بات بھی زور دے کر کہی ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی کافی جسمانی مصروفیات اور ورزش کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے لیے ہر روز کافی حد تک لمبی نیند کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

ماہرین نے اس کا سبب یہ بتایا ہے کہ چھوٹے بچوں میں جسمانی بھاگ دوڑ کی کمی اور سستی ان میں موٹاپے کی وجہ بنتی ہے، اور موٹاپا آج کل کے بچوں کے صحت اور زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو وقفے وقفے سے لیکن ہر روز مجموعی طور پر کم از کم بھی آدھ گھنٹہ پیٹ کے بل لٹائے رکھنا چاہیے کیونکہ ان کے لیے یہ بھی ایک ورزش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سال سے زائد عمر کے بچوں کو روزانہ کم از کم بھی تین گھنٹے تک کسی نہ کسی جسمانی مصروفیت یا کھیل میں مشغول رکھا جانا چاہیے۔

 

بچپن کے کھیل

 

حالات بدل گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ذہنی کیفیات بھی بدلتی گئیں اور ہم وقت کے کس دہانے پر آکھڑے ہوئے، پتا ہی نہیں چلا۔ ثناء بتول کا بلاگ

    

Description: DW Urdu Blogerin Sana Batool
(Privat)

نانا کے گھر کے پیچھے ایک فارم تھا، تھوڑا اجڑا ہوا تھا لیکن درختوں کے تنے ابھی بھی اتنے مضبوط تھے کہ رسی باندھ کر جھولے ڈالے جاسکتے تھے۔ اس فارم کا کچھ علاقہ چٹیل تھا اور کچھ پر اونچے نیچے پتھروں کا انبار سا لگا رہتا تھا جس پہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم اور محلے کے چند دوست مل کر ٹیپو سلطان کھیلا کرتے تھے۔ غالبا اس زمانے میں اس موضوع پر کوئی ڈرامہ سیریل بھی آتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جہاں کہیں میدان نظر آتا تھا، تو درختوں سے گری سوکھی ٹہنیاں تلواروں کی مانند ہاتھ میں پکڑے ہم سارا سارا دن جنگیں لڑا کرتے تھے اور جب تھک جاتے تھے تو انہیں لکڑیوں کو جلا کر ان پر کبھی چائے بناتے تو کبھی چاول جو کہ نانا کے کچن سے لائے جاتے تھے۔

دور حاضر سے اگر اپنے بچپن کا موازنہ کروں تو آج کل کی نسل کو نہ تو ان کھیلوں کے بارے میں کوئی علم ہے اور نہ ہی ان قصوں کہانیوں سے کوئی شغف۔ دور حاضر کے بچے ایک ایسے جمود کا شکار ہیں جس کو توڑنے کے لیے برقی لہروں کو منقطع اور جسموں کو ٹیکنالوجی کی فولادی زنجیروں سے آزاد کرنا ہوگا۔ لیکن کیا یہ ٹیکنالوجی اور تعلیم و تربیت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم نہیں ہیں؟

1980ء کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد، جو اب 30 کے پھیرے میں ہیں، میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ کھو کھو، مارم پٹی، چھپن چھپائی، ٹپ ٹاپ، پکڑم پکڑائی، اور ایسے تمام وہ کھیل جن کو کھیلتے ہوے ہم بڑے ہوئے ہیں، ان کھیلوں نے ہماری ذہنی نشونما پر ایک بہت مثبت اثر چھوڑا، جس کے باعث اُس دہائی میں پیدا ہونے والے زیادہ تر افراد سوشل اینزائٹی کا شکار کم نظر آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ان کھیلوں میں جسمانی ورزش کے ساتھ ساتھ لوگوں سے میل جول بھی شامل تھا۔ اس کے برعکس، موجودہ دور کے بچوں کے مشغلوں اور کھیلوں میں انفرادیت اور اینٹی سوشلزم پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بچے معاشرتی اضطراب کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ 

 

ایک عام سا ہی مشاہدہ کریں تو 1990ء سے 2000ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد ٹیکنالوجی سائیکل کے اندر پوری طرح غرق ہوتے نظر آتے ہیں لیکن ان ہی افراد میں سب سے زیادہ اینزائٹی بھی دیکھی جارہی ہے۔ ایک ٹین ایجر کے موبائل فون پہ ایک وقت میں کم سے کم چھ ویب پیجز کھلے ہوتے ہیں۔

پھر دوسری جانب نیشنل ہیلتھ سروے نے بھی ایک رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ذہنی اضطراب سے متعلق بیماری نے دنیا میں 2011 سے 2012 کہ دوران 3.8 فیصد اور 2014ء سے 2015ءکے درمیان 11.2 فیصد دنیا کی آبادی کو معاشرتی اضطراب میں مبتلا کیا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ بچوں کا سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنا ہے جو ان میں احساس کمتری، انسومنیا یعنی نیند کا کم ہوجانا اور اس سب کہ باعث آس پاس کہ لوگوں سے، جن میں گھر والے، رشتہ دار اور دیگر افراد شامل ہوتے ہیں،  جی اچاٹ ہوجانا ان بچوں کی فطرت میں شامل ہوتا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ سیاسی اور معاشی چیلنجز اور تبدیلیوں کا سامنا جتنا آج کل کے بچوں کو ہے، ہمارے بچپن میں نہ تو اس کے بارے میں زیادہ ڈسکس کیا جاتا تھا اور نہ ہی ہمارا سامنا ٹیکنالوجی کے تابڑ توڑ حملوں سے رہا جس کی وجہ سے موجودہ نسل مختلف ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔

کھلے صحن اور ان میں کھیلنا، بھاگنا، دوڑنا ذہنی نشونما کے لیے کتنا ضروری ہوتا ہے، اس بات کا اندازہ تب ہوا جب ایک ماں ہونے کہ ناطے، دور حاضر کی معاشرتی، معاشی، اور سیاسی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی جنگ کے دوران بچوں کی پرورش کرنے کا خدا نے موقع دیا۔ اسکرین ٹائم پر کس طرح قابو پانا ہے، بچوں کو ٹیکنالوجی کی دوڑ سے دور بھی نہیں رکھنا اور بچانا بھی ہے، یہ ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔ خاص کر ان ماؤں کے لیے جن کا بچپن کھلے صحنوں میں، درختوں پہ جھولے جھولتے اور دادی اماں کی کہانیاں سنتے، موتیے اور گل مہر کے پھولوں کے ہار بناتے، گڈا گڑیا کی شادیاں رچاتے، رشتوں کو نبھاتے، دوستوں کے ساتھ محلے میں کھو کھو،  پہل دوج کھیلتے گزرا ہو۔

وہ زمانے بھی کیا تھے جب ہمیں نیٹ فلکس کے نئے سیزن اور فوڈ پانڈا کی ڈلیوری کا نہیں بلکہ سردیوں کی شاموں میں مونگ پھلی والے بابا جی اور آٹھ بجے این ٹی ایم پہ چاند گرہن کا انتظار ہوتا تھا۔ لیکن حالات بدل گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ذہنی کیفیات بھی بدلتی گئیں اور ہم وقت کے کس دہانے پر آکھڑے ہوئے، پتا ہی نہیں چلا۔

·       تاریخ 30.07.2020

·       مصنف ثناء بتول

https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%86%D9%BE%D9%86-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84/a-54380523

Role of Police In Social Justice

  Role of Police In Social Justice Mujahid Ali mujahidali12@yahoo.com   Social peace and justice is the collective need of the soc...